Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 955

901 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا قبيصة بن عقبة والفريابي قالا ثنا سفيان عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله قال ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى صلاة قط في غير وقتها إلا أنه جمع بين الصلاتين بجمع وصلى الفجر يومئذ لغير ميقاتها فثبت بما ذكرنا أن ما عاين من جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الصلاتين هو بخلاف ما تأوله المخالف لنا فهذا حكم هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار المروية في جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الصلاتين وقد ذكر فيها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جمع بين الصلاتين في الحضر في غير خوف كما جمع بينهما في السفر أفيجوز لأحد في الحضر لا في حال خوف ولا علة أن يؤخر الظهر إلى قرب تغير الشمس ثم يصلي وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في التفريط في الصلاة

عبدالرحمن بن یزید نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ کبھی آپ نے غیر وقت میں کوئی نماز پڑھی ہو البتہ آپ نے عرفات میں مزدلفہ میں دو نمازوں کو جمع فرمایا اور مزدلفہ کی صبح کو فجر کی نماز عام وقت سے مختلف پڑھی۔ جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونمازوں کو جمع کرنے کا جو مشاہدہ کیا گیا ہے وہ ہمارے مخالفین کی تاویل کے خلاف ہے اس باب کا یہ حکم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونمازیں جمع کرنے کی روایت کے معانی کو درست رکھنے کے لیے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں کو اقامت اور بغیر خوف کی حالت کے جمع کیا جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی حالت میں جمع کیا پس اقامت کی حالت میں بغیر خوف اور بغیربیماری کے یہ جائز ہے کہ ظہر کو سورج کے پیلا پڑنے کے قریب تک مؤخر کرے پھر نماز ادا کرے حالانکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نماز میں تفریقظ قرار دیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← قبيصة بن عقبة والفريابي ← حسين بن نصر

Hadith 955

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 956

902 - ما حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن عبد الله بن رباح عن أبي قتادة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس في النوم تفريط إنما التفريط في اليقظة بأن يؤخر صلاة الى وقت أخرى فأخبر صلى الله عليه و سلم أن تأخير الصلاة إلى وقت التي بعدها تفريط وقد كان قوله ذلك وهو مسافر فدل ذلك أنه أراد به المسافر والمقيم فلما كان مؤخر الصلاة إلى وقت التي بعدها مفرطا فاستحال أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم جمع بين الصلاتين بما كان به مفرطا ولكنه جمع بينهما بخلاف ذلك فصلي كل صلاة منهما في وقتها وهذا بن عباس رضي الله عنه قد روى عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه جمع بين الصلاتين ثم قد قال ما

عبداللہ بن رباح نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند میں تفریط نہیں تفریط بیداری میں ہے کہ ایک نماز کو مؤخر کر کے دوسری نماز کے وقت تک لے جایا جائے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی اس روایت میں خبر دی کہ نماز کو دوسرے وقت کی نماز تک مؤخر کرنا یہ تفریط ہے اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےحالت سفر میں فرمائی اس سے یہ دلالت مل گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود مسافر اور مقیم دونوں ہیں جب نماز کو دوسری نماز کے وقت تک مؤخر کرنے والا آدمی مفرط ہے تو ناممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو نمازوں کو اس طرح جمع کریں جس سے مفرط بنے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جمع تو اس کے خلاف ہو گی اور وہ اس طرح ہے کہ ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا فرمایا ہے ۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو نمازوں کو جمع کرنا آیا ہے اس کی مویدہے ۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ ← مَا

Hadith 956

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 957

903 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا سفيان بن عيينة عن ليث عن طاؤوس عن بن عباس رضي الله عنه قال لا يفوت صلاة حتى يجيء وقت الأخرى فأخبر بن عباس رضي الله عنهما أن مجيء وقت الصلاة بعد الصلاة التي قبلها فوت لها فثبت بذلك أن ما علمه من جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الصلاتين كان بخلاف صلاته إحداهما في وقت الأخرى وقد قال أبو هريرة رضي الله عنه أيضا مثل ذلك

طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ کسی نماز کوفوت نہ ہونے دو ( مؤخر نہ کرو) کہ دوسری کا وقت آ جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نےیہ بتلایا کہ دوسری نماز کا وقت آجانے سے پہلی نماز فوت ہو جاتی ہے اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ دونمازوں کا جمع کرنا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےمتعلق ان کے علم میں تھا وہ اس صورت سے مختلف تھا کہ ایک کو دوسری کے وقت میں پڑھا جائے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کاقول بھی اسی طرح کے اس کو ملاحظہ کریں ۔

لا يفوت صلاة حتى يجيء وقت الأخرى فأخبر بن عباس ← بْنِ عَبَّاسٍ ← طَاوُوسٍ، ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 957

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 958

904 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا قيس وشريك أنهما سمعا عثمان بن عبد الله بن موهب قال سئل أبو هريرة رضي الله عنه ما التفريط في الصلاة قال أن تؤخر حتى يجيء وقت الأخرى قالوا وقد دل على ذلك أيضا ما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما سئل عن مواقيت الصلاة فصلى العصر في اليوم الأول حين صار ظل كل شيء مثله ثم صلى الظهر في اليوم الثاني في ذلك الوقت بعينه فدل ذلك أنه وقت لهما جميعا قيل لهم ما في هذا حجة توجب ما ذكرتم لأن هذا قد يحتمل أن يكون أريد به أنه صلى الظهر في اليوم الثاني في قرب الوقت الذي صلي فيه العصر في اليوم الأول وقد ذكرنا ذلك والحجة فيه في باب مواقيت الصلاة والدليل على ذلك قوله عليه السلام الوقت فيما بين هذين الوقتين فلو كان كما قال المخالف لنا لما كان بينهما وقت إذا كان ما قبلهما وما بعدهما وقت كله ولم يكن ذلك دليلا على أن كل صلاة من تلك الصلوات منفردة بوقت غير وقت غيرها من سائر الصلوات وحجة أخرى أن عبد الله بن عباس وأبا هريرة رضي الله عنهما قد رويا ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم في مواقيت الصلاة التي قالاهما في التفريط في الصلاة أنه تركها حتى يدخل وقت التي بعدها فثبت بذلك أن وقت كل صلاة من الصلوات خلاف وقت الصلاة التي بعدها فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا قد رأيناهم أجمعوا أن صلاة الصبح لا ينبغي أن تقدم على وقتها ولا تؤخر عنه فإن وقتها وقت لها خاصة دون غيرها من الصلاة فالنظر على ذلك أن يكون كذلك سائر الصلوات كل واحدة منهن منفردة لوقتها دون غيرها فلا ينبغي أن يؤخر عن وقتها ولا يقدم قبله فإن اعتل معتل بالصلاة بعرفة وبجمع قيل له قد رأيناهم أجمعوا أن الإمام بعرفة لو صلى الظهر في وقتها في سائر الأيام وصلى العصر في وقتها في سائر الأيام وفعل مثل ذلك في المغرب والعشاء بمزدلفة فصلى كل واحدة منهما في وقتها كما صلى في سائر الأيام كان مسيئا ولو فعل ذلك وهو مقيم أو فعله وهو مسافر في غير عرفة وجمع لم يكن مسيئا فثبت بذلك أن عرفة وجمعا مخصوصتان بهذا الحكم وأن حكم ما سواهما في ذلك بخلاف حكمهما فثبت بما ذكرنا أن ما روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من الجمع بين الصلاتين أنه تأخير الأولى وتعجيل الآخرة وكذلك كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من بعده يجمعون بينهما

عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیاکہ نماز میں تفریط کیا ہے تو انہوں نے فرمایا تم اس کو مؤخر کر دو یہاں تک کہ دوسری کا وقت آجائے ان مخالف علماء کا مؤقف یہ ہے کہ اس بات پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے پہلے دن عصر کی نماز اس وقت ادا فرمائی جب ہر چیز کاسایہ اس کی مثل ہو گیا پھر دوسرے دن ظہر کی نماز بعینہ اسی وقت پڑھی تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ یہ دونوں ہی کا وقت ہے ۔ ان حضرات کو یہ جواب دیا جائے گا۔ کہ اس روایت میں کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہاری بات کو لازم کرے کیونکہ اس میں یہ احتمال بھی مراد لیا جا سکتا ہے کہ دوسرے روز آپصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر ایسے قریبی وقت میں ادا کی جو پہلے دن کی نماز عصر والے وقت سے قریب تر تھا اور ہم اس کو پہلے بیان کر آئے کہ ا س کی دلیل پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ نماز کاوقت ان دونوں وقتوں کے مابین ہے اگر مخالف کی بات مالی جائے تو ماقبل اور مابعد سارے کا سارا وقت ہو تو ان کے مابین وقت نہ رہا پھر یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ان نمازوں میں سے ہر ایک نماز اپنا ایک منفرد وقت رکھتی ہے جو تمام نمازوں سے الگ ہے۔ مزید دلیل یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم نے نمازوں کے اوقات کے سلسلے میں اس روایت کو بیان کیا ہے پھر دونوں نے اسکو نماز میں کوتاہی قرار دیا یعنی وہ نماز کو اس وقت تک چھوڑے رکھے یہاں تک کہ بعد والا وقت داخل ہو جائے پھر دونوں نے یہ کہا کہ یہ نماز میں تفریط ہے اور اس نے اس کو بعد والی نماز کے وقت داخل ہونے تک مؤخر کیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ نمازوں کے اوقات میں ہے ہر ایک نماز کے اس وقت کے خلاف ہے جو اس کے بعد ہے اس باب کا یہ حکم روایات کے معانی کو درست رکھنے کے لیے ہے ۔ البتہ غور و فکر کے طریقے سے یہ ہے کہ ہم نے غور کیا کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ صبح کی نماز اپنے وقت سے مقدم اور مؤخر ہیں کی جا سکتی ۔ اس کا ایک خاص وقت ہے ۔ جو دوسری نمازوں کے علاوہ ہےپس غور و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ تمام نمازوں کے اوقات اسی طرح ہوں اور ہر ایک ان میں سے اپنے وقت میں دوسروں کی بجائے منفرد ہو اور نہ ہی اس وقت سے مؤخر ہوں نہ مقدم اگر کوئی شخص عرفات و مزدلفہ کی وجہ سے اعتراض کرے اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر امام نے ظہر کی نماز عام دنوں کی طرح اپنے وقت میں پڑھادی اور نماز عصر عام دنوں کی طرح پڑھ لی اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء کے ساتھ یہی سلوک کیا کہ ہر ایک کو اس کے وقت میں پڑھ لیا جیسا کہ عام ایام میں کرتا ہے تو آدمی گنہگار ہو گا خواہ اس نے اقامت کی حالت میں ایسا کیا یا مسافر کی حالت میں اور عرفہ اور مزدلفہ کے علاوہ کیا تو یہ گنہگار نہیں ہو گا تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ عرفہ اور مزدلفہ کی جمع مخصوص جمع ہے اور ان کے علاوہ وہ حکم ان دونوں کے حکموں سے الگ ہے ہماری اس بات سے ثابت ہو گیا کہ جو کچھ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونمازوں کے جمع کے متعلق لکھا ہے اس کی صورت یہی ہے کہ پہلی نماز کو مؤخر کیا جائے اور دوسری نماز کو جلدی کیا جائے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اسی طرح ہی جمع کرتے تھے ۔

سئل أبو هريرة ما التفريط في الصلاة ← قيس وشريك أنهما سمعا عثمان بن عبد الله بن موهب ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 958

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 959

905 - حدثنا محمد بن النعمان السقطي قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا أبو خيثمة عن عاصم الأحول عن أبي عثمان قال وفدت أنا وسعد بن مالك ونحن نبادر للحج فكنا نجمع بين الظهر والعصر نقدم من هذه ونؤخر من هذه ونجمع بين المغرب العشاء نقدم من هذه ونؤخر من هذه حتى قدمنا مكة

عاصم احول نے ابو عثمان سے نقل کیا کہ میں اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے اکٹھا سفرکیا ہم حج کے لیے جلدی جا رہے تھے ہم ظہر و عصر کو جمع کرتے ظہر کومؤخر اور عصر کو مقدم کرتے تھے اسی طرح مغرب و عشاء کو جمع کرتے مغرب کومؤخر اور عشاء کو مقدم کرتے تھے یہاںتک کہ ہم مکہ پہنچ گئے ۔ اس باب میں جو کچھ بھی دو نمازوں کو جمع کرنے کی کیفیت مذکور ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہ ،ا بو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

وفدت ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← محمد بن النعمان السقطي

Hadith 959

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 960

906 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا عبد الله بن محمد النفيلي قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا أبو إسحاق قال سمعت عبد الرحمن بن يزيد يقول صحبت عبد الله بن مسعود رضي الله عنه في حجة فكان يؤخر الظهر ويعجل العصر ويؤخر المغرب ويعجل العشاء ويسفر بصلاة الغداة وجميع ما ذهبنا إليه في هذا الباب من كيفية الجمع بين الصلاتين قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا وہ ظہر کو مؤخر کرتے اور عصر کو جلدی پڑھتے اسی طرح مغرب کو مؤخر کرتے اور عشاء کو جلدی ادا کرتے اور فجر کی نماز اسفار میں ادا فرماتے تھے ۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Hadith 960

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter