شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 955
901 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا قبيصة بن عقبة والفريابي قالا ثنا سفيان عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله قال ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى صلاة قط في غير وقتها إلا أنه جمع بين الصلاتين بجمع وصلى الفجر يومئذ لغير ميقاتها فثبت بما ذكرنا أن ما عاين من جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الصلاتين هو بخلاف ما تأوله المخالف لنا فهذا حكم هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار المروية في جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الصلاتين وقد ذكر فيها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جمع بين الصلاتين في الحضر في غير خوف كما جمع بينهما في السفر أفيجوز لأحد في الحضر لا في حال خوف ولا علة أن يؤخر الظهر إلى قرب تغير الشمس ثم يصلي وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في التفريط في الصلاة
عبدالرحمن بن یزید نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ کبھی آپ نے غیر وقت میں کوئی نماز پڑھی ہو البتہ آپ نے عرفات میں مزدلفہ میں دو نمازوں کو جمع فرمایا اور مزدلفہ کی صبح کو فجر کی نماز عام وقت سے مختلف پڑھی۔ جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونمازوں کو جمع کرنے کا جو مشاہدہ کیا گیا ہے وہ ہمارے مخالفین کی تاویل کے خلاف ہے اس باب کا یہ حکم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونمازیں جمع کرنے کی روایت کے معانی کو درست رکھنے کے لیے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں کو اقامت اور بغیر خوف کی حالت کے جمع کیا جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی حالت میں جمع کیا پس اقامت کی حالت میں بغیر خوف اور بغیربیماری کے یہ جائز ہے کہ ظہر کو سورج کے پیلا پڑنے کے قریب تک مؤخر کرے پھر نماز ادا کرے حالانکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نماز میں تفریقظ قرار دیا ۔
عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← قبيصة بن عقبة والفريابي ← حسين بن نصر
Hadith 955
