Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 943

890 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا بن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يجمع بين المغرب والعشاء إذا جد به السير

سالم نے اپنے والد عبداللہ سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب و عشاء کو جمع فرماتے ۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن عُيَيْنَةَ ← الحماني ← فهد

Hadith 943

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 944

891 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا بن عيينة عن بن أبي نجيع عن إسماعيل بن أبي ذؤيب قال كنت مع بن عمر رضي الله عنهما فلما غربت الشمس هبنا أن نقول له الصلاة فسار حتى ذهبت فحمة العشاء ورأينا بياض الأفق فنزل فصلى ثلاثا المغرب واثنتين العشاء ثم قال هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يفعل

اسماعیل بن ابی ذویب کہتے ہیں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی معیت میں تھا جب سورج غروب ہو گیا ہم نے خوف سے ان کو نماز کا نہیں کہا یہاں تک کہ عشاء کی سیاہی آگئی اور ہم نے افق پر سپیدہ دیکھا تو آپ سواری سے اترے اور مغرب کی تین رکعت پڑھائی اور دو رکعت عشاء پھر فرمایا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا۔

إسماعيل بن أبي ذؤيب ← بن أبي نجيع ← بن عُيَيْنَةَ ← الحماني ← فهد

Hadith 944

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 945

892 - حدثنا محمد بن خزيمة وابن أبي داود وعمران بن موسى الطائي قالوا حدثنا الربيع بن يحيى الأشناني قال ثنا سفيان الثوري عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء بالمدينة للرخص من غير خوف ولا علة

محمد بن المنکدر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو مدینہ میں رخصت کے لیے بغیر کسی خطرے اور مرض کے جمع فرمایا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى الْأُشْنَانِيُّ ← محمد بن خزيمة وابن أبي داود وعمران بن موسى الطائي

Hadith 945

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 946

893 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن مالك بن أنس رضي الله عنهما عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم غربت له الشمس بمكة فجمع بينهما بسرف يعني الصلاة

عبدالعزیز بن محمد الدراوردی نے حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ اور ابی الزبیر نے جابر بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں سورج غروب ہو گیا آپ نے مغرب و عشاء کو مقام سرف میں جمع فرمایا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← علي بن عبد الرحمن

Hadith 946

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 947

حدثنا بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن حفص بن عبيد الله عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يجمع بين المغرب والعشاء في السفر قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الظهر والعصر وقتهما واحد قالوا ولذلك جمع النبي صلى الله عليه و سلم بينهما في وقت إحداهما وكذلك المغرب والعشاء في قولهم وقتهما وقت لا يفوت إحداهما حتى يخرج وقت الأخرى منهما وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل كل واحدة من هذه الصلوات وقتها منفرد من وقت غيرها وقالوا أما ما رويتموه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من جمعه بين الصلاتين فقد روى عنه كما ذكرتم وليس في ذلك دليل أنه جمع بينهما في وقت إحداهما فقد يحتمل أن يكون جمعه بينهما كان كما ذكرتم ويحتمل أن يكون صلى كل واحدة منهما في وقتها كما ظن جابر بن زيد وهو روى ذلك عن بن عباس وعمرو بن دينار من بعده فقال أهل المقالة الأولى قد وجدنا في بعض الآثار ما يدل على أن صفة الجمع الذي فعله صلى الله عليه و سلم كما قلنا فذكروا في ذلك

حصن بن عبیداللہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب و عشاء کو سفر میں جمع فرماتے تھے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کچھ لوگوں نے یہ راستہ اپنایا کہ ظہرو عصر کو وقت ایک ہے ۔ انہوں نے اپنی دلیل بتاتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو ایک وقت میں جمع فرمایا اور مغرب و عشاء کا بھی ان کے ہاں یہی حکم ہے کہ ان کا وقت ایک ہی ہے اور ان میں سے کوئی بھی اس وقت تک فوت شدہ شمار نہ ہو گی جب تک دوسری کا وقت نہ گزرجائے ۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان کی ممانعت میں کہا ہے کہ ان تمام نمازوں کو اپنے اوقات میں دوسری نماز کا وقت اس میں شامل نہیں ۔ رہی وہ روایات جن میں تمہیں دو نمازوں کا جمع کرنا معلوم ہو رہا ہے وہ آپ ہی کے ارشاد ات ہیں جو آپ سے مروی ہیں مگر ان میں آپ کے جمع والے قول کی کوئی دلیل نہیں ۔ اس میں کئی احتمال ہیں ۔ ایک احتمال وہ بھی ہے جو تم نے ذکر کیا اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے وقت میں ادا فرما یا جیسا کہ جابربن زید کا خیال ہے او اسی نے یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور عمرو بن دینار سے ان کے بعد نقل کیا ہے پہلے مقالہ والوں نے دعویٰ کیا کہ ہمیں ایسی روایات ملی ہیں جو ہمارے قول کی تائید کرتی ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 947

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 948

ما حدثنا بن مرزوق قال ثنا عازم بن الفضل قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن نافع أن بن عمر رضي الله عنهما استصرخ على صفية بنت أبي عبيد وهو بمكة فأقبل إلى المدينة فسار حتى غربت الشمس وبدت النجوم وكان رجل يصحبه يقول الصلاة الصلاة قال وقال له سالم الصلاة فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا عجل به السير في سفر جمع بين هاتين الصلاتين وأني أريد أن أجمع بينهما فسار حتى غاب الشفق ثم نزل فجمع بينهما

ایوب نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہ کی بیماری کی اطلاع ملی جبکہ وہ مکہ میں تھے وہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے غروب آفتاب تک چلتے رہے یہاں تک کہ ستارے ظاہر ہو گئے اور جو آدمی ان کے ساتھ وہ الصلاۃ الصلاۃ پکار رہا تھا اور راوی کہتے ہیں سالم نے ان کو کہا الصلاۃ تو کہنے لگے جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب و عشاء ان دونمازوں کو جمع فرماتے اور میں بھی دونوں کو جمع کرنا چاہتا ہوں چنانچہ وہ چلتے گئے یہاں تک شفق غائب ہو گیا پھر اترے اور ان دونوں کو جمع کیا ۔

نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عازم بن الفضل ← بن مرزوق ← مَا

Hadith 948

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 949

895 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن عبد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أنه كان إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء بعد ما يغيب الشفق ويقول إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا جد به السير جمع بينهما قالوا ففي هذا دليل على صفة جمعه كيف كان فكان من الحجة عليهم لمخالفهم أن حديث أيوب الذي قال فيه فسار حتى غاب الشفق ثم نزل كل أصحاب نافع لم يذكروا ذلك لا عبيد الله ولا مالك ولا الليث ولا من روينا عنه حديث بن عمر رضي الله عنهما في هذا الباب وإنما أخبر بذلك من فعل بن عمر رضي الله عنهما وذكر عن النبي صلى الله عليه و سلم الجمع ولم يذكر كيف جمع فأما حديث عبيد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جمع بينهما ثم ذكر جمع بن عمر رضي الله عنهما كيف كان وأنه بعد ما غاب الشفق فقد يجوز أن يكون أراد أن صلاته العشاء الآخرة التي بها كان جامعا بين الصلاتين بعد ما غاب الشفق وإن كان قد صلى المغرب قبل غيبوبة الشفق لأنه لم يكن قط جامعا بينهما حتى صلى العشاء الآخرة فصار بذلك جامعا بين المغرب والعشاء وقد روى ذلك غير أيوب مفسرا على ما قلنا

یحییٰ بن عبداللہ نے نافع اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے جب ان کو جلدی مطلوب ہوتی تو مغرب و عشاء کو جمع فرماتے اس کےبعد کہ شفق غائب ہوجاتی اور فرماتے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفرمیں جلدی ہوتی تو ان دونمازوں کوجمع کرتے ۔ ان کو کہنا یہ ہے کہ یہ روایت آپ کی دو نمازوں کے جمع کی کیفیت بتلا رہی ہیں ۔ ان کے مخالفین کے پاس ان کے خلاف دلیل یہ ہے کہ روایت ایوب جس میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ چلتے گئے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گیا پھر نافع کے تمام احباب اتر گئے ۔ عبید اللہ ، مالک ، لیث اور نہ ہی کسی اور راوی جنہوں نے روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ،کسی سے یہ بات بیان نہیں کی یہ صرف فعل ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اطلاع دی ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو نمازوں کوجمع کرنا نقل کیا مگر یہ بیان نہیں کیا کہ کس طرح جمع کیا اور روایت عبیداللہ میں اس طرح ہے یہ " جمع نینھما" کہ دونوں کوجمع کیا پھر انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے فعل جمع کو ذکر کر دیا کہ اس کی کیفیت کیا تھی اور شفق کے غائب ہو جانے پر تھی تو اس کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ عشاء کی وہ نماز جس کومغرب کے ساتھ انہوں نے جمع کیا وہ غروب شفق کے بعد تھی اگرچہ وہ مغرب کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلےپڑھ چکے ہوں کیونکہ وہ دونوں کو جمع کرنے والے اسی وقت ہوں گے جب تک وہ عشاء کو نہ پڑھ لیں پس وہ اس طرح مغرب و عشاء کے جامع بن گئے اور ایوب کے علاوہ روات نے اس کو وضاحت سے بیان کیا ہے ۔

نَافِعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Hadith 949

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 950

896 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا عبد الله بن المبارك عن أسامة بن زيد قال أخبرني نافع أن بن عمر رضي الله عنهما جد به السير فراح روحة لم ينزل إلا لظهر أو لعصر وأخر المغرب حتى صرخ به سالم قال الصلاة فصمت بن عمر رضي الله عنهما حتى إذا كان عند غيبوبة الشفق نزل فجمع بينهما وقال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع هكذا إذا جد به السير ففي هذا الحديث أن نزوله للمغرب كان قبل أن يغيب الشفق فاحتمل أن يكون قول نافع بعد ما غاب الشفق في حديث أيوب إنما أراد به قربه من غيبوبة الشفق لئلا يتضاد ما روى عنه في ذلك وقد روى هذا الحديث غير أسامة عن نافع كما رواه أسامة

اسامہ بن زید نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ابن عمر تیزی سے رواں دواں تھے ذرا سا آرام کیا ظہر یا عصر کے لیے اترے مغرب کومؤخر کیا یہاں تک کہ سالم نے " الصلاۃ" کی آواز دی ابن عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہے یہاں تک کہ شفق کے غائب ہونے کا وقت ہوا تو اترے اور مغرب و عشاء کو جمع کیا اور فرمایا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ کو جلد جانا ہوتا تھا ۔ اس روایت میں بتلاد یا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مغرب کے لیے اترنا شفق کے غائب ہونے سے پہلے تھا ۔ پس اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ نافع کا قول " بعد ماغاب الشفق" جو کہ ایوب کی روایت میں آیا ہے اس سے مراد شفق کے غائب ہونے کا قریبی وقت ہو تاکہ ان کی دوسری روایت سے اس روایت کا تضاد نہ ہو ۔ اس روایت کو اسامہ بن زید کے علاوہ حضرات نے بھی نافع سے نقل کیا ہے جیسا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نقل کی ہے ۔

نَافِعٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← الحماني ← فهد

Hadith 950

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 951

897 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بشر بن بكر قال حدثني بن جابر قال حدثني نافع قال خرجت مع عبد الله بن عمر رضي الله عنهما وهو يريد أرضا له قال فنزلنا منزلا فأتاه رجل فقال له إن صفية بنت أبي عبيد لما بها ولا أظن أن تدركها فخرج مسرعا ومعه رجل من قريش فسرنا حتى إذا غابت الشمس لم يصل الصلاة وكان عهدي بصاحبي وهو محافظ على الصلاة فلما أبطأ قلت الصلاة رحمك الله فلما التفت إلي ومضى كما هو حتى إذا كان في آخر الشفق نزل فصلى المغرب ثم العشاء وقد توارت ثم أقبل علينا فقال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا عجل به أمر صنع هكذا

ابن جابر نے نافع سے روایت نقل کی کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا وہ اپنی زمینوں پر جا رہے تھے پس ہم نے ایک منزل پر قیام کیا تو ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا صفیہ بنت ابی عبید سخت تکلیف میں ہے اور میرے خیال میں آپ کے پہنچنے تک وہ چل بسے گی پس آپ تیزی سے روانہ ہوئے اس وقت آپ کے ساتھ ایک قریشی آدمی تھا ہم چلتے رہےیہاں تک کہ جب سورج غروب ہو گیا تو انہوں نے نماز مغرب ادا نہ فرمائی اور میں نےملاقات سے اب تک ان کو نمازوں کا محافظ پایا تھا جب زیادہ دیر کی تو میں نےکہا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائےنماز کا وقت ہےمیری طرف توجہ فرمائی مگر حسب سابق چلتے رہےیہاں تک کہ جب شفق کا آخری وقت ہونے لگا تو اترے اور مغرب کی نماز ادا کی پھر کچھ دیر کے بعد عشاء کی نماز ادا کی اور اس وقت شفق بالکل غائب ہو چکا تھا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوجب سفر میں جلدی ہوتی تو آپ اسی طرح کرتے ۔

فنزلنا منزلا فأتاه رجل ← خرجت مع عبد الله بن عمر وهو يريد أرضا له ← نَافِعٍ ← بن جَابِرٍ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← ربيع المؤذن

Hadith 951

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 952

898 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا العطاف بن خالد المخزومي عن نافع قال أقبلنا مع بن عمر رضي الله عنه حتى إذا كنا ببعض الطريق استصرخ على زوجته بنت أبي عبيد فراح مسرعا حتى غابت الشمس فنودي بالصلاة فلم ينزل حتى إذا أمسى فظننا أنه قد نسي فقلت الصلاة فسكت حتى إذا كاد الشفق أن يغيب نزل فصلى المغرب وغاب الشفق فصلى العشاء وقال هكذا كنا نفعل مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جد بنا السير فكل هؤلاء يروى عن نافع أن نزول بن عمر رضي الله عنه عنهما كان قبل أن يغيب الشفق وقد ذكرنا احتمال قول أيوب عن نافع حتى إذا غاب الشفق أنه يحتمل قرب غيبوبة الشفق فأولى الأشياء بنا أن تحمل هذه الروايات كلها على الاتفاق لا على التضاد فنجعل ما روى عن بن عمر أن نزوله للمغرب كان بعد ما غاب الشفق انه على قرب غيبوبة الشفق إذا كان قد روى عنه أن نزوله ذلك كان قبل غيبوبة الشفق ولو تضاد ذلك لكان حديث بن جابر أولاهما لأن حديث أيوب أيضا فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يجمع بين الصلاتين ثم ذكر فعل بن عمر كيف كان وفي حديث بن جابر صفة جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم كيف كان فهو أولى فإن قالوا فقد روى عن أنس ما قد فسر الجمع كيف كان فذكروا في ذلك ما

عطاف بن خالد المخزومی نے نافع سے نقل کیا تھا کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوٹ رہے تھے کہ ابھی کچھ راستہ طے کیا اور نماز کے لیے ان کو آواز دی گئی مگر وہ نہ اترے حتیٰ کہ جب گہری شام ہو گئی تو ہم نے گمان کیا کہ شاید بھول گئے تو میں نے کہا " الصلاۃ" اس پر خاموش رہے یہاں تک کہ شفق قریب الغروب ہو گیا تو اترے اور مغرب کی نماز ادا کی اور شفق غائب ہو چکا تو عشاء کی نماز پڑھائی اور فرمایا ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح کرتے تھے جبکہ آپ کو جلدی سفر کانا ہوتا تھا یہ تمام روایات نافع سے یہ بتلا رہی ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اترنا شفق کے غائب ہونے سے پہلے تھا اور ہم نے ایوب کی نافع سے منقول روایت کے لفظ " حتی اذا غاب الشفق" سے متعلق شفق کے قریب ہونے کا احتمال لکھا ہے ۔ پس ان روایات کے متعلق سب سے بہتر بات یہ ہے کہ تضاد کی بجائے اتفاق پر محمول کیا جائے۔ پس ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کا محمل شفق غائب ہونے کے قریب ہوا، قرار دیں گے کیونکہ ان سے دوسری روایت میں غیبوبت شفق سے پہلے اترنا منقول ہے اگر ان روایات میں تضاد ہو تو ابن جابر کی روایت ان میں زیادہ بہتر ہے اس لیے کہ ایوب کی روایت میں بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو نمازوں کو جمع کرنا وارد ہے پھر انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل بھی یہی نقل کیا اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو نمازیں جمع کرنے کا طریقہ بھی مذکور ہے پس یہ زیادہ بہتر ہو گی۔ بالفرض اگر وہ کہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بھی تو جمع کی کیفیت تفصیل سے ذکر کی ہے جیسا کہ روایت آتی ہے۔

نَافِعٍ ← الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 952

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 953

899 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني جابر بن إسماعيل عن عقيل بن خالد عن بن شهاب عن أنس بن مالك رضي الله عنه مثله يعني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا عجل به السير يوما جمع بين الظهر والعصر وإذا أراد السفر ليلة جمع بين المغرب والعشاء يؤخر الظهر الى أول وقت العصر فيجمع بينهما ويؤخر المغرب حتى يجمع بينهما وبين العشاء حتى يغيب الشفق قالوا ففي هذا الحديث أنه صلى الظهر والعصر في وقت العصر وأن جمعه بينهما كان كذلك فكان من الحجة عليهم لأهل المقالة الأولى أن هذا الحديث قد يحتمل ما ذكرنا وقد يحتمل أن يكون صفة الجمع من كلام الزهري لا عن النبي صلى الله عليه و سلم لأنه قد كان كثيرا ما يفعل هذا يصل الحديث بكلامه حتى يتوهم أن ذلك في الحديث وقد يحتمل أن يكون قوله إلى أول وقت العصر إلى أقرب أول وقت العصر فإن كان معناه بعض ما صرفناه إليه مما لا يجب معه أن يكون صلاها في وقت العصر فلا حجة في هذا الحديث الذي يقول إنه صلاها في وقت العصر وإن كان أصل الحديث على أنه صلاها في وقت العصر فكان ذلك هو جمعه بينهما فإنه قد خالفه في ذلك عبد الله بن عمر فيما روينا عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم وخالفته في ذلك عائشة رضي الله عنها أيضا

ابن شہاب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن سفر کرنا ہوتا تو ظہر و عصر کو جمع فرماتے کہ ظہر کو اول وقت عصر تک مؤخر کرتے پھر دونوں کوجمع کر کے پڑھتے اور مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ مغرب و عشاء کو جمع فرماتے یہاں تک کہ شفق غائب ہو جاتا ۔ انہوں نے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کے وقت میں ادا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جمع کی یہی صورت تھی ۔ پہلے قول والوں کے پاس ان کے خلاف یہ دلیل ہے کہ ا س روایت میں یہ احتمال ہے کہ جمع کی صورت میں یہ زہری کا مدرج کلام ہو ارشاد نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو۔ کیونکہ وہ اکثر اپنے کلام کوحدیث سے ملاتارہتا ہے۔ یہاں تک کہ ناظر کو اس کے حدیث ہونے کا وہم ہو جاتا ہے اور دوسرا احتمال یہ ہےکہ " الی اول وقت العصر" سے وقت عصر کا قرب مراد ہو۔ اگر اس روایت کا معنی دونوں میں سے کوئی ایک کیا جائے جس سے وقت عصر میں ظہر کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی تو پھر اس روایت سے انکی کوئی دلیل باقی نہیں رہتی جو یہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وقت عصر میں ادا کیا ۔ اور اگر اصل روایت اس طرح ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وقت عصر میں ادا کیا ہے تو پھر اس سے دونوں کا جمع کرنا لازم آتا ہے تو اس سے یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے مخالف ہو جائے گی جو ہم نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی اور اس سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان کی مخالفت کی ، ان کی روایت یہ ہے ۔

أنس بن مالك مثله يعني ← بن شِهَابٍ ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 953

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 8 باب الجمع بين صلاتين كيف هو ) · حديث 954

900 - حدثنا فهد قال ثنا الحسن بن بشر قال ثنا المعافي بن عمران عن مغيرة بن زياد الموصلي عن عطاء بن أبي رباح عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم في السفر يؤخر الظهر ويقدم العصر ويؤخر المغرب ويقدم العشاء ثم هذا عبد الله بن مسعود رضي الله عنهما أيضا قد روينا عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يجمع بين الصلاتين في السفر ثم قد روى عنه ما

عطاء بن ابی رباح نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم فرماتے اور مغرب کو مؤخر اور عشاء کو مقدم فرماتے ۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمُوصِلِيُّ ← الْمُعَافِیُّ بْنُ عِمْرَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ← فهد

Hadith 954

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter