شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 915
866 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الله بن بكر قال أنا حميد الطويل عن أنس رضي الله عنه قال أخر رسول الله صلى الله عليه و سلم العتمة إلى قريب من شطر الليل فلما صلى اقبل علينا بوجهه فقال ان الناس قد صلوا وناموا ورقدوا ولم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها
حمید الطویل نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو رات کا ایک حصہ گزر جانے تک مؤخر کیا جب آپ نماز پڑھا چکے تو ہماری طرف توجہ کر کے فرمایا بلا شبہ لوگ نماز پڑھ چکے اور سو گئے اور نیند میں مستغرق ہو گئے اور تم اس وقت تک نماز میں ہو جب تک کہ نماز کے انتظار میں رہو۔
أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 915
