Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 915

866 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الله بن بكر قال أنا حميد الطويل عن أنس رضي الله عنه قال أخر رسول الله صلى الله عليه و سلم العتمة إلى قريب من شطر الليل فلما صلى اقبل علينا بوجهه فقال ان الناس قد صلوا وناموا ورقدوا ولم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها

حمید الطویل نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو رات کا ایک حصہ گزر جانے تک مؤخر کیا جب آپ نماز پڑھا چکے تو ہماری طرف توجہ کر کے فرمایا بلا شبہ لوگ نماز پڑھ چکے اور سو گئے اور نیند میں مستغرق ہو گئے اور تم اس وقت تک نماز میں ہو جب تک کہ نماز کے انتظار میں رہو۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 915

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 916

867 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال أنا حماد قال أنا ثابت أنهم سألوا أنس بن مالك رضي الله عنه كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم خاتم قال نعم ثم قال أخر العشاء ذات ليلة حتى كاد يذهب شطر الليل أو إلى شطر الليل ثم ذكر مثله ففي هذه الآثار أنه صلى الله صلى الله عليه و سلم صلى العشاء بعد مضي ثلث الليل فثبت بذلك أن مضى ثلث الليل لا يخرج به وقتها ولكن معنى ذلك عندنا والله أعلم أن أفضل وقت العشاء الآخرة الذي يصلي فيه هو من حين يغيب الشفق الى ثلث الليل وهو الوقت الذي كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصليها فيه على ما ذكرنا في حديث عائشة رضي الله عنها ثم ما بعد ذلك إلى أن يمضي نصف الليل في الفضل دون ذلك حتى لا تتضاد هذه الآثار ثم أردنا أن ننظر هل بعد خروج نصف الليل من وقتها شيء فنظرنا في ذلك

حماد نے بتلایا کہ ثابت نے ہمیں خبر دی کہ ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی تھی انہوں نے کہا ہاں پھر کہنے لگے آپ نے ایک دن عشاء کو موخر فرمایا قریب تھا کہ رات کا ایک حصہ گزر جائے یا کہا رات کا ایک حصہ گزرنے تک مؤخر کیا پھر اسی طرح روایت نقل کی ۔ ان آثار سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ثلث شب گزرنے پر پڑھی،اس سے یہ بات کھل کر پختہ ہو گئی کہ ثلث شب کا گزرنا نماز عشاء کے وقت کو خارج نہیں کرتا مگر اس کا مطلب ہمارے ہاں (واللہ اعلم) یہ ہے کہ عشاء کا سب سے افضل وقت غروب شفق کے بعد ثلث شب تک ہے اور یہی وہ وقت ہے کہ جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر نماز پڑھا کرتے تھے جیسا کہ حدیث عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہم بیان کر آئے ۔ اس کے بعد دوسرا نمبر وقت عشاء کا آدھی رات تک کا ہے۔ یہ تو فضیلت والے وقت میں دوسرے درجہ میں ہے تاکہ مندرجہ آثار میں تضاد نہ ہو ۔اب ہم نصف شب کے بعد والے وقت سے متعلق روایات پر نگاہ ڈالنا چاہتے ہیں ۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 916

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 917

868 - فإذا يونس قد حدثنا قال أنا بن وهب قال انا يحيى بن أيوب وعبد الله بن عمر وأنس بن عياض عن حميد الطويل قال سمعت أنس بن مالك رضي الله عنه يقول أخر رسول الله صلى الله عليه و سلم الصلاة ذات ليلة إلى شطر الليل ثم انصرف فأقبل علينا بوجهه بعدما صلى بنا فقال قد صلى الناس ورقدوا ولم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها

حمید الطویل کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء کو رات کا کافی حصہ گزرنے تک مؤخر کیا پھر آپ نے مڑ کرہماری طرف توجہ فرمائی جبکہ آپ نماز پڑھا چکے اور فرمایا لوگ نماز پڑھ چکے اور سو گئے اور تم جب تک انتظار میں رہے نماز میں رہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← فإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 917

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 918

869 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر عن حميد عن أنس مثله

اسماعیل بن جعفر نے حمید سے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أَنَسٍ، مِثْلَهُ ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 918

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 919

870 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني يحيى بن أيوب عن حميد عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ففي هذه الآثار أنه صلاها بعد مضي نصف الليل فذلك دليل أنه قد كانت بقية من وقتها بعد مضي نصف الليل وقد روى عنه في ذلك أيضا ما هو أدل من هذا

یحییٰ بن ایوب نے حمید اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ ان آثار سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز نصف شب کے گزرنے پر ادا فرمائی اس سے یہ دلیل مل گئی کہ عشاء کا وقت نصف شب کے بعد ہے ۔ اس سلسلہ میں یہ مرویات اس سے بھی زیادہ دلالت کرتی ہیں ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 919

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 920

871 - حدثنا علي بن معبد وأبو بشر الرقي قالا ثنا حجاج بن محمد عن بن جريج قال أخبرني المغيرة بن حكيم عن أم كلثوم بنت أبي بكر أنها أخبرته عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أنها قالت أعتم النبي صلى الله عليه و سلم ذات ليلة حتى ذهب عامة الليل وحتى نام أهل المسجد ثم خرج فصلى وقال إنه لوقتها لولا أن أشق على أمتي ففي هذا أنه صلاها بعد مضي أكثر الليل وأخبرني أن ذلك وقت لها فثبت بتصحيح هذه الآثار أن أول وقت العشاء الآخرة من حين يغيب الشفق إلى أن يمضي الليل كله ولكنه على أوقات ثلاثة فأما من حين يدخل وقتها إلى أن يمضي ثلث الليل فأفضل وقت صليت فيه وأما من بعد ذلك إلى أن يتم نصف الليل ففي الفضل دون ذلك وأما بعد نصف الليل ففي الفضل دون كل ما قبله وقد روى أيضا عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في وقتها أيضا ما يدل على ما ذكرنا

ام کلثوم بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ ایک رات آپ نے نماز عشاء میں اتنی دیر کی کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا مسجد والے بھی سو گئے پھر آپ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا یہ اس نماز کا وقت ہے اگر میری امت پر گراں نہ ہوتا تو میں اس وقت ادا کرتا ۔ اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو رات کا اکثر حصہ گزرنے پر ادا کیا اور مجھے یہ بتلایا کہ یہ اس وقت ہے ۔ پس ان روایات کی تصیح کے پیش نظر ہم کہیں گے کہ عشاء کا اول وقت غروب شفق سے تمام رات گزرنے تک ہے ۔ مگر اس کی فضیلت کے لحاظ سے تین درجات ہیں ۔ 1۔ چلث شب گزرنے تک افضل ترین وقت ہے جس میں یہ نماز پڑھی جائے ۔2۔اس کے بعد آدھی رات ہونے تک فضیلت کا درجہ اس سے کم ہے ۔ 3۔ آدھی رات کے بعد ماقبل کے دونوں اوقات سے اور فضیلت گھٹ جائے گی اور اس کے متعلق بھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات آئی ہیں ۔

عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا ← أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ ← بن جُرَيْجٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← علي بن معبد وأبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 920

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 921

872 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب عن نافع عن أسلم أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كتب إن وقت العشاء الآخرة إذا غاب الشفق إلى ثلث الليل ولا تؤخروه الى ذلك إلا من شغل ولا تناموا قبلها فمن نام قبلها فلا نامت عيناه قالها ثلاثا فهذا عمر قد روى عنه أيضا

نافع نے اسلم سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا کہ عشاء کا وقت غرو ب شفق سے ثلث لیل ہے اور اس سے اس کو مؤخر نہ کیا جائے ہاں اگر کسی شدید مشغولیت سے مؤخر ہو جائے تو پھر نماز پرھ کر سوؤ۔ جو اس سے پہلے سو گیا خدا کرے اس کی آنکھ کو نیند نصیب نہ ہو یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا ۔

أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 921

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 922

ما حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا يزيد بن إبراهيم قال ثنا محمد بن سيرين عن المهاجر أن عمر رضي الله عنه كتب إلى أبي موسى أن صل صلاة العشاء من العشاء إلى نصف الليل أي حين شئت

ابن سیرین نے مہاجر سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ نماز عشاء وقت عشاء سے نصف لیل تک پڑھی جائے جس وقت میں تم مناسب خیال کرو۔

المهاجر أن عمر ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 922

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 923

874 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب قال ثنا هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن المهاجر مثله

ہشام نے ہشام بن حسان ابن سیرین سے اور انہوں نے مہاجر سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

المهاجر مثله ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← وَھْبٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 923

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 924

875 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا عبد الله بن عون عن محمد عن المهاجر مثله وزاد ولا أدري ذلك إلا نصفا لك ففي هذا أنه قد جعل له أن يصليها الى نصف الليل وقد جعل ذلك نصفا وقد روى عنه أيضا في ذلك ما

عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین اور انہوں نے مہاجر سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں اور میں اس کوہیں جانتا مگر تمہیں نصف ثواب ملے گا۔ اس روایت میں انہوں نے نصف لیل تک پڑھنا مقرر کیا اور اس کو نصف ثواب قرار دیا اس میں یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے آدھی رات تک ادا کرنا مقصر ر فرمایا اور اس کے ثواب کو آدھا قرار دیا اور بھی اس سلسلہ میں میں روایات آئی ہیں ۔

مُحَمَّدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 924

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 925

876 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد قال ثنا سفيان الثوري عن حبيب بن أبي ثابت ح

سفیان ثوری نے حبیب بن ابی ثابت سے اور انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے۔

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 925

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 926

وحدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن نافع بن جبير قال كتب عمر رضي الله عنه إلى أبي موسى وصل العشاء أي الليل شئت ولا تغفلها ففي هذا أنه جعل الليل كله وقتا لها على أنه لا يغفلها فوجه ذلك عندنا على ان تركه إياها الى نصف الليل إغفال لها وتركه إياها الى أن يمضي ثلث الليل ليس بإغفال لها بل هو مؤاخذ بالفضل الذي يطلب في تقديمها في وقتها ومابين هذين الوقتين نصفا بين الأمرين أي أنه دون الوقت الأول وفوق الوقت الثاني فقد وافق هذا أيضا ما صرفنا اليه معنى ما قدمنا ذكره مما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد روى عن أبي هريرة رضي الله عنه في ذلك من قوله ما

حبیب رضی اللہ عنہ بن ابی ثابت نے نافع بن جبیر اور انہوں نے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا عشاء کی نماز رات کے جس حصے میں چاہے پڑھو مگر اس میں غفلت مت برتنا۔ اس روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام رات کو اس کا وقت فرمایا اس طور پر کہ وہ اس سے غفلت اختیار نہ کرے پاس اسکی صورت ہمارے ہاں یہ ہے کہ نصف شب تک اس کا چھوڑنا غفلت ہے اور ثلث شب کے گزر جانے تک اس کو مؤخر کرنا غفلت اور بے توجہی میں داخل نہیں بلکہ وہ مطلوبہ فضل کو پانے والا ہے جو اس کے مقدم کرنے پر ملتا ہے ۔ ان دونوں اوقات میں اول وقت زیادہ فضیلت والا ہے اور دوسرے وقت سے بڑھ کر ہے جس معنی کا ہم تذکرہ کر آئے ہیں یہ مفہوم بھی اس کے موافق ہے ۔ اس سلسلہ میں یہ روایات بھی آئی ہیں ۔ اس روایت میں خبردار کیا گیا کہ نماز عشاء کے لیے تمام رات وقت ہے مگر اس سے غفلت نہ برتنی چاہیے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 926

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter