شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 903
854 - حدثنا فهد قال ثنا عمرو بن حفص قال ثنا أبي عن الأعمش قال ثنا إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد قال صلى عبد الله بأصحابه صلاة المغرب فقام أصحابه يتراأون الشمس فقال ما تنظرون قالوا ننظر أغابت الشمس فقال عبد الله هذا والله الذي لا إله إلا الله هو وقت هذه الصلاة ثم قرأ عبد الله أقم الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل وأشار بيده إلى المغرب فقال هذا غسق الليل وأشار بيده إلى المطلع فقال هذا دلوك الشمس قيل حدثكم عمارة أيضا قال نعم
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی ان کے ساتھی کھڑے ہو کر سورج کو دیکھنے لگے تو عبداللہ نے کہا کیا دیکھتے ہو؟ کہنے لگے ہم دیکھتے ہیں آیا سورج غروب ہو گیا ہے یا نہیں ۔ تو عبداللہ نے فرمایا اس اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں جس کے سوال کوئی معبود نہیں یہی اس نماز کا وقت ہے پھر عبداللہ نے بطور استشہادیہ آیت پڑھی ( اقم الصلاۃ لدلوک الشمس الی عسق اللیل) اپنے ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ غسق اللیل ہے ( رات کا آنا ہے ) اور اپنے ہاتھ س ملطع کی طرف اشارہ کیا او رکہا کہ دلوک الشمس ہے ۔فہد سے پوچھا گیا کہ کیا تمہیں عمارہ نے بھی بیان کیا ، انہوں نے کہا جی ہاں ۔
عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 903
