شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 891
842 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سماك بن حرب قال سمعت المهلب بن أبي صفرة يحدث عن سمرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تصلوا عند طلوع الشمس ولا عند غروبها فإنها تطلع بين قرني الشيطان أو على قرني الشيطان وتغرب بين قرني الشيطان أو على قرني الشيطان قالوا فلما نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصلاة عند غروب الشمس ثبت أنه ليس بوقت صلاة وأن وقت العصر يخرج بدخوله فكان من حجة الآخرين عليه أنه روى في هذا الحديث النهي عن الصلاة عند غروب الشمس وروى في غيره من أدرك ركعة من العصر قبل أن تغيب الشمس فقد أدرك العصر فكان في ذلك إباحة الدخول في العصر في ذلك الوقت فجعل النهي في الحديث الأول على غير الذي أبيح في الحديث الآخر حتى لا يتضاد الحديثان فهذا أولى ما حملت عليه الآثار حتى لا يتضاد وأما وجه النظر عندنا في ذلك فإنا رأينا وقت الظهر والصلوات كلها فيه مباحة التطوع كله وقضاء كل صلاة فائتة وكذلك ما اتفق عليه أنه وقت العصر ووقت الصبح مباح قضاء الصلوات الفائتات فيه فإنما نهى عن التطوع خاصة فيه فكان كل وقت قد اتفق عليه أنه وقت الصلاة من هذه الصلوات كل قد أجمع أن الصلاة الفائتة تقضي فيه فلما ثبت ان هذه صفة أوقات الصلوات المجمع عليها وثبت أن غروب الشمس لا يقضي فيه صلاة فائتة باتفاقهم خرجت بذلك صفته من صفة أوقات الصلوات المكتوبات وثبت أنه لا يصلي فيه صلاة أصلا كنصف النهار وطلوع الشمس وأن نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصلاة عند غروب الشمس ناسخ لقوله من أدرك من العصر ركعة قبل أن تغرب الشمس فقد أدرك العصر للدلائل التي شرحناها وبيناها فهذا هو النظر عندنا وهو قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله وأما وقت المغرب فإن في الآثار الأول كلها أنه قد صلاها عند غروب الشمس وقد ذهب قوم إلى خلاف ذلك فقالوا أول وقت المغرب حين يطلع النجم واحتجوا في ذلك بما
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے مہلب بن ابی صفرہ کو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طلوع آفتاب کے وقت اور غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو اس لیے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے یا بین یا علی کا لفظ فرمایا اسی طرح تغرب بین یا علی قرنی الشیطان کے لفظ فرمائے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غروب آفتاب کے وقت نماز سے ممانعت فرمائی ہے تو اس سے ثابت ہو گیا کہ وہ نماز کا وقت نہیں اور اس کے آجانے سے عصر کا وقت جاتا رہتا ہے ۔ ان سے اختلاف رکھنے والے علماء کی دلیل ان کےخلاف یہ ہے کہ اس روایت میں غروب آفتاب کے وقت نماز کی ممانعت کی گئی اور دوسری روایت یہ کہہ درہی ہے کہ ( من ادرک رکعۃ من العصر قبل ان تفرب الشمس فقد ادرک العصر) تو اس سے کم از کم اتنی بات ثابت ہو رہی ہے کہ اس وقت میں نماز عصر میں داخل ہونا مباح ہے تو حدیث اول میں جو نہی مذکور ہے اس کا محمل اور ہوگا اور دوسری روایت میں جس چیز کو مباح قرار دیا گیا اس کا محمل دوسرا ہے تاکہ دونوں روایات کا تضاد ختم ہو جائے یہ ان میں سے سب سے بہتر قول ہے جس پر ان آثار کو محمول کرنا چاہیے تا کہ تضاد نہ ہو ۔ باقی نظر و فکر کے لحاظ سے اس کو دیکھا جائے تو ہمارے سامنے ظہر اور دیگر تمام نمازوں کے اوقات ہیں جن میں نوافل اور قضاء تمام مباح ہیں اسی طرح عصر کے متفق علیہ وقت کا بھی یہی حکم ہے اور صبح کا وہ وقت مباح ہے کہ جس میں تمام فوت شدہ نمازوں کی قضاء درست ہے البتہ نوافل کی ممانعت ہے ۔ ہر وہ وقت جس کے نماز کا وقت ہونے پر سب کا اتفاق ہے اور وہ ان نمازوں کے اوقات سے ہو تو اس میں قضاء نماز جائز ہے اور اس پر بھی سب کا اتفاق ہے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ متفق علیہ اوقات نماز کا یہ حال ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہےکہ غروب آفتاب کے وقت کوئی فوت شدہ نماز ادا نہیں کی جاسکتی اس پر سب متفق ہیں تو اس حالت سے اس کا فرض نمازوں کے اوقات سے خارج ہونا ثابت ہو گیا اور یہ تو پہلے ثابت ہو چکا کہ اس میں کوئی نماز ادا نہ کی جائے گی جیسا کہ زوال اور طلوع آفتاب کے وقت نماز ادا نہیں کی جا سکتی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غروب آفتاب کے قریب نماز کی ممانعت کرنا ( من ادرک من العصر رکعۃ) کو منسوخ کرنے والا ہے ۔ ان دلائل کی بناء پر جو ہم نے تشریح کی اور وضاحت کی نظر کا یہی تقاضا ہے یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے باقی رہا نماز مغرب کاوقت تو پہلے تمام آثار میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو غروب آفتاب کے بعد ادا فرمایا ۔ بعض لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ، انہوں نے کہا کہ نماز مغرب کا پہلا وقت ستاروں کے طلوع کا وقت ہے اور انہوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ۔
سَمُرَةَ ← الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 891
