Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 891

842 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سماك بن حرب قال سمعت المهلب بن أبي صفرة يحدث عن سمرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تصلوا عند طلوع الشمس ولا عند غروبها فإنها تطلع بين قرني الشيطان أو على قرني الشيطان وتغرب بين قرني الشيطان أو على قرني الشيطان قالوا فلما نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصلاة عند غروب الشمس ثبت أنه ليس بوقت صلاة وأن وقت العصر يخرج بدخوله فكان من حجة الآخرين عليه أنه روى في هذا الحديث النهي عن الصلاة عند غروب الشمس وروى في غيره من أدرك ركعة من العصر قبل أن تغيب الشمس فقد أدرك العصر فكان في ذلك إباحة الدخول في العصر في ذلك الوقت فجعل النهي في الحديث الأول على غير الذي أبيح في الحديث الآخر حتى لا يتضاد الحديثان فهذا أولى ما حملت عليه الآثار حتى لا يتضاد وأما وجه النظر عندنا في ذلك فإنا رأينا وقت الظهر والصلوات كلها فيه مباحة التطوع كله وقضاء كل صلاة فائتة وكذلك ما اتفق عليه أنه وقت العصر ووقت الصبح مباح قضاء الصلوات الفائتات فيه فإنما نهى عن التطوع خاصة فيه فكان كل وقت قد اتفق عليه أنه وقت الصلاة من هذه الصلوات كل قد أجمع أن الصلاة الفائتة تقضي فيه فلما ثبت ان هذه صفة أوقات الصلوات المجمع عليها وثبت أن غروب الشمس لا يقضي فيه صلاة فائتة باتفاقهم خرجت بذلك صفته من صفة أوقات الصلوات المكتوبات وثبت أنه لا يصلي فيه صلاة أصلا كنصف النهار وطلوع الشمس وأن نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصلاة عند غروب الشمس ناسخ لقوله من أدرك من العصر ركعة قبل أن تغرب الشمس فقد أدرك العصر للدلائل التي شرحناها وبيناها فهذا هو النظر عندنا وهو قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله وأما وقت المغرب فإن في الآثار الأول كلها أنه قد صلاها عند غروب الشمس وقد ذهب قوم إلى خلاف ذلك فقالوا أول وقت المغرب حين يطلع النجم واحتجوا في ذلك بما

سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے مہلب بن ابی صفرہ کو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طلوع آفتاب کے وقت اور غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو اس لیے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے یا بین یا علی کا لفظ فرمایا اسی طرح تغرب بین یا علی قرنی الشیطان کے لفظ فرمائے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غروب آفتاب کے وقت نماز سے ممانعت فرمائی ہے تو اس سے ثابت ہو گیا کہ وہ نماز کا وقت نہیں اور اس کے آجانے سے عصر کا وقت جاتا رہتا ہے ۔ ان سے اختلاف رکھنے والے علماء کی دلیل ان کےخلاف یہ ہے کہ اس روایت میں غروب آفتاب کے وقت نماز کی ممانعت کی گئی اور دوسری روایت یہ کہہ درہی ہے کہ ( من ادرک رکعۃ من العصر قبل ان تفرب الشمس فقد ادرک العصر) تو اس سے کم از کم اتنی بات ثابت ہو رہی ہے کہ اس وقت میں نماز عصر میں داخل ہونا مباح ہے تو حدیث اول میں جو نہی مذکور ہے اس کا محمل اور ہوگا اور دوسری روایت میں جس چیز کو مباح قرار دیا گیا اس کا محمل دوسرا ہے تاکہ دونوں روایات کا تضاد ختم ہو جائے یہ ان میں سے سب سے بہتر قول ہے جس پر ان آثار کو محمول کرنا چاہیے تا کہ تضاد نہ ہو ۔ باقی نظر و فکر کے لحاظ سے اس کو دیکھا جائے تو ہمارے سامنے ظہر اور دیگر تمام نمازوں کے اوقات ہیں جن میں نوافل اور قضاء تمام مباح ہیں اسی طرح عصر کے متفق علیہ وقت کا بھی یہی حکم ہے اور صبح کا وہ وقت مباح ہے کہ جس میں تمام فوت شدہ نمازوں کی قضاء درست ہے البتہ نوافل کی ممانعت ہے ۔ ہر وہ وقت جس کے نماز کا وقت ہونے پر سب کا اتفاق ہے اور وہ ان نمازوں کے اوقات سے ہو تو اس میں قضاء نماز جائز ہے اور اس پر بھی سب کا اتفاق ہے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ متفق علیہ اوقات نماز کا یہ حال ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہےکہ غروب آفتاب کے وقت کوئی فوت شدہ نماز ادا نہیں کی جاسکتی اس پر سب متفق ہیں تو اس حالت سے اس کا فرض نمازوں کے اوقات سے خارج ہونا ثابت ہو گیا اور یہ تو پہلے ثابت ہو چکا کہ اس میں کوئی نماز ادا نہ کی جائے گی جیسا کہ زوال اور طلوع آفتاب کے وقت نماز ادا نہیں کی جا سکتی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غروب آفتاب کے قریب نماز کی ممانعت کرنا ( من ادرک من العصر رکعۃ) کو منسوخ کرنے والا ہے ۔ ان دلائل کی بناء پر جو ہم نے تشریح کی اور وضاحت کی نظر کا یہی تقاضا ہے یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے باقی رہا نماز مغرب کاوقت تو پہلے تمام آثار میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو غروب آفتاب کے بعد ادا فرمایا ۔ بعض لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ، انہوں نے کہا کہ نماز مغرب کا پہلا وقت ستاروں کے طلوع کا وقت ہے اور انہوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ۔

سَمُرَةَ ← الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 891

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 892

843 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال أخبرني الليث بن سعد عن خير بن نعيم عن أبي هبيرة الشيباني عن أبي تميم الجيشاني عن أبي بصرة الغفاري قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم العصر بالمخمص فقال إن هذه الصلاة عرضت على من كان قبلكم فضيعوها فمن حافظ عليها منكم أوتي أجره مرتين ولا صلاة بعدها حتى يطلع الشاهد

ابو ہبیرہ شیبانی نے ابو تمیم حبشانی سے اور انہوں نے حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مقام مخمص میں عصر کی نماز پڑھائی پھر فرمایا یہ نماز پہلی امتوں کو پیش کی گئی انہوں نے اسکو ضائع کر دیا پس جس نے اس کی حفاظت کی اس کو دو مرتبہ اجر ملے گا اس کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ ستارے طلوع ہو جائیں ۔

صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم العصر بالمخمص ← أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← أبي هبيرة الشيباني ← خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 892

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 893

844 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يعقوب بن إبراهيم قال ثنا أبي عن بن إسحاق قال حدثني يزيد بن أبي حبيب عن خير بن نعيم الحضرمي ثم ذكر مثله بإسناده غير أنه لم يذكر بالمخمص وقال لاصلاة بعدها حتى يرى الشاهد والشاهد النجم فقالوا طلوع النجم هو أول وقتها وكان قوله عندنا ولا صلاة بعدها حتى يرى الشاهد قد يحتمل أن هذا آخر قول رسول الله صلى الله عليه و سلم كما ذكره الليث ويكون الشاهد هو الليل ولكن الذي رواه غير الليث تأول أن الشاهد هو النجم فقال ذلك برأيه لا عن النبي صلى الله عليه و سلم وقد تواترت الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يصلي المغرب إذا تواترت الشمس بالحجاب

ابن اسحاق نے یزید بن ابی حبیب اور انہوں نے خیر بن نعیم حضرمی سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے صرف فرق یہ ہے کہ اس میں مقام مخمص کا تذکرہ نہیں اور اس کے بعد کے الفاظ یہ ہیں ۔( لاصلاۃ بعدھا ختی یری الشاھد) الشاہد ستارے اور اس سے مراد رات بھی ہوتی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ دوسرا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہو جیسا کہ لیث کے بیان سے معلوم ہوتا ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر روایات اس سلسلہ میں آئی ہیں کہ آپ اس وقت نماز مغرب ادا فرماتے جب سورج غروب ہو جاتا ۔ روایات ملاحظہ ہوں ۔ ان کے علاوہ روات نے شاہد کی نجم سے تاویل کی اور کہا یہ لیث کی رائے اور قول ہے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 893

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 894

845 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش عن عمارة عن أبي عطية قال دخلت أنا ومسروق على عائشة رضي الله عنها فقال مسروق يا أم المؤمنين رجلان من أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم كلاهما لا يألوا عن الخير أما أحدهما فيعجل المغرب ويعجل الإفطار والآخر يؤخر المغرب حتى تبدو النجوم ويؤخر الإفطار يعني أبا موسى قالت أيهما يعجل الصلاة والإفطار قال عبد الله قالت عائشة رضي الله عنها كذلك كان يفعل رسول الله صلى الله عليه و سلم

عمارہ نے ابو عطیہ سے نقل کیا کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مسروق نے سوال کیا اے ام المومنین ! اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دو آدمی ہیں جو خیر کو بالکل نہیں چھوڑتے ان میں سے ایک مغرب کو جلد پڑھتا ہے اور جلد افطارکو بھی مؤخر کرتا ہے یعنی ابو موسیٰ انہوں نے پوچھا ان میں سے کون نماز کو اور افطار کو جلد ادا کرتا ہے میں نے کہا عبداللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے ۔

أَبِي عَطِيَّةَ ← عُمَارَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 894

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 895

846 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني يزيد بن أبي حبيب عن أسامة بن زيد عن بن شهاب عن عروة قال أخبرني بشير بن أبي مسعود عن أبي مسعود قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي المغرب إذا وجبت الشمس

عروہ کہتے ہیں کہ بشیر بن ابی مسعود نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب غروب آفتاب کے بعد ادا فرماتے ۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 895

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 896

847 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن محمد بن عمرو بن الحسن عن جابر بن عبد الله قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي المغرب إذا وجبت الشمس

محمد بن عمرو بن الحسن نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 896

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 897

848 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا مكي بن إبراهيم قال ثنا يزيد بن أبي عبيد عن سلمة بن الأكوع قال كنا نصلي المغرب مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا توارت بالحجاب وقد روى في ذلك أيضا عمن بعد النبي صلى الله عليه و سلم

یزید بن ابی عبید نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز غروب آفتاب پر پڑھ لیا کرتے تھے اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد والے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورتابعین رحمۃ اللہ علیہم کی روایات بھی موجود ہیں ۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 897

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 898

849 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا زهير بن معاوية عن عمران بن مسلم عن سويد بن غفلة قال قال عمر صلوا هذه الصلاة يعني المغرب والفجاج مسفرة

سوید بن غفلہ نے کہا کہ جناب عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم یہ نماز یعنی مغرب پڑھو جبکہ وادیاں ابھی روشن ہی ہوں ۔

عمر صلوا هذه الصلاة يعني المغرب والفجاج مسفرة ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 898

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 899

850 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن عمران فذكر مثله بإسناده

شعبہ نے عمران سے اپنی سند کے ساتھ اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

عمران فذكر مثله بإسناده ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 899

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 900

851 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا أبو عوانة عن عمران فذكر مثله بإسناده

ابو عوانہ نے عمران سے اپنی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عمران فذكر مثله بإسناده ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 900

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 901

852 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا يزيد بن إبراهيم قال ثنا محمد بن سيرين عن المهاجر أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كتب إلى أبي موسى أن صل المغرب حين تغرب الشمس

محمد بن سیرین نے مہاجر سے نقل کیا کہ جناب عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ کو لکھا کہ مغرب کی نماز غروب آفتاب پر پڑھو

إلى أبي موسى أن صل المغرب حين تغرب الشمس ← المهاجر أن عمر بن الخطاب ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 901

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 902

853 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن طارق بن عبد الرحمن عن سعيد بن المسيب أن عمر رضي الله عنه كتب إلى أهل الجابية أن صلوا المغرب قبل أن تبدو النجوم

طارق بن عبدالرحمن نے سعید بن المسیب سے نقل کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اہل جابیہ کی طرف لکھا کہ مغرب کی نماز ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کرو۔

إلى أهل الجابية أن صلوا المغرب قبل أن تبدو النجوم ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ ← طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 902

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter