شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 4 باب التأذين للفجر أي وقت هو بعد طلوع الفجر أو قبل ذلك ) · حديث 838
791 - حدثنا الربيع بن سليمان الجيزي قال ثنا أبو الأسود قال ثنا بن لهيعة عن سالم عن سليمان عن بن عثمان أنه حدثه عن عدي بن حاتم عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لبلال إنك تؤذن إذا كان الفجر ساطعا وليس ذلك الصبح إنما الصبح هكذا معترضا فأخبره في هذا الأثر أنه كان يؤذن بطلوع ما يرى أنه الفجر وليس هو في الحقيقة بفجر وقد روينا عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن بلالا ينادي بليل فكلوا واشربوا حتى ينادى بن أم مكتوم قالت ولم يكن بينهما إلا مقدار ما يصعد هذا وينزل هذا فلما كان بين أذانهما من القرب ما ذكرنا ثبت أنهما كانا يقصدان وقتا واحدا وهو طلوع الفجر فيخطيه بلال لما يبصره ويصيبه بن أم مكتوم لأنه لم يكن يفعله حتى يقول له الجماعة أصبحت أصبحت ثم قد روى عن عائشة رضي الله عنها من بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ما
عثمان نے عدی رضی اللہ عنہ بن حاتم سے بیان کیا اور اس نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہا کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو فرمایا تم اس وقت اذان دیتے ہو فجر (کاذب) چمک رہی ہوتی ہے اور یہ صبح (صادق) نہیں بے شک صبح تو اس طرح چوڑائی میں ہوتی ہے ۔ اس ارشاد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو یہ بتلایا کہ تم اس چیز کے ظاہر ہونے پر اسے فجر سمجھ کر اذان دے دیتے ہو ۔ مگر وہ حقیقت میں فجر نہیں ہے اور ہم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا قول نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رات ابھی باقی ہوتی ہے کہ اذان دے دیتے ہیں ، پس تم سحری کھاؤ ،پیئو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں ۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان دونوں کی اذان میں اتنا وفقہ ہوتا کہ وہ اذان کے لیے چڑھتے اور وہ اذان دے کر اترتے ۔جب ان دونوں ازانوں میں اتنا کم فاصلہ تھا تو اس سے ثابت ہو گیا کہ وہ دونوں حضرات طلوع صبح صادق کا ارادہ رکھتے تھے ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ بصارت میں کمزوری کی وجہ سے خطاء کر جاتے اور حضڑت ابن ام مکتوم صبح طلوع فجر پر اذان دیتےکیونکہ وہ اذان اسی وقت دیتے جب تک لوگ ان کو " اصبحت اصبحت " کہ صبح ہو گئی ، صبح ہو گئی نہ پکارتے ۔پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ مروی ہے ۔
اَبِیْ ذَرٍّ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← بن عثمان أنه ← سُلَیْمَانَ ← سَالِمٍ ← بن لهيعة ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← الربيع بن سليمان الجيزي
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 838
