Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7309

6926 - حدثنا علي قال ثنا عبدة قال ثنا بن المبارك قال أنا شعبة عن الحكم قال سمعت عبد الله بن شداد يقول هي أختى ثم ذكر مثله

حضرت عبداللہ بن شداد کہتے تھے کہ وہ میری بہن ہے پھر اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

مِثْلَہُ ← هي أختى ثم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَةُ ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7309

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7310

6927 - حدثنا علي قال ثنا عبدة قال أنا بن المبارك قال أنا سفيان عن سلمة بن كهيل قال أنتهيت إلى عبد الله بن شداد وهو يحدث القوم يقول هي أختي فسألتهم فقالوا كان مولى لابنة حمزة ثم ذكر مثله

سلمہ بن کھیل کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کے ہاں پہنچا اس وقت وہ لوگوں کو بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے وہ میری بہن ہے پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ یہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے غلام تھے پھر اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

مِثْلَہُ ← هي أختي فسألتهم فقالوا كان مولى لابنة حمزة ثم ← الْقَوْمَ ← أنتهيت إلى عبد الله بن شداد وهو ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَةُ ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7310

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7311

6928 - حدثنا علي قال ثنا عبدة قال أنا بن المبارك قال أنا سفيان عن منصور بن حيان الأسدي عن عبد الله بن شداد عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

منصور بن حبان اسدی نے حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ الْأَسَدِيِّ ← سُفْيَانَ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَةُ ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7311

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7312

6929 - حدثنا علي قال ثنا عبدة قال أنا بن المبارك قال أنا جرير بن حازم عن محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب وأبي فزارة قالا ثنا عبد الله بن شداد فذكر مثله ثم قال هل تدرون ما بيني وبينها هي أختي من أمي كانت أمنا أسماء بنت عميس الخثعمية فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ورث بنت حمزة مولاها ما بقي بعد نصيب ابنته بحق فرض الله عز و جل لهل ولم يرد ما بقى على البنت فدلت هذه الآثار أن مولى العتاقة أولى بالميراث من الرحم الذي ليس بعصبة وقد روى مثل هذا أيضا عن علي

محمد بن عبداللہ اور ابو فزارہ دونوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن شداد نے روایت کی پھر انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ یہ جناب رسول اللہ ﷺ ہیں کہ آ پ نے بنت حمزہ رضی اللہ عنہ کو غلام کا وارث قرار دیا جو کچھ کہ اللہ تعالیٰ کے مقررہ حصہ کے مطابق بیٹی کے نصف کے بعد بچا اور بقیہ کو آپ نے بیٹی کی طرف نہیں لوٹایا ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ مولیٰ عتاقہ میراث میں اس رحم سے مقدم ہے جو عصبہ نہ ہو ۔ اور اسی طرح کی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ روایت علی رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو۔

مثله ثم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← أَبِي فَزَارَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَةُ ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7312

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7313

6930 - حدثنا علي بن زيد قال ثنا عبدة قال انا بن المبارك قال أخبرنا فطر عن الحكم بن عتيبة قال قضى علي في أناس منا في من ترك ابنته ومولاته فأعطى ابنته النصف والمولاة النصف

حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے بعض آدمیوں کے مابین فیصلہ کیا جنہوں نے اپنی بیٹی اور لونڈی ترکہ میں چھوڑی چنانچہ آپ نے بیٹی کو نصف وراثت اور بقیہ لونڈی کو آدھی دی۔

الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← فِطْرٍ ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَةُ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7313

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7314

6931 - حدثنا علي قال ثنا عبدة قال أنا بن المبارك قال أنا سفيان عن سلمة بن كهيل قال رأيت المرأة التي ورثها علي من أبيها النصف وورث مولاها النصف وهذا هو النظر أيضا عندنا لأنا رأينا المولى إذا لم يكن معه بنت ورث بالتعصيب كما ترث العصبة من ذوي الأرحام فالنظر على ذلك أن يكون كذلك هو إذا كانت معه ابنة يرث معها كما ترث العصبة من ذوي الأرحام فهذا هو النظر في هذا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وأما ما ذكرناه أيضا عن عبد الله من أنه كان لا يرد على إخوة لأم مع أم شيئا ولا على ابنة بن مع ابنة الصلب ولا على أخوات لأب مع أخوات لأب وأم شيئا فقد ذكرنا عن علي رضي الله عنه خلاف ذلك وأنه كان يرد بقية المواريث على ذوي السهام من ذوي الأرحام فإن النظر عندنا في ذلك ما ذهب إليه علي لأنهم جميعا ذوو أرحام وقد رأيناهم في فرائضهم التي فرضها الله عز و جل لهم فقد ورثوها جميعا بأرحام مختلفة ولم يكن بعضهم بقرب رحمه أولى بالميراث من غيره منهم ممن بعد رحمه فالنظر على ذلك أن يكونوا جميعا فيما يرد عليهم من فضول المواريث كذلك وأن لا يقدم من قرب رحمه علي من كان أبعد رحما من الميت منه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى عن إبراهيم فيما ذكرناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في إعطائه بنت حمزة النصف وبنت مولاها النصف أن ذلك إنما كان طعمة من رسول الله صلى الله عليه و سلم لابنة حمزة

سلمہ بن کھیل سے روایت ہے کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باپ کی میراث سے نصف دیا اور اس کے آزاد کرنے والے کو نصف کا وارث بنایا۔ ہمارے ہاں نظر وفکر کا تقاضا یہی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب مولی کے ساتھ مرنے والے کی بیٹی نہ ہو تو وہ عصبہ کی وجہ سے وارث بنتا ہے جیسا کہ قرابت والوں میں عصبہ وارث ہوتا ہے تو اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جب اس کے ساتھ میت کی بیٹی ہو تو اس وقت بھی اس کا یہی حکم ہو۔ اور وہ لڑکی کے ساتھ اس طرح وارث ہوگا جیسا کہ قرابت والوں کے ساتھ عصبہ کی حیثیت سے وارث ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں قیاس یہی ہے اور امام ابوحنیفہ ابو یوسف، محمد رحمہم اللہ کا قول یہی ہے۔ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ حضرت عبداللہ ماں کے ساتھ ماں کی طرف سے جو بہنیں ان کی طرف نہیں لوٹاتے۔ اس طرح حقیقی بہن کے ساتھ پوتی کی طرف نہیں لوٹاتے اور حقیقی بہنوں کے ساتھ باپ کی طرف سے بہنوں کی طرف لوٹاتے ہیں ۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف نقل کیا ہے کہ آپ بچنے والی میراث کوان قرابت والوں کی طرف لوٹا دیتے ہیں جن کے حصے مقرر ہیں ہمارے نزدیک نظر کا تقاضا وہی ہے جس کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے ہیں کیونکہ وہ سب ذ والارحام ہیں ہم نے ان کے ان فرضی حصوں کو جب دیکھا جو اللہ تعالی نے ان کے لئے مقرر کئے ہیں تو ہم نے یہ بات پائی کہ وہاں بھی وراثت مختلف رشتوں کی وجہ سے کی وراثت کے حق دار دوسروں کے مقابلے میں رحم کے قرب کی وجہ سے نہیں ہوئے تو اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے وہ تمام جن پر وراثت کولوٹایاجاتا ہے قریب رحم والا مرنے والے سے بعید رحم والے کی بنسبت مقدم نہ ہو یہ امام ابوحنیفہ ابو یوسف محمد رحمہم الله کا قول ہے۔ جیسا کہ ہم نے ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کی روایت ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو ان کے آزاد کرده غلام کی وراثت میں سے نصف عنایت فرمائی اور نصف غلام کی بیٹی کو دی ابراہیم کہتے ہیں کہ یہ وراثت نہیں تھی بلکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ کی بیٹی کو کھانے پینے کی اشیاء کے طور پر یہ مال دیا تھا جیسا کہ اس روایت میں بھی ہے۔

رأيت المرأة التي ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَةُ ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7314

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7315

6932 - حدثنا بذلك فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا حسن بن صالح عن منصور عن إبراهيم وهذا عندنا كلام فاسد لأن ابنة مولى ابنة حمزة إن كان وجب لها جميع ميراث أبيها برحمها منه فمحال أن يطعمه النبي صلى الله عليه و سلم بنت حمزة وإن كان ذلك لم يجب لها كله وإنما وجب لها نصفه فما بقي بعد ذلك النصف راجع إلى من أعتقه وهي ابنة حمزة فاستحال ما ذكر إبراهيم في ذلك وثبت أن ما دفع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى بنت حمزة كان بالميراث لا بغيره فإن قال قائل فقد رويت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا آثار في توريث من ليس بعصبة ولا رحم فذكر ما

حسن بن صالح نے منصور سے انہوں نے ابارہیم سے روایت کی مگر ہمارے نزدیک یہ بات غلط ہے کیونکہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے آزاد کردہ غلام کی بیٹی کے لئے اس کی وراثت میں سے قرابت کے طور پر اگر تمام مال واجب ہوتا تو یہ نا ممکن تھا کہ جناب نبی اکرم ﷺ اس میں سے حمزہ کی بیٹی کے لئے بطور خوراک کچھ دیتے اور اگر تمام مال لازم نہ تھا بلکہ آدھا ہی لازم تھا پھر اس سے بچا ہوا آدھامال آزاد کرنے والے کی طرف جانا ہی تھا تو گویا بنت حمزہ کو جو کچھ دیا گیا وہ بطور ولاء دیا گیا پس جو کچھ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کے ذکر کیا وہ درست نہ ہوا بلکہ یہ ثابت ہوگیا کہ میراث میں سے جو کچھ ان کو دیا گیا وہ بطورحت میراث ہی تھا۔ جناب رسول اللہ ﷺ سے ایسی روایات بھی وارد ہیں جن میں آپ نے ایسے لوگوں کو بھی وراثت دی جن کا نہ تو رحم کا رشتہ تھا اور نہ ہی وہ عصبات میں سے تھے ( روایت بطور نمونہ ملاحظہ ہو)۔

مَنْصُورٌ، ← حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← بذلك فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7315

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7316

6933 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا حماد بن سلمة عن عمرو بن دينار رضي الله عنه قال سمعت عوسجة مولى بن عباس يحدث عن بن عباس أن رجلا مات على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يترك قرابة إلا عبدا هو أعتقه فأعطاه النبي صلى الله عليه و سلم ميراثه قال فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ورث المولى الأسفل من المولى الأعلى وأنتم لا تقولون بهذا قيل له إنه ليس في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال المولى الأسفل يرث المولى الأعلى وإنما فيه أنه دفع ميراثه وهو تركته إليه وليس كما روى عنه في الخال أنه قال هو وارث من لا وارث له فقد يحتمل وجوها منها أن يكون دفعه إليه لأنه ورثه إياه بمال الميت عليه من الولاء ويحتمل أن يكون مولاه ذا رحم له فدفع إليه ماله بالرحم وورثه له لا بالولاء ألا تراه يقول في الحديث ولم يترك قرابة إلا عبدا هو أعتقه فأخبر أن العبد كان قرابة له فورثه بالقرابة ويحتمل أن يكون دفع إليه ميراثه لأن الميت كان أمر بذلك فوضع رسول الله صلى الله عليه و سلم ماله حيث أمر بوضعه فيه كما قد روى عن عبد الله بن مسعود فإنه

عوسجہ مولی ابن عباس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فوت ہوا اور اس نے کوئی رشتہ دار پیچھے نہ چھوڑا سوائے ایک غلام کے جس کو وہ آزاد کر چکا تھا جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی وراثت اس غلام کو دے دی۔ یہاں رسول اللہ ﷺ نے مولا ء اعلیٰ یعنی مالک کی وراثت مولاء ااسفل میں آزاد کردہ غلام کوعنایت فرمائی حالانکہ تم اس کے قائل نہیں۔ تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ اس روایت میں تو قطعا یہ مذکورنہیں جناب رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا ہو کہ مولا ء اسفل مولا ء اعلیٰ کا وارث ہوگا بس اتنی بات ہے کہ آپ نے غلام کو وراثت عنایت فرمادی جو کہ اس کا تر کہ تھی یہ اس طرح نہیں جیسا کہ امموں کے بارے میں آپ نے صاف فرمایا کہ وہ اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو پس اس روایت میں کی احتمالات ہیں۔ کہ آپ ﷺ نے اس کو میت کا مال اس لئے عنایت فرمایا کہ وہ ولا ء کے اعتبار سے اس مال کا . حق دار تھا ممکن ہے وہ غلام اس کا قرابت دار بھی ہو اور قرابت کی وجہ سے اس کو وہ مال ملا ہوولاء کی وجہ سے نہ دیا ہو حدیث کے ان الفاظ سے ادھر اشارہ نکلتا ہے ”ولم يترك قرابتا الا عبدا هو اعتقه" الحدیث کہ اس کا کوئی قرابت دار نہیں تھا سوائے اس غلام کے جس کو وہ آزاد کر چکا تھا تو اس سے معلوم ہوگیا کہ غلام اس کا قرابت دارتھا اس کوقرابت کی وجہ سے وراثت ملی۔ اس کی میراث اس لئے دی گئی ممکن ہے میت نے اس کا حکم دیا ہو تو آپ ﷺ نے اس کا مال وصیت کے مطابق لگا دیا جیسا کہ روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ میں مذکور ہے (ملاحظہ ہو)

عوسجة مولى بن عباس ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7316

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7317

6934 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال ثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن الشعبي عن عمرو بن شرحبيل قال قال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه إنه ليس من حي من العرب أحرى أن يموت الرجل منهم ولا يعرف له وارث منكم معشر همدان فإذا كان كذلك فليضع ماله حيث أحب قال الأعمش فذكرت ذلك لإبراهيم فقال حدثني همام بن الحارث عن عمرو بن شرحبيل رضي الله عنه عن عبد الله مثله

عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ مجھے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں کہ ان کا کوئی آدمی مر جائے اور اسے گر وہ ہمدان تم میں سے کوئی اس کا وارث نہ بنے اگر ایسی صورت پیش آ جائے تو پھر اس کا مال اس مقام پر لگا دے جہاں وہ پسند کرے ۔ اعمش کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات ابراہیم کو بتلائی تو انہوںنے کہا کہ حمام بن حارث نے عمر و بن شرحبیل اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7317

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7318

6935 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن أبي عمرو الشيباني عن بن مسعود مثله

سلمیٰ بن کھیل نے ابو عمر و شیبانی سے انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن مسعود مثله ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7318

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7319

6936 - حدثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن الحكم عن إبراهيم عن عمرو بن شرحبيل عن عبد الله مثله

ابراہیم نے عمرو بن شرحبیل اور انہوں نے حضرت عبداللہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7319

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7320

6937 - حدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل قال سمعت أبا عمرو الشيباني يحدث عن بن مسعود قال السائبة يضع ماله حيث أحب [ ص 404 ] ضي الله عنه

سلمہ بن کھیل کہتے ہیں کہ میں نے ابو عمر و شیبانی کو حضرت عبداللہ سے یہ بات بیان کرتے سنا کہ آزاد کردہ غلام جو لا وارث ہو وہ اپنا مال جہاں چاہے رکھے ۔

السائبة يضع ماله حيث أحب ص ضي الله عنه ← بن مَسْعُودٍ ← أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَیْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7320

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter