شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7297
6914 - حدثنا علي قال ثنا يزيد قال أنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن مسروق قال أتى عبد الله في إخوة لأم وأم فأعطى الإخوة من ألام الثلث وأعطى الأم سائر المال وقال الأم عصبة من لا عصبة له وكان لا يرد على الإخوة لأم مع الأم ولا على ابنة بن مع ابنة الصلب ولا على أخوات لأب مع أخت لأب وأم ولا على جدة ولا على زوج
مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایک مقدمہ آیا جو ماں اور ماں جائی بہنوں کے سلسلے میں تھا تو انہوں نے ماں جائی بہنو کو ثلث اور بقیہ تمام مال ماں کو دیا اور فرمایا ماں اس کا عصبہ ہے جس کا کوئی عصبہ نہ ہو اور عبداللہ ماں کی طرف سے حقیقی بھائی ماں کے ہوتے ہوئے ان پر میراث کو نہ لوٹاتے تھے اسی طرح حقیقی بیٹی کے ہوتے ہوئے پوتی پر میراث کو نہ لوٹاتے تھے اور اسی طرح حقیقی بہن کے ہوتے ہوئے باپ کی طرف سے بہنوں پر میراث کو نہ لوٹاتے تھے اور نہ ہی عورت اور نہ ہی دادی اور نہ خاوند پر میراث کو لوٹاتے تھے ۔
مَسْرُوقٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ: ← عَلِيٍّ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7297
