شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7285
وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله بن الزبير قال ثنا سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن أبي ربيعة عن حكيم بن حكيم عن عبادة بن حنيف عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف أن رجلا رمى رجلا بسهم فقتله وليس له وارث إلا خال فكتب في ذلك أبو عبيدة بن الجراح إلى عمر بن الخطاب فكتب عمر إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الله ورسوله مولى من لا ولي له والخال وارث من لا وارث له
عبادہ بن حنیف نے ابو اسامہ بن سہل بن حنیف سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو تیر مار کر ہلاک کر دیا اور مرنے والے کا سوائے ماموں کے کوئی وارث نہ تھا تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف یہ لکھا کہ جس کا کوئی وارث نہ ہو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اس کے وارث ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو ماموں اس کا وارث ہے ۔
أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عبادة بن حنيف ← حَکِيمِ بْنِ حَکِيمٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7285
