Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7273

6891 - حدثنا علي بن شيبة قال أنا يزيد بن هارون وأبو نعيم قالا ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن مسروق عن عبد الله في ابنة وأخت وجد قال من أربعة

مسروق نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیٹی اور بہن اور دادا کے متعلق فرمایا کہ مال چار حصوں میں تقسیم ہو گا ( نصف بیٹی اور بقیہ دونوں میں برابر برابر )

مِنْ أَرْبَعَةٍ ← عبد الله في ابنة وأخت وجد ← مَسْرُوقٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← يزيد بن هارون وأبو نعيم ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7273

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7274

6892 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن أشعث بن أبي الشعثاء قال سمعت الأسود بن يزيد يقول قضى فينا معاذ باليمن في رجل ترك ابنته وأخته فأعطى الإبنة النصف وأعطى الأخت النصف قال شعبة وأخبرني الأعمش قال سمعت إبراهيم يحدث عن الأسود قال قضى فينا معاذ باليمن ورسول الله صلى الله عليه و سلم حي مثله

اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے یمن میں ایک ایسے شخص کی وراثت کا فیصلہ فرمایا جس نے بیٹی اور بہن پیچھے چھوڑی تو آپ نے نصف بیٹی اور نصف بہن کو دیا ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ اسود نے بیان کیا کہ ہمارے ہاں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے یمن میں اسی طرح فیصلہ کیا جبکہ ابھی جناب نبی اکرم ﷺ دنیا میں زندہ تھے ۔

الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7274

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7275

6893 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا سفيان الثوري عن أشعث بن أبي الشعثاء عن الأسود بن يزيد قال قضى بن الزبير في ابنة وأخت فأعطى للابنة النصف وأعطى للعصبة سائر المال فقلت إن معاذا قضى فينا باليمن فأعطى للابنة النصف وأعطى للأخت النصف فقال عبد الله بن الزبير فأئت رسولي إلى عبد الله بن عتبة فتحدثه بهذا الحديث وكان قاضي الكوفة فهذا عبد الله بن الزبير قد رجع عن قوله الذي وافق فيه بن عباس إلى قول الآخرين

اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ابن الزبیر نے بیٹی اور بہن کے متعلق اس طرح فیصلہ فرمایا کہ بیٹی کو نصف دیا اور عصبہ کو بقیہ تمام مال دے دیا میں نےابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے مابین حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے یمن میں ( اسی قسم کی صورت میں ) بیٹی کو نصف اور بہن کو نصٖف دیا تو اس پر ابن زبیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے تم عبداللہ بن عقبہ قاضی کوفہ کے پاس میرے قاصد بن کر جاؤ اور ان کو یہ روایت بیان کر دو۔ یہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں کہ انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا جو ابن عباس رضی اللہ عنہ کے موافق تھا اور یہ دوسروں کے قول کو اختیار کیا۔

قضى بن الزبير في ابنة وأخت فأعطى للابنة النصف وأعطى للعصبة سائر المال فقلت ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7275

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7276

6894 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن وروح بن الفرج قالا ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن أشعث بن أبي الشعثاء عن الأسود بن يزيد قال قدم معاذ إلى اليمن فسئل عن ابنة وأخت فأعطى للابنة النصف وللأخت النصف

اسود بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یمن آئے تو ان سے بیٹی اور بہن کا مسئلہ دریافت کیا گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف اور نصف بہن کو عنایت فرمایا۔

ابنة وأخت فأعطى للابنة النصف وللأخت النصف ← قدم معاذ إلى اليمن فسئل ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← صالح بن عبد الرحمن وروح بن الفرج

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7276

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7277

6895 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا سفيان الثوري عن معبد بن خالد عن مسروق عن عائشة رضي الله عنها في ابنتين وبنات بن وبني بن وفي أختين لأب وأم وإخوة وأخوات لأب أنها أشركت بين بنات الابن وبني الابن وبني الإخوة والأخوات من الأب فيما بقى قال وكان عبد الله لا يشرك بينهما وقال قوم في ابنة وعصبة إن للابنة جميع المال ولا شيء للعصبة فكفى بهم جهلا في تركهم قول كل الفقهاء إلى قول لم يعلم أنه قال به قبلهم من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا من تابعيهم مع أن ما ذهبوا إليه من ذلك فساده بنص القرآن لأن الله عز و جل يقول يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين فبين الله عز و جل لنا بذلك كيف حكم الأولاد في المواريث إذا كانوا ذكورا أو إناثا ثم قال الله عز و جل فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك فبين لنا حكم الأولاد في المواريث إذا كانوا نساء ثم قال الله عز و جل فإن كانت واحدة فلها النصف فبين لنا كم ميراث الإبنة الواحدة فلما بين لنا مواريث الأولاد على هذه الجهات علمنا بذلك أن حكم ميراث الواحدة لا يخرج من هذه الجهات الثلاث واستحال أن يسمي الله عز و جل للابنة النصف وللبنات الثلثين ولهن أكثر من ذلك إلا لمعنى آخر يبينه في كتابه أو على لسان رسول الله صلى الله عليه و سلم كما أبان في مواريث ذوي الأرحام ولو كانت الإبنة ترث المال كله دون العصبة لما كان لذكر الله عز و جل النصف معنى ولأهمل أمرها كما أهمل الابن فلما بين لها ما ذكرنا كان توقيفا منه عز و جل إيانا على ما سمى لها من ذلك هو سهمها كما كان ما سمى للأخوات من قبل الأب والأم بقوله وإن كان رجل يورث كلالة أو امرأة وله أخ أو أخت فلكل واحد منهما السدس فإن كانوا أكثر من ذلك فمهم شركاء في الثلث فكان ما بقى بعد الذي سمى لهن للعصبات وكذلك ما سمى للزوج والمرأة فيما بقى بعد الذي سمى لهما للعصبة فكذلك الإبنة أيضا ما بقي بعد الذي سمى لها للعصبة هذا دليل قائم صحيح في هذه الآية ثم رجعنا إلى قوله عز و جل إن أمرؤ هلك ليس له ولد وله أخت فلم يبين لنا عز و جل ههنا من ذلك الولد فدلنا ما تقدم من قوله في الآية التي وقفنا فيها على أنصباء الأولاد أن ذلك الولد هو ما تقدم من الولد الذي سمى له الفرض في الآية الأخرى ثم قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما ذكرنا أيضا

مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ میت کی دو بیٹیوں پوتیوں پوتوں اور دو حقیقی بہنیں اور باپ کی طرف سے بہن بھائی ان کو پوتوں پوتیوں اور باپ کی طرف سے بہنوں اور بھائیوں کو مابی میں شریک کرتی تھیں مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان کوشریک نہ کرتے تھے۔ کہ بیٹی اور عصبہ میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بیٹی کو تمام مال ملے گا اور عصبہ کو کچھ بھی نہ ملے گا ان لوگوں کی جہالت کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ انہوں نے تمام فقہاء کے قول کے خلاف ایسا قول اختیار کیا کہ جس کے متعلق حضرات صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہ سے کہیں نشان کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ ان کا قول قرآن مجید کی اس آیت سے غلط ثابت ہوتا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ ”فان کن فوق النتين“ (النساء11) کہ اگر بیٹیاں دو سے زائد ہوں ان کو دوثلث ملیں گے۔ تو الله تعالی نے اس ارشاد میں کھول کر بیان فرما دیا کہ میراث میں اولاد کا حق کس طرح ہے جبکہ وہ تمام مذکر ہوں یا مونث ہوں (فقط مذکر ہوں باہمی برابر تقسیم کریں گے اور تمام بیٹیاں ہوں دو یا اس سے زائد ہوں تو وہ ثلث سے زائدان کو نہ ملے گا ایک ہوتو نصف کی مالک ہے اور اگر دونوں ہوں تو 2/1 سے تقسیم کریں گے ) پھر ارشاد فرمایا ”فان کن نساء" الايۃاگر وہ بیٹیاں دو سے زائد ہوں تو ان کو مترو کہ جائیداد کے دوثلث ملیں گے۔ تو اس آیت میں کھول دیا کہ صرف مؤنث اولا د ہو تو اس کا کیا حکم ہے پھر فرمایا: "وان كانت واحدة فلها النصف“ تو اس میں وضاحت کر دی کہ ایک بیٹی کی میراث کی قدر ہوگی ۔ پس جب اللہ تعالی اولاد کی وراثت ان جہات سے کھول کر بیان کر دیں تو ہمیں معلوم ہوگیا کہ ایک کی میراث کا حکم ان تین صورتوں سے باہر نہیں ۔ اور یہ بات ناممکن ہے کہ اللہ تعالی ایک بیٹی کے لئے نصف مقرر فرمائیں اور کی بیٹیوں کے لئے دوثلث فرمائیں اور ان کا حصہ اس سے بڑھ جائے ۔ اس کی صرف ایک صورت ہو سکتا ہے کہ جس کو اللہ تعالی قرآن مجید میں یا زبان نبوت سے بیان فرمائے جیسا کہ آپ ﷺ نے ذوی الارحام کی میراث کوخوب ظاہر فرمایا۔ اگر بالفرض کوئی بیٹی عصبہ کے بغیر پورے سال کی براہ راست وارث ہوسکتی ہوتی تو پھر اللہ تعالی نے اس کے لئے جو نصف کا اعلان فرمایا ہے اس کا کوئی معنی نہ ہوگا۔ اور اس کا معاملہ بھی لڑکے کے معاملے کی طرح مہمل ہو گا تو جب وہ بات بیان کر دی جو کہ ہم نے ذکر کی ہے تو پھر الله تعالی کی طرف سے ہمیں مطلع کر دیا گیا کہ اللہ تعالی نے اس کا جو حصہ بیان فرمایا ہے۔ وہی اس کا حصہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے حقیقی بہنوں کے سلسلہ میں اپنے اس قول میں فرمایا "وان كان رجل يورث كلالة او امراة وله اخ اواخت فلكل واحد منهما السدس فان كانوا اكثر من ذلك فهم شركاء في الثلث، کہ اگر وہ آدی جس کی وراثت تقسیم ہوتی ہے۔ لا وراث مرد یا لا وارث عورت ہے (اس کا اصل نسل میں سے کوئی نہیں )اس کی بہن یا بھائی ہوتو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر وہ اس سے زائد ہوں تو وہ تہائی حصہ میں شریک ہوں گے پس ان کے مقررہ حصوں سے جو مال زائد بچے گا دہ عصبات کے لئے ہوگا۔ اسی طرح خاوند اور بیوی کے لئے جو حصہ مقرر فرمایا گیا ہے اس سے جو باقی رہے گا وہ بھی عصبہ کے لئے ہوگا۔ اس آیت میں یہ صحیح پختہ دلیل بیان کی گئی ہے۔ دوبارہ مضمون آیت ”ان امرؤا ملك‘‘ کی طرف لوٹتے ہیں اللہ تعالی نے اس آیت میں اس (ولد ) یعنی اولاد کی وضاحت نہیں فرمائی تو اس سے پہلے ہم نے جس آیت سے اولاد کے حصے پر اطلاع پائی ہے وہ اس بت پردلالت کرتی ہے کہ اس سے وہی اولا مراد ہے جس کا حصہ دوسری آیت میں مقررفرمایا ہے ہم نے جو کچھ کر کیا اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ ﷺ سے روایات بھی وارد ہیں (ملاحظہ کریں)

بني الا بن وبني الإخوة والأخوات من الأب فيما بقى ← إخوة وأخوات لأب أنها أشركت بين بنات الا بن ← بني بن وفي أختين لأب وأم ← عائشة في ابنتين وبنات بن ← مَسْرُوقٍ ← معبد بن خالد، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7277

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7278

6896 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى وبحر بن نصر قالا ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني داود بن قيس عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد الله أن امرأة سعد بن الربيع أتت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت يا رسول الله إن سعدا قتل معك وترك إبنتيه وتركني وأخاه فأخذ أخوه ماله وإنما يتزوج النساء بما لهن فدعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أعط امرأته الثمن وإبنتيه الثلثين ولك ما بقي

عبداللہ بن محمد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی جناب رسول اللہ ﷺ کی میں آئی اور کہنے لگیں یارسول اللہ ﷺ سعد تو آپ کے ساتھ غزوہ میں شہید ہو گئے اور انہوں نے دو بیٹیاں اور مجھے اور اپنا بھائی پیچھے چھوڑا ۔ اب اس کے بھائی نے اس کا مال لے لیا اور عورتوں سے ان کے مال کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلا کر فرمایا کہ اس مال کا آٹھواں حصہ ان کی بیوی کو دے دو ۔ اور دو ثلث ان کی بیٹیوں کو دے دو اور جو باقی ہے وہ تمہارا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7278

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7279

6897 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فقد وافق هذا أيضا ما ذكرنا وبهذا كان أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله يقولون وبه نقول أيضا

عبداللہ بن محمد بن عقیل نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ یہ روایت بھی ہماری مذکور بات کے موافق ہے اور حضرت امام ابو حنیفہ، ابو یوسف، محمد رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی کو اختیار کرنے والے تھے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7279

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7280

6898 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن نافع عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار أن رجلا من الأنصار جاء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله رجل هلك وترك عمته وخالته فسأل النبي صلى الله عليه و سلم وهو واقف على حماره فوقف ثم رفع يديه وقال اللهم رجل هلك وترك عمته وخالته فيسأله الرجل ويفعل النبي صلى الله عليه و سلم ذلك ثلاث مرات ثم قال لا شيء لهما

عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک انصاری جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ایک آدمی فوت ہو گیا ہے اور اس نے صرف پھوپھی اور خالہ پیچھے چھوڑی ہے ۔ اس شخص نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اس وقت سوال کیا جبکہ آپ گدھے پر سوار تھے پس آپ ٹھہرگئے پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور بار گاہ الہی میں اس طرح سوال کیا اے اللہ ایک آدمی ہلاک ہو گیا اور اس نے اپنی پھوپھی اور خالہ پیچھے چھوڑی ہے ۔ وہ آدمی آپ سے سوال کرتا رہا اور آپ نے اسی طرح تین مرتبہ کیا پھر فرمایا ان دونوں کو کچھ نہ ملے گا۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7280

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7281

6899 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني حفص بن ميسرة وهشام بن سعد وعبد الرحمن بن زيد عن زيد بن أسلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعي إلى جنازة من الأنصار حتى إذا جاءها قال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ما ترك قالوا ترك عمته وخالته ثم تقدم فقال قفوا الحمار فوقفوا الحمار فقال اللهم رجل ترك عمته وخالته فلم ينزل عليه شيء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا أجد لهما شيئا

عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو انصار کے ایک جنازہ کے لئے بلایا گیا جب آپ جنازہ کے پاس تشریف لے آئے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس میت نے کیا چھوڑا ؟ انہوں نے کہا اس نے پیچھے اپنی پھوپھی اور خالہ چھوڑی ہیں پھر آپ آگے بڑے اور فرمایا ۔ گدھے کو روکو ! لوگوں نے اسے ٹھہرایا تو آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے " اللہم رجل " ایک آدمی نے اپنی پھوپھی اور خالہ چھوڑی ہے اس وقت آپ پر وحی نازل نہ ہوئی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ میں ان کے لئے کوئی چیز نہیں پاتا ۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← حفص بن ميسرة وهشام بن سعد وعبد الرحمن بن زيد، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7281

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7282

6900 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا محمد بن مطرف عن زيد بن أسلم ومحمد بن عبد الرحمن بن المحبر عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار قال أتى رجل من أهل العالية رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إن رجلا هلك وترك عمة وخالة فانطلق فقسم ميراثه فتبعه رسول الله صلى الله عليه و سلم على حمار فقال يا رب رجل ترك عمة وخالة ثم سار هنيهة ثم قال يا رب رجل ترك عمة وخالة ثم سار هنيهة ثم قال يا رب رجل ترك عمة وخالة ثم قال لا أرى ينزل علي شيء لا شيء لهما قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا مات وترك ذا رحم ليس بعصبة ولم يترك عصبة غيره أنه لا يرث من ماله شيئا واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا يرث ذو الرحم إذا لم يكن عصبة بالرحم الذي بينه وبين الميت كما يورث بالرحم الذي يدلي فيكون للعمة الثلثان وللخالة الثلث لأنها تدلي برحم الأم وكان من الحجة لهم في ذلك أن هذا الحديث الذي يحتج به عليهم مخالفهم حديث منقطع ومن مذهب هذا المخالف لهم أن لا يحتج بمنقطع فكيف يحتج عليهم بما لو احتجوا به عليهم لم يسوغوهم إياه ثم لو ثبت هذا الحديث لم يكن فيه أيضا عندنا حجة في دفع مواريث ذوي الأرحام لأنه قد يجوز لا شيء لهما أي لا فرض لهما مسمى كما لغيرهما من النسوة اللاتي يرثن كالبنات والأخوات والجدات فلم ينزل عليه شيء فقال لا شيء لهما على هذا المعنى ويحتمل أيضا لا شيء لهما لا ميراث لهما أصلا لأنه لم يكن نزل عليه حينئذ وأولوا الأرحام بعضهم أولى ببعض في كتاب الله فلما نزلت عليه جعل لهما الميراث فإنه قد روى عنه في مثل هذا أيضا ما

زید بن اسلم نے حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص اہل عالیہ سے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اورکہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ایک آدمی مر گیا اور اس نے اپنی پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے آپ چل کر اس کی میراث تقسیم فرمادیں ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اس کے پیچھے گدے پر سواری کی حالت میں روانہ ہوئے اور بارگاہ الہی میں گزارش کی اے میرے رب ایک آدمی نے اپنے پیچھے پھوپھی اور خالہ چھوڑی ۔ پھر تھوڑی دیر چلے پھر کہا اے میرے رب ایک آدمی ہے جس نے ایک پھوپھی اور خالہ چھوڑی ہے پھر تھوڑی دیر چلے پھر کہا اے میرے رب ایک ادمی اس نے اپنے پیچھے پھوپھی اور خالہ چھوڑی ہے ۔ پھر کہا میرے خیال میں اس کے متعلق کچھ بھی نازل نہ ہو گا ان دونوں کو وراثت میں میرے خیال میں کوئی چیز نہ ملے گی ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آدمی جب مر جائے اور وہ ذی رحم کو چھوڑ جائے کہ عصبہ نہ ہو اور اس کے علاوہ اس نے کوئی عصبہ نہ چھوڑا ہو تو وہ اس کے مال میں سے کسی چیز کا مالک نہ ہو گا اور انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے ۔ فریق ثانی کا مؤقف : یہ ہے کہ جب عصبہ نہ ہو تو یہ قرابتدار اس قرابت کی وجہ سے جو اس کے اور میت کے درمیان پائی جاتی ہے یہ وارث بن جائے گا جیسا کہ اس قرابت کی وجہ سے وارث بنتا ہے جو اس کو رشتہ دار بناتی ہے پس پھوپھی کو دو ثلث اور خالہ کو ایک تہائی ملے گی ۔ کیونکہ وہ مال کی قرابت کی وجہ سے رشتہ دار بنتی ہے ۔ فریق اول کے مؤقف کا جواب : جس روایت سے استدلال کیا گیا ہے وہ روایت منقطع ہے اور منقطع ان کے ہاں قابل حجت نہیں ۔ اگر یہی منقطع ان کے خلاف دلیل میں پیش کریں ان کہ نہ بھائے گی تو اپنے حق کے لئے کیسے پیش کرتے ہیں ۔ اگر بالفرض یہ روایت ثابت بھی ہو جائے تو تب بھی ہمارے نزدیک اس میں قرابت داروں کی وراثت کو دور ہٹانے پر کوئی دلیل نہیں ۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ لاشئی کا مطلب یہ ہو کہ ان کے لئے کوئی متعین و مقرر وراثت کا حصہ نہیں جیسا کہ ان کے علاوہ ان عورتوں کے لئے ہوتا ہے جو وارث بنتی ہیں مثلاً بیٹیاں ، بہنیں اور دادیاں ۔ پس جب جناب رسول اللہ ﷺ پر پھوپھی اور خالہ کے سلسلہ میں کچھ بھی نازل نہ ہوا تو آپ نے اس بنیاد پر فرمایا کہ ان دونوں کے لئے کچھ نہیں ۔ لاشئ میں ایک دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ ان دونوں کے لئے وراثت میں بالکل حصہ نہیں کیونکہ اس وقت تک آ پ پر وحی الہی سے کچھ بھی نازل نہ ہوا تھا اور نہ یہ آیت اتری تھی : واولو الارحام بعضھم اولی ببعض " ( الانفال : 75) جب آپ پر حکم اتر آیا تو آپ ﷺ نے ان کے لئے میراث مقرر کر دی ۔ آپ ﷺ سے اسی قسم کے معاملے میں یہ روایت وارد ہے ۔

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زيد بن أسلم ومحمد بن عبد الرحمن بن المحبر ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7282

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7283

6901 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حيان قال توفي بن الدحداح وكان أتيا وهو الذي ليس له أصل يعرف فقال رسول الله لعاصم بن عدي هل تعرفون له فيكم نسبا قال لا يا رسول الله فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم أبا لبابة بن عبد المنذر بن أخيه فأعطاه ميراثه فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ورث أبا لبابة من ثابت برحمه الذي بينه وبينه فثبت بذلك مواريث ذوي الأرحام ودل سؤال رسول الله صلى الله عليه و سلم ربه سبحانه وتعالى في حديث عطاء بن يسار عن العمة والخالة هل لهما ميراث أم لا أنه لم يكن نزل عليه شيء فيما تقدم في ذلك فثبت بما ذكرنا تأخر حديث واسع هذا عن حديث عطاء بن يسار فكان ناسخا له فإن قلتم إن حديث واسع هذا منقطع قيل لكم وحديث عطاء بن يسار منقطع أيضا فمن جعلكم أولى يثبت المنقطع فيما يوافقكم من مخالفكم فيما يوافقه وقد روى مثل هذا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في آثار متصلة الأسانيد منها ما

واسع ابن حبان نے کہا کہ ثابت بن وحداح فوت ہو گئے اور یہ باہر سے آنے والے تھے جن کے خاندان کا کچھ پتہ نہ تھا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے عاصم بن عدی کو فرمایا کیا تم اپنے خاندان میں اس کا نسب پہچانتے ہو۔ انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺتو آپ نے ان کے بھانجے ابو لبابہ بن عبدالمنذر کو بلایا اور اس کی میراث ان کو عنایب فرمائی ۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے رحم کی رشتہ داری کی وجہ سے ابو لبابہ کو ثابت کی وراثت دی تو اس سے ثابت ہو گیا کہ ذی رحم بھی وارث ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کا عطاء ابن یسار والی روایت میں پھوپھی اور خالہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وراثت سے متعلق سوال کرنا۔ آیا ان کو وراثت ملے گی یا نہیں یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ابھی اس وقت تک اس سلسلے میں آپ پر کوئی حکم نہیں اترا تھا چنانچہ اس سے یہ بات خود ثابت ہو گی کہ یہ واسع والی روایت عطاء کی روایت سے مؤخر ہے اور اس کی ناسخ ہے ۔ ایک ابھرتا ہوا سوال یہ ہے کہ آ پ کی مستدل روایت منقطع ہے ۔ حدیث عطاء بن یسار بھی تو منقطع ہے پھر تمہیں کس نے حق دیا ہے جو منقطع تمہارے موافق ہو اس کو تو ثابت کرلو اور جو مخالف ہو اس کو منقطع کہہ کر رد کر دو ۔ اسی طرح کی روایات رسول اللہ ﷺ سے متصل اسناد کے ساتھ بھی وارد ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

لَا۔ ← رسول الله لعاصم بن عدي هل تعرفون له فيكم نسبا ← توفي بن الدحداح وكان أتيا وهو الذي ليس له أصل يعرف ← عمه واسع بن حيان ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7283

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 2 باب مواريث ذوي الأرحام ) · حديث 7284

6902 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي قال ثنا وكيع قال ثنا سفيان ح

وکیع نے سفیان سے روایت کی ہے ۔

سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7284

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter