Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7261

6880 - حدثنا محمد بن خزيمة قال أنا المعلى بن أسد قال ثنا وهب بن خالد عن بن طاوس عن أبيه عن بن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ألحقوا المال بالفرائض فما أبقت الفرائض فلأولى رجل ذكر

طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرماکیا مال کو فرائض کے ساتھ ملاؤ اور جو فرائض سے بچ جائے تو سب سے زیادہ قریبی مرد کو وہ دیا جائے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← بن طاوس، ← وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7261

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7262

6881 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أمية بن بسطام قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا روح بن القاسم عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

طاوس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7262

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7263

6882 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن بن طاوس عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ولم يذكر بن عباس

طاوس نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے مگر عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ولم يذكر بن عباس ← أَبِيهِ ← بن طاوس، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7263

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7264

6883 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا سفيان الثوري فذكر بإسناده مثله

یزید ابن ہارون نے سفیان ثوری سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

سفيان الثوري فذكر بإسناده مثله ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7264

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7265

6884 - حدثنا علي بن زيد قال ثنا عبدة بن سليمان قال أنا معمر وسفيان عن بن طاوس فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن رجلا لو مات وترك ابنته وأخاه لأبيه وأخته لأبيه وأمه كان لابنته النصف وما بقي فلأخيه لأبيه وأمه دون أخته لأبيه وأمه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا أيضا لو لم يكن مع الإبنة أخ وكانت معها أخت وعصبة كان للابنة النصف وما بقي فللعصبة وإن بعدوا واحتجوا في ذلك أيضا بما روى عن بن عباس

معمر اور سفیان نے ابن طاوس سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہٰ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور وہ اپنی بیٹی اور باپ شریک بھائی اور باپ شریک بہن اور والدہ چھوڑ جائے تو بیٹی کو آدھا مال ملے گا اور بقیہ نصف اس کے بھائی اور ماں کا ہو گا اور اس کی حقیقی بہن کو کچھ بھی نہیں ملے گا انہوں نے اپنی اس بات کے لئے مندرجہ بالا روایت کو پیش کیا ہے ۔ اور انہوں نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ اگر بیٹی کے ساتھ اس کا بھائی نہ ہو اور اس کے ساتھ ایک بہن اور عصبہ ہو تو اس صورت میں بیٹے کو نصف ملتا ہے اور بقیہ عصبہ کو جاتا ہے خواہ دور کے رشتہ دار ہوں اور انہوں نے اس سلسلہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو دلیل بنایا ہے ۔ ( روایت یہ ہے )

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7265

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7266

6885 - حدثنا علي بن زيد قال ثنا عبدة بن سليمان قال أنا بن المبارك عن معمر عن بن طاوس قال أخبرني أبي عن بن عباس أنه قال قال الله عز و جل إن أمرؤ هلك ليس له ولد وله أخت فلها نصف ما ترك قال بن عباس فقلتم أنتم لها النصف وإن كان له ولد [ ص 391 ] وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل للابنة النصف وما بقى بين الأخ والأخت للذكر مثل حظ الأنثيين وإن لم يكن مع الإبنة غير الأخت كان للابنة النصف وللأخت ما بقي وكان من الحجة لهم في ذلك أن حديث بن عباس الذي ذكروا على ما ذكرنا في أول هذا الباب ليس معناه عندنا على ما حملوه عليه ولكن معناه عندنا والله أعلم ما أبقت الفرائض بعد السهام فلأولى رجل ذكر كعمه وعم فالباقي للعم دون العمة لأنهما في درجة واحدة متساويان في النسب وفضل العم على العمة في ذلك بأن كان ذكرا فهذا معنى قوله ما أبقت الفرائض فلأولى رجل ذكر وليس الأخت مع أخيها بداخلين في ذلك والدليل على ما ذكرنا من ذلك أنهم أجمعوا في بنت وبنت بن وابن بن أن للابنة النصف وما بقى فبين بن الابن وإبنة الابن للذكر مثل حظ الأنثيين ولم يجعلوا ما بقى بعد نصيب الإبنة لابن الابن خاصة دون ابنة الابن ولم يكن معنى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم فما أبقت الفرائض فلأولى رجل ذكر على ذلك إنما هو على غيره فلما ثبت أن هذا خارج منه باتفاقهم وثبت أن العم والعمة داخلان في ذلك باتفاقهم إذ جعلوا ما بقى بعد نصيب الإبنة للعم دون العمة ثم اختلفوا في الأخت مع الأخ فقال قوم هما كالعمة مع العم وقال آخرون هما كإبن الابن وإبنة الابن فنظرنا في ذلك لنعطف ما اختلفوا فيه منه على ما أجمعوا عليه فرأينا الأصل المتفق عليه أن بن الابن وإبنة الابن لو لم يكن غيرهما كان المال بينهما للذكر مثل حظ الأنثيين فإذا كان معهما ابنة كان لها النصف وكان ما بقى بعد ذلك النصف بين بن الابن وإبنة الابن على مثل ما يكون لهما من جميع المال لو لم يكن معهما ابنة وكان العم والعمة لو لم يكن معهما ابنة كان المال باتفاقهم للعم دون العمة فإذا كانت هناك ابنة كان لها النصف وما بقى بعد ذلك فهو للعم دون العمة فكان ما بقي بعد نصيب الابنة للذي كان يكون له جميع المال لو لم يكن ابنة فلما كان ذلك كذلك وكان الأخ والأخت لو لم يكن معهما ابنة كان المال بينهما للذكر مثل حظ الأنثيين فالنظر على ذلك أن يكونا كذلك إذا كانت معهما ابنة فوجب لها نصف المال لحق فرض الله عز و جل لها وأن يكون ما بقى بعد ذلك النصف بين الأخ والأخت كما كان يكون لهما جميع المال لو لم يكن ابنة قياسا ونظرا على ما ذكرنا من ذلك وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد دل على ما ذكرنا

طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " ان امروا ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلھا نصف ماترک " ( النساء 176 ) اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کی اولاد نہ ہو بلکہ اس کی بہن ہو تو اس کے لئے ترکہ کا آدھا ہو گا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے پس تمہار قول یہ ہے کہ اس کے لئے نصف ہو گا اگرچہ اس کی اولاد ہو۔ بیٹی کو آدھا ملے گا اور باقی بچ جائے گا وہ بہن، بھائی کے درمیان ایک نسبت دو کے حساب سے ملے گا اور اگر بیٹی کے ساتھ بہن کے علاوہ کوئی نہ ہو تو باقی تمام مال بیٹی کو مل جائے گا۔ فریق اول کے مؤقف کا جواب یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جو وہ روایت جو شروع باب میں پیش کی گئی اس کا مفہوم وہ نہیں جو آپ نے پیش کیا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مقررہ حصوں سے جو کچھ باقی بچ جائے تو وہ سب سے قریبی مرد رشتہ دار کو ملے گا مثلاً چچا اور پھوپھی ہوں تو چچا کو مل جائے گا پوپھی کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ یہ دونوں درجے میں برابر ہیں مرد ہونے کی وجہ سے چچا کو پھوپھی پر سبقت ملی۔ پس ان کے اس قول کا ملب کہ جو باقی بچے وہ یہی ہے کہ بہن بھائی کے ساتھ اس حکم میں شامل نہیں اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر بیٹی، پوتی اور پوتا اکٹھے ہوں تو بیٹی کو نصف ملے گا اور جو بچ رہے گا وہ پوتے اور پوتی کے درمیان " للذکر مثل حظ الانثیین " یعنی ایک نسبت دو سے تقسیم ہو گا یہاں باقی بچنے والے کو تمام میں بیٹی کے نصف الگ کرنے کے بعد پوتی کو چھوڑ کر خاص پوتے کو دینے کا حکم نہیں دیا۔ پس جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد " وما ابقت الفرائض " الحدیث کو بھی اس بات پر محمول نہ کیا جائے گا بلکہ اس کا دوسرا معنی ہو گا۔ پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ سب کے اتفاق سے اس حکم سے خارج ہے اور یہ بات ہو گئی کہ چچا اور پھوپھی بالا تفاق اس میں داخل ہیں اس لئے کہ سب نے بیٹی سے بچنے والے حصے کو چچا کے لئے تو قرار دیا مگر پھوپھی کے لئے نہیں ۔ بہن جب بھائی کے ساتھ ہو اس میں اختلاف ہے : ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ چچا اور پھوپھی پر قیاس کریں گے ۔ وہ پوتا پوتی کی طرح ہوں گے اب ہم اس میں غور کرتے ہیں تاکہ اس اختلافی بات کو اس اتفاقی بات کی طرف موڑ دیں چنانچہ ایک اہم متفقہ قائدہ یہ ہے کہ پوتا پوتی کے ساتھ اگر کوئی دوسرا وارث نہ ہو تو بقیہ تمام مال ان کے درمیان ایک نسبت دو سے تقسیم ہو گا۔ جب ان دونوں کے ساتھ مرنے والے کی بیٹی بھی ہو تو اس بیٹی کو آدھا ملتا ہے اور اس نصف سے جو بچے گا وہ پوتے پوتی کے درمیان اسی طرح ایک نسبت دو سے تقسیم ہو گا جبکہ ان کے ساتھ وہ بیٹی نہ ہوتی ۔ اور چچا اور پھوپھی اگر ان کے ساتھ بیٹی نہ ہو تو بالا تفاق تمام مال چچا کو مل جاتا ہے پھوپھی کو کچھ نہیں ملتا پس جب ان کے ساتھ بیٹی ہو گی تو نصف اس کو مل جائے گا اور باقی چچا کو ملے گا پھوپھی کو نہیں ملے گا پس بیٹی کے حصہ کے بعد تمام مال اسی کا ہونا چاہئے کہ اگر بیٹی نہ ہوتی تو جس کو تمام مال ملتا تھا ۔ پس جب یہ بات اسی طرح ہے تو بہن اور بھائی کے ساتھ اگر بیٹی نہ ہو تو تب بھی مال ان کے درمیان " للذکر مثل حظ الا نثیین " کے مطابق تقسیم ہو گا پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ یہ اسی طرح ہو جب ان کے ساتھ بیٹی ہو تو آدھا مال اس کا ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا اور آدھے کے بعد جو بچا ہے وہ بہن بھائی کے درمیان اسی طرح تقسیم ہو گا جیسا تمام مال تقسیم ہوتا اگر یہ بیٹی نہ ہوتی قیاس و نظر اسی طرح چاہتے ہیں ۔ جناب رسول اللہ ﷺ سے ایسا ارشاد مروی ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي ← بن طاوس، ← مَعْمَرٌ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7266

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7267

6886 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون وعبيد الله بن موسى العيسى ح

یزید بن ہارون نے اور عبداللہ بن موسیٰ عبسی سے علی ابن شیبہ نے روایت نقل کی ۔

يزيد بن هارون وعبيد الله بن موسى العيسى ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7267

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7268

وحدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال أنا سفيان عن أبي قيس عن هذيل بن شرحبيل قال أتى سليمان بن ربيعة وأبو موسى الأشعري في ابنة وإبنة بن وأخت فقالا للابنة النصف وللأخت النصف ثم قالا إيت عبد الله فإنه سيبتاعنا فأتاه فقال عبد الله لقد ضللت إذا وما أنا من المهتدين ولكن سأقضي فيها بما قضى به رسول الله صلى الله عليه و سلم للابنة النصف ولإبنة الابن السدس تكملة للثلثين وما بقى فللأخت

ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن ربیعہ اور ابو موسیٰ اشعری کی خدمت میں مرنے والے کی بیٹی، پوتی اور بہن کا مسئلہ پیش ہوا دونوں نے کہا کہ بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف، پھر دونوں کہنے لگے کہ عبداللہ کے پاس جاؤ وہ بھی ہماری اتباع کریں گے وہ عبداللہ کے پاس آئے تو وہ کہنے لگے کہ میں تو اس وقت بھول میں پڑ جاؤں گا اور سیدھی راہ پانے والوں میں سے نہ ہوں گا ( اگر می ںاسی طرح فیصلہ کرتا ) میں تو اس کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نصف بیٹی کا ہو گا اور پوتی کے لئے چھٹا حصہ ہو گا تاکہ یہ دو ثلث کی تکمیل ہو جائے اور بقیہ بہن کا ہوگا۔

عَبْدُ اللهِ: لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا ← إيت عبد الله فإنه سيبتاعنا فأتاه ← للابنة النصف وللأخت النصف ثم ← أتى سليمان بن ربيعة وأبو موسى الأشعري في ابنة وإبنة بن وأخت ← هُذَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← أَبِي قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7268

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7269

6887 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن أبي قيس عن هذيل مثله ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل للأخوات من قبل الأب مع الإبنة عصبة فيصرن مع البنات في حكم الذكور من الأخوة من قبل الأب فصار قول النبي صلى الله عليه و سلم فما أبقت الفرائض فلأولى رجل ذكر لأنه عصبة ولا عصبة أقرب منه فإذا كان هناك عصبة هي أقرب من ذلك الرجل فالمال لها وعلى هذا المعنى ينبغي أن يحمل هذا الحديث حتى لا يخالف حديث بن مسعود هذا ولا يضاده وسبيل الآثار أن تحمل على الاتفاق ما وجد السبيل إلى ذلك ولا تحمل على التنافي والتضاد ولو كان حديث بن عباس على ما حمله عليه المخالف لنا وجب على مذهبه أن يضاد به حديث بن مسعود لأن حديث بن مسعود هذا مستقيم الإسناد صحيح المجئ وحديث بن عباس مضطرب الإسناد لأنه قد قطعه من ليس بدون من رفعه على ما ذكرنا في أول هذا الباب وأما ما احتجوا به من قول الله عز و جل إن أمرؤ هلك ليس له ولد وله أخت فلها نصف ما ترك فقالوا إنما ورث الله عز و جل للأخت إذا لم يكن له ولدا فالحجة عليهم في ذلك أن الله عز و جل قال أيضا وهو يرثها إن لم يكن لها ولد وقد أجمعوا جميعا على أنها لو تركت بنتها وأخاها لأبيها كان للابنة النصف وما بقى فللأخ وأن معنى قول الله عز و جل إن لم يكن لها ولد إنما هو على ولد يحوز كل الميراث لا على الولد الذي لا يحوز كل الميراث فالنظر على ذلك أيضا أن يكون قوله عز و جل إن أمرؤ هلك ليس له ولد وله أخت فلها نصف ما ترك هو على ولد يحوز جميع الميراث لا على ولد لا يحوز جميع الميراث فأما ما احتجوا به من مذهب بن عباس في ذلك فإنه خالف فيه سائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم سواه فمما روى عنهم في ذلك ما

ابو قیس نے ہزیل سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے باپ کی طرف سے جو بہنیں ہیں ان کو بیٹی کے ساتھ عصبہ قرار دیا ہے چنانچہ وہ بیٹوں کے ساتھ باپ کی طرف سے بھائی کی طرح ہو جائیں گی پس جناب نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی " فما ابقت الفرائض فلا ولی رجل ذکر " الحدیث کہ جو کچھ فرائض سے بچ جائے وہ قریب ترین مرد کو ملے گا کیونکہ وہ عصبہ ہے اور کوئی عصبہ سے زیادہ قریب نہیں بالفرض اگر کوئی وہاں عصبہ اس سے بھی قریب تر مل جائے گا تو مال اس کا ہوگا پس اس حدیث کا یہ مفہوم اس لئے لیا گیا تاکہ یہ روایت ، روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متضاد نہ رہے آثار کے سلسلے میں بہترین راہ یہی ہے کہ اس کو اتفاق پر محمول کیا جائے جہاں تک اس کے لئے راہ ملے اور تضاد و تنافی پر محمول نہ کرے ۔ اگر ہم بھی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے مخالف کی طرح اس معنی پر محمول کریں تو پھر یہ روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے متضاد ہو گی جب کہ سند کے اعتبار سے روایت ابن مسعود صحیح الاسناد اور مرفوع روایت ہے اور اس کے بالمقابل روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ سند کے اعتبار سے مضطرب ہے کیونکہ اس کو منقطع آدمی نے بیان کیا جو اس کو مرفوع بیان کرنے والے سے درجہ میں کم نہیں۔ رہا ان کا اس آیت سے استدلال " ان امرؤا ھلک " ( النساء 176 ) کہ اللہ تعالیٰ نے بہن کو اس صورت میں وارث بنایا ہے جب کہ میت کی اولاد نہ ہو تو اس مفہوم کے متعلق ہم یہ عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " ان لم یکن لھا ولد " کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر عورت اپنی بیٹی اور باپ کی طرف سے حقیقی بھائی چھوڑ جائے تو بیٹی کو آدھا ملتا ہے اور باقی تمام بھائی کا ہوتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد " ان لم یکن لھا ولد " کا مطلب وہ اولاد ہے جو تمام میراث لے جائے وہ اولاد مراد نہیں جس کو تمام میراث حاصل نہ ہو پس قیاس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد " ان امرؤا ھلک لیس لہ ولد " الایۃ اس سے وہی لڑکا مراد ہے جو تمام میراث لے جائے وہ اولاد مراد نہیں جو تمام میراث کو نہ لے جا سکے ۔ مذہب ابن عباس رضی اللہ عنہ جس سے فریق اول نے استدلال کیا وہ تمام اصحاب رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہے ( چنانچہ ان کی روایات ملاحظہ ہوں )

هذيل مثله ففي هذا الحديث ← أَبِي قَيْسٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7269

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7270

6888 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا بن لهيعة عن عقيل أنه سمع بن شهاب يخبر عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن زيد بن ثابت أن عمر بن الخطاب قسم الميراث بين الإبنة والأخت نصفين

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹی اور بہن کے درمیان میراث کو نصفا نصف تقسیم کیا ۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شهاب يخبر ← عَقِيلٍ، أَنَّهُ ← بن لهيعة ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7270

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7271

6889 - حدثنا علي بن زيد قال ثنا عبدة بن سليمان قال أنا بن المبارك قال أنا يحيى بن أيوب قال أنا يزيد بن أبي حبيب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قسم المال شطرين بين الإبنة والأخت

ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹی اور بہن کے درمیان مال دو حصوں میں تقسیم کیا ۔

يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7271

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 26 كتاب الفرائض ) ‹ ( 1 باب الرجل يموت ويترك بنتا وأختا وعصبة سواها ) · حديث 7272

6890 - حدثنا علي قال ثنا عبدة قال أنا بن المبارك قال أنا إسرائيل عن جابر عن الشعبي عن علي وعبد الله في ابنة وأخت للابنة النصف وللأخت النصف وقال أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم مثل ذلك إلا بن عباس وابن الزبير

شعبی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ انہوں نے بیٹی اور بہن کو نصفا نصف مال دیا ۔ اور امام شعبی کہتے ہیں کہ تمام اصحاب محمد ﷺ کے ہاں اسی طرح ہے سوائے ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے ۔

علي وعبد الله في ابنة وأخت للابنة النصف وللأخت النصف ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَةُ ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7272

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter