شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7260
6879 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال أخبرني سعيد وأبو سلمة أن أبا هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله غير أنه قال يا صفية يا فاطمة ففي هذا الحديث أيضا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أمره الله تعالى أن ينذر عشيرته الأقربين دعا عشائر قريش وفيهم من يلقاه عند أبيه الثاني وفيهم من يلقاه عند أبيه الثلث وفيهم من يلقاه عند أبيه الرابع وفيهم من يلقاه عند أبيه الخامس وفيهم من يلقاه عند أبيه السادس وفيهم من يلقاه عند آبائه الدين فوق ذلك إلا أنه ممن قد جمعته وإياه قريش فبطل بذلك قول أهل هذه المقالة وثبت إحدى المقالات الأخر ونظرنا في قول من قدم من قرب رحمه على من هو أبعد رحما منه فوجدنا رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قسم سهم ذوي القربى عم به بني هاشم وبني المطلب وبعض بني هاشم أقرب إليه من بعض وبعض بني المطلب أيضا أقرب إليه من بعض [ ص 389 ] فلما لم يقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك من قرب رحمه منه على من هو أبعد إليه رحما منه وجعلهم كلهم قرابة له لا يستحقون ما جعل الله عز و جل لقرابته فكذلك من بعدت رحمه في الوصية لقرابة فلان لا يستحق بقرب رحمه منه شيئا مما جعل لقرابته إلا كما يستحق سائر قرابته ممن رحمه منه أبعد من رحمه فهذه حجة وحجة أخرى أن أبا طلحة لما أمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يجعل أرضه في فقراء القرابة جعلها لحسان ولأبي وإنما يلتقي هو وأبي عند أبيه السابع ويلتقي هو وحسان عند أبيه الثالث ولأن حسان بن ثابت بن المنذر بن حرام وأبو طلحة زيد بن سهل بن الأسود بن حرام فلم يقدم أبو طلحة في ذلك حسانا لقرب رحمه منه على أبي لبعد رحمه منه ولم يروا أحدا منهما مستحقا لقرابته منه في ذلك منه إلا كما يستحق منه الآخر فثبت بذلك فساد هذا القول ثم رجعنا إلى ما ذهب إليه أبو حنيفة رحمه الله فرأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قسم سهم ذوي القربى أعطى بني هاشم جميعا وفيهم من رحمه منه رحم محرمة وفيهم منه من رحمه منه غير محرمة وأعطى بني المطلب معهم وأرحامهم جميعا منه غير محرمة وكذلك أعطى أبو طلحة أبيا وحسانا ما أعطاهما على أنهما قرابة ولم يخرجهما من قرابته ارتفاع الحرمة من رحمهما منه فبطل بذلك أيضا ما ذهب إليه أبو حنيفة رحمه الله ثم رجعنا إلى ما ذهب إليه أبو يوسف ومحمد رحمهما الله فرأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطى سهم ذوي القربى بني هاشم وبني المطلب ولا يجتمع هو وواحد منهم إلى أب منذ كانت الهجرة وإنما يجتمع هو وهم عند آباء كانوا في الجاهلية وكذلك أبو طلحة وأبي وحسان لا يجتمعون عند أب إسلامي وإنما يجتمعون عند أب كان في الجاهلية ولم يمنعهم ذلك أن يكونوا قرابة له يستحقون ما جعل للقرابة فكذلك قرابة الموصي لقرابته لا يمنعهم من تلك الوصية إلا أن لا يجمعهم وإياه أب منذ كانت الهجرة فبطل بذلك قول أبي يوسف ومحمد رحمهما الله وثبت القول الآخر فثبت أن الوصية بذلك لكل من توقف على نسبه أبا غير اب وأما غير أم حتى يلتقي هو والموصي لقرابته إلى جد واحد في الجاهلية أو في الإسلام بعد أن يكون أولئك للآباء يستحق بالقرابة هم المواريث في حال ويقوم بالإنسان منهم الشهادات على سياقه ما بين الموصي لقرابته وبينهم من الآباء ومن الأمهات فهذا القول هو أصح القولين عندنا
ابوسلمہ اور سعید نے روایت کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی البتہ اس میں یا صفیہ یا فاطمہ کے الفاظ ہیں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کوجب الله تعالی نے حکم فرمایا کہ وہ اپنے قریبی خاندان کو ڈرائیں تو آپ نے قریش کے خاندانوں کو بلایا ان میں بعض کا سلسلہ نسب دوسری پشت میں اور بعض کا تیسری پشت اور بعض کا چوتھی اور بعض کا پانچویں پشت میں ملتا تھا جبکہ بعض کانسبی سلسلہ چھٹی اور بعض کا اس سے اوپر والے خاندانوں سے ملتا تھا البتہ اتنی بات ضروری کہ تمام قریش( یعنی کنانہ) کی اولاد تھے۔ پس اس سے ان لوگوں کی بات تو باطل ہوگئی اور بقیہ اقوال والوں کی بات ثابت ہوگئی۔ اب دوسرے قول پر غور کرتے ہیں کہ رحم کے اعتبار سے جوقریب ہے وہ رحم کے اعتبار سے جو بعید ہے اس سے مقدم ہوگا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے جب ذوی القربی ٰ کا حصہ تقسیم فرمایا تو آپ نے تمام بنو ہاشم اور بنو مطلب کو عطا فرمایا۔ حالانکہ بعض بنوہاشم دوسروں کے مقابلہ میں آپ سے زیادہ قریب تھے۔ اسی طرح بعض بنو مطلب دوسروں کی نسبت آپ کے زیادہ قریب ہیں تو جب جناب رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے قریبی قرابت والوں کو دور کی قرابت والوں پر مقدم نہیں فرمایا اور ان سب کو اپنا رشتہ دار قرار دیا تو جو کچھ الله تعالی نے ان کے لئے مقرر فرمایا ہے وہ قرابت رحم کی وجہ سے اس کے حقدار نہ بن جائیں ( بلکہ دوسرے بھی ان کے ساتھ اسی طرح حقدار ہوں گے ) بالکل اسی طرح وصیت میں فلاں کی قرابت کی وجہ سے دو رحم والا بھی اسی طرح حقدار ہوگا جس طرح قرابت رحم والا حقدار ہے قرابت رحم اس کو حقدار نہ بنائے گی وہ بھی بقیہ قرابت داروں کی طرح حقدار ہوگا جیسادور رحم والا حقدار ہوگا۔ یہ پہلی دلیل ہے۔ حضرت ابو طلحہ کو جناب رسول اللہ ﷺ نے فقیر قرابت والوں میں تقسیم کا حکم فرمایا تو انہوں نے حضرت حسان وابی رضی اللہ عنہ کو دیا۔ حالانکہ ان کا سلسلہ حضرت ابی سے ساتویں پشت میں اور حسان سے تیری پشت میں ملتا ہے حضرت حسان کا سلسلہ یہ ہے۔ حسان بن ثابت بن منذر بن حرام ابو طلحہ زید بن سہل بن اسودبن حرام حضرت ابوطلحہ نے حسان رضی اللہ عنہ کو قرابت رحم کی وجہ سے مقدم نہیں کیا اور نہ ابی کو بعد قرابت کی وجہ سے موخر کیا بلکہ انہوں نے مطلق قرابت میں دوسرے حقداروں کی طرح ان کوحقدار قرار دے کر دیا۔ پس اس سے قرابت رحم کی وجہ سے مقدم کرنے والوں کی بات کا غلط ہونا بھی ثابت ہو گیا۔ اب جس قول امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار اس کے متعلق عرض کرتے ہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے جب ذوی القربی کا حصہ تقسیم فرمایا تو تمام بنی ہاشم کودیا حالانکہ ان میں کچھ لوگ وہ تھے جن سے آپ کا رحم ذی محرم کا رشتہ تھا اور دوسرے ذی رحم تو تھے مگر محرم نہ تھے۔ آپ نے ان کے ساتھ بنی مطلب کو بھی دیا حالانکہ ان کے تمام رحم غیر محرم نہ تھے۔ اسی طرح حضرت ابوطلحہ نے حضرت ابی و حسان رضی اللہ عنہ کو دیا جو دیا اور اس طور پر دیا کہ وہ ان کے قرابت والے ہیں ان دونوں کو قرابت سے نہیں نکالا کہ تم ذی رم محرم نہیں ہو۔ پس ان تین دلائل سے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ والا قول درست ثابت نہ ہوا۔ اب ہم نے ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اور محمد رحمتہ اللہ علیہ کے قول کو دیکھا۔ اس قول کا جواب ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ذوی القربی کاحصہ۔ بنو ہاشم ، بنو مطلب کو دیا حالانکہ یہ دونوں اور نہ ان میں سے کوئی ایک جمع ہو جیسے آپ نے ہجرت فرمائی آپ اور ان کا اجتماع ان آبا ء میں ہوتا ہے جو زمانہ جاہلیت کے آباء و اجداد ہیں ۔ حضرت ابو طلحہ اور ابی ، حسان رضی اللہ عنہ کسی اسلامی باپ میں جمع نہیں ہوئے بلکہ زمانہ جاہلیت کے باپوں میں جمع ہو جاتے ہیں اور یہ بات ان کے قرابتدار ہونے میں رکاوٹ نہ بن سکی کہ قرابت داروں کے لئے جو مقرر ہوا اس میں وہ حقدار نہ بن سکیں ۔ پس اسی طرح وصیت کرنے والے کی قرابت ان کو قرابت داری کی وجہ سے وصیت کا مستحق بننے سے نہ روک سکے گی مگر صرف اس صورت میں کہ ان کو کوئی باپ ہجرت میں جمع نہ کرے۔ پس اس سے ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اور محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی درست نہ ہوا اور آخری قول ( ان دلائل کی روشنی میں ) ثابت ہو گیا۔ حاصل کلام یہ ہوا کہ موصی کی وصیت ہر اس آدی کے لئے ثابت ہو جائے گی جس کا اپنے نسب میں اس موصی کے علاوہ اور باپ پراور اس کی مال کے علاوہ اور مال پر دارومدار ہو یہاں تک کہ یہ اور موصی قرابت کی وجہ سے کی ایک داوے میں جاملیں خواہ وہ دادا زمانہ جاہلیت کا ہو یا زمانہ اسلام کا ہو۔ یہاں تک کہ وہ باپ قرابت کی وجہ سے کسی نہ کسی صورت میں میراث کے حق دار بنتے ہوں اور کسی بھی انسان کے ذریہ ان پر شہادتیں قائم ہو جائیں کہ اس شخص اور موصی کے درمیان قرابت کی وجہ سے رابط اور جوڑ پایا جاتا ہے خواہ وہ ماؤں کی طرف سے ہے باباپوں کی طرف سے ہے۔ یہ قول ہمارے ہاں ان دونوں اقوال میں صحیح تر ہے۔
سَعِيدٌ وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7260
