Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7248

6867 - حدثنا فهد قال ثنا أبو صالح قال ثنا الليث قال حدثني يونس بن يزيد عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

یونس بن یزید نے ان شہاب سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7248

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7249

6868 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن إسحاق قال ثنا محمد بن مسلم عن عروة بن الزبير عن عائشة وعن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة وعن علقمة بن وقاص وسعيد بن المسيب وعبد الله بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة ويحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عن عائشة مثله

عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اور یحییٰ بن عباد نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← أَبِيهِ ← عائشة ويحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير ← عَمْرَةَ ← علقمة بن وقاص وسعيد بن المسيب وعبد الله بن أبي بكر ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7249

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7250

6869 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا سعيد بن عيسى بن تليد قال ثنا المفضل بن فضالة القتباني عن أبي الطاهر عبد الملك بن محمد بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمه عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال حدثتني خالتي عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة مثله قالوا فهذا ما ينبغي للناس أن يفعلوه إلى اليوم وليس بمنسوخ فما ينكرون أن القرعة في العتاق في المرض كذلك قيل لهم قد ذكرنا في ذلك في موضعه ما يغني ولكنا نذكر ههنا ما فيه أيضا دليل أن لا حجة لكم في هذا إن شاء الله تعالى أجمع المسلمون أن للرجل أن يسافر إلى حيث أحب وإن طال سفره ذلك وليس معه أحد من نسائه وأن حكم القسم يرتفع عنه بسفره فلما كان ذلك كذلك كانت قرعة رسول الله صلى الله عليه و سلم بين نسائه في وقت احتياجه إلى الخروج بإحداهن لتطيب نفس من لا يخرج بها منهن وليعلم أنه لم يحاب التي خرج بها عليهن لأنه لما كان له أن يخرج ويخلفهن [ ص 384 ] جميعا كان له أن يخرج ويخلف من شاء منهن فثبت بما ذكرنا أن القرعة إنما تستعمل فيما يسع تركها وفيما له أن يمضيه بغيرها ومن ذلك الخصمان يحضران عند الحاكم فيدعى كل واحد منهما على صاحبه دعوى فينبغي للقاضي أن يقرع بينهما فأيهما قرع بدأ بالنظر في أمره وله أن ينظر في أمر من شاء منهما بغير قرعة فكان الأحسن به لبعد الظن به في هذا استعمال القرعة كما استعملها رسول الله صلى الله عليه و سلم في أمر نسائه وكذلك عمل المسلمون في أقسامهم بالقرعة فيما قد عدلوه بين أهلهم بما لو أمضوه بينهم لا عن قرعة كان ذلك مستقيما فأقرعوا بينهم لتطمئن قلوبهم وترتفع الظنة عمن تولى لهم قسمتهم ولو أقرع بينهم على طوائف من المتاع الذي لهم قبل أن يعدل ويسوي قيمته على أملاكهم منه كان ذلك القسم باطلا فثبت بذلك أن القرعة إنما فعلت بعد أن تقدمها ما يجوز القسم به وأنها إنما أريدت لانتفاء الظن لا بحكم يجب بها فكذلك نقول كل قرعة تكون مثل هذا فهي حسنة وكل قرعة يراد بها وجوب حكم وقطع حقوق متقدمة فهي غير مستعملة ثم رجعنا إلى القولين الآخرين فرأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد حكم في العبد إذا كان بين اثنين فأعتقه أحدهما فإنه حر كله ويضمن إن كان موسرا أو إن كان معسرا ففي ذلك من الاختلاف ما ذكرناه في كتاب العتاق ثم وجدنا في حديث أبي الميلح الهذلي عن أبيه أن رجلا أعتق شقصا له في مملوك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هو حر كله ليس له شريك فبين رسول الله صلى الله عليه و سلم العلة التي لها عتق نصيب صاحبه فدل ذلك أن العتاق متى وقع في بعض العبد انتشر في كله وقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم حكم في العبد بين اثنين إذا أعتقه أحدهما ولا مال له يحكم عليه فيه بالضمان بالسعاية على العبد في نصيب الذي لم يعتق فثبت بذلك أن حكم هؤلاء العبيد في المرض كذلك وأنه لما استحال أن يجب على غيرهم ضمان ما جاوز الثلث الذي للميت أن يوصي به ويملكه في مرضه من حب من قيمتهم وجب عليهم السعاية في ذلك للورثة وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى [ ص 385 ]

عمرہ بنت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ان روایات سے قرعہ کا ثبوت ملتا ہے پس لوگوں کو مناسب ہے کہ وہ آج اس کو اختیار کریں۔ یہ منسوخ نہیں مرض کی حالت میں عتاق میں قرعہ کا حکم بھی اسی طرح ہے۔ ہم اس کا کافی وشافی جواب اپنے مقام پردے چکے مگر یہاں بھی ہم تھوڑا سا ذ کر کئے دیتے ہیں جس سے مزید یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ ان روایات میں ثبوت قرعہ کی کوئی دلیل نہیں۔ ان شاء اللہ مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ آدمی کو جہاں چاہے سفر درست ہے خواہ سفر طویل ہو اور اس کی بیویوں میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہ ہو۔ اور تقسیم میں برابری کا حکم سفر کے وقت اٹھ جاتا ہے جب یہ بات اسی طرح ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج مطہرات میں قرعہ اندازی کرنا جبکہ آپ کو نکلنے کی ضرورت پیش آتی یہ تطییب خاطر کے لئے تھا تا کہ نہ نکلنے والیوں کو یہ بات پیش نظر ہو کہ جس کو ساتھ لے جارہے ہیں اس کے ساتھ ان کے مقابلہ میں محبت زیادہ نہیں کیونکہ آپ کو اکیلے نکلنا اور سب کو سفر میں نہ لے جانا بھی درست تھا تو اسی طرح آپ کو یہ بھی جائز تھا کہ آپ نکلیں اور جس کو چاہیں ساتھ لے جائیں۔ پس اس سے یہ بات بخوبی ثابت ہوگی کہ قرعہ ان کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے جن میں چھوڑنے کی وسعت موجود ہو اور ان میں جن کا اس کے بغیر کرگزرنا درست ہو اسی قسم میں سے یہ بات ہے کہ جب دو آدمی جن کے مابین جھگڑا ہو دونوں حاکم کے پاس حاضر ہوں ان میں سے ہر ایک مدعی ہو تو اس وقت قاضی کے لئے مناسب ہے کہ وہ قرعہ اندازی کرے جس کے نام قرعہ نکلے پہلے اس کے معاملے کو دیکھے اور قاضی کے لئے بھی درست ہے کہ قرعہ اندازی کر کے جس کے معاملے میں چاہے پہلے غور کرے البتہ قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کرنا بہتر ہے تا کہ بدگمانی پیدا نہ ہو۔ جس طرح جناب رسول اللہ ﷺ ازواج مطہرات کے سلسلہ میں اختیار فرمایا ۔ مسلمانوں نے بھی اسی طرح قرعہ اندازی کا طریق کار اختیار کیا کہ جس میں انہوں نے لوگوں کے درمیان برابری برتنا چاہی۔ اگرچہ وہ اگر قرعہ اندازی کے بغیر فیصلہ کریں تو یہ بھی درست ہے ان کے مابین قرعہ اندازی اس لئے اختیار کی جاتی ہے تا کہ ان کے دل مطمئن رہیں اور ذمہ دار کے متعلق بدگمانی اٹھ جائے کہ اس نے جانب داری سے کام لیا ہے۔ اگر ذمہ دار لوگ ان کے مختلف النوع اموال اور املاک میں برابری کر نا چا ہیں اور ان میں قیمتوں کی تعیین کے بغیرقره اندازی کریں تو یہ باطل ہے اور تقسیم کرنے والا غلط طرز اختیار کرنے والا ہے۔ پس اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ قرعہ اندازی ان میں کی جائے گی جن میں اس کے ذریعہ تقسیم درست ہو اس سے کوئی حکم واجب نہ ہوگا یہ صرف بدگمانی کی نفی کے لئے ہے۔ پس ہر وہ قرعہ اندازی جواسی انداز سے ہو وہ درست ہے اور وہ قرعہ جس سے حکم کا وجوب ثابت کرنا ہو اور گزشتہ حقوق کو طے کرنا وہ غیر مستعمل ہے۔ اب ہم آخری دونوں اقوال کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس غلام کے متعلق فيصلہ فرمایا جو دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک آزاد کر دے وہ تمام آزاد ہوجائے گا اور اگر چہ خوشحال يا تنگدست ہو دوسرے کے حصہ کا ضامن ہو گا اور اس میں جو اختلاف ہے وہ ہم کتاب العتاق میں ذکر کر آئے ہیں۔ پھر ہم نے ابواالملیح ہذلی کی روایت پالی جس کو انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ تمام کا تمام آزاد ہے اس کا کوئی حصہ دار نہیں ہے۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس میں وہ علت بیان کر دی جس کی وجہ سے اس کے ساتھ کا حصہ آزاد ہوگیا۔ پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جب غلام کے بعض حصہ میں عناق واقع ہوگا تو وہ تمام میں پھیل جائے گا ہم نے دیکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں کے مشترک غلام کے سلسلہ میں فیصلہ فرمایا جبکہ ان میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس غلام کے پاس کوئی مال نہیں کہ جس کے متعلق کمائی کے لئے ان کا فیصلہ غلام کے متعلق کیا جائے اس حصہ میں جو کہ آزادنہیں کیا گیا۔ پس اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ مرض کی حالت میں ان غلاموں کا یہی حکم ہے تو جب یہ نا ممکن ہے کہ دوسروں پراس مال کے ضمان کا فیصلہ لازم ہو جو کہ ثلث سے زیادہ ہے جس کی میت وصیت کر سکتا ہے اور اپنے مرض کے دوران اس کی قیمت کا جس کو چاہے مالک بنا دے تو ان غلاموں پر اس مال کے سلسلہ میں ورثاء کے لئے دوڑ دھوپ لازم ہے۔ امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم الله کا قول ہے۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7250

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7251

6870 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال ثنا حميد عن أنس قال لما نزلت هذه الآية لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون أو قال من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا جاء أبو طلحة فقال يا رسول الله حائطي الذي بمكان كذا وكذا لله ولو استطعت أن أسره لم أعلنه فقال أجعله في فقراء قرابتك أو فقراء أهلك

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی " لن تنالوا البر حتی تنفقوا مماتحبون " ( آل عمران : 92 ) یہ آیات نازل ہوئی " من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا " ( البقرۃ : 245 ) تو حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ آ کر کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ واقع ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف ہے اگر آ پ چاہیں کہ اس کو پوشیدہ رکھیں تو میں اس کو ظاہر نہ کروں گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اپنے قرابت داروں میں سے فقراء پر تقسیم کر دو یا اپنے اہل میں سے فقراء پر تقسیم کر دو۔

من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا جاء أبو طلحة فقال ← لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ أَوْ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7251

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7252

6871 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا محمد بن عبد الله قال حدثني أبي عن ثمامة قال قال أنس كانت لأبي طلحة أرض فجعلها لله عز و جل فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال له اجعلها في فقراء قرابتك فجعلها لحسان وأبي قال أبي عن ثمامة عن أنس قال فكانا أقرب إليه مني فهذا أبو طلحة قد جعلها لأبي وحسان وإنما يلتقي هو وأبي عند أبيه السابع لأن أبا طلحة اسمه زيد بن سهل بن الأسود بن حرام بن عمرو بن زيد مناة بن عدي بن عمرو بن مالك بن النجار وأبي بن كعب بن قيس بن عتيك بن زيد بن معاوية بن عون بن مالك بن النجار فلم ينكر رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي طلحة ما فعل من ذلك فدل ما ذكرنا على أن من كان يلقى الرجل إلى أبيه الخامس أو السادس أو إلى من فوق ذلك من الآباء المعروفين قرابة له كما أن من يلقاه إلى أب دونه قرابة أيضا وقد أمر الله عز و جل نبيه أيضا صلى الله عليه و سلم أن ينذر عشيرته الأقربين فروى عنه في ذلك ما

ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی ایک زمین تھی انہوں نے وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر مقرر کر دکی وہ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور گزارش کی تو آپ نے فرمایا اس کو اپنے قرابت دار فقراء پر تقسیم کر دو۔ تو انہوں نے وہ باغ حضرت حسان اور ابی رضی اللہ عنہ میں تقسیم کر دیا۔ راوی محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد عبداللہ ثمامہ عن انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ دونوں مجھ سے زیادہ قریب تھے ۔ تو یہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا باغ حضرت ابی اور حسان رضی اللہ عنہ کو دیا حالانکہ ان کا سلسلہ نسب ابو طلحہ سے ساتویں پشت میں ملتا ہے ملاحظہ ہو۔ ابو طلحہ زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجارابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عون بن مالک بن نجار تو نجار میں دونوں کا سلسلہ جمع ہوتا ہے جو کہ ساتویں پشت ہے مگر جناب رسول اللہ ﷺ نے انکار فرمایا بلکہ برقرار فرمایا ۔ پس اس سے ثابت ہو گیا کہ جو پانچویں ، چھٹے یا ساتویں یا اوپر تک آباء معروفین میں ملے وہ اس کی قرابت شمار ہو گی جس طرح کہ اس سے نیچے والوں میں قرابت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے قریبی خاندان کو ڈرائیں ۔ جیسا کہ اس روایت میں ہے ۔

ثُمَامَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7252

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7253

6872 - حدثنا محمد بن عبد الله بن مخلد الأصفهاني قال ثنا عباد بن يعقوب قال ثنا عبد الله بن القدوس عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن عباد بن عباد قال قال علي لما أنزلت وأنذر عشيرتك الأقربين قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم يا علي اجمع لي بني هاشم وهم أربعون رجلا أو أربعون إلا رجلا ثم ذكر الحديث ففي هذا الحديث أنه قصد بني أبيه الثالث وقد روى عنه أيضا في ذلك ما

عباد بن کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت " وانذر عشیرتک الاقربین " ( الشعرء : 214) اتاری تو جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے علی رضی اللہ عنہ ! تم میرے لئے بنو ہاشم کو جمع کرو اور ان کی تعداد چالیس یا ایک کم چالیس تھی پھر روایت اسی طرح بیان کی ۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے قرابت سے تیسری پشت مراد لی ہے اور اس سلسلے میں اور روایت بھی وارد ہے ۔ ( ملاحظہ ہو )

علي لما أنزلت وأنذر عشيرتك الأقربين ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← عبد الله بن القدوس ← عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الله بن مخلد الأصفهاني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7253

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7254

6873 - حدثنا محمد بن عبد الله بن مخلد أبو الحسن الأصبهاني قال ثنا محمد بن حميد الرازي قال ثنا سلمة بن الفضل عن محمد بن إسحاق عن عبد الغفار بن القاسم عن المنهال عن عمرو بن عبد الله بن الحارث عن بن عباس عن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال اجمع لي بني عبد المطلب قال وهم أربعون رجلا يزيدون رجلا أو ينقصونه ففي هذا الحديث أنه قصد بني أبيه الثاني وقد روى عنه أيضا في ذلك ما

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ البتہ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تم میرے لئے بنو عبدالمطلب کو جمع کرو اور کہتے ہیں کہ ان کی تعداد چالیس آدمی ایک کم یا ایک زائد آدمی تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنے دادا کی اولاد کا قصد فرمایا گویا والد کے والد کی اولاد قرابت دار ہیں اور اس سلسلہ اور روایت ملاحظہ ہو۔

اجمع لي بني عبد المطلب ← النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه ← عَلِيٍّ، ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عمرو بن عبد الله بن الحارث ← الْمِنْهَالُ ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ← محمد بن عبد الله بن مخلد أبو الحسن الأصبهاني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7254

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7255

6874 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا يزيد بن زريع قال حدثنا سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي عن قبيصة بن مخارق وزهير بن عمرو قالا لما نزلت وأنذر عشيرتك الأقربين انطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى رضمة من جبل فعلا أعلاها ثم قال يا بني عبد مناف إني نذير ففي هذا الحديث أنه قصد بني أبيه الرابع وقد روي عنه أيضا في ذلك ما

قبیصہ بن مخارق اور زہیر بن عمر دونوں کہتے ہیں کہ جب آیت " وانذر عشیرتک الاقربین " ( الشعرا 214) نازل ہوئی تو جناب رسول اللہ ﷺ پہاڑ کی ایک چٹان پر تشریف لے گئے اور اس کے اوپر چڑھ کر فرمایا یا بنی عبد مناف انی نذیر اے بنی عبد مناف بے شک میں منذر بن کر آیا ہوں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے چوتھے باپ کی اولاد کا قصد فرمایا۔ اس سلسلہ میں آپ ﷺ سے یہ روایت بھی وارد ہے ( ملاحظہ ہو )

قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7255

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7256

6875 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو الأسود وحسان بن غالب قالا ثنا همام عن موسى بن وردان عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال يا بني هاشم يا بني قصي يا بني عبد مناف أنا النذير والموت المغير والساعة الموعود ففي هذا الحديث أنه دعا بني أبيه الخامس وقد روى عنه أيضا في ذلك ما

موسیٰ بن وردان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اے بنی ہاشم ، اے بنی قصی ، اے بنی عبد مناف میں ڈرانے والا ہوں اور موت وہ لوٹ مار والا دشمن ہے اور قیامت کا وعدہ مقرر ہے ۔ میں آ پ نے اپنے پانچویں میں شامل لوگوں کو دعوت دی اور سلسلہ میں یہ بھی مروی ہے ۔ ( ملاحظہ ہو)

يا بني هاشم يا بني قصي يا بني عبد مناف ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← هَمَّامٌ، ← أبو الأسود وحسان بن غالب ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7256

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7257

6876 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد وعفان عن أبي عوانة عن عبد الملك بن عمير عن موسى بن طلحة عن أبي هريرة قال لما نزلت وأنذر عشيرتك الأقربين قام نبي الله صلى الله عليه و سلم فقال يا بني كعب بن لؤي أنقذوا أنفسكم من النار يا بني عبد مناف أنقذوا أنفسكم من النار يا بني هاشم أنقذوا أنفسكم من النار يا فاطمة بنت محمد أنقذي نفسك من النار فإني لا أملك لكم من الله شيئا غير أن لكم رحما سأبلها ببلالها ففي هذا الحديث أنه دعاهم معهم بني أبيه السابع لأنه محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي وقد روى عنه أيضا في ذلك ما

موسیٰ بن طلحہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب آیت " وانذر عشیرتک الاقریبن " ( الشعراء 214) نازل ہوئی تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا ۔ بنی کعب بن لوی تم اپنے کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنی عبد مناف تم اپنے آپ کو بچاؤ۔ اے بنی ہاشم تم اپنے کو آگے سے بچاؤ۔ اے فاطمہ بنت محمد ﷺ تو اپنے آپ کو آگے سے بچا، میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے کے لئے کچھ کام نہ آؤں ۔ البتہ تمہاری میرے ساتھ رحم کی رشتہ داری ہے اس کی تری سے میں تمہیں تر کروں گا (یعنی رحم کی وجہ سے جو حق بنتا ہے اس سے انکار نہیں ) اس روایت میں آپ ﷺ نے بنی کعب جو کہ ساتویں پشت ہے ان کو بھی بلایا اور ان کو قرابت میں شامل فرمایا۔ اس سلسلہ میں یہ بھی روایت وارد ہے ۔ ( ملاحظہ ہو )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبِي عَوَانَةَ، ← أبو الوليد وعفان ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7257

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7258

6877 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال حدثني أبي عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير عن بن عباس قال لما نزلت وأنذر عشيرتك الأقربين صعد رسول الله صلى الله عليه و سلم على الصفا فجعل ينادي يا بني عدي يا بني فلان لبطون من قريش حتى أجتمعوا فجعل الرجل إذا لم يستطع أن يخرج أرسل رسولا لينظر وجاء أبو لهب وقريش فاجتمعوا فقال أرأيتم لو أخبرتكم أن خيلا بالوادي تريد أن تغير عليكم أكنتم تصدقوني قالوا نعم ما جربنا عليك إلا صدقا قال فإني نذير لكم بين يدي عذاب شديد ففي هذا الحديث أنه دعا بطون قريش كلها وقد روى مثل ذلك عن أبي هريرة

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب آیت " وانذر عشیرتک الاقریبن " اتری تو جناب رسول اللہ ﷺ صفا پر چڑھے اور اس طرح آواز دینے لگے ۔ اے بنی فہر، اے بنی عدی ، اے بنی فلاں تمام بطون قریش کو بلایا یہاں تک کہ وہ اکٹھے ہو گئے ۔ تو آدمیوں کا یہ حال ہو گیا کہ جو خود نہیں آ سکتا تھا وہ اپنا نمائندہ بھیجنے لگا تاکہ وہ دیکھے کہ کیا معاملہ پیش آیا ہے ۔ اور ابو لہب اور تمام خاندان قریش جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں اطلاع دوں کہ ایک گھڑ سوار دستہ وادی میں تم پر شبخون مارنے کو تیار کھڑا ہے کیا تم میری اس بات کو سچ جانو گے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ ہم نے اب تک آپ کے متعلق سچ کا تجربہ کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا میں تمہارے لئے سخت عذاب سے پہلے نذیر بن کر آیا ہوں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی ساتویں پشت کے دادا کی اولاد کو شامل فرمایا اور وہ کعب بن لوی ہیں اور یہ بھی رویات وارد ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7258

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( باب الرجل يوصي بثلث ماله لقرابته أو لقرابة فلان منهم ) · حديث 7259

6878 - حدثنا يونس قال ثنا سلامة بن روح قال ثنا عقيل قال حدثني الزهري قال قال سعيد وأبو سلمة بن عبد الرحمن إن أبا هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أنزل عليه وأنذر عشيرتك الأقربين يا معشر قريش اشتروا أنفسكم من الله لا أغني عنكم من الله شيئا يا بني عبد مناف اشتروا أنفسكم من الله لا أغني عنكم من الله شيئا يا عباس بن عبد المطلب لا أغني عنك من الله شيئا يا صفية عمة رسول الله لا أغني عنك من الله شيئا يا فاطمة بنت محمد لا أغني عنك من الله شيئا

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ پر آیت " وانذر عشیرتک الاقربین " نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اے گروہ قریش تم اپنے نفوس کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو۔ میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں تا۔ اے بنی عبد مناف۔ تم اپنے نفوس کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو۔ میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ کام نہ آؤں گا۔ اے صفیہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھڑانے کے لئے تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا ۔ اے فاطمہ بنت محمد ﷺ میں اللہ تعالیٰ سے بچانے کے لئے تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا۔

سعيد وأبو سلمة بن عبد الرحمن إن أبا هريرة ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7259

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter