شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7236
6855 - حدثنا علي بن عبد الأعلى قال ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال مرضت عام الفتح مرضا أشفيت منه على الموت فأتاني رسول الله صلى الله عليه و سلم يعودني فقلت يا رسول الله إن لي مالا كثيرا وليس يرثني إلا ابنتي أفأتصدق بمالي كله قال لا قال أفأتصدق بثلثي مالي قال لا قال فالشطر قال لا قال فالثلث قال والثلث كثير
عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ میں فتح مکہ والے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کو جھانکنے لگا تو میرے پاس جناب رسول اللہ ﷺ عیادت کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے کیا میں اپنا مال صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں میں نے دوبارہ استفسار کیا کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں تو فرمایا نہیں پھر تیسری مرتبہ پوچھا کہ نصف مال ؟ تو ارشاد ہوا نہیں پھر عرض کیا ایک ثلث مال تو فرمایا تیسرا حصہ تیسرا حصہ بہت ہے ۔
أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7236
