Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7236

6855 - حدثنا علي بن عبد الأعلى قال ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال مرضت عام الفتح مرضا أشفيت منه على الموت فأتاني رسول الله صلى الله عليه و سلم يعودني فقلت يا رسول الله إن لي مالا كثيرا وليس يرثني إلا ابنتي أفأتصدق بمالي كله قال لا قال أفأتصدق بثلثي مالي قال لا قال فالشطر قال لا قال فالثلث قال والثلث كثير

عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ میں فتح مکہ والے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کو جھانکنے لگا تو میرے پاس جناب رسول اللہ ﷺ عیادت کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے کیا میں اپنا مال صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں میں نے دوبارہ استفسار کیا کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں تو فرمایا نہیں پھر تیسری مرتبہ پوچھا کہ نصف مال ؟ تو ارشاد ہوا نہیں پھر عرض کیا ایک ثلث مال تو فرمایا تیسرا حصہ تیسرا حصہ بہت ہے ۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7236

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7237

6856 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أبو بكر بن أبي بكر قال ثنا الحسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن مصعب بن سعد عن أبيه قال عادني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت أوصى بمالي كله قال لا قلت فالنصف قال لا قلت فالثلث قال نعم والثلث كثير

مصعب بن سعد نے حضرت سعد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کیا میں اپنے تمام مال کی ( صدقہ میں ) وصیت کر جاؤں ؟ فرمایا نہیں ۔ میں نے کہا پھر آدھا۔ آ پ نے فرمایا نہیں ۔ میں نے تیسری بار عرض کیا تیسرا حصہ آ پ نے فرمایا ہاں ۔ اور ثلث بہت ہے ۔

نعم والثلث كثير ← لا قلت فالثلث ← لَا قُلْتُ فَالنِّصْفُ ← عادني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت أوصى بمالي كله ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أبو بكر بن أبي بكر ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7237

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7238

6857 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر قال ثنا محمد بن فضل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال قال سعد ثم ذكر نحوه قال أبو جعفر فتكلم الناس في الرجل هل يسعه أن يوصي بثلث ماله أو ينبغي أن يقصر عن ذلك فقال قوم له أن يوصي بثلث ماله كاملا فيما أحب بما يجوز فيه الوصايا واحتجوا في ذلك بإباحة النبي صلى الله عليه و سلم لسعد أن يوصي بثلث ماله بعد منعه أن يوصي بما هو أكثر من ذلك على ما ذكرنا في الآثار وبما

عطاء بن سائب نے ابو عبدالرحمن سے وہ کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا پھر اسی طرح روایت نقل کی ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : بعض لوگوں نے اس آدمی کے متعلق اختلاف کیا ہے کہ آیا ثلث مال یا اس سے کم کی وصیت کرنا درست ہے ۔ ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ ثلث کامل کی وصیت کرے جن اموال میں وصیت درست ہے انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے سعد کو ثلث حصہ مال کی وصیت کے لئے اجازت مرحمت فرمائی اس کے بعد کہ اس سے زائد سے روکا جیسا کہ سابقہ آثار میں مذکور ہوا۔

أبو جعفر فتكلم الناس في الرجل هل يسعه ← نَحْوَهُ ← سعد ثم ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فَضْلٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7238

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7239

6858 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى وبحر بن نصر قالا ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني طلحة بن عمرو الحضرمي عن عطاء عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل جعل لكم ثلث أموالكم آخر أعماركم زيادة في أعمالكم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ينبغي للموصي أن يقصر في وصيته عن ثلث ماله لقول رسول الله صلى الله عليه و سلم الثلث والثلث كثير فمما روى في ذلك عمن ذهب إليه من المتقدمين ما

عطاء نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے ثلث مال کو مقرر فرمایا تاکہ آخری عمر میں اپنے اعمال میں اضافہ کر سکو۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ وصیت کرنے والے کو ثلث سے کم کی وصیت کرنی چاہیے کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیسرا حصہ ، تیسرا حصہ تو بہت زیادہ ہے ۔ اس قول کو متقدمین کی ایک جماعت سے اختیار کیا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7239

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7240

6859 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن هشام بن عروة عن عروة قال كان بن عباس يقول استقصروا عن قول النبي صلى الله عليه و سلم إنه لكثير

عروہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ انہ نکثیر کے ارشاد گرامی سے قلت کا معنی مراد لو۔

قول النبي صلى الله عليه و سلم إنه لكثير ← استقصروا ← كان بن عباس ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7240

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7241

6860 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا حميد عن بكير بن عبد الله قال أقصيت أبي حميد بن عبد الرحمن الحميري قال ما كنت لأقبل وصية رجل له ولد يوصى بالثلث فمن الحجة لأهل المقالة الأولى على أهل هذه المقالة أن الوصية بالثلث لو كانت جورا إذا لأنكر رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك على سعد ولقال له أقصر عن الثلث فلما ترك ذلك كان قد إباحه إياه وفي ذلك ثبوت ما ذهب إليه أهل المقالة الأولى وممن ذهب إلى ذلك أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى ثم تكلم الناس بعد هذا في هبات المريض وصدقاته إذا مات في مرضه ذلك فقال قوم وهم أكثر العلماء هي من الثلث كسائر الوصايا وممن ذهب إلى ذلك أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقالت فرقة هو من جميع المال كأفعاله وهو صحيح وهذا قول لم نعلم أحدا من المتقدمين قاله وقد روينا فيما تقدم من كتابنا هذا عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت نحلني أبو بكر جداد عشرين وسقا من ماله بالعالية فلما مرض قال لي إني كنت نحلتك جداد عشرين وسقا من مالي بالعالية فلو كنت جددتيه وحزتيه كان لك وإنما هو اليوم مال وارث فاقتسموه بينكم على كتاب الله تعالى فأخبر أبو بكر الصديق رضي الله عنه أنها لو قبضت ذلك من ماله في ملكه ملكته وجعل ذلك غير جائز كما لا تجوز الوصية لها ولم تنكر ذلك عائشة رضي الله عنها ولا سائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فدل ذلك أن مذهبهم جميعا فيه كان مثل مذهبه فلو لم يكن ذهب إلى ما ذكرنا من الحجة لقولهم الذي ذهبوا إليه إلا ما في هذا الحديث وما ترك أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من الإنكار في ذلك على أبي بكر لكان فيه أعظم الحجة وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على ذلك أيضا

بکیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوحمید بن عبدالرحمن حمیری سے یہ بات حاصل کی کہ وہ فرماتے تھے میں اس شخص کی وصیت قبول نہ کروں گا جس کی اولاد موجود ہو اور وہ ثلث مال کی وصیت کر جاتے ۔ اگر ثلث کی وصیت ظلم وزیادتی ہوتی تو جناب رسول اللہ ﷺ ضروراس کا انکار کرتے اور سعد کو منع کرتے ہوئے فرماتے کہ ثلث سے باز رہو۔ پس جب آپ نے ان کو اس حال میں چھوڑ دیا تو گویا آپ نے اس کو مباح قرار دیا اس سے فریق اول اور ان کی بات ثابت ہوئی جنہوں نے اس کو اختیار کیا ہے۔ ان میں امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ، ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ ، محمد رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔ علماء نے اس کے بعد مریض کے ہبات و صدقات میں کلام کیا ہے جبکہ وہ مریض اپنی اسی مرض میں مر جائے جس میں کلام کیا ہے۔ یہ اکثرعلما کا قول ہے کہ یہ تمام وصایا کی طرح ثلث مال سے ہوگا امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ وہ اس کے تمام مال سے ہو گا جیسا کہ صحت کی حالت میں اس کے افعال کا حکم ہے ہمارے علم میں متقدمین میں سے یہ کسی کا بھی قول نہیں ہے۔ چنانچہ ہم اپنی اسی کتاب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کر چکے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں جناب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے مقام عالیہ کی اتری ہوئی کھجوروں میں سے بیس وسق کھجور یں دیں۔ جب وہ بیمار ہوئے تو انہوں نے مجھے فرمایا میں نے تمہیں عالیہ کی بیس وسق اتری ہوئی کھجوریں دی تھیں اگرتم کاٹ کر ان کو اپنی حفاظت میں لے لیتیں تو وہ تمہاری ہو جاتیں اور آج وہ وارث کا مال بن چکی ہیں۔ ان کو اپنے مابین تقسیم کر لینا جیسا کہ قرآن مجید کا حکم ہے۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس ارشاد سے بتلا دیا اگر وہ ان کھجوروں کو ان کے مال میں سے الگ کر کے قبضہ کرلیتیں تو وہ انہی کی ملک تھیں وہ اس کی مالک بن جاتیں اب اس کو اسی طرح ناجائز قرار دیا جس طرح وصیت ان کے لئے ناجائز تھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہ کیا اور نہ ہی دیگر اصحاب رسول اللہ ﷺ نے اس کا انکار کیا۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی ان تمام کامذہب وہی تھا جو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا تھا جو لوگ اس طرف گئے ہیں اگر ان کے پاس اپنے مذہب کے لئے اور کوئی دلیل بھی نہ ہوتی تو یہی دلیل کافی تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس فعل پرانکار نہیں کیا جناب نبی اکرم ﷺ سے بھی ایسی روایات وارد ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں۔

أقصيت أبي حميد بن عبد الرحمن الحميري ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7241

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7242

6861 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال ثنا منصور بن زاذان عن الحسن عن عمران بن حصين أن رجلا أعتق ستة أعبد له عند الموت لا مال له غيرهم فأقرع رسول الله صلى الله عليه و سلم بينهم فأعتق أثنين وأرق أربعة

حسن نے عمران بن حصین سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے موت کے وقت چھ غلام آزاد کر دئیے اور اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی باقی رکھا۔

الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7242

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7243

6862 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن عمران عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حسن نے عمران سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عِمْرَانُ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7243

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7244

6863 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال ثنا عطاء الخراساني عن سعيد بن المسيب وأيوب عن محمد بن سيرين عن عمران بن حصين وقتادة وحميد وسماك بن حرب عن الحسن عن عمران بن حصين فذكر مثله

ابن سیرین نے عمران بن حصین سے اور حسن نے عمران ابن حصین سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← الْحَسَنِ، ← عمران بن حصين وقتادة وحميد وسماك بن حرب ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَيُّوبَ، ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7244

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7245

6864 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد وسليمان بن حرب قالا ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد جعل العتاق في المرض من الثلث فكذلك الهبات والصدقات وقد احتج بعض من ذهب إلى هذه المقالة أيضا بحديث الزهري عن عامر بن سعد عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عاده في مرضه فقال أتصدق بمالي كله فقال لا حتى رده إلى الثلث على ما قد ذكرنا في أول هذا الباب قال ففي هذا الحديث أنه قد جعل صدقته في مرضه من الثلث كوصاياه من الثلث من بعد موته ويدخل المخالفه عليه أن مصعب بن سعد روى هذا الحديث عن أبيه أن سؤاله رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك إنما كان على الوصية بالصدقة بعد الموت على ما ذكرنا عنه في أول هذا الباب فليس ما احتج هو به من حديث عامر بأولى مما احتج به عليه مخالفه من حديث مصعب ثم تكلم الناس بعد هذا فيمن أعتق ستة أعبد له عند موته لا مال له غيرهم فأبى الورثة أن يجيزوا فقال قوم يعتق منهم ثلثهم ويسعون فيما بقي من قيمتهم وممن قال ذلك أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقال آخرون يعتق منهم ثلثهم ويكون ما بقي منهم رقيقا لورثة المعتق وقال آخرون يقرع بينهم فيعتق منهم من قرع من الثلث ورق من بقى واحتجوا في ذلك بما ذكرنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث عمران فكان من الحجة لأهل المقالتين الأوليين على أهل هذه المقالة أن ما ذكروا من القرعة المذكورة في حديث عمران منسوخ لأن القرعة قد كانت في بدء الإسلام لتستعمل في أشياء فحكم بها فيها ويجعل ما قرع منها وهو الشيء الذي كانت القرعة من أجله بعينه من ذلك ما كان علي بن بن أبي طالب رضي الله عنه حكم به في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم باليمن ما قد

ابو المہلب نے عمران سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ ان روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت میں آزادی کو ثلث مال میں نافذ فرمایا ہبر اور صدقہ کا بھی یہی حکم ہے۔ ان روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت میں آزادی کوثلث مال میں نافذ فرمایا ہبر اور صدقہ کا بھی یہی حکم ہے۔ اس مذہب کے بعض علماء نے زہری کی عامر بن سعد والی روایت سے بھی استدلال کیا ہے کہ آپ شدید بیماری کے دوران ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو حضرت سعد نے تمام مال صدقہ کرنے کی اجازت طلب کی آپ ﷺ نے ردفرما کر تہائی مال میں اجازت دی جیسا کہ یہ روایت شروع باب میں ذکر کی گئی ہے اس روایت میں بیماری کے صدقہ کو موت کے بعد نافذ ہونے والی وصیت کی طرح تیسرا حصہ مال میں جائز قرار دیا گیا۔ مصعب بن سعد نے اس روایت کو اس طرح بیان کیا کہ ان کا یہ سوال کرنا موت کے بعد صدقے کی دصیت کے سلسلے میں تھا جیسا کہ ہم نے شروع باب میں ذکر کیا۔ حضرت عامر کی روایت سے ان کا استدلال کرنا ان کے مخالفین کے اس استدلال سے بہتر نہیں جو انہوں نے مصہب کی روایت سے کیا ہے فقہاء نے اس شخص کے بارے میں جس نے موت کے بعد چھ غلام آزاد کئے اور اس کا اور مال بھی نہیں تھا اور ورثاء نے اس کی وصیت کو جائز بھی نہ قراردیا بہت کچھ کلام کیا ہے۔ ان کا تہائی آزاد ہو جائے گا اور بقیہ غلام اپنی قیمت کے متعلق محنت و مشقت کریں گے اس بات کو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ، ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اور محمد رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار کیا۔ بعض علماء نے یہ کہا کہ دو غلام کو آزاد ہو جا ئیں گے اور بقیہ غلام ورثا کی ملکیت میں برقرار رہیں گے۔ بعض نے کہا ثلث کے بارے میں ان میں قرعہ اندازی کی جائے گی اور وہ آزاد ہو جائیں گے اور بقیہ غلامی میں برقرار رہیں گے اس سلسلے میں انہوں نے حضرت عمران والی روایت کو دلیل بنایا۔ تیسرے قول والوں کے خلاف پہلے دو اقوال والوں کی دلیل یہ ہے کہ روایت عمران میں جس قرعہ اندازی کا تذکرہ ہے وہ منسوخ ہے کیونکہ قرعہ شروع اسلام میں تھا پھر منسوخ ہو گیا شروع اسلام میں اس کے جائز ہونے کی وجہ یہ تھی تاکہ اشیاء پر اس کے ذریعے حکم لگایا جائے اور جس چیز کی وجہ سے قرعہ اندازی کی گئی ہے وہ بعینہ وہی سمجھی جائے جو قرعے میں نکلی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس کو استعمال فرمایا جیسا کہ اس روایت میں ہے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← عِمْرَانُ، ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7245

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7246

6865 - حدثنا إسماعيل بن إسحاق الكوفي قال ثنا جعفر بن عون أو يعلى بن عبيد أنا أشك عن الشعبي عن عبد الله بن الأجلح عن عبد الله بن الخليل الحضرمي عن زيد بن أرقم قال بينا أنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ أتاه رجل من اليمن وعلي يومئذ بها فقال يا رسول الله أتى عليا ثلاثة نفر يختصمون في ولد قد وقعوا على امرأة في طهر واحد فأقرع بينهم فقرع أحدهم فدفع إليه الولد فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى بدت نواجذه أو قال أضراسه فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم لم ينكر على علي رضي الله عنه ما حكم به في القرعة في دعوى النفر الولد فدل ذلك أن الحكم حينئذ كان كذلك ثم نسخ بعد بإتفاقنا وإتفاق هذا المخالف لنا ودل على نسخه ما قد رويناه في باب القافة من حكم علي في مثل هذا بأن جعل الولد بين المدعيين جميعا يرثهما ويرثانه فدل ذلك أن الحكم كان يومئذ حكم على بما حكم في كل شيء مثل النسب الذي يدعيه النفر والمال الذي يوصي به النفر بعد أن يكون قد أوصى به لكل واحد على حدة أو العتاق الذي يعتقه العبيد في مرض معتقهم أن يقرع بينهم فأيهم قرع استحق ما أدعى وما كان وجب بالوصية والعتاق ثم نسخ ذلك بنسخ الربا إذ ردت الأشياء إلى المقادير المعلومة التي فيها التعديل الذي لا زيادة فيه ولا نقصان وبعد هذا فليس يخلو ما حكم به رسول الله صلى الله عليه و سلم من العتاق في المرض من القرعة وجعله إياه من الثلث من أحد وجهين إما أن يكون حكما دليلا على سائر أفعال المريض في مرضه من عتاقه وهباته وصدقاته أو يكون ذلك حكما في عتاق المريض خاصة دون سائر أفعاله وهباته وصدقاته فإن كان خاصا في العتاق دون ما سواه فينبغي أن لا يكون ما جعله النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث من العتاق في الثلث دليلا على الهبات والصدقات أنها كذلك فثبت قول الذي يقول إنها من جميع المال إذ كان النظر شهد له وإن كان هذا لا يدرك فيه خلاف ما قال إلا بالتقليد ولا شيء في هذا الباب نقله غير هذا الحديث وإن كان قد جعل النبي صلى الله عليه و سلم ذلك العتاق في الثلث دليلا لنا على أن هبات المريض وصدقاته كذلك فكذلك هو دليل لنا على أن القرعة قد كانت في ذلك كله جارية يحكم بها ففي إرتفاعها عندنا وعند هذا المخالف لنا من الهبات والصدقات دليل أن ارتفاعها أيضا من العتاق فبطل بذلك قول من ذهب إلى القرعة وثبت أحد القولين الآخرين فقال من ذهب إلى تثبيت القرعة وكيف تكون القرعة منسوخة وقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعمل بها فيما قد أجمع المسلمون على العمل بها فيه من بعده فذكروا ما

عبدالله بن خلیل حضرمی نے حضرت زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس یمن سے ایک آدمی آیا ان دنوں حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے اور اس نے بتلایا یارسول اللہ ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدی حاضر ہوئے جو ایک بچے کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا۔ جس کے حق میں قرعہ نکلا لڑکا اس کے حوالے کر دیا یہ سن کر جناب رسول اللہ ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ کے نواجذ یا اضراس ظاہر ہو گئیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے لڑکے کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قرعہ اندازی والے فیصلے پرکوئی اعتراض نہیں فرمایا اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس وقت حکم اسی طرح تھا پھر بالا تفاق یہ منسوخ ہوگیا اور اس کے منسوخ ہونے پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو باب القيافہ میں ذکر ہو چکی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسی قسم کے معاملے میں جو ایک لڑکے کے بارے میں دونوں دعوے دار تھے تو آپ نے فرمایا وہ لڑکا ان دونوں کا وارث ہوگا اور وہ دونوں اس کے وارث بنیں گے اس سے یہ دلالت مل گئی کہ حکم ان دنوں ہر چیز کا اسی طرح تھا جیسا علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ جس حصہ میں کئی دعوے دار ہوں یا جس مال کی وصیت میں کئی لوگ شامل ہوں اس کے بعد کہ ہر ایک کے لئے الگ الگ وصیت کی گئی ہو یا آزادی کی طرح کے غلام اپنے آزاد کرنے والے کے مرض الموت میں آزاد ہوئے ہوں تو ایسے سب معاملات میں قرعہ اندازی سے ان کے درمیان فیصلہ ہوتا جس کے حق میں قرعہ نکل آتا اسی طرح جو وصیت اور آزادی سے واجب ہوا ہوتا اس کا یہی حکم تھا پھر سود کے منسوخ ہونے سے یہ سب چیزیں منسوخ ہو گئیں اور چیزوں کو ان کی مقررہ معلوم مقداروں کی طرف لوٹا دیا گیا جنمیں کہ برابری ہوسکتی تھی اور زیادتی اور نقصان نہ رہتا تھا اس کے بعد جناب رسول اللہ ﷺ نے بیماری کی حالت میں آزاد کر دینے والے شخص متعلق جو فیصلہ فرمایا ہے ایک تو وہ ثلث مال میں سے ہے دوسری بات یہ ہے کہ اس میں سے دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے کہ مریض کے مرض الموت میں کئے جانے والے معاملات عتاق ، ہبہ ، صدقات وغیرہ میں اس کو دلیل بنایا جائے یا پھر مریض کے آزاد کر دینے کے ساتھ خاص کیا جائے اور افعال سے اس کا تعلق نہ ہو۔ پس اگر ہم اس کو عتاق سے خاص کریں تو پھر یہ بات اور صدقات کے لئے دلیل نہ بن سکے گا تو اس سے ان لوگوں کی بات ثابت ہو جائے گی جو عتاق کو تمام مال میں نافذ قرار دیتے ہیں کیونکہ قیاس بھی اس کا مؤید ہے۔ اگرچہ اس میں جو کچھ کہا گیاہے تقلید کے بغیر اس میں مخالفت کا ادراک بھی نہیں کیا جاسکتا اور حال یہ ہے کہ اس باب میں اس حدیث کی نقل کے علاوہ اور کوئی روایت موجود ہیں اور اگر اس عتاق کو جناب نبی اکرم ﷺ نے ثلث میں سے قرار دیا ہے تو پھر یہ ہمارے موقف کی دلیل ہے کہ مریض کے ہبات وصدقات اسی طرح ہوں گے اسی طرح یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ان تمام معاملات میں قرعہ جاری تھا اور اس کے ذریہ فیصلہ کیا جاتا تھا اور ہمارے نزدیک اور ہمارے مخالف کے نزدیک اس کا ہبہ اور صدقات سے حکم اٹھ چکا اب یہ ہمارے حق میں دلیل ہے کہ عتاق سے بھی حکم اٹھ چکا ہے۔ پس اس سے جنہوں نے قرعہ والا قول کیا ہے وہ باطل ہوا اور آخری دو اقوال میں سے ایک ثابت ہوگیا۔ قرعہ کس طرح منسوخ ہوگیا حالانکہ جناب رسول اللہ ﷺ اس پرعمل کرتے تھے اور آپ کے بعد بھی مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ وہ اس پرعمل پیرا ہیں۔ (ثبوت ملاحظہ ہو)

بَيْنَا ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْخَلِيلِ الْحَضْرَمِيِّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الأَجْلَحِ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَشُكُّ ← جعفر بن عون أو يعلى بن عبيد ← إسماعيل بن إسحاق الكوفي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7246

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 25 كتاب الوصايا ) ‹ ( 1 باب ما يجوز فيه الوصايا من الأموال وما يفعله المريض في مرضه الذي يموت فيه من الهبات والصدقات والعتاق ) · حديث 7247

6866 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن إسحاق بن راشد عن الزهري عن عروة وسعيد بن المسيب وعبيد الله بن عبد الله بن عتبة وعلقمة بن وقاص عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد سفرا أقرع بين نسائه فأيتهن خرج سهمها خرج بها معه

علقمہ بن وقاص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے مابین قرعہ ڈالتے پس جس کا نام نکلتا وہی اس سفر میں شریک ہوتیں۔

عَائِشَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← عروة وسعيد بن المسيب ← الزُّهْرِيِّ، ← إسحاق بن راشد ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7247

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter