Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يحرم الصدقة على مالكه ) · حديث 7215

6833 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أيوب بن سويد عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال حدثني ربيعة بن يزيد عن أبي كبشة السلولي قال حدثني سهل بن الحنظلية رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من سأل الناس عن ظهر غنى فإنما يستكثر من جمر جهنم قلت يا رسول الله وما ظهر غنى قال أن يعلم أن عند أهله ما يغديهم وما يعشيهم

ابو کبثہ سلولی نے سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے جناب رسول اللۃ ﷺ کو فرماتے سنا جس آدمی نے مالداری کے باوجود لوگوں سے سوال کیا وہ اپنے پاس جہنم کے انگارے زیادہ کر رہا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ظہر غنی کیا ہے آپ نے فرمایا اس کے گھر والوں کے ہاں صبح و شام کا کھانا ہو۔

ظهر غنى فإنما يستكثر من جمر جهنم قلت ← «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَهْلُ بْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ ← أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7215

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يحرم الصدقة على مالكه ) · حديث 7216

6834 - حدثنا الربيع بن سليمان المرادي قال ثنا بشر بن بكر قال حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ثم ذكر مثله بإسناده قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من ملك هذا المقدار حرمت عليه الصدقة ولم تحل له المسألة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا من ملك أوقية من الورق وهي أربعون درهما أو عدلها من الذهب حرمت عليه الصدقة ولم تحل له المسألة ومن ملك ما دون ذلك لم تحرم عليه الصدقة واحتجوا في ذلك بما

عبدالرحمن بن یزید نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے پھر اسی طرح ان کی اسناد والی روایت کی گئی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ جو اتنی مقدار یعنی صبح و شام کے کھانے کا مالک ہو گا اس پر صدقہ حرام ہے اور اس کو سوال درست نہیں اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ جو شخص ایک اوقیہ چاندی کا مالک ہو کہ جس کی مقدار چالیس درہم ہے یا اس کے برابر سونا ہو تو اس پر صدقہ حرام ہے ۔ اور اس کو سوال جائز نہیں اور جو اس سے کم کا مالک ہو اس پر صدقہ حرام نہیں ہے انہوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7216

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يحرم الصدقة على مالكه ) · حديث 7217

6835 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يزيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن رجل من بني أسد قال أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فسمعته يقول لرجل يسأل من سأل منكم وعنده أوقية أو عدلها فقد سأل الحافا والأوقية يومئذ أربعون درهما وبما

عطاء بن یسار نے بنی اسد کے ایک آدمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ ایک آدمی کو فرما رہے تھے کہ جس نے اس حالت میں سوال کیا جبکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کا بدل ( سونا وغیرہ ) ہو تو اس نے گویا اصرار سے سوال کی ان دونوں اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوا کرتی تھی ۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رجل من بني أسد ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← يزيد بن أسلم ← بن وهب أن مالكا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7217

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يحرم الصدقة على مالكه ) · حديث 7218

6836 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا مالك بن أنس ثم ذكر بإسناده مثله

بشر بن عمر نے مالک بن انس سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

بإسناده مثله ← مالك بن أنس ثم ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7218

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يحرم الصدقة على مالكه ) · حديث 7219

6837 - حدثنا يزيد قال ثنا محمد بن كثير قال ثنا سفيان الثوري عن يزيد بن أسلم ثم ذكر بإسناده مثله وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا من ملك خمسين درهما أو عدلها من الذهب حرمت عليه الصدقة ولم تحل لهم المسألة ومن ملك ما دون ذلك لم تحرم عليه الصدقة واحتجوا في ذلك بما

سفیان نے زید بن اسلم سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔ فریق ثالث کا مؤقف ہے کہ جو پچاس دراہم یا اس کے برابر سونے کا مالک ہو اس پر صدقہ حرام ہے اور اس کو سوال درست نہیں اور جو اس سے کم کا مالک ہو اس پر صدقہ حرام نہیں ہے انہوں نے ان روایات کا لیل بنایا ہے ۔

بإسناده مثله وخالفهم في ذلك آخرون ← يزيد بن أسلم ثم ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يَزِيدُ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7219

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يحرم الصدقة على مالكه ) · حديث 7220

6838 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي ح وحدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم قالا ثنا سفيان الثوري عن حكيم بن جبير عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد عن أبيه عن بن مسعود رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يسأل عبد مسألة وله ما يغنيه إلا جاءت شينا أو كدوحا أو خدوشا في وجهه يوم القيامة قيل يا رسول الله وماذا غناه قال خمسون درهما أو حسابها من الذهب

سفیان ثوری سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے محمد بن عبدالرحمن بن یزید سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ جو سوال کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کفایت والی چیز ہوتی ہے تو وہ قیامت کے دن کسی چیز یا بدنمائی یا خراشوں والے چہرے کے ساتھ اٹھایا جائے گا آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ غناء کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا پچاس دراہم یا اس کے حساب سے سونا ۔

بن مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ← حكيم بن جبير ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو عَاصِمٍ ← وحدثنا إبراهيم بن مرزوق ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7220

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يحرم الصدقة على مالكه ) · حديث 7221

6839 - حدثنا أحمد بن خالد البغدادي قال ثنا أبو هشام الرفاعي قال ثنا يحيى بن آدم قال ثنا سفيان الثوري فذكر بإسناده مثله غير أنه قال كدوحا في وجهه ولم يشك وزاد فقيل لسفيان ولو كان عن غير حكيم فقال حدثناہ زبيد عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا من ملك مئتي درهم حرمت عليه الصدقة والمسألة ومن ملك دونها لم تحرم عليه المسألة ولم تحرم عليه الصدقة أيضا واحتجوا في ذلك بما

یحییٰ بن آدم نے سفیان ثوری سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ کدوحاً کے بعد فی وجہہ کے الفاظ زائد ہیں سفیان سے کہا گیا کہ غیر حکیم سے روایت کس طرح ہے ۔ تو انہوں نے کہا زبید نے محمد بن عبدالرحمن بن یزید سے روایت کی ہے ۔ جو شخص دو سو دراہم کا مالک ہو اس پر صدقہ اور سوال حرام ہے اور جو اس کم مقدار کا مالک ہو اس پر سوال حرام نہیں اور نہ ہی اس پر صدقہ حرام ہے ان کی دلیل یہ روایات ہیں ۔

محمد بن عبد الرحمن بن يزيد وخالفهم في ذلك آخرون ← زُبَيْدٍ، ← غير حكيم ← كدوحا في وجهه ولم يشك وزاد فقيل لسفيان ولو كان ← بإسناده مثله غير أنه ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ← أحمد بن خالد البغدادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7221

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يحرم الصدقة على مالكه ) · حديث 7222

6841 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الحميد بن جعفر قال حدثني أبي عن رجل من مزينة أنه أتى أمه فقالت يا بني لو ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألته قال فجئت إلى النبي صلى الله عليه و سلم وهو قائم يخطب الناس وهو يقول من استغنى أغناه الله ومن استعف أعفه الله ومن سأل الناس وله عدل خمس أواق سأل إلحافا قال أبو جعفر ولما اختلفوا في ذلك وجب الكشف عما اختلفوا فيه لنستخرج من هذه الأقوال قولا صحيحا فرأينا الصدقة لا تخلو من أحد وجهين إما أن تكون حراما لا تحل من الأشياء المحرمات عند الضرورات إليها أو تكون تحل له أن يملك مقدارا من المال فتحرم على مالكه فرأينا من ملك دون ما يغديه أو دون ما يعشيه كانت الصدقة له حلالا باتفاق الفرق كلها فخرج بذلك حكمها من حكم الأشياء المحرمات التي تحل عند الضرورة ألا ترى أن من اضطر إلى الميتة أن الذي يحل له منها هو ما يمسك به نفسه لا ما يشجع حتى يكون له غداء أو حتى يكون له عشاء فلما كان الذي يحل من الصدقة هو بخلاف ما يحل من الميتة عند الضرورة ثبت أنها إنما تحرم على من ملك مقدارا ما فأردنا أن ننظر في ذلك المقدار ما هو فرأينا من ملك دون ما يعشى لم يكن بذلك غينا وكذلك من ملك أربعين درهما أو خمسين درهما أو ما هو دون المئتي درهم فإذا ملك مئتي درهم كان بذلك غنيا لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لمعاذ بن جبل رضي الله عنه في الزكاة خذها من أغنيائهم واجعلها في فقرائهم فعلمنا بذلك أن مالك المئتين غني وأن ما دونها غير غني فثبت بذلك أن الصدقة حرام على مالك المئتي درهم فصاعدا وأنها حلال لمن يملك ما هو دون ذلك وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

عبدالحمید بن جعفر نے اپنے والد سے انہوں نے مزینہ کے ایک آدی سے روایت کی ہے کہ وہ اپنی والدہ کے ہاں آیا تو اس نے کہا بیٹا اگر تو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جا کر سوال کرتا وہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا جبکہ آپ کھڑے خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ جو اللہ تعالی سے غناء کا طالب ہو اللہ تعالی اس کو غنی بنا دیتا ہے اور جو سوال سے بچتا ہے تو اللہ تعالی اس کو سوال سے بچا لیتے ہیں اور جو لوگوں سے اس حالت میں سوال کرے گا کہ اس کے پاس پانچ اوقیہ چاندی کے برابر چیز ہوتو وہ اصرار سے سوال کرنے والوں میں شمار ہوگا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جب لوگوں کا اس سلسلہ میں اختلاف ہوا تو ضروری ہے کہ اختلاف کی حقیقت کو کھولا جائے تاکہ صحیح تر تول سامنے آئے۔ صدقہ دوحال سے خالی نہیں یا حرام ہوگا اور اس میں سے کچھ بھی حلال نہ ہوگا مگر اضطرار کے وقت جبکہ دوسری اشیاء کی طرح حلال ہو جائے یا پھر وہ مال کی ایک خاص مقدار کامالک بننے تک حلال ہوگا پھر اس مال کے مالک پر حرام ہو جائے گا۔ تو ہم نے غور کیا کہ جو ایک دن رات کے کھانے سے کم مقدار کا مالک ہو تو سب کا اتفاق ہے کہ اسے صدقہ حلال ہے تو اس سے اس کا وہ حکم نکل آیا جوضرورت کے وقت حرام چیزوں کا ہوتا ہے۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ جو مردار کھانے پر مجبور ہو جائے تو اس کو اس حرام چیز میں سے صرف اس قدر کھانا جائز ہوگا جس سے اس کے نفس کو بقا میسر ہو سکے اس کو سیر ہو کر کھانا درست نہیں ہے یہاں تک کہ اس کے پاس ایک صبح اور ایک شام کا کھانا آجائے۔ پس جب یہ بات جس کی وجہ سے صدقہ لینا حلال ہوتا ہے اس کے مخالف ہے جس کے تحت بوقت ضرورت مردار کا کھانا حلال ہوجاتا ہے تو اس سے ثابت ہوگیا کہ وہ اس پر حرام ہوگا جو کسی مقدار کا مالک ہو۔ اب ہم مقدار دیکھنا چاہتے ہیں تو اس میں ہم نے یہ جاننا کہ جو آدمی ایک دن رات کے کھانے سے کم مقدار کا مالک ہو تو وہ اس کی بدولت مالدار نہیں ہوتا ۔ اسی طرح جو چالیس پچاس درہموں یا دو سوسے کم درہموں کامالک ہوتو وہ بھی غنی نہیں ہوتا۔ اور جب دوسو درہموں کا مالک ہو جاتا ہے تو اس سے غنی بن جاتا ہے کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے زکاۃ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقرا ء کو دی جائے تو اس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ دوسو درہموں کا مالک غنی شمار ہوتا ہے اور اس سے کم مقدارکا مالک غنی نہیں ہوتا ہے پس اس سے ثابت ہوگیا کہ دو سو درہم اور اس سے زائد کے مالک پرصدقہ حرام ہے اور جو اس سے کم کا مالک ہو اس کے لئے حلال ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ ابو یوسف محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔

رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7222

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 9 باب فرض الزكاة في الإبل السائمة فيما زاد على عشرين ومائة ) · حديث 7223

6842 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا حبيب بن أبي حبيب قال ثنا عمرو بن هرم قال حدثني محمد بن عبد الرحمن الأنصاري قال لما استخلف عمر بن عبد العزيز أرسل إلى المدينة يلتمس كتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى عمرو بن حزم في الصدقات وكتاب عمر فوجد عند آل عمرو بن حزم كتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى عمرو بن حزم في الصدقات ووجد عند آل عمر كتاب عمر في الصدقات مثل كتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فنسخا فحدثني عمرو أنه طلب آل محمد بن عبد الرحمن أن ينسخه ما في ذينك الكتابين فينسخ له ما في هذا الكتاب فكان مما في ذلك الكتاب أن الإبل إذا زادت على تسعين واحدة ففيها حقتان طروقتا الفحل إلى أن يبلغ عشرين ومائة فإذا بلغت الإبل عشرين ومائة فليس فيما زاد منها دون العشر شيء فإذا بلغت ثلاثين ومائة ففيها بنتا لبون وحقة إلى أن تبلغ أربعين ومائة فإذا كانت أربعين ومائة ففيها حقتان وإبنة لبون إلى أن تبلغ خمسين ومائة فإذا كانت خمسين ومائة ففيها ثلاث حقاق ثم أجرى الفريضة كذلك حتى يبلغ ثلاثمائة فإذا بلغت ثلاثمائة ففيها من كل خمسين حقة ومن كل أربيعن بنت لبون قال أبو جعفر فذهب إلى هذا الحديث قوم فقالوا به وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما زاد على العشرين والمائة ففي كل خمسين حقة وفي كل أربعين بنت لبون وتفسير ذلك أنه لو زادت الإبل بعيرا واحدا على عشرين ومائة وجب بزيادة هذا البعير حكم ثاني غير حكم العشرين والمائة فوجب في كل أربعين بنت لبون ثم يجرون ذلك كذلك حتى تبلغ الزيادة تمام المائة والثلاثين فيجعلون فيها حقة وبنتي لبون ثم يكون ذلك كذلك حتى يتناهى الزيادة إلى أربعين ومائة فإذا كانت أربعين ومائة كان فيها حقتان وبنت لبون إلى خمسين ومائة فإذا كانت خمسين ومائة كان فيها ثلاث حقاق ثم يجرون الفرض في الزيادة على ذلك كذلك أبدا واحتجوا في ذلك من ألآثار بما

محمد بن عبدالرحمن انصاری بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ خلیفہ بنے تو انہوں نے مدینہ منورہ میں پیغام بھیجا وہ جناب رسول اللہ ﷺ کا وہ خط تلاش کر رہے تھے جو آپ ﷺ نے عمرو بن حزم کو صدقات کے سلسلہ میں لکھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کا خط ۔ چنانچہ حضرت عمرو بن حزم کے نام خط کو ان کی اولاد میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خط کو ان کی اولاد کے ہاں پالیا جو جناب رسول اللہ ﷺ کے صدقات والے مکتوب گرامی کی طرح تھا پردہ دونوں نقل کئے گئے حبیب بن ابی حبیب کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے محمد بن عبدالرحمن کی آل کو بلایا تا کہ تو کچھ ان دونوں تحریروں میں ہے اسے لکھ دیں چنانچہ انہوں نے جو کچھ ان تحریروں میں تھا اس کو لکھ دیا تو اس خط میں یہ تھا ۔ ۹۰ اونٹوں پر ایک کا اضافہ ہو تو دو حقے تین سال کا اونٹ پھر جب ۱۲۰ تک ہو جائیں تو یہی حکم ہے جب اس سے زائد ہوں تو نوتک کچھ نہیں پھر ۱۳۰ ہو جائیں تو دو بنت لبون اور ایک حقہ کہ ۱۳۹ تک یہی حکم ہے۔140 ہو جائیں تو دو حقے اور ایک بنت لبون۔ ۱۴۹ تک یہی حکم ہے۔۵۰ا ہو جائیں تو تین حقے لازم ہوں گے پر فریضہ اسی طرح جاری رہے گا (کہ دسں کے اضافہ سے بنت لبون سے حق کی طرف لوٹتے رہیں گے) یہاں تک کہ ان کی تعداد تین سو تک پہنچ جائے جب تین سو ہوجائے تو پھر ہر پچاس پرایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لیون۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس روایت کو اختیار کیا ہے۔ فریق ثانی کا موقف ہے کہ جب ۱۲۰سے زائد ہو جائیں تو ہر پچاس میں ایک حقہ ہے اور ہر چالیس میں بنت لبون ۔ اور اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ اگر ایک سو بیس پر ایک اونٹ کا اضافہ ہو جائے تو اس سے ایک بیس سو والے حکم کی بجائے دوسرا حکم لگے گا۔ پس ہر چالیس پر ایک بنت لبون پھر یہ اسی طرح چلائیں گے یہاں تک کہ اضافہ ایک سو تیس تک پہنچے۔ اس میں ایک حقہ اور دو بنت لبون ہوں گے پھر اسی طرح رہے گا یہاں تک کہ اضافہ ایک سو چالیس تک پہنے پھر جب ایک سو چالیس ہو جائیں تو اس میں دو حقے اور ایک بنت لیون اور ہر ایک سو پچاس تک اسی طرح ہو گا ۔ جب گنتی ایک سو پچاس ہو جائے گی تو اس میں تین حقے ہوں گے پھر اضانے میں فریضہ کو ہمیشہ اسی طرح چلاتے جائیں گے۔انہوں نے آثار کو دلیل بنایا۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ← حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7223

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 9 باب فرض الزكاة في الإبل السائمة فيما زاد على عشرين ومائة ) · حديث 7224

6843 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال حدثني أبي عن تمامة بن عبد الله عن أنس رضي الله عنه أن أبا بكر الصديق لما استخلف وجه أنس بن مالك رضي الله عنه وإلى البحرين فكتب له هذا الكتاب هذه فريضة الصدقة التي فرض رسول الله صلى الله عليه و سلم على المسلمين التي أمر الله عز و جل بها رسوله فمن سئلها من المؤمنين على وجهها فليعلمها ومن سئل فوقها فلا يعطه كان في كتابه ذلك أن الإبل إذا زادت على عشرين ومائة ففي كل أربعين بنت لبون وفي كل خمسين حقة

ثمامہ بن عبداللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے جب خلافت کی باگ سنبھالی تو حضرت انس رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف روانہ فرما کر یہ خط تحریر فرمایا یہ فرض زکوۃ ہے جس کو جناب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں پر لازم کیا ہے ۔ اس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا ہے ۔ جو اس کو مسلمانوں سے اس کے طریقہ کے مطابق مانگے تو وہ اس کو ادا کرے اور جس سے اضافہ کے ساتھ سوال کیا جائے وہ نہ دے ۔ اور ان کے خط میں یہ بھی تھا کہ جب اونٹوں کی تعداد ایک سو بیس سے بڑھ جائے تو پھر ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور پچاس میں حقہ دیا جائے گا۔

تمامة بن عبد الله ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7224

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 9 باب فرض الزكاة في الإبل السائمة فيما زاد على عشرين ومائة ) · حديث 7225

6844 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر الضرير قال ثنا حماد بن سلمة قال أرسلني ثابت البناني إلى ثمامة بن عبد الله بن أنس الأنصاري رضي الله عنه ليبعث إليه بكتاب أبي بكر الصديق رضي الله عنه الذي كتبه لأنس بن مالك رضي الله عنه حين بعثه مصدقا قال حماد فدفعه إلي فإذا عليه خاتم رسول الله صلى الله عليه و سلم وإذا فيه ذكر فرائض الصدقات ثم ذكر مثل حديث بن مرزوق

حماد کہتے ہیں کہ مجھے ثابت بنانی نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کی طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وہ خط بھیجیں جو انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تھا جبکہ ان کو بحرین کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا۔ حماد کہتے ہیں وہ خط انہوں نے میرے حوالے کیا میں نے دیکھا کہ اس پر جناب رسول اللہ ﷺ کی مہر ہے اور اس میں فرض صدقات کا تذکرہ ہے پھر انہوں نے ابن مرزوق جیسی روایت نقل کی ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7225

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 9 باب فرض الزكاة في الإبل السائمة فيما زاد على عشرين ومائة ) · حديث 7226

6845 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الحكم بن موسى أبو صالح قال ثنا يحيى بن حمزة عن سليمان بن داود قال حدثني الزهري عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه عن جده رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كتب إلى أهل اليمن بكتاب فيه الفرائض والسنن والديات وبعث به مع عمرو بن حزم ثم ذكر فيما زاد على العشرين والمائة من الإبل كذلك أيضا

زہری نے ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف ایک خط لکھا جس میں فرائض ، سنن اور دیات تھیں اور عمرو بن حزم کے ہاتھ روانہ فرمایا پھر اس میں یہ بھی ذکر کیا جب اونٹ ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو ان کا حکم اسی طرح ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7226

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter