Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7179

6801 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس عن سفيان عن الزهري عن عطاء بن يزيد عن أبي سعيد رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عطاء بن یزید نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7179

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7180

6802 - حدثنا ربيع بن سليمان الجيزي قال ثنا حسان بن غالب ويحيى بن عبد الله بن بكير قالا حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن القارئ عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا ابتاع ما لم يره لم يجز إبتياعه إياه وذهبوا في ذلك إلى تأويل تأولوه في هذا الحديث فقال الملامسة ما لمسه مشتريه بيده من غير أن ينظر إليه بعينه قالوا والمنابذة هي من هذا المعنى أيضا وهو قول الرجل للرجل انبذ إلى ثوبك وأنبذ إليك ثوبي على أن كل واحد منهما مبيع لصاحبه من غير نظر من كل واحد من المشترين إلى ثوب صاحبه وممن ذهب إلى هذا التأويل مالك بن أنس رحمه الله وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا من اشترى شيئا غائبا عنه فالبيع جائز وله فيه خيار الرؤية إن شاء أخذه وإن شاء تركه وذهبوا في تأويل الحديث الأول إلى أن الملامسة المنهي عنها فيه هي بيع كان أهل الجاهلية يتبايعونه فيما بينهم فكان الرجلان يتراوضان على الثوب فإذا لمسه المساوم به كان بذلك مبتاعا له ووجب على صاحبه تسليمه إليه وكذلك النابذة كانوا أيضا يتقاولون في الثوب وفيما أشبهه ثم يرميه ربه إلى الذي قاوله عليه فيكون ذلك بيعا منه إياه ثوبه ولا يكون له بعد ذلك نقضه فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن دلك وجعل الحكم في البياعات أن لا يجب إلا بالمعاقدات المتراضى عليها فقال البيعان بالخيار ما لم يتفرقا فجعل إلقاء أحدهما إلى صاحبه الثوب قبل أن يفارقه غير قاطع لخياره ثم اختلف الناس بعد ذلك في كيفية تلك الفرقة على ما قد ذكرنا من ذلك في موضعه من كتابنا هذا وممن ذهب إلى هذا التأويل أبو حنيفة رضي الله عنه ولما اختلفوا في ذلك أردنا أن ننظر فيما سوى هذا الحديث من الأحاديث هل فيه ما يدل على أحد القولين اللذين ذكرنا فنظرنا في ذلك

ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب کسی آومی نے اس چیز کو فروخت کیا جس کو اس نے نہیں دیکھا تو اس کی فروخت جائز نہیں اور انہوں نے اس روایت میں تاویل کی ہے۔ الملا مست: جس چیز کوخر یدار اپنے ہاتھ سے چھوئے البتہ اس کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے۔ المنابزة 3 : ایک آدمی دوسرے سے کہے تو اپنا کپڑا میری طرف پھینک اور میں اپنا کپڑا تیری طرف پھینکتا ہوں اور یہ پھیکنا اس طور پر ہو گا کہ میں اس کپڑے کا خریدار ہوں اور تو میرے کپڑے کا بغیر دیکھے خریدار بن جائے ۔ ئی تاویل امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے کی ہے۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ جو شخص کوئی نائب چیز خریدے گا تو بیع جائز ہے اور اس کو خیار رویت حاصل ہو گا اگر چاہے تو چھوڑ دے اور اگر مرضی ہوتو لے لے ۔ جس ملامت کی ممانعت فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے مابین خرید و فروخت کرتے تو وہ آدمی ایک کپڑے کے متعلق جھگڑا کرتے جب سودا کرنے والا اس کپڑے کو چھو لیتا تو وہ اس کا خریدار خیال کیا جاتا اور فروخت کرنے والے پر اس چیز کو دینا لازم ہو جاتا تھا (خواہ وہ راضی ہو یا نہ ) اسی طرح منابذه زمانہ جاہلیت میں یہ تھا کہ ایک کپڑے یا اس قسم کی کسی چیز سے متعلق وہ باہم گفتگو کرتے پھر مالک اس چیز کو گفتگو کرنے والے کی طرف پھینکتا تھا تو پھینکنا اس کی وجہ سے اس کپڑے کا سودا خیال کیا جاتا تھا اس کے بعد وہ اس بیع کو توڑ نہیں سکتا تھا۔ تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور سودے کے متعلق حکم دیا کہ جب تک عقد بیع رضامندی سے نہ ہو تو سودا جائز نہ ہو گا سودے کرنے والے دونوں فریقوں کو اختیار ہے کہ جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں تو ان کا ایک دوسرے کی طرف کپڑا پھینک دینا اختیار کو ختم نہ کرے گا۔ پھر اس تفریق کے متعلق اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے تفصیل سے ذکر کیا ہے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اس مفہوم کے قائل ہیں۔ اب جبکہ ان دونوں میں اختلاف ہے تو ہم نے ارادہ کیا کہ اس کے علاوہ دیگر احادیث پر نظر ڈالیں تا کہ ان دونوں اقوال میں سے کسی کی دلالت مل جائے۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت مل گئی۔ (ملاحظہ ہو)

أبو جعفر فذهب قوم إلى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ، ← ربيع بن سليمان الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7180

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7181

6803 - فإذا إبراهيم بن محمد الصيرفي قد حدثنا قال ثنا أبو الوليد الطيالسي قال ثنا حماد عن حميد عن أنس رضي الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع العنب حتى يسود وعن بيع الحب حتى يشتد فدل ذلك على إباحة بيعه بعدما يشتد وهو في سنبله لأنه لو لم يكن ذلك كذلك لقال حتى يشتد ويبرأ من سنبله فلما جعل الغاية في البيع المنهي عنه هي شدته ويبوسته دل ذلك أن البيع بعد ذلك بخلاف ما كان عليه في البدء فلما جاز بيع الحب المغيب في السنبل الذي لم يبع دل هذا على جواز بيع مالا يراه المتبايعان إذا كانا يرجعان معه إلى معلوم كما يرجعان من الحنطة المبيعة المغيبة في السنبل إلى حنطة معلومة وأولى الأشياء بنا في مثل هذا إذ كنا قد وقفنا على تأويل هذا الحديث واحتمل الحديث الآخر موافقته أو مخالفته أن نحمله على موافقته لا على مخالفته وقد

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے انگور کی بیع سے اس وقت تک منع  فرمایا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائیں اور دانے کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ دانے کی بیع سخت ہو جانے کے بعد درست ہے اگر چہ وہ اپنے سٹے میں ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اس کو تسلیم نہ کیا جائے تو اس طرح کہنا چاہئے :”حتى يشتد ویبراء من سنبله“تھا کہ دانے سخت ہو کر اپنے سٹے سے باہر نکل آئے۔ اب ممنوعہ بیع کی انتہاء دانے کی سختی اور خشک ہو جانے کو قرار دیا تو اس سے یہ صاف دلالت مل گئی کہ اس کے بعد والے سودے کو اس کے بدء صلاح والے سودے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ تو جب سٹے کے اندر چھپے ہوئے دانے کی بیع سٹے کے بغیر جائز ہے تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جس چیز کو بائع وشتری نے نہ دیکھا ہو اس کی بیع جائز ہے بشرطیکہ وہ چیز اسی طرح معلوم و معین ہوجس طرح سٹے میں پوشیدہ دانہ معلوم و معین ہے اور وہ گندم ہے۔ اب جبکہ ہم اس روایت کی تاویل جان چکے اور دوسری روایت میں موافقت ومخالفت دونوں کا احتمال ہے تو ہم موافقت پرمحمول کریں گے نہ کہ مخالفت پر ( کیونکہ اصل مقصورتو روایات پر زیادہ سے زیادہ عمل ہے)

بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ» ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← فإذا إبراهيم بن محمد الصيرفي قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7181

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7182

6804 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب في تفسير الملامسة والمنابذة قال كان القوم يتبايعون السلع لا ينظرون إليها ولا يخبرون عنها والمنابذة أن يتنابذ القوم السلع لا ينظرون إليها ولا يخبرون عنها فهذا من أبواب القمار

یونس نے ابن شہاب سے ملامست اور منابذہ کی تفسیر اس طرح نقل کی ہے کہ لوگ سامان باہمی فروخت کرتے مگر اس کو نہ تو دیکھتے اور نہ اس کی اطلاع دیتے اس کی ملامستہ کہا جاتا تھااور منابذہ یہ ہے کہ لوگ سامان ایک دوسرے کی طرف بلا دیکھے پھینک دیتے اور نہ سامان دیکھتے اور نہ اس کی اطلاع دیتے یہ دونوں جوئے کی صورتوں میں سے ہیں ۔

بن شهاب في تفسير الملامسة والمنابذة ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7182

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7183

6805 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن ربيعة قال كان هذا من أبواب القمار فنهي عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فهذا الزهري وهو أحد من روى عنه هذا الحديث قد أجاز للرجل أن يشتري ما قد أخبر عنه وإن لم يكن عاينه ففي ذلك دليل على جواز إبتياع الغائب فقال قائل ممن ذهب إلى التأويل الذي قدمنا ذكره في أول هذا الباب من أين أجزتم بيع الغائب وهو مجهول قيل له ما هو بمجهول في نفسه لأنه متى رجع إليه رجع إلى معلوم فهو كبيع الحنطة في سنبلها المرجوع منها إلى حنطة معلومة وإنما الجهل في هذا هو جهل البائع والمشتري فأما المبيع في نفسه فغير مجهول وإنما المجهول الذي لا يجوز بيعه هو المجهول في نفسه الذي لا يرجع منه إلى معلوم كبعض طعام غير مسمى باعه رجل من رجل فذلك البعض غير معلوم وغير مرجوع منه إلى معلوم فالعقد على ذلك غير جائز وقد وجدنا البيع يجوز عقده على طعام بعينه على أنه كذا وكذا قفيزا والبائع والمشتري لا يعلمان حقيقة كيله فيكون من حقوق البيع وجوب الكيل للمشتري على البائع ولا يكون جهلهما به ويوجب وقوع البيع على كيل مجهول إذا كانا يرجعان من ذلك إلى كيل معلوم فذلك الطعام الغائب إذا بيع والمشتري والبائع به جاهلان لا يكون جهلهما به يوجب وقوع العقد على شيء مجهول إذا كانا يرجعان منه إلى طعام معلوم فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد روينا فيما تقدم من كتابنا هذا أن عثمان وطلحة رضي الله عنهما تبايعا مالا بالكوفة فقال عثمان لي الخيار لأني بعت ما لم أر وقال طلحة لي الخيار لأني إبتعت ما لم أر فحكما رضي الله عنهما بينهما جبير بن مطعم فقضى الخيار لطلحة ولا خيار لعثمان رضي الله عنه فاتفق هؤلاء الثلاثة بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم على جواز بيع شيء غائب عن بائعه وعن مشتريه وقد

یونس نے ربیہ سے نقل کیا کہ یہ (منابذہ اور ملامسہ دونوں) جوئے کی اقسام سے ہیں پس جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ روایت بالا میں امام ز ہری جو کہ روایت اول کے روات سے ہیں خود آدمی کو اس چیز کی خریداری کی اجازت دے رہے ہیں جس کے متعلق خبر دے دی جائے اگر چہ اسے آنکھوں سے نہ دیکھا ہو ۔ اس میں صاف دلیل ہے سامان غائب کی فروخت (جب کہ معین ومقرر ہو ) جائز ہے ۔تم نے یہ تاویل کر کے غائب کی بیع کو کہاں سے جائز کر لیا جبکہ یہ مجہول ہے۔ یہ اگر چہ فی نفسہ مجہول ہے کیونکہ جب اس کی طرف رجوع کرے گا تو و ہ معلوم کی طرف رجوع کرے گا یا اسی طرح ہے جیسا کہ گندم کو سٹے میں فروخت کیا جاتا ہے جس سے سے معلوم گندم کی طرف لوٹتے ہیں یہاں جہل تو بائع ومشتری کا ہے رہی بیع ہے تو وہ فی نفسہ غیرمجہول یعنی معلوم ہے باتی جس مجہول کی بیع جائز نہیں وہ وہ مجہول ہے جو اپنی ذات کے لحاظ سے مجہول ہو۔ اور اس سے معلوم کی طرف لوٹا جا سکے۔ جیسا بعض غلے کی بیع جوغیر معین ہے اور اس کو ایک آدمی دوسرے کے ہاتھ فروخت کرتا ہے پس بعض غلہ غیر معلوم ہے اور اس معلوم کی طرف لوٹنے کی امید بھی نہیں اس لئے اس کا عقد جائز نہ ہوگا اور ہم ایسی بیع جانتے ہیں جس کا عقد معین غلے کے بد لے جائز ہے اس طور پر کہ وہ اتنے اتنے قفیز ہے۔ حالانکہ بائع ومشتری دونوں اس کے کیل کی حقیقی مقدار نہیں جانتے۔ پس بیع کے حقوق سے یہ ہے کہ بائع پر لازم ہے کہ مشتری کو کیل کر کے دے۔ اور اس ماپ سے دونوں کا ناواقف ہونا مجہول ماپ پر بیع کو واقع نہیں کرتا جبکہ وہ اس سے معلوم ماپ کی طرف رجوع کر سکتے ہوں جب یہی غائب غلہ فروخت کیا جائے تو فروخت کرنے اور خریدنے والا اگر اس سے ناواقف ہوں تو ان کی ناواقفی سے شئی مجہول پر عقد کرنالازم نہیں آئے گا بشرطیکہ وہ معلوم غلہ کی طرف رجوع کر سکتے ہوں اس باب میں قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ ،ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ اس سے قبل ہم اسی کتاب میں روایت نقل کر چکے کہ حضرت عثمان ، طلحہ رضی اللہ عنہما نے کوفہ میں موجود مال کا سودا کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے اختیار ہے کیونکہ میں نے ایک ایسی چیز فروخت کی ہے جس کو میں نے نہیں دیکھا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا خیار تو مجھے حاصل ہے کیونکہ میں نے ایسی شئی کی خریداری کی ہے جو میں نے دیکھی نہیں ۔ تو دونوں نے اپنے اس معاملہ میں حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو حکم بنایا تو انہوں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ (مشتری) کے لئے خیار کو ثابت کیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے خیار کی نفی کر دی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ان تینوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اب کی بیع جائز ہے وہ شئی بائع و مشتری کسی نے بھی نہ دیکھی تھی۔

رَبِیعَۃَ، ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7183

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7184

6806 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب بن أبي حمزة عن الزهري قال أخبرني سالم أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ركب يوما مع عبد الله بن بحينة وهو رجل من أزدشنوءة حليف لبني المطلب بن عبد مناف وهو من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم إلى أرض له بريم فابتاعها منه عبد الله بن عمر رضي الله عنهما على أن ينظر إليها وريم من المدينة على قريب من ثلاثين ميلا فهذا عبد الله بن عمر وعبد الله بن بحينة رضي الله عنهم قد تبايعا ما هو غائب عنهما ورأيا ذلك جائزا فإن قال قائل إنما جاز ذلك لاشتراط بن عمر رضي الله عنهما الخيار قيل له إن ذلك الخيار لم يجب لابن عمر رضي الله عنهما من جهة الاشتراط ولو كان من جهة الاشتراط وجب لكان البيع فاسدا ألا ترى أن رجلا لو اشترى من رجل عبدا أو أرضا على أنه بالخيار فيها لا إلى وقت معلوم أن البيع فاسد وابن عمر رضي الله عنهما في هذا الحديث الذي رويناه عنه لم يشترط خيار الرؤية إلى وقت معلوم فدل ذلك أن ذلك الخيار الذي اشترطه هو خيار يجب له يحق العقد وهو خيار الرؤية الذي ذهب إليه طلحة وجبير فيما رويناه عنهما لا خيار شرط وقد

سالم کہتے ہیں کہ ایک دن عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ بن بحسینہ صحابی رسول ﷺ ہیں اور ان کا تعلق قبل از دشنوہ سے ہے حضرت عبداللہ نے ان سے وہ زمین اس شرط پر خریدی کہ وہ اس کو دیکھ لیں یہ زمین مدینہ منورہ سے تیس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبدالله بن بحسینہ رضی اللہ ہم ہیں جنہوں نے آپس میں غائب (زمین) کا سودا کیا اور اس کو جائز قرار دیا تبھی خریدا۔ یہ غائب کی بیع تو اس لئے جائز ہوگئی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے خیار شرط رکھا تھا۔ یہ خیار بطور اشتراط کے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے لئے لازم نہ تھا اگر یہ بطور شرط واجب ہوتا تو بیع فاسد ہوتی ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی آدمی دوسرے آدمی سے کوئی غلام خرید ے یا زمین خریدے اور یہ شرط لگائے اس کو غیر معین وقت تک خیار حاصل ہے تو بیع فاسد ہے اور اس روایت میں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وقت معلوم تک کا بھی خیار بطور شرط مقررنہ فرمایا تھا۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ خیار جس کی انہوں نے شرط لگائی وہ وہی خیارہے جو عقد کے حق کی وجہ سے لازم ہوتا ہے اور وہ وہی خیار رویت ہے جس کی طرف حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم گئے ہیں جیسا کہ ہم نے ان کی روایت پہلے نقل کی ہے وہ خیار شرط ہرگز نہیں ہے۔

الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7184

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7185

6807 - حدثنا فهد قال ثنا أبو صالح عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني يونس عن بن شهاب عن سالم قال قال بن عمر رضي الله عنهما كنا إذا تبايعنا كان كل واحد منا بالخيار ما لم يتفرق المتبايعان قال فتبايعت أنا وعثمان فبعته مالا لي بالوادي بما له بخيبر قال فلما بايعته طفقت أنكص على عقبي نكص القهقري خشية أن يترادني البيع عثمان قبل أن أفارقه فهذا عثمان بن عفان وعبد الله بن عمر رضي الله عنهم قد تبايع ما هو غائب عنهما ورأيا ذلك جائزا وذلك بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكره عليهما منكر

سالم کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جب ہم آپس میں خرید وفروخت کرتے تو ہم میں سے ہر ایک کو سودے کے باقی رکھنے یافسخ کرنے کا اختیار ہوتا جب تک کہ بائع ومشتری جدانہ ہوتے۔ کہنے لگے ایک دفعہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ نے آپس میں سودا کیا میں نے ان کو اپنا وہ مال جو وادی (القری) میں تھا ان کے خیبر کے مال کے بدلے فروخت کیا۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے ان سے بیع کر لی تو میں اپنے پچھلے قدموں واپس مڑا۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ عثمان رضی اللہ عنہ جدا ہونے سے پہلے مجھ سے یہ سودا واپس نہ لے لیں۔ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ دونوں نے باہمی اس چیز کا سودا کیا جو کہ دونوں سے غائب تھی اور اس کو درست قرار دیا اور یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کی موجودگی میں ہوا اور ان کے متعلق کسی نے تنقید و انکارنہیں کیا۔

سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7185

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7186

6808 - حدثنا ربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا أبو الأحوص عن أشعث بن أبي الشعثاء عن محمد بن عمير قال قال أبو هريرة رضي الله عنه نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيعتين أن يقول الرجل للرجل أنبذ إلي ثوبك وأنبذ إليك ثوبي من غير أن يقلبا أو يتراضيا ويقول دابتي بدابتك من غير أن يقلبا أو يتراضيا ففي هذا الحديث إجازة البيع بالتراضي ودليل على أن المنابذة المنهي عنها ما ذهب إليه أبو حنيفة رضي الله عنه لا ما ذهب إليه مخالفه والحمد لله رب العالمين

محمد بن عمیر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے دو بیعوں سے منع فرمایا۔ 1۔ ایک آدمی کوتم کہو کہ تم میری طرف اپنا کپڑا پھینکو اور میں تمہاری طرف اپنا کپڑا پھینکوں گا ۔ بغیر اس بات کے کہ وہ دونوں کپڑوں کو پلٹیں یا ایک دوسرے کو باہمی راضی کریں۔ اور وہ کہتے میرا جانور تیرے جانور کے بدلے بغیر واپس کرنے کے یا ایک دوسرے کو راضی کرنے کے (وہ اس کو بیع قرار دیتے)۔ اس روایت میں باہمی رضامندی سے بیع کا جواز اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ممنوعہ منابذہ وہی ہے جس کو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے منابذ ہ قرار دیا ہے نہ کہ وہ جس کو ان کے مخالفین سے منابذہ قرار دیا ہے۔ والحمدللہ رب العالمین۔

بيعتين أن ← أبو هريرة: نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَيْرٍ، ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أسد ← ربيع بن سليمان المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7186

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 7 باب تزويج الأب ابنته البكر هل يحتاج في ذلك إلى استيمارها ) · حديث 7187

6809 - حدثنا أبو زر عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قال ثنا أبو نعيم الفضل بن دكين قال ثنا يونس بن أبي إسحاق عن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تستأمر اليتيمة في نفسها فإن سكتت فقد أذنت وإن أنكرت لم تكره

یونس بن ابو اسحاق نے ابو بردہ بن حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے متعلق دریافت کیا جائے گا پس اگر وہ خاموش رہی تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اس نے انکار کر دیا تو اس کو مجبور نہ کیا جائے گا۔

أَبِيهِ ← أبي بردة بن أبي موسى ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أبو زر عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7187

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 7 باب تزويج الأب ابنته البكر هل يحتاج في ذلك إلى استيمارها ) · حديث 7188

6810 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبيد الله بن محمد التيمي قال ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال اليتيمة تستأمر فإن رضيت فلها رضاها وإن أنكرت فلا جواز عليها

ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یتیم بچی سے اجازت طلب کی جائے گی پس اگر وہ راضی ہو جائے تو اس کی رضامندی اس کے لئے ہے اور اگر انکار کرے تو اس پر کوئی تجاوز نہیں ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7188

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 7 باب تزويج الأب ابنته البكر هل يحتاج في ذلك إلى استيمارها ) · حديث 7189

6811 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن عمرو قال حدثني أبو سلمة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن للرجل أن يزوج ابنته البكر البالغة بغير أمرها ولا استئذانها ممن رأى ولا رأى لها في ذلك معه عندهم قالوا ولما قصد النبي صلى الله عليه و سلم في الأثرين المذكورين في أول هذا الباب بما ذكر فيهما من الصمات والمحكوم له بحكم الإذن إلى اليتيمة وهي التي لا أب لها دل ذلك أن ذات الأب في ذلك بخلافها وأن أمر أبيها عليها أوكد من أمر سائر أوليائها بعد أبيها وممن ذهب إلى هذا القول مالك بن أنس رحمة الله عليه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ليس لولي البكر أبا كان أو غيره أن يزوجها إلا بعد إستيماره إياها في ذلك وبعد صماتها عند إستيماره إياها وقالوا ليس في قصد النبي صلى الله عليه و سلم في الأثرين المرويين في ذلك في أول هذا الباب إلى اليتيمة ما يدل أن غير اليتيمة في ذلك على خلاف حكم اليتيمة إذ قد يجوز أن يكون أراد بذلك سائر الأبكار اليتامى وغيرهن وخص اليتيمة بالذكر إذ كان لا فرق بينها في ذلك وبين غيرها ولأن السامع ذلك منه في اليتيمة البكر يستدل به على حكم البكر غير اليتيمة وقد رأينا مثل هذا في القرآن قال الله عز و جل فيما حرم من النساء وربائبكم اللاتي في حجورك من نسائكم اللاتي دخلتم بهن فذكر الربيبة التي في حجر الزوج فلم يكن ذلك على تحريم الربيبة التي في حجر الزوج دون الربيبة التي هي أكبر منه بل كان التحريم عليهما جميعا فكذلك ما ذكرنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في البكر اليتيمة ليس على اليتيمة البكر خاصة بل هو على البكر اليتيمة وغير اليتيمة وكان ما سمع أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك في اليتيمة البكر دليلا لهم أن ذات الأب فيه كذلك إذ كانوا قد علموا أن البكر قبل بلوغها إلى أبيها عقد البياعات على أموالها وعقد النكاح على بضعها ورأوا بلوغها يرفع ولاية أبيها عليها في العقود على أموالها فكذلك يرفع عنها العقود على بضعها ومع هذا فقد روى أهل هذا المذهب لمذهبهم آثارا احتجوا له بها غير أن في بعضها طعنا على مذهب أهل الآثار وأكثرها سليم من ذلك وسنأتي بها كلها وبعلها وفساد ما يفسده أهل الآثار منها في هذا الباب إن شاء الله تعالى فمما روى في ذلك مما طعن فيه أهل الآثار ما

ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کی روایت کی ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ بالغہ باکرہ لڑکی کا نکاح والد اس کی اجازت کے بغیر کر سکتا ہے اس کی اجازت و حکم کی حاجت نہیں ۔ جنہوں نے یہ رائے ظاہر کی ان کے ہاں لڑکی کی رائے کی والد کے ساتھ کوئی حیثیت نہیں ۔ ان دونوں روایات میں جناب نبی اکرم ﷺ نے خاموشی اور یتیمہ سے اجازت کا حکم فرمایا اور یتیمہ وہ لڑکی ہے جس کا والد نہ ہوتو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس کا والد ہواس لڑکی کا حکم اس سے مختلف ہے۔ اور والد کا حکم دوسرے تمام اولیاء سے زیادہ مؤکد ہے بقیہ اولیاء تو والد کے بعد ہیں۔ اس قول کو امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار فرمایا ہے۔ دوسرے فریق کا موقف ہے کہ باکرہ بالغ لڑکی کے ولی یا غیر ولی کو اس کی اجازت طلب کئے بغیر نکاح کا حق حاصل نہیں ہے اور جب اس سے اجازت طلب کی جائے تو اس کی خاموشی رضا تسلیم کی جائے گی۔ سابقہ موقف کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں آثار میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے اشارہ ملتا ہو کہ یتیمہ اور غیر یتیمہ کا حکم مختلف ہے۔ اس لئے کہ اس کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ آپ نے اس سے مراد با کرہ لڑکیاں مراد لی ہوں خواہ وہ یتیم ہوں یا غیر یتیم ۔ یتیمہ کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تا کہ یہ بتلایا جائے کہ یتیمہ اور غیر یتیمہ کا اس سلسلے میں حکم برابر ہے تا کہ آپ سے یتیمہ باکرہ کا حکم سننے والا غیر یتیمہ با کرہ کے حکم پر استدلال کرے ۔ ہم نے دیکھا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس قسم کا ایک حکم ذکر فرمایا ہے: ”وربائبكم اللاتي في حجور کم من نسائكم‘‘الایۃ اب اس آیت میں پرورش کے اندر پلنے والی اس لڑکی کا ذکر کیا جو اس عورت کے پاس ہو جس سے اس نے جماع کیا ہو۔ اب ربیہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو پرورش میں اسی منکوحہ کی بیٹی موجود ہے وہ تو حرام ہے اور وہ جو اس سے پہلے بڑی عمر کی ہے وہ حرام نہیں بلکہ ہرووحرام ہیں ۔ بالکل اسی طرح یتیمہ باکرہ لڑکی کے متعلق ہم نے جو ذکر کیا ہے وہ خاص یتیمہ باکرہ کے بارے میں نہیں بلکہ غیر یتیمہ باکرہ کا حکم بھی یہی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جو کچھ یتیمہ باکرہ کے متعلق سنا وہ ان کے لئے اس بات پر دلیل تھی کہ اس سلسلے میں باپ ولی کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ بالغ ہونے سے پہلے اس کے مال میں تصرف کا حق والد کو حاصل ہے۔ اسی طرح اس کے نکاح کا حق بھی اسی کو ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس کو بلوغ کے بعد اس کے تمام مالی تصرفات سے والد کی ولالت اٹھ جاتی ہے بالکل اسی طرح عقد بضع پر تصرف کی ولایت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ مگر اس کے باوجودفریق اول نے اپنے مذہب کے حق میں کچھ روایات نقل کی ہیں اور ان سے استدلال بھی کیا ہے لیکن ان میں سے بعض کے سلسلہ میں ان روايات والوں پر طعن بھی کیا گیا ہے جبکہ اکثر روایات اس سے محفوظ ہیں ہم ان تمام روایات کو علتوں سمیت اورجن کو اہل آثار نے فاسد قرار دیا ہم ان کو اسی باب میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے ۔ وہ روایات جن میں اہل آثار نے طعن کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7189

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 7 باب تزويج الأب ابنته البكر هل يحتاج في ذلك إلى استيمارها ) · حديث 7190

6812 - حدثنا أبو أمية ومحمد بن علي بن داود قالا ثنا الحسين بن محمد المروزي قال ثنا جرير بن حازم عن أيوب عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما أن رجلا زوج ابنته وهي بكر وهي كارهة فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فخيرها فكان من طعن من يذهب إلى الآثار والتمييز بين رواتها وتثبيت ما روى الحفاظ منهم وإسقاط ما روى من هو دونهم أن قالوا هكذا روى هذا الحديث جرير بن حازم وهو رجل كثير الغلط وقد رواه الحفاظ عن أيوب على غير ذلك منهم سفيان الثوري وحماد بن زيد وإسماعيل بن علية فذكروا في ذلك ما

عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سرے روایت کی ہے کہ آدمی نے اپنی باکرہ بیٹی کا نکاح کیا مگر اس لڑکی کو پسند نہ تھا تو وہ لڑکی جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئی پس آپ نے اس کو اختیار دیا۔ حفاظ حدیث نے کہا اس روایت کا راوی جریر بن حازم ہے اور وہ کثیر الاغلاظ ہے ۔ جبکہ اس روایت کو حفاظ نے ایوب سے اور طرح نقل کیا ہے ۔ اور ایوب نے جن سے روایت نقل کی ہے ان میں سفیان ثوری، حماد بن زید اور اسماعیل بن علیہ جیسے لوگ ہیں روایت اس طرح ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← الحسين بن محمد المروزي ← أبو أمية ومحمد بن علي بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7190

chevron_left Previous
1…567…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter