Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 4 باب ما يجب للمملوك على مولاه من الكسوة والطعام ) · حديث 7167

6791 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد ح

ربیع الموذن نے اسد سے بیان کیا ہے ۔

أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7167

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 4 باب ما يجب للمملوك على مولاه من الكسوة والطعام ) · حديث 7168

وحدثنا حسين بن نصر قال ثنا مهدي بن جعفر قالا ثنا حاتم بن إسماعيل قال ثنا يعقوب بن مجاهد المدني أبو حزرة عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال خرجت أنا وأبي نطلب هذا العلم في هذا الحي من الأنصار قبل أن يهلكوا فكان أول من لقينا أبو اليسر صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه غلام له وعليه بردة ومعافرى وعلى غلامه بردة ومعافرى قال فقلت له يا عم لو أخذت بردة غلامك وأعطيته معافريك وأخذت معافريه وأعطيته بردتك فكانت عليك حلة وعليه حلة قال فمسح رأسي وقال اللهم بارك فيه ثم قال يا بن أخي بصرت عيناي هاتان وسمعته أذناي هاتان ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يقول أطعموهم مما تأكلون واكسوهم مما تلبسون فكان إن أعطيته من متاع الدنيا أحب إلي من أن يأخذ من حسناتي يوم القيامة

ابو حرزہ یعقوب نے عبادہ بن ولید بن حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تاکہ انصار سے علم حاصل کریں۔ اس سے پہلے کہ وہ دنیا سے رخصت ہوں۔ چنانچہ سب سے پہلے میری ملاقات حضرت ابو الیسر رضی اللہ عنہ صحابی رسول اللہ ﷺ سے اس وقت ہوئی جبکہ ان کا غلام ان کے ساتھ تھا اور انہوں نے ایک چادر اور معافری کپڑا زیب تن کر رکھا تھا اور ان کے غلام نے بھی ایک چادر اور معافری جوڑا زیب تن کر رکھا تھا راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا اے چچا ! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے اور اپنا معافری کپڑا اس کو دے دیتا اور اس کا معافری کپڑا لے لیتا اور اپنی چادر اس کو دے دیتے تو ایک قسم کا جوڑا اس کا ہو جاتا اور ایک قسم کا جوڑا آپ کا بن جاتا ۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے میرے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور فرمایا " اللہم بارک فیہ " اللہ تمہیں برکت دے ۔ پھر فرمایا اے بھتیجے میری دو آنکھوں نے ملاحظہ کیا اور میرے ان دو کانوں نے سنا اور میرے سل نے اس کو جناب رسول اللہ ﷺ سے محفوظ کیا ۔ جبکہ آپ فرما رہے تھے ان غلاموں کو وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور ان کو وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔ پس میرا اس کو سامان دنیا دے دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ قیامت کے روز میری نیکیاں لے جائے ۔

وأبي نطلب هذا العلم في هذا الحي من الأنصار قبل ← خَرَجْتُ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← يعقوب بن مجاهد المدني أبو حزرة ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7168

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 4 باب ما يجب للمملوك على مولاه من الكسوة والطعام ) · حديث 7169

6792 - حدثنا محمد بن سنان الشيزري قال ثنا عبد الوهاب بن نجدة الحوطي قال ثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن المعرور بن سويد قال خرجنا حجاجا أو معتمرين فلقينا أبا ذر رضي الله عنه بالربذة فإذا عليه برد وعلى غلامه برد مثله فقلنا له يا أبا ذر لو أخذت هذا البرد إلى بردك لكانت حلة وكسوته بردا غيره فقال أبو ذر رضي الله عنه سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إخوانكم جعلهم الله عز و جل تحت أيديكم فمن كان أخوه تحت يده فليطعمه مما يأكل وليلبسه مما يلبس ولا يكلفه ما يغلبه فإن كلفه ما يغلبه فليعنه

معرور بن سوید کہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کی غرض سے نکلے تو ہم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں پایا۔ انہوں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی اور اسی طرح کی چادر ان کے غلام پر تھی۔ ہم نے ان سے درخواست کی اگر آپ اس چادر کو اپنی چادر سے ملا لیتے تو ایک جوڑا بن جاتا اور اس کے کپڑے دوسری چادر سے بن جاتے ( یہ سن کر ) ابو ذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا یہ تمہارے بھائی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت بنا دیا پس جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو ( غلام ہو ) تو وہ اسے اسی کھانے سے کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اس کو وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے اور اس کو ایسے کام کی تکلیف نہ دے جو کام اس پر غالب آ جائے اگر وہ کام اس کے ذمہ لگا ہی دے تو پھر اس کی اعانت کرے ۔

الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانَ الشَّيْزَرِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7169

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 4 باب ما يجب للمملوك على مولاه من الكسوة والطعام ) · حديث 7170

قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن على الرجل أن يسوي بين مملوكه وبين نفسه في الطعام والكسوة واحتجوا في ذلك بما رويناه في هذا الباب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وبما رويناه من مذهب أبي اليسر وأبي ذر رضي الله عنهما الذي ذكرنا في ذلك وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الذي يجب للمملوك على مولاه هو طعامه وكسوته لا غير ذلك مما يوسع به الرجل على نفسه واحتجوا في ذلك بما

مجاہد نے مورق سے انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ مالک اپنے اور غلام کے درمیان کھانے اور پہننے میں برابری کرے انہوں نے ان روایات سے جو ابو الولید اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل ہو کر آئی ہیں استدلال کیا ہے دوسرے فریق کا مؤقف ہے کہ مالک پر غلام کا حق یہ ہے کہ وہ اسے کھانا اور کپڑے دے اور بس اور یہ اپنی وسعت کی حد تک دے ۔ ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔

أبي ذر الذي ذكرنا في ذلك وخالفهم في ذلك آخرون

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7170

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 4 باب ما يجب للمملوك على مولاه من الكسوة والطعام ) · حديث 7171

6793 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس الشافعي قال ثنا سفيان بن عيينة قال ثنا بن عجلان عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن عجلان أبي محمد عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال للمملوك طعامه وكسوته ولا يكلف من العمل إلا ما يطيق قالوا فهذا الذي يجب للمملوك على سيده وكان أولى الأشياء بنا لما روى هذا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نحمل ما رويناه قبله في هذا الباب على ما يوافقه ما وجدنا إلى ذلك سبيلا فكان قول رسول الله صلى الله عليه و سلم أطعموهم مما تأكلون وأكسوهم مما تلبسون قد يحتمل أن يكون أراد بذلك الخبز والأدم والثياب من الكتان والقطن فإذا شركوا مواليهم في ذلك فقد أكلوا مما يأكلون ولبسوا مما يلبسون فوافق ذلك معنى حديث أبي هريرة وإنما تجب المساواة لو كان قال أطعموهم مثل ما تأكلون وأكسوهم مثل ما تلبسون فلو كان قال هذا لم يجز للموالي أن يفضلوا عبيدهم في طعام أو كسوة ولكنه إنما قال أطعموهم مما تأكلون وأكسوهم مما تلبسون فلم يكن في ذلك وجوب المساواة بينهم في الكسوة والطعام وإنما فيه وجوب الكسوة مما يلبسون ووجوب الطعام مما يأكلون وإن كانوا في ذلك غير متساويين وقد دل على ذلك أيضا ما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

ابو محمد عجلان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مملوک کا اس کا کھانا اور کپڑے ہیں اور اس کو اسی کام کی ذمہ داری سونپے جس کی وہ طاقت رکھتا ہو۔ یہی وہ چیز ہے جس کا تذکرہ اس روایت میں پایا جاتا ہے غلام کے لئے آقا پر لازم ہے اور ہمارے لئے نہایت مناسب بات یہ ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ سے آمدہ روایات کو باہمی موافقت والے مفہوم پر محمول کریں ۔ چنانچہ آپ کا ارشاد گرامی کہ ان کو وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور ان کو وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو ۔ تو اس میں احتمال یہ ہے کہ آپ کی مراد اس سے روٹی ، سالن، اونی ، سوتی کپڑے ہوں۔ تو جب وہ ان چیزوں میں اپنے مالکوں کے ساتھ شریک ہو جائیں گے تو گویا انہوں نے اسی چیز سے کھایا جو ان کے مالکوں نے کھائی اور انہوں نے وہی چیز پہنی جو ان کے مالکوں نے پہنی پھر یہ مفہوم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے عین موافق ہے مساوات تو تب واجب ہوتی جبکہ آ پ اس طرح فرماتے ان کو اس کی مثل کھلاؤ جو تم نے کھایا اور ان کو اس کی مثل پہناؤ جو تم نے پہنا ۔ اگر آپ نے اس طرح فرمایا ہوتا تو پھر مالکوں کے لئے درست نہ تھا کہ وہ کھانے اور لباس میں غلاموں سے بڑھتے ۔ مگر آپ کا فرمانا تو یہ ہے کہ ان کو اس چیز سے کھلاؤ جو تم نے جو کھائی اور استعمال کی ہے اور ان کو وہی چیز پہناؤ جو تم نے خود پہنی ہے ۔ پس لباس اور کھانے میں مساوات کا وجوب ثابت نہ ہوا بلکہ ان کو اس چیز سے لباس دینا واجب ہے اور جو خود پہنتے ہیں اور اس چیز سے کھانا کھلانا لازم ہے جو خود کھاتے ہیں خواہ وہ اس میں مساوی اور برابر نہ ہوں اس مدہوم کی تائید مندرجہ ذیل روایات سے ہوتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَجْلانَ أَبِي مُحَمَّدٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← بن عَجْلَانَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7171

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 4 باب ما يجب للمملوك على مولاه من الكسوة والطعام ) · حديث 7172

6794 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس الشافعي عن سفيان عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا كفى أحدكم خادمه طعامه حره ودخانه فليجلسه فليأكل معه فإن أبى فليأخذ لقمة فليروعها ثم ليطعمها إياه

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کے خادم نے کھانا تیار کیا اور اس نے اس کے لئے گرمی اور دھواں برداشت کیا تو مناسب یہ ہے اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلاؤ اور اگر ایسا نہ کرو تو مناسب یہ ہے کہ ایک لقمہ لے کر اسے گھر یا سالن میں تر کر کے اسے کھلا دو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7172

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 4 باب ما يجب للمملوك على مولاه من الكسوة والطعام ) · حديث 7173

6795 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر عن شعبة عن محمد بن زياد عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتى أحدكم خادمه بطعامه فإن لم يجلسه معه فليناوله أكلة أو أكلتين أو قال لقمة أو لقمتين فإنه ولى حره وعلاجه أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد وسع على المولى أن يطعم عبده من طعامه الذي قد ولى صنعته له عبده لقمة واحدة ثم يستأثر هو بما بقى من ذلك الطعام بعد تلك اللقمة فدل ذلك أن معنى ما أراد بقوله صلى الله عليه و سلم أطعموهم مما تأكلون إنه لم يرد المساواة وكذلك معنى قوله وأكسوهم مما تلبسون وأما ما فعل أبو اليسر فعلى الإشفاق منه والخوف لا على غير ذلك وهذا الذي صححنا عليه معاني هذه الآثار قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

محمد بن زیاد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا تیار کرے تو اگر وہ اس کو اپنے ساتھ نہ بٹھائے تو وہ اسے ایک دو لقمے دے دے ( لقمہ بولا یا اگلا ) کیونکہ اس نے گرمی اور مشقت برداشت کی ہے ۔ ذرا غور فرمائیں کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے مالک کو کھلا اختیار دیا کہ وہ اس کھانے میں سے جس کو غلام نے تیار کیا ہے ایک لقمہ دے دے پھر باقی کھانے کو اپنے لئے اختیار کرے تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشاد گرامی کہ ان کو اس چیز سے کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ سے مساوات مراد نہیں ہے ۔ اسی طرح یہاں بھی مساوات مراد نہیں کہ ان کو اس چیز سےپہناو جو خود پہنتے ہو۔ جہاں تک حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ کے عمل و فعل کا تعلق ہے تو وہ ان کی خوف خدا تعالیٰ کی وجہ سےاحتیاط ہے نہ کچھ اور ۔ ہم نے ان آثار کے معانی کی تصحیح اس انداز سے کی ہے یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7173

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 5 باب إنشاد الشعر في المساجد ) · حديث 7174

6796 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف قال حدثني الليث قال حدثني محمد بن عجلان عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن تنشد الأشعار في المسجد وأن يباع فيه السلع وأن يتحلق فيه قبل الصلاة قال أبو جعفر فذهب قوم إلى كراهة إنشاد الشعر في المساجد واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بإنشاد الشعر في المسجد بأسا إذا كان ذلك الشعر مما لا بأس بروايته وإنشاده في غير المسجد واحتجوا في ذلك بما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في غير هذا الموضع أنه وضع لحسان منبرا في المسجد ينشد عليه الشعر وبما رويناه مع ذلك من حديث حسان رضي الله عنه حين مر به عمر رضي الله عنه وهو ينشد الشعر في المسجد فزجره فقال له حسان رضي الله عنه قد كنت أنشد فيه الشعر لمن هو خير منك وذلك بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكر ذلك عليه منهم أحد ولا أنكره عليه أيضا عمر رضي الله عنه وكان حديث يونس الذي قد بدأنا بذكره في أول هذا الباب قد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم أراد بذلك الشعر الذي نهى عنه أن ينشد في المسجد هو الشعر الذي كانت قريش تهجوه به ويجوز أن يكون هو من الشعر الذي تؤبن فيه النساء وتزرأ فيه الأموال على ما قد ذكرناه في باب رواية الشعر من جواب الأنصار من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لابن الزبير رضي الله عنه بذلك حين أنكر عليهم إنشاد الشعر حول الكعبة وقد يجوز أيضا أن يكون أراد بذلك الشعر الذي يغلب على المسجد حتى يكون كل من فيه أو أكثر من فيه متشاغلا بذلك كمثل ما تأول عليه بن عائشة وأبو عبيد قول رسول الله صلى الله عليه و سلم لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا حتى يريه خير له من أن يمتلئ شعرا على ما قد ذكرنا ذلك عنهما في غير هذا الموضع فيكون الشعر المنهي عنه في هذا الحديث هو خاص من الشعر وهو الذي فيه معنى من هذه المعاني الثلاثة التي ذكرنا حتى لا يضاد ذلك ما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من إباحة ذلك وما عمل به أصحابه من بعده فإن قال قائل فإذا كان كما ذكرت فلم قصد إلى المسجد والذي ذكرت من الذي هجى به النبي صلى الله عليه و سلم والذي أبنت فيه النساء ورزئت فيه الأموال مكروه في غير المسجد ولو كان كما ذكرت لم يكن لذكره في المسجد معنى قيل له قد يجري الكلام كثيرا بذكر معنى فلا يكون ذلك المعنى بذلك الحكم الذي جرى في ذلك الذكر مخصوصا من ذلك قول الله عز و جل وربائبكم اللاتي في حجوركم من نسائكم اللاتي دخلتم بهن فإن لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح عليكم فذكر الربيبة التي قد كانت في حجر ربيبها فلم يكن ذلك على خصوصيتها لأنها كانت في حجره بذلك الحكم وأخرجها منه إذا لم تكن في حجره ألا ترى أنها لو كانت أسن منه أنها عليه حرام كحرمتها لو كانت صغيرة في حجره وقال عز و جل أيضا في الصيد ومن قتله منكم متعمدا فجزاء مثل ما قتل من النعم فأجمعت العلماء إلا من شذ منهم أن قتله إياه ساهيا كذلك في وجوب الجزاء فلم يكن ذكره ما ذكرنا من هاتين الآيتين يوجب خصوص الحكم فكذلك ما روينا من ذكره المسجد في الشعر المنهي عن روايته ليس فيه دليل على خصوصية المسجد بذلك وكذلك أيضا ما نهي عنه من البيع في المسجد هو البيع الذي يعمه أو يغلب عليه حتى يكون كالسوق فذلك مكروه فأما ما سوى ذلك فلا قد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على إباحة العمل الذي ليس من القرب في المسجد

عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں اشعار پڑھنے کی ممانعت فرمائی۔ اسی طرح سامان فروخت کرنے کی ممانعت کی اور نماز سے قبل حلقہ بنانے سے منع فرمایا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ مساجد میں اشعار کا پڑھنا مکروہ ہے اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ مسجد میں شعر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ شعر درست ہو اور اس کو غیر مسجد میں بھی پڑھا جا سکتا ہو۔ انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کی اس روایت سے استدلال کیا کہ حضرت حسان کے لئے مسجد میں منبر رکھا جاتا وہ اس پر بیٹھ کر شعر پڑھتے ۔ وہ روایت ہے کہ جب حضرت حسان مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا تو اس کے جواب میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا میں مسجد میں اس کے شعر پڑھا کرتا تھا جوتم سے بہتر تھے۔ یہ بات اصحاب رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ہوئی اور ان میں سے کسی نے اس کا انکار نہ کیا۔ بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا انکارنہیں کیا۔ روایت یونس کا جواب 1 ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے وہ شعر مراد لیا ہو جس کا پڑھنا مسجد میں ممنوع ہے اور وہ آپ کی ہجو کے اشعار تھے جو قریش پڑھتے تھے۔ اس سے وہ اشعار مراد ہوں جن میں عورتوں کو عار دلائی گئی ہو اور اس سے مال بٹورا جائے جیسا کہ وہ باب جو ہم نے روایت شعر کے سلسلہ میں انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے جواب میں کہی جو کہ ہم پہلے لے کر آئے جبکہ انہوں نے کعبۃ اللہ کے گردشعر گوئی پر ناگواری ظاہر کی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اشعار مراد ہوں جو مسجد ( کے ماحول ) پر غالب آجائیں یہاں تک کہ تمام حاضرین مسجد یا ان کی اکثریت اس میں مشغول ہو جائے جیسا کہ ابن عائشہ اور ابوعبیدہ نے جناب رسول اللہ ﷺ کے اس قول کی تاویل کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی ایک کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرے۔ جیا کہ ان دونوں سے پیچھے نقل کر آئے ہیں۔ یہ ہے کہ اس روایت میں جس قسم کے شعر کی ممانعت ہے وہ خاص قسم کے اشعار ہیں بعض وہ جس میں ان تینوں معانی میں سے کوئی معنی پایا جائے اور یہ تا ویل اس لئے کی گئی ہے تا کہ روایات اباحت کا ان روایات سے تضاد لازم نہ آئے جن میں ممانعت کی گئی ہے۔ اگر بات اسی طرح ہو جیسا کہ تم نے تاویل کی ہے تو مسجد کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں اس قسم کے اشعار جو پیغمبر رضی اللہ عنہ کی ہجو گوئی اور عورتوں کی عیب جوئی اور مال بٹورنے کی غرض سے پڑھے جائیں وہ تو مسجد سے باہربھی ممنوع ہے تو مسجد کے تذکرہ کی ضرورت نہیں تھی ۔ بعض اوقات کسی معنی کا تذکرہ کرنے کے لئے کلام جاری ہوتا ہے مگر وہ معنی جس کے سلسلہ میں تذکرہ ہوا وہ اس حکم کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتا جیسا کہ الله تعالی کا یہ ارشاد "وربائبكم التي في حجوركم (النساء:۳۳) اس آیت میں الله تعالی نے ربیبہ بچیوں کا ذکر فرمایا جو کہ ان عورتوں کی گود میں ہوں جن سے قربت کی ہو یہاں فی حجور کم کی قید سے ان کی گودی میں موجود بچی کی صرف حرمت کا بیان مقصودہیں بلکہ جو اس سے پہلی بڑی بچیاں ہیں وہ بھی مدخول بہا کی حرام ہیں تو یہاں یہ بتلایا گیا کہ جس طرح گودوالی حرام ہے اسی طرح اس سے پہلے والی بھی حرام ہے الله تعالی نے دوسرے مقام پرفر مایا"ومن قتله منكم متعمدا“ (المائدہ:۹۵) تو آیت میں صید حرم کے عمداً قتل کرنے پر جزا کا ذکر ہے اور اس پر تمام کا اتفاق ہے کہ بھول کر حرم کے جانوروں کو قتل کرنے پر بھی اسی طرح سزا لازم ہوگی تو ان آیتوں میں جو قیود مذکور ہیں ان کے ساتھ حکم کو خاص کر نا مرادنہیں ہے۔ بالکل اسی طرح ممنوع شعروں والی روایت میں مسجد کا تذکرہ مسجد کی خصوصیت کو ظاہر کرنے کے لئے نہیں۔ اسی طرح مسجد میں جس بیع کی ممانعت ہے وہ وہی جواس میں ایسی عام ہو کہ بازار کا سا منظر ہوتو ایسی بیع ممنوع ہے اکا دکا چیز کے متعلق بیع کی بات کر لینا ممانعت میں شامل نہیں ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ سے ایسی روایات وارد ہیں جو تربیت کا باعث تو نہیں مگر ان کو مسجد میں کرنا مباح ہے۔ (ملاحظہ ہو)

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7174

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 5 باب إنشاد الشعر في المساجد ) · حديث 7175

6797 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال ثنا شريك عن منصور عن ربعي بن حراش عن علي رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يا معشر قريش ليبعثن الله عليكم رجلا امتحن الله به الإيمان يضرب رقابكم على الدين فقال أبو بكر رضي الله عنه أنا هو يا رسول الله قال لا فقال عمر رضي الله عنه أنا هو يا رسول الله قال لا ولكنه خاصف النعل في المسجد قال وكان قد ألقي إلى علي رضي الله عنه نعله يخصفها أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم ينه عليا رضي الله عنه عن خصف النعل في المسجد وأن الناس لو اجتمعوا حتى يعموا المسجد بخصف النعال كان ذلك مكروها فلما كان ما لا يعم المسجد من هذا غير مكروه وما يعمه منه أو يغلب عليه مكروها كان ذلك في البيع وإنشاد الشعر والتحلق فيه قبل الصلاة مما عمه من ذلك فهو مكروه وما لم يعمه منه ولم يغلب عليه فليس بمكروه والله أعلم بالصواب

ربعی بن حراش نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا اے گروہ قریش ! اللہ تعالیٰ تم پر ایک ادمی کو مقرر کریں گے جس سے تمہارے ایمان کو پر کھیں گے ۔ وہ ایمان پر تمہاری گردنوں کو مارے گا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیا وہ میں ہوں یا رسول اللہ ﷺ ؟ فرمایا نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا وہ میں ہوں فرمایا نہیں بلکہ وہ مسجد میں جوتے گانٹھنے والا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا جوتا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف پھینکا تاکہ وہ اس کو گانٹھ دیں ۔ کیا آپ غور نہیں فرماتے کہ آپ نے اپنا نعل مبارک خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف پھینکا اور اس کو مرمت کرنے کا حکم فرمایا ان کو مسجد میں مرمت کرنے سے نہیں روکا ۔ اگر لوگ جوتے گانٹھنے کا اپنا طرز عمل بنالیں اور کثرت سے کرنے لگیں تو یہ مکروہ ہے جس کی روایت میں مذمت کی گئی ہے ۔ پس جب کبھی کبھی گانٹھنا کراہت والے ومومی حکم میں داخل و شامل نہیں فرمایا بلکہ اس فعل کی کثرت یا عام لوگوں کے شروع کر دینے کو مکروہ قرار دیا تو یہی حکم اشعار و بیع کے متعلق بھی ہوگ اور نماز سے پہلے حلقہ بندی کا بھی یہی حکم ہے ۔ اور اگر کبھی اور اتفاقی ہو یا بعض لوگوں کی ہو تو مکروہ نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

عَلِيٍّ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7175

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7176

6798 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عمر بن يونس بن القاسم اليمامي قال ثنا أبي عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الملامسة والمنابذة

اسحاق بن عبداللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔

الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← أَبِي ← عمر بن يونس بن القاسم اليمامي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7176

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7177

6799 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا أخبره عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7177

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 6 باب شراء الشيء الغائب ) · حديث 7178

6800 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس بن يزيد عن بن شهاب عن عامر بن سعد عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عامر بن سعد نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7178

chevron_left Previous
1…456…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter