Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 1 باب صلاة العيدين كيف التكبير فيها ) · حديث 7155

6779 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح عن بن عون عن محمد بنحوه فهذا أكثر من روينا عنه من التابعين قد وافق قوله قول بن مسعود رضي الله عنه ولما اختلف في التكبير في صلاة العيدين هذا الاختلاف أردنا أن ننظر في ذلك لنستخرج من أقاويلهم هذه قولا صحيحا فنظرنا في ذلك فلم يرو عن أحد منهم أنه فرق بين الصلاة في الفطر والأضحى غير علي رضي الله عنه وكانت صلاة الفطر وصلاة النحر صلاتي عيد مفعولتين لمعنى واحد وهما مستويتان في ركوعهما وسجودهما فكان النظر أن يكونا سواء لا اختلاف بين إحداهما وبين الأخرى في سائر حكمهما فثبت بما ذكرنا التسوية بين الصلاتين في يوم النحر ويوم الفطر ثم نظرنا في عدد التكبير فيهما فرأينا سائر الصلوات خالية من هذا التكبير ورأينا صلاة العيدين قد أجمع أن فيهما تكبيرات زائدة على غيرهما من الصلوات فكان النظر أن لا يزاد في الصلاة للعيدين على ما في سائر الصلوات غيرهما إلا ما أتفق على زيادته فكل قد أجمع على زيادة التسع تكبيرات على ما ذهب إليه بن مسعود وحذيفة وابن عباس وأبو موسى ومن سمعنا معهم رضي الله عنهم واختلفوا في الزيادة على ذلك فزدنا في هذه الصلاة ما أتفق على زيادته فيها ونفينا عنها ما لم يتفق على زيادته فيها فثبت بذلك ما ذهب إليه أهل هذه المقالة ثم نظرنا في موضع القراءة منها فقال الذين ذهبوا إلى أنها في الركعة الأولى بعد التكبير وفي الثانية كذلك قد رأيناكم قد اتفقتم ونحن أن القراءة في الركعة الأولى مؤخرة عن التكبير فالنظر أن تكون في الثانية كذلك فكان من الحجة عليهم لأهل المقالة الأخرى أت التكبير ذكر يفعل في الصلاة وهو غير القراءة فنظرنا في موضع الذكر من الركعة الأولى من الصلاة ومن الركعة الثانية أين موضعه فوجدنا الركعة الأولى فيها الاستفتاح والتعوذ على ما قد روينا في غير هذا الموضع من كتابنا هذا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعمن رويناه عنه من أصحابه رضي الله عنهم فكان ذلك في أول الصلاة قبل القراءة فثبت بذلك أن كذلك موضع التكبير في صلاة العيدين في الركعة الأولى هو ذلك الموضع منها ووجدنا القنوت في الوتر يفعل في الركعة الأخيرة من صلاة الوتر فكل قد أجمع أنه بعد القراءة وأن القراءة مقدمة عليه وإنما اختلفوا في تقديم الركوع عليه وفي تقديمه على الركوع فأما في تأخيره عن القراءة فلا فثبت بذلك أن موضع التكبير من الركعة الآخرة من صلاة العيد هو بعد القراءة يستوي موضع سائر الذكر في الصلوات ويكون موضع كل ما اختلفوا في موضعه منه كموضع ما قد أجمع على موضعه وكل ما بينا في هذا الباب فهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليم أجمعين

ابن عون نے محمد سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اکثر تابعین سے یہی قول منقول ہے اور ان کا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے موافق ہے۔ اب جبکہ نماز عیدین کی تکبیرات میں اس قدر اختلاف ہے تو اب ان میں سے صحیح ترین نکالنے کی اب ہم کوشش کرتے ہیں۔ کسی بھی صحابی یا تابی رضی اللہ عنہم سے نماز فطر و اضحیٰ میں فرق منقول نہیں سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے۔ بقیہ تمام نے دونوں نمازوں کو رکوع وسجود میں برابر قرار دیا ہے نظر کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دونوں نمازیں تمام احکام میں ایک دوسری کی طرح ہوں۔ پس اس سے عیدین کی نمازوں میں برابری تو ثابت ہوگئی۔ پھر ہم نے تکبیرات کی تعداد میں غور کیا تو تمام نمازوں کو اس تکبیر سے خالی پایا اوراس پرتو تمام اتفاق پایا کہ عیدین کی نماز میں دوسری نمازوں سے تکبیرات زائدہ پائی جاتی ہیں۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ نماز عیدین میں بھی عام نمازوں کی تکبیرات سے اضافہ نہ کیا جائے سوائے ان تکبیرات کے کہ جن کی زیادتی پر سب کا اتفاق ہے۔ اب غور سے معلوم ہوا کہ نوزائد تکبیرات پر سب کا اتفاق ہے جس کی طرف حضرت ابن مسعود ، حذیفہ ، ابن عباس ، ابوموسی رضی اللہ عنہم اور ان سے روایات سننے والے تابعین نے جن کو اختیار کیا ہے۔ اس سے زائد پر اختلاف ہے تو ہم نے اس نماز میں ان زائد تکبیرات کو شامل کر دیا جن کے اضافہ پر اتفاق تھا اور جن کے اضافہ پر اتفاق نہ تھا ان کی نفی کر دی۔ پس اس سے فریق ثانی جس طرف گئے ہیں ان کی بات ثابت ہوگئی ۔ پھر ہم نے مقامات قراءت پرنظرڈالی پہلاقول یہ تھا کہ رکعت اولی میں یہ تکبیر کے بعد ہے اور دوسری میں بھی اسی طرح جس پر متفق ہیں ہمارے ہاں قراءت رکعت اولی میں تو تکبیر سے موخر ہے پس تقاضا نظریہ ہے کہ دوسری رکعت میں بھی اسی طرح ہو۔ دوسرے فریق کے پاس فریق اول کے خلاف دلیل یہ ہے کہ تکبیرایت کا ذکر ہے جو قراءت نہیں مگر نماز میں کیا جا تا ہے چنانچہ ہم نے نماز کی پہلی رکعت میں ذکر کے موقع پر غور کیا اور اسی طرح دوسری رکعت میں اس کی جگہ تلاش کی۔ تورکعت اول میں ہم نے استفتاح وتعوذ کو پالیا جیسا کہ ہم پہلے جناب رسول اللہ ﷺ ا ور صحابہ کرام سے اسی کتاب میں ذکر کر آئے تو وہ نماز کے شروع میں قراءت سے پہلے ہے۔ تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ نماز عیدین میں بھی تکبیر کی جگہ پہلی رکعت میں وہی ہے اور ہم نے قنوت وتر کو دیکھا کہ وہ نماز وتر کی آخری رکعت میں پڑھا جاتا ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ قراءت کے بعد ہے قراءت اس سے مقدم ہو گی۔ پس اس پر رکوع کے مقدم کرنے یا اس کو رکوع پر مقدم کرنے میں اختلاف ہے البتہ قراءت سے موخر ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ۔ پس اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ دوسری رکعت میں تکبیر کا مقام نماز عید میں وہ قراءت کے بعد ہونا چاہئے نمازوں میں ذکر کے تمام مقامات برابر ہیں اور جس ذ کر کے موقع سے تعلق اختلاف ہے وہ جگہ میں اس کی طرح ہے جس کے موضع ومقام پر سب کا اتفاق ہے۔ اس باب میں ہم نے جو کچھ بیان کیا وہ امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم الله کا قول ہے۔

بن عون ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7155

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 2 باب حكم المرأة في مالها ) · حديث 7156

6780 - حدثنا يونس قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني الليث بن سعد عن عبد الله بن يحيى الأنصاري عن أبيه عن جده أن جدته أتت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بحلى لها فقالت إني تصدقت بهذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنه لا يجوز للمرأة في مالها أمر إلا بإذن زوجها فهل استأذنت زوجك فقالت نعم فبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هل أذنت لامرأتك أن تتصدق بحليها هذا فقال نعم فقبله منها رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقالوا لا يجوز للمرأة هبة شيء من مالها ولا الصدقة به دون إذن زوجها وخالفهم في ذلك آخرون فأجازوا أمرها كله في مالها وجعلوها في مالها كزوجها في ماله واحتجوا في ذلك يقول الله عز و جل وآتوا النساء صدقاتهن نحلة فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا فأباح الله للزوج ما طابت له به نفس امرأته وبقوله عز و جل وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن وقد فرضتم لهن فريضة فنسف ما فرضتم إلا أن يعفون فأجاز عفوهن عن مالهن بعد طلاق زوجها إياها بغير إستئمار من أحد فدل ذلك على جواز أمر المرأة في مالها وعلى أنها في مالها كالرجل في ماله وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يوافق هذا المعنى أيضا وهو ما قد رويناه في كتاب الزكاة في امرأة عبد الله بن مسعود رضي الله عنه حين أخذت حليها لتذهب به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم لتتصدق به فقال عبد الله رضي الله عنه هلمي تتصدقي به علي فقالت لا حتى استأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاءت رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستأذنته في ذلك فقال تصدقي به عليه وعلى الأيتام الذين في حجره فإنهم له موضع فقد أباحها رسول الله صلى الله عليه و سلم الصدقة بحليها على زوجها وعلى أيتامه ولم يأمرها باستئماره فيما تصدق به على أيتامه وفي هذا الحديث أيضا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعظ النساء فقال تصدقن ولم يذكر في ذلك أمر أزواجهن فدل ذلك أن لهن الصدقة بما أردن من أموالهن بغير أمر أزواجهن وقد

عبدالله بن یحییٰ انصاری نے اپنے والد سے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ میری دادی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس کے پاس چاندی تھی وہ کہنے گی میں اس کو صدقہ کرنا چاہتی ہوں جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت کو اپنے مال میں کوئی اختیار نہیں جب تک اس کا خاوند اجازت نہ دے کیا تم نے اپنے خاوند سے اجازت لی ہے تو اس نے جواب دیا۔ جی ہاں۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا جو معلومات کر کے آئے کہ کیا تم نے اپنی عورت کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے ہی زیورات صدقہ کرے۔ تو اس نے جواب دیا جی ہاں ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے قبول فرمالیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں بعض لوگ اس روایت کی طرف گئے ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ عورت اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ یا ہبہ خاوند کی اجازت کے بغیر نہیں کر سکتی ۔ فریق ثانی کا موقف ہے کہ عورت کو اپنے تمام مال میں تصرف کی اجازت ہے وہ اپنے مال میں اسی طرح مختار ہے جس طرح خاوند اپنے مال میں پورا اختیار رکھتا ہے انہوں نے اس آیت کو دلیل بنایا ہے ”واتو النساء صدقاتهن نحلة فان طبن لكم عن شي منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا (النساء۴) اس آیت میں خاوند کے لئے اس مال کو عورت کے مال مہر میں سے مباح قرار دیا گیا جو وہ خوشدلی سے خاوند کو دے دے (اگر وہ مال کی مختار نہ ہوتی تو ضمیر کی نسبت اس کی طرف نہ ہوتی ) اور الله تعالی نے فرمایا"وان طلقتموهن»(البقرہ۲۳۷)اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے مال کے معاف و درگزر کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ اس کا خاوند بلا مساس کے اس کو طلاق دے دے اور اس کا مہر مقرر ہو۔ حاصل دلیل یہ ہے کہ اس سے دلالت مل گئی کہ عورت کا حکم اس کے اپنے مال میں چلتا ہے اور وہ اپنے مال میں تصرف کا خاوند کی طرح برابر اختیار رکھتی ہے اور اس معنی کی موافقت میں روایات وارد ہیں۔ ایک روایت تو وہ ہے جو کتاب الزکاة میں گزری کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی اپنا زیور لئے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جانے لگی تا کہ اس کو صدقہ کرے ۔ تو عبداللہ کہنے لگے۔ لاؤ یہ مجھ پر صدقہ کردو۔ تو انہوں نے کہا نہیں جب تک کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت نہ کر لوں ۔ تو اس نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا ان پر خرچ کرو اور ان یتیموں پر جوتمہاری پرورش میں ہیں وہ اس صدقہ کے خرچ کا مقام ہیں ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے زیور کے صدقہ کو خاوند کے حق میں مباح کر دیا اور اسی طرح یتامی پر۔ اور اس میں ان کے خاوند کی اجازت کا حکم نہیں فرمایا۔ اس روایت میں یہ بات بھی موجود ہے کہ آپ نے عورتوں کو وعظ فرمایا اور اس میں فرمایا تم صدقہ کردو۔ اس روایت میں خاوندوں کی اجازت کا کہیں تذکرہ موجود نہیں ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ عورتیں اپنے اموال میں اپنے خاوندوں کے حکم کے بغیر جو چاہیں صدقہ کر سکتی ہیں۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عبد الله بن يحيى الأنصاري ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7156

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 2 باب حكم المرأة في مالها ) · حديث 7157

6781 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح وأبو الوليد قالا ثنا شعبة قال سمعت أيوب يحدث عطاء قال أشهد على بن عباس رضي الله عنهما أو حدث به عن بن عباس رضي الله عنهما قال أشهد على رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه خرج يوم فطر فصلى ثم خطب ثم أتى النساء فأمرهن أن يتصدقن

عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ عیدالفطر کے دن نکلے اور نماز ادا فرما کر پھر خطبہ دیا پھر عورتوں کے مجمع کے پاس آئے اور ان کو صدقہ کا حکم فرمایا۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← أشهد على بن عباس أو حدث به ← عَطَاءٍ، ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← روح وأبو الوليد ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7157

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 2 باب حكم المرأة في مالها ) · حديث 7158

6782 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن عبد الرحمن بن عباس قال قلت لابن عباس رضي الله عنهما شهدت العيد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال نعم ولولا مكاني منه ما شهدته من صغرى خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم العيد فصلى ثم خطب ثم أتى النساء مع بلال رضي الله عنه فوعظهن فجعلت المرأة تهوى بيدها إلى رقبتها والمرأة تهوى بيدها إلى إذنها فتدفعه إلى بلال رضي الله عنه وبلال يجعله في ثوبه ثم انطلق به مع النبي صلى الله عليه و سلم إلى منزله

عبدالرحمن بن عباس سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو کہا کیا تم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید میں موجود تھے ؟ تو انہوں نے کہا، ہاں۔ اگر قرب کا وہ مرتبہ جو مجھے حاصل تھا وہ نہ ہوتا تو میں نو عمری کی وجہ سے عید میں حاضر نہ ہوتا۔ جناب رسول اللہ ﷺ عید کے روز نکلے اور نماز عید ادا فرما کر پھر خطبہ ارشاد فرمایا پھر عورتوں کے مجمع کے پاس تشریف لائے جبکہ بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے پھر ان کو وعظ و نصیحت فرمائی پھر تو عورتیں پانے ہاتھ اپنی گردنوں کے طرف لے جانے لگیں اور بعض عورتیں اپنے ہاتھوں کو کانوں تک لے جاتیں تھیں (اور زیور اتار کر ) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتی جاتیں اور بلال اسے اپنے کپڑے میں ڈالتے جاتے تھے پھر وہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس جمع شدہ مال کو لے کر لوٹے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبَّاسٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7158

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 2 باب حكم المرأة في مالها ) · حديث 7159

6783 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا بن جريج قال حدثني الحسن بن مسلم عن طاوس عن بن عباس رضي الله عنهما قال شهدت الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ومع أبي بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم فكلهم يصليها قبل الخطبة ثم يخطب بعد قال ونزل نبي الله صلى الله عليه و سلم فكأني أنظر إليه يجلس الرجل بيده ثم أقبل يشقهم حتى أتى النساء ومعه بلال رضي الله عنه فقال يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا إلى قوله غفور رحيم فقال حين فرغ أنتن على ذلك فقالت امرأة واحدة لم تجبه غيرها نعم يا رسول الله قال فتصدقن فبسط بلال رضي الله عنه ثوبه ثم قال لهن ألقين فجعلن يلقين الفتخ والخواتيم في ثوب بلال رضي الله عنه

طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید میں موجود تھا اور اسی طرح میں ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تمام کے تمام خطبہ سے پہلے نماز ادا فرماتے پھر بعد میں خطبہ دیتے ۔ جناب نبی اکرم ﷺ اترے گویا اب بھی وہ منظر میریے سامنے ہے کہ آپ آدمیوں کو اپنے ہاتھ سے بٹھا رہے ہیں ، پھر آپ ان کو چیرتے ہوئے عورتوں کے مجمع میں تشریف لائے اس وقت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے اور آپ نے ارشاد فرمایا " یایھا النبی اذا جاءک المومنات " ( الممتحنہ 12 تا آخر آیت )پھر فراغت کے بعد فرمایا تم اس پر قائم روہ گی تو ایک عورت کہنے لگی اور اس کے سواء کسی نے جواب نہ دیا جی ہاں۔ یا رسول اللہ ﷺ ۔ آپ نے فرمایا پھر تم صدقہ کرو۔ تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلا دیا پھرآپ نے ان کو فرمایا اس میں ڈالتی جاؤ تو وہ بلال کے کپڑے میں انگوٹھیاں اور چھلے ڈالنے لگیں۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← طَاوْسٍ ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7159

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 2 باب حكم المرأة في مالها ) · حديث 7160

6784 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا بن جريج قال أخبرني عطاء عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال سمعته يقول إن النبي صلى الله عليه و سلم قام يوم الفطر فبدأ بالصلاة قبل الخطبة ثم خطب الناس فلما فرغ نبي الله صلى الله عليه و سلم قام فأتى النساء فذكرهن وهو يتوكأ على بلال وبلال باسط ثوبه فجعل النساء يلقين فيه صدقاتهن

عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے ان کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ عیدالفطر کے روز کھڑے ہوئے اور خطبہ سے پہلے نماز ادا فرمائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا پھر جب جناب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو آپ اٹھے اور عورتوں کے مجمع میں تشریف لائے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اس وقت آپ بلال رضی اللہ عنہ سے سہارا لگانے والے تھے بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلانے والے تھے تو عورتوں نے اپنے صدقات اس میں ڈالنے شروع کئے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7160

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 2 باب حكم المرأة في مالها ) · حديث 7161

6785 - وحدثنا بن أبي داود قال ثنا عبيد بن جناد الحلبي قال ثنا عبيد الله بن عمرو رضي الله عنه عن زيد بن أبي أنيسة عن زيد بن رفيع عن حرام بن حكيم بن حزام رضي الله عنه قال خطب النبي صلى الله عليه و سلم النساء ذات يوم فأمرهن بتقوى الله عز و جل والطاعة لأزواجهن وأن يتصدقن فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أمر النساء بالصدقات وقبلها منهن ولم ينتظر في ذلك رأي أزواجهن وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على ذلك أيضا

زید بن رفع نے حرام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا اور عورتوں کو اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کا حکم فرمایا اور اپنے خاوندوں کی اطاعت کا فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ صدقہ کریں ۔ یہ جناب رسول اللہ ﷺ ہیں کہ آپ نے عورتوں کو صدقات کا حکم فرمایا اور ان کی طرف سے ان صدقات کو قبول فرمایا اور اس سلسلہ میں ان کے خاودن کی رائے کا انتظار نہیں فرمایا۔

حرام بن حكيم بن حزام ← زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7161

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 2 باب حكم المرأة في مالها ) · حديث 7162

6786 - حدثنا الربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا بكير بن الأشج عن كريب مولى بن عباس رضي الله عنهما قال سمعت ميمونة زوج النبي صلى الله عليه و سلم تقول أعتقت وليدة على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لو أعطيتها أختك الأعرابية كان أعظم لأجرك

کریب مولیٰ ابن عباس سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا میں نے جناب رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں ایک نو عمر لونڈی آزاد کی ۔ پھر میں نے جناب رسول اللہ ﷺکی خدمت میں اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا اگر وہ لونڈی تم اپنی دیہاتی بہن کو دے دیتی تو اس کا اجر زیادہ ملتا۔

كريب مولى بْنُ عَبَّاسٍ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← بن لهيعة ← أسد ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7162

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 2 باب حكم المرأة في مالها ) · حديث 7163

6787 - حدثنا ربيع قال ثنا أسد قال ثنا محمد بن حازم عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ميمونة رضي الله عنها مثله فلو كان أمر المرأة لا يجوز في مالها بغير إذن زوجها لرد رسول الله صلى الله عليه و سلم عتاقها وصرف الجارية إلى الذي هو أفضل من العتاق فكيف يجوز لأحد ترك آيتين من كتاب الله عز و جل وسنن ثابتة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم متفق على صحة مجيئها إلى حديث شاذ لا يثبت مثله ثم النظر من بعد يدل على ما ذكرنا وذلك أنا رأيناهم لا يختلفون في المرأة في وصاياها من ثلث مالها أنها جائزة من ثلثها كوصايا الرجال ولم يكن لزوجها عليها في ذلك سبيل ولا أمر وبذلك نطق الكتاب العزيز قال الله عز و جل ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين فإذا كانت وصاياها في ثلث مالها جائزة بعد وفاتها فأفعالها في مالها في حياتها أجوز من ذلك فبهذا نأخذ وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

عبید اللہ بن عبداللہ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ اگر عورت کو اپنے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کا اختیار نہ ہوتا تو جناب رسول اللہ ﷺ آزاد کردہ لونڈی کو واپس کراتے اور افضل ترین آزادی کی طرف لوٹاتے ۔ اب کیونکر کسی کے لئے درست ہے کہ وہ کتاب اللہ کی ان دو آیات اور رسول اللہ ﷺ سے صحیح ثابت شدہ سنسن کو ترک کر کے ایک ایسی روایت کو اختیار کرے جو کہ شاذ و غیر ثابت ہے ۔ پھر نظر کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ اس بارے میں کسی کو اختلاف نہیں کہ عورت اپنے مال کے ثلث میں وصیت کر سکتی ہے اور یہ وصیت تیسرا حصہ مال سے جائز ہے نافذ ہے جیسا کہ مردوں کے سلسلہ میں حکم اسی طرح ہے اس میں نہ تو مرد کو روکنے کا حق ہے اور نہ اس کے حکم کی ضرورت ہے ۔ قرآن مجید نے یہی بات ارشاد فرمائی ہے ۔ " ولکم نصف ماترک ازواجکم " ( الایۃ آیت 12) اور اے خاوند تمہیں اپنی بیویوں کے ترکہ سے نصف ملے گا اگر ان کے ہاں اولاد نہ ہو اگر اولاد ہو تو تمہیں اس مال میں سے چوتھائی ملے گا جو وہ چھوڑ جائیں اور تقسیم ترکہ اس وصیت کے بعد نافذ ہوگا جو وہ وصیت کر جائیں یا قرض کے بعد ۔ پس جب عورت کو اپنے ثلث مال کی وصیت جائز ہے اور وفات کے بعد وہ نافذ ہو گی تو زندگی کے دوران وہ اپنے مال میں اس سے زیادہ جائز حق رکتھی ہے ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← محمد بن حازم ← أسد ← رَبِيعٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7163

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 3 باب ما يفعله المصلي بعد رفعه من السجدة الأخيرة من الركعة الأولى ) · حديث 7164

6788 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو الربيع الزهراني قال ثنا حماد بن زيد قال حدثني أيوب عن أبي قلابة عن مالك بن الحويرث أنه كان يقول لأصحابه ألا أريكم كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم وإن ذلك لفي غير حين لصلاة فقام فأمكن القيام ثم ركع فأمكن الركوع ثم رفع رأسه وانتصب قائما هنيهة ثم سجد ثم رفع رأسه فتمكن في الجلوس ثم انتظر هنيهة ثم سجد قال أبو قلابة فصلى كصلاة شيخنا هذا يعني عمرو بن سلمة رضي الله عنه قال فرأيت عمرو بن سلمة يصنع شيئا لا أراكم تصنعونه إنه كان إذا رفع رأسه من السجدة الأولى والثالثة التي لا يقعد فيها استوى قاعدا ثم قام

ابو قلابہ کہتے ہیں کہ حضرت مالک بن حویریث رضی اللہ عنہ اپنے دوستوں کو کہنے لگے کیا میں تم کو نہ دکھلاؤں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کس طرح نماز ادا فرماتے تھے ۔ اور یہ نماز کے علاوہ اوقات کی بات ہے پس آپ کھڑے ہوتے اور صحیح طور پر کھڑے ہوتے پھر رکوع کرتے تو وہ بھی پورے اطمینان سے کرتے پھر اپنا سر اٹھاتے اور بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے پھر سجدہ کرے پھر اپنا سر سجدہ سے اٹھاتے اور اطمینان سے بیٹھ جاتے پھر ذرا سا رک کر دوسرا سجدہ کرتے ابو قلابہ کہتے ہیں انہوں نے ہمارے شیخ حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ جیسی نماز ادا کی ۔ پھر ابو قلابہ کہنے لگے میں نے عمرو بن سلمہ کو ایک چیز کرتے دیکھا اور میں نے تمہیں اس کو کرتے نہیں دیکھا کہ وہ جب سجدہ اولیٰ سے سر اٹھاتے اور تیسرے سجدہ ( رکعت ) سر اٹھاتے جن میں قعدہ نہیں بیٹھا جاتا تو سیدھے بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے ۔

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7164

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 3 باب ما يفعله المصلي بعد رفعه من السجدة الأخيرة من الركعة الأولى ) · حديث 7165

6789 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا خالد عن أبي قلابة قال أخبرنا مالك بن الحويرث رضي الله عنه أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم إذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا رفع رأسه من السجدة الثانية من الركعة الأولى والثالثة قعد حتى يطمئن قاعدا ثم يقوم بعد واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يقوم منها ولا ينتظر أن يستوي قاعدا واحتجبوا في ذلك بما

ابو قلابہ کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ میں نے جناب نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب اپنی نماز کی تیسری رکعت میں ہوتے تو سجدہ کے بعد سیدھے بیٹھ جاتے پھر چوتھی رکعت کے لئے اٹھتے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض لوگ اس طرح گئے ہیں کہ جب آدمی پہلی رکعت میں کے دوسرے سجدہ سے سر اٹھائے اور اسی طرح تیسری رکعت کے سجدہ ثانیہ سے جب سر اٹھائے تو اچھی طرح بیٹھ جائے پھر اس کے بعد اٹھے ۔ یعنی جلسہ استراحت کرے انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ دوسرے سجدہ سے یا تیسری رکعت کے دوسرے سجدہ سے ظہور قدمین پر اٹھے جلسہ استراحت نہ کرے ۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7165

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 24 كتاب الزيادات ) ‹ ( 3 باب ما يفعله المصلي بعد رفعه من السجدة الأخيرة من الركعة الأولى ) · حديث 7166

6790 - حدثني به غير واحد من أصحابنا رحمهم الله منهم علي بن سعيد بن بشر الرازق قال ثنا أبو همام الوليد بن شجاع الكوفي قال ثنا أبي قال ثنا أبو خيثمة قال ثنا الحسين الكوفي بن الحر قال حدثني عيسى بن عبد الله بن مالك عن محمد بن عمرو بن عطاء رضي الله عنه حدثني مالك عن بن عياش بن سهل الساعدي وكان في مجلس فيه أبوه وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي المجلس أبو هريرة وأبو أسيد وأبو حميد الساعدي والأنصار رضي الله عنهم أنهم تذاكروا الصلاة [ ص 355 ] فقال أبو حميد أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم اتبعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا فأرنا فقام يصلي وهم ينظرون فكبر ورفع يديه في أول التكبير ثم ذكر حديثا طويلا ذكر فيه أنه لما رفع رأسه من السجدة الثانية من الركعة الأولى قام ولم يتورك فلما جاء هذا الحديث على ما ذكرنا وخالف الحديث الأول احتمل أن يكون ما فعله رسول الله صلى الله عليه و سلم في الحديث الأول لعلة كانت به فقعد من أجلها لا لأن ذلك من سنة الصلاة كما قد كان بن عمر رضي الله عنهما يتربع بالصلاة فلما سئل عن ذلك قال إن رجلي لا تحملاني فكذلك يحتمل أن يكون ما فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك القعود كان لعلة أصابته حتى لا يضاد ذلك ما روى عنه في الحديث الآخر ولا يخالفه وهذا أولى بنا من حمل ما روى عنه على التضاد والتنافي وحديث أبي حميد أيضا فيه حكاية أبي حميد ما حكى بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكر ذلك عليه أحد منهم فدل ذلك أن ما عندهم في ذلك غير مخالف لما حكاه لهم وفي حديث مالك بن الحويرث رضي الله عنه في كلام أيوب أن ما كان عمرو بن سلمة يفعل من ذلك لم يكن يرى الناس يفعلونه وهو فقد رأى جماعة من جملة التابعين فذلك حجة في دفع ما روى عن أبي قلابة عن مالك أن يكون سنة ثم النظر من بعد هذا يوافق ما روى أبو حميد رضي الله عنه وذلك أنا رأينا الرجل إذا خرج في صلاته من حال إلى حال استأنف ذكرا من ذلك أنا رأيناه إذا أراد الركوع كبر وخر راكعا وإذا رفع رأسه من الركوع قال سمع الله لمن حمده وإذا خر من القيام إلى السجود فقال الله أكبر وإذا رفع رأسه من السجود قال الله أكبر وإذا عاد إلى السجود فعل ذلك أيضا وإذا رفع رأسه لم يكبر من بعد رفعه رأسه إلى أن يستوي قائما غير تكبيرة واحدة فدل ذلك أنه ليس بين سجوده وقيامه جلوس ولو كان بينهما جلوس لأحتاج أن يكون تكبيره بعد رفعه رأسه من السجود للدخول في ذلك الجلوس ولاحتاج إلى تكبير آخر إذا نهض للقيام فلما لم يؤمر بذلك ثبت أن لا قعود بين الرفع من السجدة الأخيرة والقيام إلى الركعة التي بعدها ليكون حكم ذلك وحكم سائر الصلوات مؤتلفا غير مختلف فبهذا نأخذ وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهم أجمعين

مالک نے ابن عیاش بن سہل الساعدی سے روایت کیا ہے کہ میں اس مجلس میں تھا جہاں میرے والد بھی بیٹھے تھے اور میرے والد اصحاب رسول اللہ ﷺ سے تھے اس مجلس میں حضرت ابو ہریرہ ، ابواسید ، ابو حمید الساعدی رجی اللہ عنہم اور دیگر انصاری صحابہ تھے انہوں نے باہمی نماز کا مذکراہ کیا ۔ تو ابو حمید الساعدی کہنے لگے میں تم میں سب سے زیادہ جناب رسول اللہ ﷺ کی نماز کو جاننے والا ہوں ۔ میں نے وہ جناب رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہے۔ انہوں نے کہا تم ہمیں دکھلاؤ ۔ تو وہ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور وہ سب دیکھ رہے تھے پس انہوں نے تکبیر کہی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلی تکبیر میں اٹھایا پھر انہوں نے طویل روایت بیان کی اس میں انہوں نے ذکر کیا کہ جب انہوں نے دوسرے جدہ سے سر اٹھایا جو کہ رکعت اول کا تھا تو وہ سیدھے کھڑے ہو گئے انہوں نے جلسہ استراحت نہ کیا۔ جب یہ روایت اسی طرح وارد ہے اور گزشتہ روایت کے خلاف ہے تو اب اس روایت میں ایک احتمال یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ کیا جو کہ پہلی روایت میں مذکور ہے وہ کسی سبب کی وجہ سے کیا تھا اسی تکلیف کی وجہ سے وہ بیٹھے۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ نماز کی سنت ہے جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ چوکڑی مار کر بیٹھتے۔ جب ان سے اس سلسلے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا میری ٹانگیں میرے جسم کا بوجھ سہارنہیں سکتیں۔ پس اسی طرح اس روایت میں بی احتمال ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کا یہ بیٹھنے والا عمل کسی تکلیف کی وجہ سے ہو جو آپ کو پیش آئی۔ یہ تاویل اس وجہ سے کی تا کہ دوسری روایت سے اس کا تضاد ختم ہو جائے ۔ پس متضاد معنی پر محمول کرنے کی بجائے ایسے معنی پر معمول کرنا اولیٰ ہے۔ حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی ابو حمید کی حکایت ہے انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے مجمع کے سامنے آپ کا یہ عمل نقل کیا تو ان میں سے کیا نے بھی انکارنہیں کیا تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ ان کا موقف ان کے نقل کر دہ عمل کے مخالف نہیں ہے۔ روایت ما لک رضی اللہ عنہ میں جو ایوب سے منقول ہے یہ کہا گیا کہ حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے یہ عمل کیا ہے انہوں نے دوسروں کو یہ عمل کرتے نہیں دیکھا۔ من جملہ تابعین میں سے ایک جماعت نے دیکھا پس می ابوقلابہ عن مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی روایت کے سنت بننے کے خلاف حجت ہے۔ قیاس ونظر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت کی تائید ہو۔ کیونکہ ہم نے غور کیا کہ جب آدی نماز میں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتا ہے تو ازسرنو ذکر کرتا ہے مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ جب رکوع کرنا چاہتا ہے تو تکبیر کہتا ہے اور رکوع میں جاتا ہے جب رکوع سے سر اٹھاتا ہے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتا ہے۔ جب قیام سے سجدے کی طرف جاتا ہے تو اللہ اکبر کہتا ہے جب سجدہ سے سر اٹھاتا ہے تو پھر اللہ اکبر کہتا ہے پھر جب دوسرے سجدہ کی طرف جاتا ہے تواسی طرح کرتا ہے جب سراٹھاتا ہے تو سیدھا کھڑا ہونے تک صرف ایک تکبیر کہتا ہے تو یہ سب اس بات پر دلالت ہے کہ اس کے سجدے اور قیام کے درمیان بیٹھنے کا عمل نہیں ہے۔ اگر ان کے مابین بیٹھنا ہوتا تو سجدے سے اٹھنے کے بعداس بیٹھنے میں داخل ہونے کے لئے تکبیر کی ضرورت ہوتی اور جب قیام کے لئے اٹھتا تو مزید ایک تکبیر کی ضرورت ہوتی تو جب اس بات کا حکم نہیں دیا گیا تو ثابت ہو گیا کہ دوسرے سجدے اور بعد والی رکعت کے قیام کے درمیان بیٹھنا(سنت) نہیں ہے تا کہ اس کا اور باقی تمام نماز کا حکم ایک جیسا ہو جائے اور ان کے درمیان اختلاف نہ ہو۔ ہم اس بات کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7166

chevron_left Previous
12345…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter