Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 44 باب التطوع في المساجد ) · حديث 1950

1843 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال ثنا معاوية بن صالح عن العلاء بن الحارث عن حرام بن حكيم عن عمه عبد الله بن سعد قال سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصلاة في بيتي والصلاة في المسجد فقال قد ترى ما أقرب بيتي من المسجد فلأن أصلى في بيتي أحب الى من أن أصلى في المسجد الا أن تكون صلاة مكتوبة قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن التطوع لا ينبغي أن يفعل في المساجد الا الذي لا ينبغي تركه مثل الركعتين بعد الظهر والركعتين بعد المغرب والركعتين عند دخول المسجد فأما ما سوى ذلك فلا ينبغي أن تصلى في المساجد ولكن تؤخر ذلك للبيوت وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا التطوع في المساجد حسن غير أن التطوع في المنازل أفضل منه واحتجوا في ذلك بما

حضرت حرام بن حکیم نے اپنے چچا عبداللہ بن سعد سے روایت کرتے ہیں عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سی نماز گھر میں اور کون سی نماز مسجد میں ادا کروں تو آپ نے فرمایا تم دیکھتے ہو ک میرا گھر بنی فلان مسجد سے کس قدر قریب ہے تو مسجد میں پڑھنے کی بجائے میں گھر میں (نفل نماز) پڑھنا زیادہ پسند کرتا ہوں بس فرض نماز مسجد میں ادا کرتا ہوں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ علماء اس طرف گئے ہیں کہ عام نوافل مساجد میں نہ پڑھنے چاہیں ، البتہ وہ نوافل جن کو مسجد میں ادائیگی کے سوا چارہ نہیں وہ اس میں پڑھے جا سکتے ہیں مثلا ظہر کے بعد کی دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اور تحیۃ المسجد کی دورکعت پس اس کے علاوہ نوافل مساجد میں پڑھنا مناسب نہیں بلکہ ان کو گھروں کے لیے موخر کیا جائے گا۔ دیگر علما ء نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ نفل مسجد میں پڑھنا خوب ہیں ہاں گھروں میں پڑھنا اس سے خوب تر ہیں ان کی دلیل یہ روایات ہیں ۔

الصَّلاةِ فِي بَيْتِي وَالصَّلاةِ فِي الْمَسْجِدِ ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← حَرَامِ بْنِ حَکِيمٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1950

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 44 باب التطوع في المساجد ) · حديث 1951

1844 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد قال ثنا يونس بن أبى إسحاق عن المنهال بن عمرو عن على بن عبد الله بن عباس عن بن عباس رضي الله عنهما قال قال لي العباس رضي الله عنه بت الليلة بآل رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم العشاء ثم صلى بعدها حتى لم يبقى في المسجد غيره قال أبو جعفر فهذا يدل على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان يتطوع في المسجد هذا التطوع الطويل فذلك عندنا حسن الا أن التطوع في البيوت أفضل منه لقول رسول الله صلى الله عليه و سلم خير صلاة المرء في بيته الا المكتوبة وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى

علی بن عبداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے گھر رات گزارنے کے لیے میرے والد نے حکم فرمایا ( تاکہ میں ان کی رات کی نماز دیکھ کر وہ ان کو نقل کروں)چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے نماز عشاء پڑھائی پھر اس کے بعد اتنی دیر نماز پڑھتے رہے کہ مسجد میں آپ کے سوائے کوئی نہ رہا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس یہ دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کبھی مسجد میں اس قدر طویل نفل ادا فرماتے پس یہ ہمارے ہاں ثواب ہے البتہ ان کا گھروں میں پڑھنا اس سے افضل ہے اس لیے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا " خیر صلاۃ المرء فی بیتۃ الا المکتوبۃ " آدمی کی سب سے بہتر نماز (نفل ) وہ ہے جو گھر میں ادا کی جائے سوائے فرض نماز کے یہ قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1951

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1952

1845 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا أسباط عن مطرف عن أبى إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن على رضي الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوتر في أول الليل وفي وسطه وفي آخره ثم ثبت له الوتر في آخره

عاصم بن ضمرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ابتداء رات میں وتر پڑھتے اور درمیان رات اور آخر رات میں آپ کے وتر میں قائم ہوتے ( یعنی آخری نماز وتر ہوتی )

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُطَرِّفٍ ← أَسْبَاطٍ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1952

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1953

1846 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر وعفان قالا ثنا شعبة قال أبو إسحاق أنبأني غير مرة قال سمعت عاصم بن ضمرة يحدث عن على رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے عاصم بن ضمرہ سے بار ہا سنا کہ جناب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← غَيْرَ مَرَّةٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← سعيد بن عامر وعفان ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1953

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1954

1847 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا يعقوب بن إسحاق بن أبى عياد قال ثنا إبراهيم بن طهمان عن أبى إسحاق فذكر بإسناده مثله

ابراہیم بن طہمان نے ابو اسحاق سے پھر اس نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أبي إسحاق فذكر بإسناده مثله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← يعقوب بن إسحاق بن أبى عياد ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1954

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1955

1848 - حدثنا أبو أمية قال ثنا عبيد الله بن موسى قال أنا إسرائيل وقال مرة أخرمي أنا أبو إسرائيل عن السدى عن عبد خير قال خرج علينا علي رضي الله عنه ونحن في المسجد فقال أين السائل عن الوتر فانتهينا إليه فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يوتر أول الليل ثم بدا له فأوتر وسطه ثم ثبت له الوتر في هذه الساعة قال وذلك عند طلوع الفجر وهذا عندنا على قرب طلوع الفجر قبل أن يطلع حتى يستوي معنى هذا الحديث ومعنى حديث عاصم بن ضمرة قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الوقت الذي ينبغي أن يجعل فيه الوتر هو السحر وأنه لا يتطوع بعده وأن من تطوع بعده فقد نقضه وعليه أن يعيد وترا آخر واحتجوا في ذلك بتأخير رسول الله صلى الله عليه و سلم الوتر الى آخر الليل وبما روى عن جماعة من أصحابه من بعده أنهم كانوا يرون من تطوع بعد وتر فقد نقضه وذكروا في ذلك ما

سدی نے عبدخیر سے نقل کیا کہ جناب علی رضی اللہ عنہ گھر سے تشریف لائے جبکہ ہم مسجد میں تھے آپ نے فرمایا وتروں کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ ہم ان کو لے کر اس کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم شروع رات میں وتر ادا فرمالیتے پھر اگر آپ نفل پڑھتے تو دوبارہ وتر پڑھ لیتے پھر یہ وتر آپ کے قائم رہتے (یعنی اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھتے ) اور یہ بالکل فجر کے طلوع کے قریب کرتےیہ ہمارے نزدیک طلوع فجر کے قریب ہونے پر محمول ہے اس سے پہلے کہ وہ طلوع ہوتا کہ اس روایت کا معنی اور عاصم بن ضمرہ کی روایت کا معنی مختلف نہ ہو۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ علماء اس طرف گئے ہیں کہ وتروں کا اصل وقت مناسب یہ ہے کہ سحری کا وقت ہو کہ جس کے بعد نفل نہیں پڑھے جا سکتے اور جس نے اس کے بعد نفل پڑھے اس نے ان وتروں کو باطل کر دیا ۔ اسے دوبارہ وتر پڑھنے ضروری ہیں ۔ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی اس عمل کو دلیل بنایا کہ آپ وتروں کو رات کے آخری حصے تک مؤخر فرماتے تھے اور دوسری دلیل یہ ہے کہ آپ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال یہ تھا کہ جس نے وتروں کے بعد نقل پڑھے انہوں نے وتروں کو باطل کر دیا اور انہوں نے ان روایات کو دلیل میں پیش کیا ۔

الوتر فانتهينا إليه فقال ← خرج علينا علي ونحن في المسجد فقال أين السائل ← عبد خير ← السُّدِّيِّ ← أَبُو إِسْرَائِيلَ ← إسرائيل وقال مرة أخرمي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1955

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1956

1849 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا حماد بن سلمة عن عبد الملك بن عمير عن موسى بن طلحة أن عثمان رضي الله عنه قال إني أوتر أول الليل فإذا قمت من آخر الليل صليت ركعة فما شبهتها الا بقلوص أضمها الى الإبل

موسیٰ بن طلحہ نے نقل کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھ لیتا ہوں جب رات کے آخر حصہ میں جاگ جاتا ہوں تو میں ایک رکعت ملا کر ان کو جفت کر لیتا ہوں جیسے اونٹنی اونٹنوں سے ملائی جاتی ہے۔

موسى بن طلحة أن عثمان ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1956

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1957

1850 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن عبد الملك بن عمير فذكر بإسناده مثله

شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت اسی طرح کرتے تھے ۔

عبد الملك بن عمير فذكر بإسناده مثله ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1957

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1958

1851 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر قال ثنا بن أبى ذئب عن عمران بن بشير عن أبيه عن سعيد بن المسيب أن أبا بكر كان يفعل ذلك

سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ جناب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے ۔

سعيد بن المسيب أن أبا بكر كان يفعل ذلك ← أَبِيهِ ← عمران بن بشير ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1958

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1959

1852 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبى هارون الغنوي عن حطان بن عبد الله قال سمعت عليا رضي الله عنه يقول الوتر على ثلاثة أنواع رجل أوتر أول الليل ثم استيقظ فصلى ركعتين ورجل أوتر أول الليل فاستيقظ فوصل الى وتره ركعة فصلى ركعتين ركعتين ثم أوتر ورجل أخر وتره الى آخر الليل

حطان بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وتر تین قسم پر ہیں ۔1۔ ایک آدمی جس سے رات کے شروع حصہ میں وتر پڑھ لیے پھر و ہ بیدار ہوا تو اس نے دو رکعتیں پڑھ لیں ۔ 2۔و ہ آدمی جس نے رات کو وتر پڑھ لیے پھر صبح کو بیدار ہو گیا تو اس نے اپنے وتر کے ساتھ ایک رکعت ملا کر نفل بنا لیا پھر دو رکعت پڑھتا رہا پھر اس سے وتر دو بار ہ پڑھے۔ 3۔ و ہ آدمی جو اپنے وتر رات کے پچھلے حصہ میں پڑھتا ہے ۔

عَلِيًّا ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ ← أَبِي هَارُونَ الْغَنَوِيِّ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1959

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1960

1853 - حدثنا محمد بن بحر قال ثنا يزيد بن هارون قال ثنا همام عن قتادة ومالك بن دينار عن جلاس قال كنت جالسا عند عمار فأتاه رجل فقال له كيف توتر قال أرتضى بما أصنع قال نعم قال أحسب قتادة قال في حديثه فإني أوتر بليل بخمس ركعات ثم أرقد فإذا قمت من الليل شفعت

اجلاس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا تم وتر کیسے ادا کرتے ہو ؟ حضرت عمار کہنے لگے کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں جو کرتا ہوں وہ بتلاؤں اس نے ہاں میں جواب دیا ۔ ہمام کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ قتادہ نے اپنی روایت میں اس طرح کہا میں رات کو پانچ رکعت وتر پڑھتا ہوں پھر میں سو جاتا ہوں پھر جب میں رات کو بیدار ہوتا ہوں تو شفعہ شفعہ شفعہ پڑھتا ہوں ۔

أحسب قتادة ← نَعَمْ ← أرتضى بما أصنع ← له كيف توتر ← كنت جالسا عند عمار فأتاه رجل ← جلاس ← قتادة ومالك بن دينار ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← محمد بن بحر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1960

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1961

1854 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر قال ثنا بن أبى ذئب عن يزيد بن عبد الله بن قسيط عن أبى سلمة ومحمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن بن عمر رضي الله عنهما قال من أوتر فبدا له أن يصلى فليشفع إليها بأخرى حتى يوتر بعد

ابو سلمہ اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جس نے وتر پڑھ لیے پھر اس کو نوافل کا موقع ملا تو وتروں کے ساتھ ایک رکعت ملا کر شفعہ بنا لے پھر آخر میں وتر پڑھتے ۔ امام مسروق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شاگرد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل پر تعجب کرتے تھے ۔

من أوتر فبدا له أن يصلى فليشفع إليها بأخرى حتى يوتر بعد ← بن عُمَرَ ← أبى سلمة ومحمد بن عبد الرحمن بن ثوبان ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1961

chevron_left Previous
1…9899100…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter