شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 44 باب التطوع في المساجد ) · حديث 1950
1843 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال ثنا معاوية بن صالح عن العلاء بن الحارث عن حرام بن حكيم عن عمه عبد الله بن سعد قال سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصلاة في بيتي والصلاة في المسجد فقال قد ترى ما أقرب بيتي من المسجد فلأن أصلى في بيتي أحب الى من أن أصلى في المسجد الا أن تكون صلاة مكتوبة قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن التطوع لا ينبغي أن يفعل في المساجد الا الذي لا ينبغي تركه مثل الركعتين بعد الظهر والركعتين بعد المغرب والركعتين عند دخول المسجد فأما ما سوى ذلك فلا ينبغي أن تصلى في المساجد ولكن تؤخر ذلك للبيوت وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا التطوع في المساجد حسن غير أن التطوع في المنازل أفضل منه واحتجوا في ذلك بما
حضرت حرام بن حکیم نے اپنے چچا عبداللہ بن سعد سے روایت کرتے ہیں عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سی نماز گھر میں اور کون سی نماز مسجد میں ادا کروں تو آپ نے فرمایا تم دیکھتے ہو ک میرا گھر بنی فلان مسجد سے کس قدر قریب ہے تو مسجد میں پڑھنے کی بجائے میں گھر میں (نفل نماز) پڑھنا زیادہ پسند کرتا ہوں بس فرض نماز مسجد میں ادا کرتا ہوں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ علماء اس طرف گئے ہیں کہ عام نوافل مساجد میں نہ پڑھنے چاہیں ، البتہ وہ نوافل جن کو مسجد میں ادائیگی کے سوا چارہ نہیں وہ اس میں پڑھے جا سکتے ہیں مثلا ظہر کے بعد کی دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اور تحیۃ المسجد کی دورکعت پس اس کے علاوہ نوافل مساجد میں پڑھنا مناسب نہیں بلکہ ان کو گھروں کے لیے موخر کیا جائے گا۔ دیگر علما ء نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ نفل مسجد میں پڑھنا خوب ہیں ہاں گھروں میں پڑھنا اس سے خوب تر ہیں ان کی دلیل یہ روایات ہیں ۔
الصَّلاةِ فِي بَيْتِي وَالصَّلاةِ فِي الْمَسْجِدِ ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← حَرَامِ بْنِ حَکِيمٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1950
