شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 40 باب القراءة في صلاة الكسوف كيف هي ) · حديث 1914
1811 - حدثنا فهد قال ثنا الحسن بن الربيع قال ثنا أبو إسحاق الفزاري عن سفيان بن حسين عن الزهرى عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فهذه عائشة تخبر أنه قد جهر فيها بالقراءة فهى أولى لما ذكرنا وقد كان النظر في ذلك لما اختلفوا أنا رأينا الظهر والعصر يصليان نهارا في سائر الأيام ولا يجهر فيهما بالقراءة ورأينا الجمعة تصلى في خاص من الأيام ويجهر فيها بالقراءة فكانت الفرائض هكذا حكمها ما كان منها يفعل في سائر الأيام نهارا خوفت فيه وما كان منها يفعل في خاص من الأيام جهر فيه وكذلك جعل حكم النوافل ما كان منها يفعل في سائر الأيام نهارا خوفت فيه بالقراءة وما كان منها يفعل في خاص من الأيام مثل صلاة العيدين يجهر فيه بالقراءة هذا مالا اختلاف بين الناس فيه وكانت صلاة الاستسقاء في قول من يرى في الاستسقاء صلاة هكذا حكمها عنده يجهر فيها بالقراءة وقد شد قوله في ذلك ما روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم فيما تقدم من كتابنا هذا في جهره بالقراءة في صلاة الاستسقاء فلما ثبت ما وصفنا في الفرائض والسنن ثبت أن صلاة الكسوف كذلك أيضا لما كانت من السنة المفعولة في خاص من الأيام وجب أن يكون حكم القراءة فيها كحكم القراءة في السنن المفعولة في خاص من الأيام وهو الجهر لا المخافتة قياسا ونظرا على ما ذكرنا وهو قول أبى يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى وقد روي ذلك أيضا عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے تو یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو بتلاتی ہیں کہ آپ نے بلند آواز سے قراءت فرمائی پس یہ روایت اسی وجہ کی بناء پر ہمارے ہاں اولیٰ ہے ۔ جب روایات میں اختاف ہوا تو نظر و فکر کی طرف رجوع کیا چنانچہ نظر کا تقاضایہ ہے کہ غور فرمائیں دن کی نمازمیں ظہر و عصر روازنہ پڑھی جاتی ہے اور ان میں قراءت آہستہ ہے اور جمعہ المبارک کی نماز جو مخصوص دن میں پڑھی جاتی ہے اس میں بآواز بلند قراءت کی جاتی ہے پس فرائض کا حکم یہی ہے کہ ان میں سے جو دن کئے وقت روازنہ ادا کیے جاتے ہیں ان میں قراءت آہستہ ہو گی ۔ اور جو مخصوص ایام میں ادا ہوں ان میں جہری قراءت ہو گی نوافل بھی اسی حکم میں ہیں جو دن کے وقت روزانہ پڑھے جاتے ہیں ان میں قراءت آہستہ ہے اور جو خاص دونوں میں ادا ہوتے ہیں مثلا عیدین وغیرہ ان میں قراءت بلند آواز سے پڑھی جائے گی ۔ یہ ایسی بات ہے جس میں سب کا اتفاق ہے اور جن حضرات کے ہاں نماز استسقاء میں نماز ہے ان کے ہاں بھی یہی حکم ہے کہ قراءت بلند آواز سے ہو اور جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کا ارشاد گرامی جس کاتذکرہ ہم نے اس کتاب میں کیا ہے ۔ اس میں ہے کہ نماز استقاء میں بلند آواز سے قراءت ہو گی ۔ اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے پس وہ نظریات جس کو ہم فرائض و سنت کے سلسلہ میں ہم نے ذکر کیا ہے وہ ثابت ہو گئی تو اس سے خود ثابت ہو گیا کہ نماز کسوف بھی اس سے مختلف نہیں اس لیے کہ وہ بھی خاص وت میں ادا کی جانے والی سنت ہے اب لازم ہے کہ اس کی قراءت اسی طرح ہو جو مخصوص ایام میں ادا کرنے والی سنتوں کا ہے یعنی قراءت بلند آواز سے ہو آہستہ نہ پڑھی جائے قیاس اسی کو چاہتا ہے امام ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے اور اس سلسلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اثر بھی موجود ہے ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1914
