شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 39 باب صلاة الكسوف كيف هى ) · حديث 1902
1800 - حدثنا بن أبى داود وفهد قالا ثنا بن معبد قال ثنا عبيد الله بن أيوب عن أبى قلابة عن قبيصة الهلالي أو غيره أن الشمس كسفت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فزعا يجر ثوبه وأنا معه يومئذ بالمدينة فصلى ركعتين أطالهما ثم انصرف وتجلت الشمس فقال إنما هذه الآيات يخوف الله بها فإذا رأيتموها فصلوا كأحدث صلاة صليتموها من المكتوبة فكان أكثر الآثار في هذا الباب هى الموافقة لهذا المذهب الأخير فأردنا أن ننظر في معاني الأقوال الأول فكان النعمان بن بشير قد أخبر في حديثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى ركعتين ويسلم ويسأل فاحتمل أن يكون النعمان علم من رسول الله صلى الله عليه و سلم السجود بعد كل ركعة وعلمه من وافقه على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى ركعتين ولم يعلم الذين قالوا ركع ركعتين أو أكثر من ذلك قبل أن يسجد لما كان من طول صلاته فتصحيح حديث النعمان هذا مع هذه الآثار هو أن يجعل صلاته كما قال النعمان لأن ما روى على وابن عباس وعائشة رضي الله عنهم يدخل في ذلك ويزيد عليه حديث النعمان فهو أولى من كل ما خالفهم ثم قد شد ذلك ما حكاه قبيصة من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا كان ذلك فصلوا كأحدث صلاة صليتموها من المكتوبة فأخبرنا إنما يصلى في الكسوف كما يصلى المكتوبة ثم رجعنا الى قول الذين لم يوقتوا في ذلك شيئا لما رووه عن بن عباس رضي الله عنهما فكان قول رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث قبيصة فصلوا كأحدث صلاة صليتموها من المكتوبة دليلا على أن الصلاة في ذلك موقتة معلومة لها وقت معلوم وعدد معلوم فبطل بذلك ما ذهب اليه المخالفون لهذا الحديث فأما قولهم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فإذا رأيتم ذلك فصلوا حتى تنجلى فقالوا ففي هذا دليل على أنه لا ينبغي أن يقطع الصلاة إذا كان ذلك حتى تنجلى فيقال لهم فقد قال في بعض الأحاديث فصلوا وادعوا حتى تنكشف وقد
ابوقلابہ نے قبیصہ ہلالی یا کسی دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گہن لگ گیا پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم گھبرا کر اپنے کپڑوں کو کھینچتے ہوئے نکلے اور میں ان دنوں آپ کے ساتھ مدینہ میں مقیم تھا پس آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی ان دو رکعتوں کو خوب لمبا لمبا کیا پھر نماز سے اس وقت فارغ ہوئے جبکہ سورج چھٹ چکا تھا آپ نے ارشاد فرمایا بلا شبہ یہ نشانہائے قدرت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں جب تم ان کو دیکھ پاؤ تو اس قریبی نماز کی طرح نماز پڑھو جو فرض تم نے پڑھی ہو ۔ اس بابت کی اکثر روایات سے اس مسلک اخیرہ کی تائید ہوتی ہے پس ہم نے چاہا کہ اقوال و آثار کے معانی پر نگاہ ڈالیں چنانچہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں خبر دی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اپنی نماز دو دو رکعت ادا کرتے پھر سلام پھیرتے اور دعا فرماتے اس سے یہ احتمال پیدا ہوا کہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو جناب رسول اللہصلی اللہ عیہ وسلم سے ہر رکوع کے بعد سجدے کا علم ہوا ۔ اس طرح جنہوں نے ان کی موافقت کی ان کو بھی یہی معلوم ہوا کہ آپ نے دو رکعت ادا کی ہیں ۔مگر وہ حضرات جنہوں نے یہ فرمایا کہ آپ نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے یا س سے زیادہ رکوع کیے ان کو طوالت صلاۃ کی وجہ سے یہ علم نہ ہو سکا ۔ پس حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کی روایت ان روایات کے ساتھ اس وقت درست بیٹھ سکتی ہے کہ نماز حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق قرار دیں اس لیے کہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، علی م ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے وہ بھی اس مین داخل ہے اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کی روایت اضافے پر مشتمل ہے اس لیے ان سے اولیٰ ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت قبیصہ رضی اللہ عنہ کی جاب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے قول نے اس کو پختہ کردیا ان کافرمان یہ ہے جب بات پیش آجائے تو قریب ترین فرض نماز کی طرح پڑھو پس انہوں نے یہ بتلایا کہ آپ کسوف فرض نماز کی طرح پڑھتے تھے ۔ اب ہم نے ان لوگوں کے قول کی طرف توجہ کی جو اس روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مطابق اس میں رکوع کی کوئی تعداد مقرر نہیں کی ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کا فرمان یہ تھا کہ تم قریب ترین نماز کی طرح اداکرو۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس نماز فرض کی تعداد رکعات اور وقت بھی معلوم ہے ۔ اور پس اس روایت کی وجہ سے مخالف کا مسلک باطل ہوا ۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا " فاذااراتیم ذلک فصلوا حتی تنجلی " میں یہ دلیل ہے کہ روشنی کے آنے تک نماز کو توڑنا مناسب نہیں ۔ انکے جواب میں ہم کہیں گے کہ تم نماز پڑھو اور دعا مانگو یہاں تک کہ سورج روشن ہو جائے ۔
أَبِي قِلَابَةَ، ← عبيد الله بن أيوب ← بن معبد ← بن أبي داود وفهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1902
