Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 37 باب الرجل يكون في الحرب فتحضره الصلاة وهو راكب هل يصلى أم لا ) · حديث 1842

1744 - حدثنا على بن معبد هو بن نوح قال ثنا على بن معبد بن شداد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن زيد عن عدى بن ثابت عن زر عن حذيفة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يوم الخندق شغلونا عن صلاة العصر قال ولم يصلها يومئذ حتى غابت الشمس ملأ الله قبورهم نارا وقلوبهم نارا وبيوتهم نارا قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الراكب لا يصلى الفريضة على دابته وإن كان في حال لا يمكنه فيها النزول قالوا لأن النبي صلى الله عليه و سلم لم يصل يومئذ راكبا وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ان كان هذا الراكب يقاتل فلا يصلى وان كان الراكب لا يقاتل ولا يمكنه النزول صلى وقد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم لم يصل يومئذ لأنه كان يقاتل فالقتال عمل والصلاة لا يكون فيها عمل وقد يجوز أن يكون لم يصل يومئذ لأنه لم يكن أمر حينئذ أن يصلى راكبا فنظرنا في ذلك مرزوق

زر نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے سنا کہ آپ خندق کے روز فرما رہے تھے ان کفار نے ہمیں نماز عصر سے مشغول کر دیا یعنی نہ پڑھنے دی آپ عصر کی نماز ادا نہ فرما سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا آپ نے یہ بد دعا فرمائی اللہ تعالیٰ ان کی قبور کو آگ سے بھر دے اور ان کے دلوں کو آگ سے بھر دے اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سوار اس سواری پر فرض نماز نہ پڑھے جبکہ وہ ایسی حالت میں بھی ہو کہ اس سے اترنا اسے ممکن ہو وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اس دن سواری کی حالت میں نماز ادا نہ فرمائی ۔ دوروں نے ان کی بات سے اختلاف ہوئے کہا کہ اگر سوار لڑائی میں مصروف ہو تو پھر نماز نہ پڑھے اور اگر سوار لڑائی نہ کررہا ہو اور اتر نا بھی ممکن نہ ہو تو نماز پڑھ لے۔ یہ کہنا درست ہے کہ آپ نے نماز اس وجہ سے نہ پڑھی ہو کہ آپ لڑائی میں مصروف ہو ۔ لڑائی ایک خارجی عمل ہے اور نماز میں کوئی خارجی عمل نہیں ہوتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے نماز اس لیے نہ پڑی ہو کہ سواری کی حالت میں نماز کا حکم نہ دیا گیا تھا ۔ پس ہم نے اس پر غور کیا تو یہ روایات سامنے آئیں ۔

صَلَاةِ الْعَصْرِ ← يَوْمَ الْخَنْدَقِ: "شَغَلُونَا ← حُذَيْفَةَ ← زِرٍّ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← زيد1 ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ شَدَّادٍ، ← على بن معبد هو بن نوح

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1842

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 37 باب الرجل يكون في الحرب فتحضره الصلاة وهو راكب هل يصلى أم لا ) · حديث 1843

قد حدثنا قال ثنا أبو عامر وبشر بن عمر عن بن أبى ذئب ح

ابو عامر اور بشر بن عمر نے ابی ذئب سے نقل کیا ۔

بن أَبِي ذِئْبٍ ← أبو عامر وبشر بن عمر ← قَدْ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1843

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 37 باب الرجل يكون في الحرب فتحضره الصلاة وهو راكب هل يصلى أم لا ) · حديث 1844

وحدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني بن أبى ذئب عن سعيد المقبري عن عبد الرحمن بن أبى سعيد الخدري عن أبيه قال حبسنا يوم الخندق حتى كان بعد المغرب بهوى من الليل حتى إذا كفينا وذلك قول الله تعالى وكفى الله المؤمنين القتال وكان الله قويا عزيزا قال فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بلالا فأقام الظهر فأحسن صلاتها كما كان يصليها في وقتها ثم أمره فأقام العصر فصلاها كذلك ثم امره فأقام المغرب فصلاها كذلك وذلك قبل أن ينزل الله عز و جل في صلاة الخوف فرجالا أو ركبانا فأخبر أبو سعيد أن تركهم للصلاة يومئذ ركبانا إنما كان قبل أن يباح لهم ذلك ثم أبيح لهم بهذه الآية فثبت بذلك أن الرجل إذا كان في الحرب ولا يمكنه النزول عن دابته أن له أن يصلي عليها إيماء وكذلك لو أن رجلا كان على الأرض فخاف إن سجد أن يفترسه سبع أو يضربه رجل بسيف فله أن يصلى قاعدا إن كان يخاف ذلك في القيام ويومىء إيماء وهذا كله قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عبدالرحمن بن ابی سعید الخدری نے اپنے والد سے نقل کیا کہ ہم نماز سے مشغول رہے یہاں تک کہ جب مغرب کے بعد رات کی ایک حصہ گزر ا اور ہم دشمن سے محفوظ کر دیے گئے جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا وکفی اللہ المومنین القتال (الا حزاب 25) تو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے بلال کو بلایا پس (اذان دی ) اور اقامت کہی اور ظہر کی نماز اسی طرح پڑھائی جیسے اس کے وقت میں آپ پڑھاتے تھے پھر اس کو حکم دیا اس نے عصر کے لیے اقامت کہی آپ نے عصر کو اسی طرح ادا فرمایا پھر اس کی اقامت کا حکم دیا اور مغرب کی نماز بھی اسی طرح ادا فرمائی اور یہ اس آیت کے نزول سے پہلے کی بات ہے جو صلاۃ خوف کے سلسلہ میں اتری ۔ فرجالا اور کبانا ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ اس دن سواری کی حالت میں نماز پڑھنا لڑائی کی حالت میں نماز چھوڑنے کے جائز ہونے سے پہلے تھا ۔ پھر اس آیت کے ذریعہ ان کے لیے جائز کر دیا گیا اس سے ثابت ہوا کہ جب کوئی شخص لڑائی کی حالت میں ہو اور وہ سواری سے بھی نہ ار سکتا ہو تو اس کے لیے اشارے سے پہلے نماز پڑھنا جائز ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص زمین پر ہو اور اسے ڈر ہو کہ وہ سجدہ میں پڑنے کی وجہ سے کوئی درندہ اسے شکار کر لے گا یا اس پر تلوار کا وار کر کے مارے دے گا ، اور قیام کی حالت میں یہ خوف دامن گیر ہو تو بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے۔ یہ تمام امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا مسلک ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1844

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1845

1745 - حدثنا عبد الرحمن بن الجارود هو أبو بشر البغدادي قال ثنا سعيد بن كثير بن عفير قال ثنا سليمان بن بلال عن شريك بن عبد الله بن أبى نمر أنه سمع أنس بن مالك يذكر أن رجلا دخل المسجد يوم الجمعة من باب كان وجاه المنبر ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم يخطب فاستقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم قائما ثم قال يا رسول الله هلكت الأموال وانقطعت السبل فادع الله يغثنا فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم يديه ثم قال اللهم اسقنا قال أنس فوالله ما نرى في السماء من سحاب ولا قزعة وما بيننا وبين سلع من بيت ولا دار قال فطلعت من ورائه سحابة مثل الترس فلما توسطت السماء انتشرت ثم أمطرت قال فوالله ما رأينا الشمس سبتا قال ثم دخل رجل من الباب في الجمعة والمقبلة ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم يخطب الناس فاستقبله قائما ثم قال يا رسول الله هلكت الأموال وانقطعت السبل فادع الله أن يمسكها عنا فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم يديه ثم قال اللهم حوالينا ولا علينا اللهم على الآكام والظراب قال فأقلعت وخرج يمشى في الشمس

شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوا جو منبر کے سامنے والی جانب ہے اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے وہ سیدھا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے سامنے جا کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم مال تباہ ہو گئے اور منقطع ہو گئے یعنی جانور بھوک کی وجہ سے سواری کے قابل نہ رہے پس آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے دعا فرمایں کہ وہ ہمیں بارش عنایت فرمائے پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اسی وقت ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی اے اللہ ہمین رحمت سے سیراب فرما حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! آسمان میں اس وقت کوئی بادل نہ تھا نہ چھوٹا نہ بڑا اور نہ ہی ہمارے اور جبل سلع کے درمیان کوئی گھر یا عمارت ھائل تھی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سلع کے پچھلی جانب ڈھال جیسا بادل رونما ہوا جب وہ آسمان کے درمیان مین پہنچا تو پھیل گیا پھر بارش شروع ہوئی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک ہفتہ ہم نے سورج نہیں دیکھا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر اسی دروازے سے ایک آدمی آئندہ جمعہ کے دن داخل ہوا جبکہ رسول اللہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور سیدھا آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا پھر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم مال تباہ ہو گئے اور راستے ( پانی کی کثرت) سے رک گئے پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ اس بارش کو روک دے پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور یہ دعا فرمائی اے اللہ ! ہمارے اطراف و جوانب اور ٹیلوں اور پہاڑوں پر برسنا نہ کہ ہم پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بس بارش رک گئی اور آپ صلی اللہ عیہ وسلم مسجد سے نکل کر دھوپ میں چلنے لگے۔

شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← عبد الرحمن بن الجارود هو أبو بشر البغدادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1845

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1846

1746 - حدثنا بحر بن نصر قال قرئ على شعيب بن الليث أخبرك أبوك عن سعيد بن أبى سعيد عن شريك فذكر بإسناده نحوه

سعید بن ابی سعید نے شریک سے اور انہوں نے اپنی اپنی سند سے نقل کی ہے ۔

شريك فذكر بإسناده نحوه ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← قرئ على شعيب بن الليث أخبرك أبوك ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1846

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1847

1747 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو ظفر عبد السلام بن مطهر قال ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال انى لقائم عند المنبر يوم الجمعة ورسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب فقال بعض أهل المسجد يا رسول الله حبس المطر وهلكت المواشى فادع الله يسقينا فرفع يديه وما في السماء من سحاب فألف الله بين السحاب فوبلتنا حتى ان الرجل ليهمه من نفسه أن يأتى أهله فمطرنا سبعا قال فرسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب في الجمعة الثانية إذ قال بعض أهل المسجد يا رسول الله تهدمت البيوت فادع الله أن يرفعها عنا قال فرفع يديه وقال اللهم حوالينا ولا علينا فتقور ما فوق رؤوسنا منها حتى كانا في إكليل يمطر ما حولنا ولا نمطر

ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ میں منبر کے پاس کھڑا تھا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے مسجد میں سے کسی نے نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم بارش بند ہے مویشی (چارا نہ ہونے کی وجہ سے )ہلاک ہو گئے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ بارش کر دے پس آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اس وقت آسمان پر ذرہ بھر بادل نہ تھا اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جمع کر دیا پھر خوب بارش ہوئی یہاں تک کہ ہر شخص کو فکر تھی کہ وہ اپنے گھر جائے ۔پورا ہفتہ بارش رہی جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اگلے جمعہ کو خطبہ دے رہے تھے جبکہ مسجد میں سے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم مکانات گر گئے آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارش کو ہٹا دے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا فرمائی اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا نہ کہ ہم پر چنانچہ بادل ہمارے سروں کے اوپر سے پھٹ گیا یہاں تک کہ گویا ہم چمکتے سورج کے مزین تاج میں ہیں کہ ہمارے اطراف میں تو بارش ہو رہی تھی مدینہ میں بارش نہ تھی ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو ظُفُرٍ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1847

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1848

1748 - حدثنا بن مرزوق وأبو بكرة قالا ثنا عبد الله بن بكر عن حميد قال سئل أنس بن مالك هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يرفع يديه قال قيل له يوم جمعة يا رسول الله قحط المطر وأجدبت الأرض وهلك المال قال فمد يديه حتى رأيت بياض إبطيه ثم ذكر نحو حديث بن أبي داود

حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تھے تو انہوں نے جواب دیا جمعہ کے دن آپ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم بارش بند ہے زمین میں خشکی پیدا ہو گئی، مال ہلاک ہو گئے (چارہ ختم ہو گیا) حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اپنے دست مبارک اتنے بلند کیے کہ مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آئی پھر اسی طرح روایت نقل کی جیسا کہ ابن ابی داؤد نمبر 1847 نے بیان کی ہے ۔

حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← بن مرزوق وأبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1848

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1849

1749 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا على بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر عن حميد عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم بنحوه

حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ عیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم بنحوه ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1849

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1850

1750 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبى الجعد عن شرحبيل بن السمط قال قلنا لكعب بن مرة أو مرة بن كعب حدثنا حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم لله أبوك واحذر قال دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم على مضر فأتيته فقلت يا رسول الله إن الله قد نصرك واستجاب لك وان قومك قد هلكوا فادع الله لهم فقال اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا مريعا طبقا غدقا عاجلا غير رائث نافعا غير ضار قال فما كان الا جمعة أو نحوها حتى مطروا قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن سنة الاستسقاء هو الابتهال الى الله تعالى والتضرع اليه كما في هذه الآثار وليس في ذلك صلاة وممن ذهب الى ذلك أبو حنيفة رحمه الله وخالفهم في ذلك آخرون منهم أبو يوسف رحمه الله فقالوا بل السنة في الاستسقاء أن يخرج الإمام بالناس الى المصلى ويصلى بهم هناك ركعتين ويجهر فيهما بالقراءة ثم يخطب ويحول رداءه فيجعل أعلاه أسفله وأسفله أعلاه الا أن يكون رداء ثقيلا لا يمكنه قلبه كذلك أو يكون طيلسانا فيجعل الشق الأيمن منه على الكتف الأيسر والشق الأيسر منه على الكتف الأيمن وقالوا ما ذكر في هذه الآثار من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم وسؤاله به فهو جائز أيضا يسأل الله ذلك فليس فيه دفع أن يكون من سنة الإمام إذا أراد أن يستسقى بالناس أن يفعل ما ذكرنا فنظرنا فيما ذكروا من ذلك هل نجد له من الآثار دليلا

شرحبیل بن السمط کہتے ہیں کہ ہم نے کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب کو کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سناء جو تم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے سنی ہو اللہ تیرا بھلا کرے اور احتیاط کرنا کعب کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ مضر کے متعلق بد دعا فرمائی چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اللہ نے آپ کی مدد فرمائی اور آپ کی دعا قبول فرمائی آپ کی قوم ہلاک ہوا چاہتی ہے آپ ان کے لیے دعا فرما دیں تو آپ نے اس طرح دعا فرمائی اے اللہ ! ہمیں ایسے بادل سے بارش عنایت فرما جو سیراب کرنے والا ہو اس کی بارش فائدہ مند ہو سبزہ اگانے والی شادابی لانے والی ہو زمین کو پر کرنے والی موٹے قطرات والی جلد برسنے والی نہ کر دیر سے آنے والی ہو وہ بارش نفع بخش ہو نقصان سے خالی ہو کعب کہتے ہیں ابھی ایک جمعہ یا اس کے برابر دن گزرنے نہ پائے کہ بارش ہو گئی ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کہتی ہے کہ استسقاء سنت ہے اور اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑانا اور زاری کرنا ہے جیسا کہ روایت بتلا رہی ہیں اس میں نماز مسنون نہین ہے اما م ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اسی بات کے قائل ہیں ۔ دیگر علماء اس بات میں ان کی مخالفت کرتے ہیں ۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ان میں ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ استسقاء میں مسنون عمل یہ ہے کہ امام لوگوں کو لے کر عید گاہ کی طرف جائے وہاں ان کو دو رکعت پڑھائے اور ان میں جہر سے قراء ت کرے پھر خطبہ دے کر اپنی چادر کو الٹائے ۔ اس کے اوپر والے حصہ کو نیچے اور نیچے والے حصہ کو اوپر کر لے مگر چادر کے بھاری ہونے کی صورت مین اس کا پلٹنا ممکن نہ ہو یا طیلسانی ہو تو اس چادر کی دائیں جانب کودائیں جانب کر لے ۔ وہ کہتے ہیں جو کچھ ہم نے اس سلسلے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کا فعل مبارک نقل کیا اور آپ کا بارگاہ رب العالمین میں سوال کرنا مذکور ہے۔ وہ بھی درست ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست سوال دراز کرے ، اگر امام کا لوگوں کو نماز استسقاء پڑھانا سنت قرار دیا تو اسمیں عمل دعا کی نفی نہیں انہوں نے اس سلسلہ میں جو روایات ذکر کی ہیں ہم نے ان میں غور کیا تاکہ یہ دیکھیں کہ کیا ان روایات میں ان کے موقف پر کوئی دلیل ہے ۔ چنانچہ روایات ملاحظہ ہوں ۔

دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم على مضر فأتيته فقلت ← من رسول الله صلى الله عليه و سلم لله أبوك واحذر ← حَدِيثًا ← قلنا لكعب بن مرة أو مرة بن كعب ← شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1850

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1851

1751 - فإذا يونس قد حدثنا قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الله بن أبى بكر عن عباد بن تميم عن عبد الله بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج الى المصلى فاستسقى فقلب رداءه واستقبل القبلة

عبادہ بن تمیم نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے اور بارش کی دعا کی یا نماز پڑھائی اور تحویل رداء فرمائی اور قبلہ کی طرف رخ کر کے دعا فرمائی ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن وهب أن مالكا ← فإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1851

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1852

1752 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا مسدد قال ثنا هشيم عن يحيي بن سعيد عن عبد الله بن أبى بكر عن عباد بن تميم عن عبد الله بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج الى المصلى فاستسقى فحول رداءه واستقبل القبلة

عباد بن تمیم نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم عیدگاہ کی طرف نکلے اور نماز استسقاء ادا فرمائی اور تجویل رداء کی اور قبلہ رو ہو کر دعا فرمائی ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← هُشَيْمٌ ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1852

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 38 باب الاستسقاء كيف هو وهل فيه صلاة أم لا ) · حديث 1853

1753 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو اليمان قال أنا شعيب عن الزهرى قال أخبرني عباد بن تميم أن عمه وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبره أن النبي صلى الله عليه و سلم خرج بالناس الى المصلى يستسقي لهم فقام فدعا الله قائما ثم توجه قبل القبلة فحول رداءه فسقوا

عبادہ نے بیان کیا کہ میرے چچا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے انہوں نے بتلایا کہ نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم لوگوں کو لے کر عید گاہ کی طرف گئے تاکہ بارش طلب کریں پس آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی پھر قبلہ رو ہو کر تحویل رداء کیا پس اللہ تعالیٰ نے بارش کر دی ۔

الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1853

chevron_left Previous
1…899091…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter