Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1818

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن خصيف عن أبى عبيدة عن عبد الله قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف في بعض أيامه فصف صفا خلفه وصفا موازى العدو وكلهم في صلاة فصلى بهم ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء وجاء هؤلاء الى مصاف هؤلاء فصلى بهم ركعة ثم قضوا ركعة ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء وجاء هؤلاء الى مصاف هؤلاء فقضوا ركعة

ابو عبیدہ نے عبداللہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ایک دن نماز خوف پڑھائی آپ کے پیچھے ایک صف بنائی گئی اور ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی کر دی گی تمام نماز میں شامل تھے آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے چلے گئے اور صف بستہ گروہ آیا پس ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر ایک ایک رکعت انہوں نے ادا کی پھر یہ گروہ ان کی جگہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آیا۔ انہوں نے ایک ایک رکعت پوری کی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← خُصَيْفٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1818

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1819

1720 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا بكر بن بكار القيسي قال ثنا عبد الملك بن الحسين قال ثنا خصيف عن أبى عبيدة عن عبد الله قال لما صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف في حرة بنى سليم ثم ذكر نحوه غير أنه لم يذكر وكلهم في صلاة وزاد وكانوا في غير القبلة قال أبو جعفر فقد أخبر في هذا الحديث أنهم قضوا ركعة ركعة وأخبر أنهم دخلوا في الصلاة جميعا فقد ثبت بما ذكرنا من الآثار أن صلاة الخوف ركعتان غير أن حديث بن مسعود رضي الله عنهما ذكر فيه دخولهم في الصلاة معا فأردنا أن ننظر هل عارض هذا الحديث غيره في هذا المعنى فنظرنا في ذلك

ابو عبیدہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے حرہ بنی سلیم میں سلاۃ الخوف پڑھائی پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ البتہ اس روایت میں و کلہم فی صلاۃ کا جملہ نقل نہیں کیا اور یہ اضافہ نقل کیا ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس حدیث میں صاف بتلایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک ایک رکعت مزید ادا کی اور یہ بھی بتلایا گیا کہ وہ تمام ایک نماز میں داخل ہوئے ۔ پس ان روایات مذکورہ سے ثابت ہو گیا کہ نماز خوف کی دو رکعت ہیں البتہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت مین ان تمام کے نماز میں ایک ہی وقت میں داخلے کاذکر ہے پس ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مندرجہ مفہوم میں یہ روایت دوسری روایات کے خلاف تو نہین تو تلاش کرنے پر روایات مل گیں " وکانوافی غیر القبلہ" حرۃ سیاہ پتھر یلی زمین ۔،

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← خُصَيْفٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1819

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1820

1721 - فإذا يونس قد حدثنا قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع أن عبد الله بن عمر كان إذا سئل عن صلاة الخوف قال يتقدم الإمام وطائفة من الناس فيصلى بهم ركعة ويكون طائفة منهم بينه وبين العدو ولم يصلوا فيتقدم الذين لم يصلوا ويتأخر الآخرون فيصلى بهم ركعة ثم ينصرف الإمام وقد صلى ركعتين فتقوم كل طائفة من الطائفتين فيصلون لأنفسهم ركعة ركعة بعد أن ينصرف الإمام فيكون كل واحدة من الطائفتين قد صلوا ركعتين ركعتين قال نافع لا أرى بن عمر ذكر ذلك الا عن النبي صلى الله عليه و سلم فقد أخبر في هذا الحديث أن دخول الثانية في الصلاة بعد أن يصلي الإمام بالطائفة الأولى ركعة والكتاب شاهد لهذا فإن الله تعالى قال ولتأت طائفة أخرى لم يصلوا فليصلوا معك فقد ثبت بما وصفنا أن دخول الثانية في الصلاة بعد فراغ الإمام من الركعة الأولى وهذا الخبر صحيح الإسناد وأصله مرفوع وان كان نافع قد شك فيه في وقت ما حدث به مالك وهكذا رواه عنه أصحابه الأكابر

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب ان سے صلاۃ خوف کے متعلق دریافت کیا جاتا تو فرماتے امام اور ایک گروہ نماز شروع کرے امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور ایک جماعت ان کے اور دشمنوں کے درمیان حائل رہے اور نماز میں شامل نہ ہو پھر وہ لوگ آگے آئیں جنہوں نے ابھی ایک ایک رکعت بھی ادا نہیں کی اور پہلی جماعت پیچھے ہٹ جائے ان کو امام ایک رکعت پڑھائے پھر امام لوٹ جائے کیونکہ وہ دو رکعت پوری کر چکا پھر ہر طائفہ اپنی اپنی ایک ایک رکعت ادا کر لیں اس کے بعد کہ امام نماز سے فارغ ہو چکا پس اس طرح ہر گروہ دو دو رکعت ادا کرنے والا بن جائے گا۔ نافع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ بات جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے ہی نقل کر کے بتلاتے تھے پس اس روایت میں یہ خبر دی کہ دوسرا گروہ نماز میں اس وقت شامل ہو جبکہ امام ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھالے اور قرآن مجید کی آیت بھی اسی کی شہادت دیتی ہے ۔ چنانچہ فرمایا : (ولتات طائفۃ اخری لم یصلوافلیصلوا معک) (القرآن) اور دوسرے گروہ کو آنا چاہیے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ، پس وہ آپ کے ساتھ نماز ادا کریں" اس بیان سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو گئی کہ دوسری جماعت اس وقت نماز میں شامل ہو گی جب امام رکعت اول سے فارغ ہو چکے گا۔ یہ روایت صحیح ہے اور اصل کے لحاظ سے مرفوع ہے اگرچہ نافع سے مالک سے بیان کرتے ہوئے اس کے رفع میں شک کیا مگر ان کے اکابر شاگردوں نے ان سے مرفوع نقل کی ہے ۔

بن وَهْبٍ ← فإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1820

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1821

1722 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا قبيصة قال ثنا سفيان عن موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف في بعض أيامه فقامت طائفة منهم معه وطائفة منهم فيما بينه وبين العدو فصلى بهم ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء وجاء هؤلاء الى مصاف هؤلاء فصلى به ركعة ثم سلم عليهم ثم قضت الطائفتان ركعة ركعة

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ایک غزوہ کے موقعہ پر صلاۃ خوف پڑھائی ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا اور ایک دشمن اور آپ کے درمیان حائل تھا آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت نماز پڑھائی پھر یہ لوگ دشن کی طرف گئے اور دوسرے آکر نماز کے لیے صف بستہ ہوئے آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا پھر دونوں جماعتوں نے ایک ایک رکعت (الگ الگ ) ادا کی ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1821

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1822

1723 - حدثنا فهد بن سليمان وأحمد بن مسعود الخياط قالا ثنا محمد بن كثير عن الأوزاعي عن أيوب بن موسى عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بمثل معناه وقد رواه أيضا سالم عن أبيه مرفوعا

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أبيه مرفوعا ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← فهد بن سليمان وأحمد بن مسعود الخياط

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1822

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1823

1724 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو ربيع الزهراني قال ثنا فليح بن سليمان عن الزهرى عن سالم عن أبيه أنه صلاها مع رسول الله صلى الله عليه و سلم كذلك

سالم نے اپنے والد سے مرفوعا نقل کیا کہ میں صلوۃ خوف کو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھی نے اسی طرح ادا کیا ہے ۔

أبيه أنه صلاها مع رسول الله صلى الله عليه و سلم كذلك ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو رَبِيعٍ الزَّهْرَانِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1823

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1824

1725 - حدثنا أبو محمد فهد بن سليمان قال ثنا أبو اليمان قال أنا شعيب عن الزهرى قال أخبرني سالم أن عمر قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوته قبل نجد فوازينا العدو ثم ذكر مثله وذهب آخرون في ذلك الى ما

سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی معیت میں اس غزوہ میں شرکت کی جو نجد کی جانب کیا پس دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے دیگر علماء ان روایات کی طرف گئے ہیں ۔

سالم أن عمر ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أبو محمد فهد بن سليمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1824

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1825

1726 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يزيد بن رومان عن صالح بن خوات عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم ذات الرقاع صلاة الخوف أن طائفة صفت معه وطائفة وجاه العدو فصلى بالذين معه ركعة ثم ثبت قائما وأتموا لأنفسهم ثم انصرفوا فصفوا وجاه العدو وجاءت الطائفة الأخرى فصلى بهم الركعة التي بقيت من صلاته ثم ثبت جالسا وأتموا لأنفسهم ثم سلم بهم

یزید رومان نے صالح بن حوات رضی اللہ عنہ سے نقل کیا یہ ان لوگوں سے ہیں جنہوں نے غزوہ ذات الرقاع میں صلاۃ خوف میں خود شمولیت کی ہے کہ ایک جماعت نے آپ کے ساتھ صف بندی کی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے رہی آپ نے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ کھڑے رہے اور انہوں نے اپنی رکعت ملا کر نماز پوری کر لی پھر یہ دشمن کی طرف چلے گئے اور صف بستہ ہو گئے دوسری جماعت آئی آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ کی نماز سے باقی تھی پھر آپ تشہد میں ٹھہرے رہے انہوں نے اپنی ایک رکعت مکمل کر لی پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔

يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1825

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1826

1727 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد بن أبى بكر عن صالح بن خوات الأنصاري أن سهل بن أبى حثمة أخبره أن صلاة الخوف فذكر نحوه ولم يذكره عن النبي صلى الله عليه و سلم وزاد في ذكر الآخرة قال فيركع بهم ويسجد ثم يسلم فيقومون فيركعون لأنفسهم الركعة الباقية ثم يسلمون

محمد بن ابی بکر نے حضرت صالح بن خوات انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ سسہل بن ابی حشمہ نے ان کو بتلایا کہ نماز خوف اس طرح ہے پھر روایت بالا کی طرح رویت نقل کی ہے اور اس روایت کو انہوں نے مرفوعا نقل نہیں کیا البتہ اس روایت میں ہ اضافہ ہے فبر کع بہم و سجد یسلم کہ امام رکوع اور سجدہ کرائے گا پھر امام سلام پھیر دے گا فیقومون فیر کعون لا نفسہم الرکعۃ الباقیہ ثم یسلمون پھر وہ خود کھڑے ہو کر رکوع سجدہ کر کے اپنی بقیہ رکعت مکمل کریں گے اور سلام پھیریں گے۔

فيركع بهم ويسجد ثم يسلم فيقومون فيركعون لأنفسهم الركعة الباقية ثم يسلمون ← الآخرة ← النبي صلى الله عليه و سلم وزاد في ← أن صلاة الخوف فذكر نحوه ولم يذكره ← صالح بن خوات الأنصاري أن سهل بن أبى حثمة ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1826

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1827

1728 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن يحيي بن سعيد فذكر مثله بإسناده قيل لهم إن هذا الحديث فيه أنهم صلوا وهم مأمومون قبل فراغ الإمام من الصلاة في حديث يزيد بن رومان عن صالح بن خوات وقد روينا من حديث شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن صالح بن خوات خلافا لذلك لأن في حديث يزيد بن رومان أنه ثبت بعد ما صلى الركعة الأولى قائما وأتموا لأنفسهم ثم انصرفوا ثم جاءت الأخرى بعد ذلك وفي حديث شعبة عن عبد الرحمن عن أبيه عن صالح بن خوات أنه صلى بطائفة منهم ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء ولم يذكر أنهم صلوا قبل أن ينصرفوا فقد خالف القاسم محمد بن يزيد بن رومان فإن كان هذا يؤخذ من طريق الإسناد فإن عبد الرحمن عن أبيه القاسم عن صالح بن خوات عن سهل بن أبى حنتمة عن النبي صلى الله عليه و سلم أحسن من يزيد بن رومان عن صالح عمن أخبره وان تكافئا تضادا وإذا تضادا لم يكن لأحد الخصمين في أحدهما حجة إذ كان لخصمه عليه مثل ماله على خصمه فإن قال قائل فإن يحيي بن سعيد قد روى عن القاسم بن محمد عن صالح بن خوات عن سهل ما يوافق ما روى يزيد بن رومان ويحي بن سعيد ليس بدون عبد الرحمن بن القاسم في الضبط والحفظ قيل له يحيي بن سعيد كما ذكرت ولكن لم يرفع الحديث الى النبي صلى الله عليه و سلم وانما أوقفه على سهل فقد يجوز أن يكون ما روى عبد الرحمن بن القاسم عن صالح هو الذي كذلك كان عند سهل عن النبي صلى الله عليه و سلم خاصة ثم قال هو من رأيه ما بقي فصار ذلك رأيا منه لا عن النبي صلى الله عليه و سلم ولذلك لم يرفعه يحيي الى النبي صلى الله عليه و سلم فلما احتمل ذلك ما ذكرنا ارتفع أن يقوم به حجة أيضا والنظر يدفع ذلك لأنا لم نجد في شيء من الصلاة أن المأموم يصلى شيئا منها قبل الإمام وانما يفعله المأموم مع فعل الإمام أو بعد فعل الإمام وإنما يلتمس علم ما اختلف فيه مما أجمع عليه فإن قالوا قد رأينا تحويل الوجه عن القبلة قد يجوز في هذه الصلاة ولا يجوز في غيرها فما ينكرون قضاء المأموم قبل فراغ الإمام كذلك جوز في هذه الصلاة ولم يجوز في غيرها قيل له إن تحويل الوجه عن القبلة قد رأيناه أبيح في غير هذه الصلاة للعذر فأبيح في هذه الصلاة كما أبيح في غيرها وذلك أنهم أجمعوا أن من كان منهزما فحضرت الصلاة فإنه يصلى وإن كان على غير قبلة فلما كان قد يصلي كل الصلاة على غير قبلة لعله العدو ولا يفسد ذلك عليه صلاته كان انصرافه على غير القبلة من بعض صلاته أحرى أن لا يضره ذلك فلما وجدنا أصلا في الصلاة الى غير القبلة مجمعا عليه أنه قد يجوز بالعذر عطفنا عليه ما اختلف فيه من استدبار القبلة في الانصراف للعذر ولما لم نجد لقضاء المأموم قبل أن يفرغ الإمام من الصلاة أصلا فيما اجمع عليه يدل عليه فنعطفه عليه أبطلنا العمل به ورجعنا الى الآثار الأخر التي قدمنا ذكرها التي معها التواتر وشواهد الإجماع وقد روى عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك كله

سفیان نے یحییٰ بن سعید سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ان کے جواب میں کہا جائے گا اس حدیث میں تو یہ ہے کہ انہوں نے مقتدی ہونے کی حیثیت سے امام کی فراغت سے پہلے نماز ادا کی اور یزید ین رومان کی روایت میں بھی ہے اور شعبہ والی روایت اس کے خلاف ہے کیونکہ رومان کی روایت بتلاتی ہےکہ آپ رکعت اول ادا کرنے کے بعد کھڑے رہے اور لوگوں نے اپنے طور پر دوسری رکعت مکمل کی پھر وہ دشمن کی طرف چلے گئے تو دوسری جماعت آئی شعبہ والی روایت اس طرح ہے کہ " آپ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ ان کی جگہ دشمن کے سامنے چلے گئے ۔ اس روایت میں یہ مذکور نہیں کہ انہوں نے لوٹنے سے پہلے نماز مکمل کی تو قاسم نے روایت میں یزید کے خلاف روایت نقل کی ہے ۔ اگر سند کے لحاظ سے لیا جائے تو عبدالرحمن نے اپنے والد کی وساطت سے ابو خصمہ رضی اللہ عنہ سے جو روایت مرفوع نقل کی وہ یزید ین رومان کی صالح والی روایت سے زیادہ عمدہ ہے اگر ان میں برابر مانی جائے تو تضاد ہوا تو کسی فریق کے لیے اس روایت میں استدلال کا موقع نہ رہا اس لیے کہ اس کے مقابل کے پاس اسی جیسی موجود ہے ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کر لے کہ یحییٰ بن سعید نے قاسم سے یزیدین رومان کے موافق روایت کی ہے اور یحییٰ بن سعید نے قاسم سے یزید ین رومان کے موافق روایت کی ہے اور یحییٰ کوئی عبدالرحمن سے ثقاہت میں کم نہیں تو جواب میں ہم نے عرض کریں گے کہ بلاشبہ یحییٰ کا مقام تو وہی ہے جو تم نے بیان کر دیا مگر انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے مرفوع روایت ذکر نہیں کی بلکہ انہوں نے سہل رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت نقل کی ہے ۔ یہ عین ممکن ہے کہ جو عبدالرحمن نے روایت کیا ہے وہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ کی مخصوص روایت کی طرح ہو اور باقی انہوں نے اپنی رائے سے کہا ہو پس یہ ان کا اجتہاد ہوا نہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کا ارشاد اسی وجہ سےیحییٰ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو مرفوع نقل نہیں کیا جب اس بات کا احتمال موجود ہے تو پھر اس روایت سے استدلال کرنا درست نہ رہا اور غور و فکر بھی اس کے خلاف ہے کیونکہ ہم کوئی ایسی نماز نہیں پاتے جس کو مقتدی امام سے پہلے ادا کرلیں۔ مقتدی کی ادئیگی تو اس کی معیت یا اس کے بعد ہوتی ہے ۔ اگر وہ یہ اعتراض کریں کہ ہم نے غور سے دیکھا کہ اس نماز میں تو قبلہ سے رخ موڑنا جائز ہے جبکہ دوسری کسی نماز میں درست نہیں تو جو لوگ امام سے پہلے نماز پوری کرنے سے معترض ہیں وہ بھی اسی طرح اس نماز میں جائز ہے دوسری نمازوں میں نہیں ۔ اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری نمازوں میں عذر کی بناء پر رخ پھیرنا جائز ہے ۔ پس دوسری نمازوں کی طرح یہاں بھی جائز ہو گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سب کا اس بات پر اجماع ہے ۔ کہ جو شخص دشمن سے بھاگنے والا ہو اور نماز کاوقت ہو جائے تو وہ اسی طرح نماز پڑھے خواہ وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرنے والا ہو۔ پس جب ہر نماز دشمن کی وجہ سے قبلہ کے علاوہ پڑھی جا سکتی ہے اور اس سے نماز میں فرق نہیں پڑتا تو نماز کے بعد قبلہ سے رخ موڑ لینا اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے نماز کو نقصان نہ پہنچے۔ جب یہ قاعدہ اجتماعی ہے کہ عذر کی وجہ سے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ سکتے ہیں تو واپس مڑنے کے لیے قبلے سے رخ موڑ لینے کا بھی ہم نے اسی پر قیاس کیا۔ جب ہمیں کوئی اصل اجتماع کو گواہی بھی موجود ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے برعکس روایت ملاحظہ کریں۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1827

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1828

1729 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا أبو عبد الرحمن المقرىء قال ثنا حيوة وابن لهيعة قالا أخبرنا أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن الأسدي أنه سمع عروة بن الزبير يحدث عن مروان بن الحكم أنه سأل أبا هريرة رضي الله عنه هل صليت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف قال نعم قال مروان متى قال أبو هريرة رضي الله عنه عام غزوة نجد قام رسول الله صلى الله عليه و سلم لصلاة العصر وقامت معه طائفة وطائفة أخرى مقابلوا العدو وظهورهم الى القبلة فكبر رسول الله صلى الله عليه و سلم وكبروا جميعا معه والذين مقابلوا العدو ثم ركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعة واحدة وركعت معه الطائفة التي تليه ثم سجد وسجدت معه الطائفة التي تليه والآخرون قيام مقابلوا العدو ثم قام رسول الله صلى الله عليه و سلم وقامت الطائفة التي معه فذهبوا الى العدو فقابلوهم وأقبلت الطائفة التي كانت مقابلوا العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم كما هو ثم قاموا فركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعة أخرى فركعوا معه ثم سجد وسجدوا معه ثم أقبلت الطائفة الأخرى التي كانت مقابلى العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه و سلم قاعد ومن معه فسلم رسول الله صلى الله عليه و سلم وسلموا معه جميعا فكانت لرسول الله صلى الله عليه و سلم ركعتان ولكل رجل من الطائفتين ركعتان ركعتان

عروہ بن زبیر مروان بن الحکم سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ خوف پڑھی ہے ؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں ۔ مروان نے سوال کیا کب ؟ تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہنے کہا غزوہ نجد کے موقعہ پر جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نماز عصر کے لیے کھڑے ہوئے اور ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے بالمقابل کھڑی تھی ان کی پشتیں قبلہ کی طرف تھیں پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ان تمام نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی ان سمیت جو دشمن کے مقابلے تھے ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے رکوع کیا اور ایک رکعت اپنے ساتھ والی جماعت کو مکمل کرائی اور سجدہ کیا پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ والا گروہ بھی کھڑا ہوا دشمن کی طرف جا کر اس کے مقابل صف بستہ ہو گئے اور دوسرا گروہ آیا جو کہ پہلے دشمن کے سامنے کھڑا تھا پس انہوں نے آکر رکوع کیا اور سجدہ کیا اس حال میں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم قیام کی حالت میں تھے پھر یہ رکعت مکمل کر کے کھڑے ہو گئے پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے دوسری رکعت ادا فرمائی اور انہوں نے بھی آپ کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی پھر انہوں نے آپ کے سجدہ کے ساتھ سجدہ کیا او رپہلا گروہ جو دشمن کے سامنے تھا وہ آیا اور انہوں نے رکوع سجدہ کیا اس حال میں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم حالت تشہد میں تھے اور دوسری جماعت بھی آپ کے ساتھ تھی پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئی اور ہرگز وہ کی بھی دو دورکعت ہوئیں ۔

أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن الأسدي ← حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ ← أبو عبد الرحمن المقرىء ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1828

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1829

1730 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال حدثني محمد بن جعفر بن الزبير عن عروة بن الزبير عن أبى هريرة رضي الله عنه قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف فصدع الناس صدعين فصلت طائفة خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم وطائفة تجاه العدو فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بمن خلفه ركعة وسجد بهم سجدتين ثم قام وقاموا معه فلما استووا قياما رجع الذين خلفه وراءهم القهقري فقاموا وراء الذين بإزاء العدو وجاء الآخرون فقاموا خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلوا لأنفسهم ركعة ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم ثم قاموا فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بهم أخرى فكانت لهم ولرسول الله صلى الله عليه و سلم ركعتان وجاء الذين بإزاء العدو فصلوا لأنفسهم ركعة وسجدتين ثم جلسوا خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم بهم جميعا ففي هذا الحديث تحول الإمام الى العدو وبالطائفة التي صلت معه الركعة وليس ذلك في شيء من الآثار غير هذا الحديث وفي كتاب الله عز و جل ما يدل على دفع ذلك لأن الله عز و جل قال فلتقم طائفة منهم معك وليأخذوا أسلحتهم فإذا سجدوا فليكونوا من ورائكم ولتأت طائفة أخرى لم يصلوا فليصلوا معك ففي هذه الآية معنيان موجبان لدفع هذا الحديث أحدهما قوله لم يصلوا فليصلوا معك فهذا يدل على أن دخولهم في الصلاة إنما هو في حين مجيئهم لا قبل ذلك وقوله فلتقم طائفة منهم معك ثم قال ولتأت طائفة أخرى لم يصلوا فليصلوا معك فذكر الإتيان للطائفتين الى الإمام وقد وافق ذلك من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم الآثار المتواترة التي بدأنا بذكرها فهى أولى من هذا الحديث وذهب آخرون في صلاة الخوف الى ما

عروہ بن زبیر نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جنا ب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی اور لشکر کی دو جماعتیں بنائیں پس ایک جماعت نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ ایک رکعت نماز ادا کی پھر یہ جماعت آپ کے ساتھ جب دوسری رکعت کے قیام کے لیے اٹھ گئے تو یہ پیچھے کی طرف الٹے قدموں ہٹ گئے اور ان لوگوں کی جگہ لے لی جو دشمن کے سامنے تھے اور دوسری جماعت ان کی جگہ آئی اور انہوں نے ایک رکعت اپنی ادا کی اس حال میں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم قیام کی حالت میں تھے پھر یہ جماعت دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے پس آپ نے ان کو دوسری رکعت پڑھائی پس ان کی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی دو رکعت ہوگئیں اور وہ لوگ بھی آئے جو دشمن کے بالمقابل تھے پس انہوں نے اپنی ایک رکعت و سجدوں سمیت مکمل کی پھر یہ تشہد میں بیٹھ گئے پس آپ نے سب کو ساتھ سلام پھیرا۔ اس روایت میں امام کا پہلی رکعت ادا کرنے والی جماعت کے ساتھ دشمن کی طرف پھر جانا مذکور ہے یہ صرف اسی روایت میں مذکور ہے اور کسی روایت میں وارد نہیں اور قرآن مجید کی آیت بھی غلط ہونے پر دلالت کرتی ہے چنانچہ فرمایا :(فلیقم طائفۃ منھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)القرآن ۔ " پس ایک جماعت آپ کے ساتھ نماز میں کھڑی ہو اور وہ اپنا اسلحہ بھی لیے رہیں ، پس جب وہ رکعت مکمل کر لیں تو وہ پیچھے چلے جائیں اور دوسری جماعت آجائے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی پس وہ آ پ کے ساتھ نماز پڑھیں اس آیت میں دو ایسی باتیں ہیں جو اس روایت کو رد کر رہی ہیں ۔ (1) لم یصلوا فلیصلوامعک۔ اس سے یہ دلالت مل رہی ہے کہ ان کا نماز میں داخلہ اسی وقت ہے جب وہ آئے ہیں اس سے پہلے نہیں ۔(2) فلتقم طائفۃ منھم معک ۔تو دونوں گروہوں کا امام کی طرف آنا ثابت ہو رہا ہے ۔ اور یہ چیز جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے وارد متواتر آثار کے موافق ہے جن میں آپ کا فعل مذکور ہے شروع باب میں بیان کر چکے وہ اس حدیث سے ہر اعتبار سے اولیٰ ہیں دوسرے علماء نے نماز خوف میں ایک اور راہ اپنائی ہے مستدل روایات ملاحظہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1829

chevron_left Previous
1…878889…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter