Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1758

1666 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا عثمان بن عمر قال ثنا إسرائيل عن المقدام بن شريح عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى صلاة العصر ثم يصلى بعدها ركعتين

مقدام بن شریح نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم عصر کی نمازکی ادا فرماتے پھر اس کے بعد دو رکعت نماز ادا فرماتے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1758

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1759

1667 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا بن جريج قال سمعت أبا سعيد الأعمى يحدث عن رجل يقال له السائب مولى القارئين عن زيد بن خالد الجهني أنه رآه ركع بعد العصر ركعتين وقال لا أدعهما بعد ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يصليهما قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا وقالوا لا بأس بأن يصلى الرجل بعد العصر ركعتين وهما من السنة عندهم واحتجوا في ذلك بهذا الحديث فخالفهم أكثر العلماء في ذلك وكرهوهما واحتجوا في ذلك بما

سائب مولیٰ القارئین نے حضرت زید بن خالد الجہنی سے نقل کیا کہ انہوں نے زید کو عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا اور زید کہنے لگے میں ان کو اس وقت سے نہیں چھوڑتا جب سے میں نے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے میں حرج نہیں بلکہ یہ ان کے ہاں سنت ہیں اور انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا۔ مگر علماء کی اکثریت نے انکی مخالفت کرتے ہوئے کہا یہ دو رکعت مکروہ ہیں اور انہوں نے یہ روایات ذیل سے استدلال کیا ہے ۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← رجل يقال له السائب مولى القارئين ← أبا سعيد الأعمى ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1759

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1760

1668 - حدثنا على بن معبد قال ثنا عبيد الله بن موسى العبسي قال أنا طلحة بن يحيى عن عبيد الله بن عبد الله عتبة أن معاوية أرسل الى أم سلمة يسألها عن الركعتين اللتين ركعهما رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد العصر فقالت نعم صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم عندي ركعتين بعد العصر فقلت أمرت بهما قال لا ولكني كنت أصليهما بعد الظهر فشغلت عنهما فصليتهما الآن

عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام سلمیٰ کی طرف پیغام بھیجا ان سے سوال کیا آپ صلی اللہ عیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کرتے تھے یا نہیں انہوں نے جواب دیا جی ہاں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعتیں ادا فرمائیں تو میں نے گزارش کی کیا آپ کو ان دو رکعتوں کا حکم ملا ہے آپ نے فرمایا نہیں لیکن میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا آج مشغولیت کی وجہ سے رہ گئیں پس میں نے اب پڑھ لیں ۔

طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1760

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1761

1669 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا محمد بن يحيى بن أبى عمر قال ثنا سفيان عن عبد الله بن أبى لبيد عن أبى سلمة بن عبد الرحمن أن معاوية بن أبى سفيان قال وهو على المنبر لكثير بن الصلت اذهب الى عائشة رضي الله عنها فاسألها عن ركعتي النبي صلى الله عليه و سلم بعد العصر قال أبو سلمة فقمت معه وقال بن عباس رضي الله عنه لعبد الله بن الحارث اذهب معه فجئناها فسألناها فقالت لا أدرى سلوا أم سلمة فسألناها فقالت دخل على النبي صلى الله عليه و سلم ذات يوم بعد العصر فصلى ركعتين فقلت يا رسول الله ما كنت تصلى هاتين الركعتين فقال قدم على وفد من بنى تميم أو جاءتنى صدقة فشغلونى عن ركعتين كنت أصليهما بعد الظهر وهما هاتان

ابو سلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کثیر بن صلت کو منبر پر فرمایا تم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جاؤ اور ان سے عصر کے بعد ان دو رکعتوں کے متعلق پوچھو جو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم پڑھا کر تے تھے ابو سلمہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان کے ساتھ چل دیا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن الحارث کو کہا کہ تم بھی اس کے ساتھ جاؤ پس ہم ان کی خدمت میں پہنچے اور ان سے ان کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تم ام سلمہ سے دریافت کرو۔ چنانچہ ہم نے ان سے دریافت کیا تو وہ کہنے لگیں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم میرے ہاں ایک دن تشریف لائے یہ عصر کے بعد کا وقت تھا آپ نے دو رکعت نماز ادا فرمائی میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم آپ یہ رکعتیں پہلے تو نہ پڑھتے تھے آپ نے فرمایا میرے پاس بنو تمیم کا وفد آگیا یا صدقہ آگیا پس انہوں نے ظہر کے بعد ا ن کے پڑھنے سے مجھے مشغول کر دیا اور یہ وہ دونوں رکعتیں ہیں ۔

لا أدرى سلوا أم سلمة فسألناها ← بن عباس لعبد الله بن الحارث اذهب معه فجئناها فسألناها ← أبو سلمة فقمت معه ← ركعتي النبي صلى الله عليه و سلم بعد العصر ← وهو على المنبر لكثير بن الصلت اذهب الى عائشة فاسألها ← أبى سلمة بن عبد الرحمن أن معاوية بن أبى سفيان ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1761

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1762

1670 - حدثنا الحجاج بن عمران بن الفضل البصري قال ثنا يوسف بن موسى القطان قال ثنا أبو أسامة قال ثنا الوليد بن كثير قال حدثني محمد بن عمرو بن عطاء عن عبد الرحمن بن أبى سفيان أن معاوية أرسل الى عائشة يسألها عن السجدتين بعد العصر فقالت ليس عندي صلاهما ولكن أم سلمة رضي الله عنها حدثتني أنه صلاهما عندها فأرسل الى أم سلمة رضي الله عنها فقالت صلاهما رسول الله صلى الله عليه و سلم عندي لم أره صلاهما قبل ولا بعد فقلت يا رسول الله ما سجدتان رأيتك صليتهما بعد العصر ما صليتهما قبل ولا بعد فقال هما سجدتان كنت أصليهما بعد الظهر فقدم على قلائص من الصدقة فنسيتهما حتى صليت العصر ثم ذكرتهما فكرهت أن أصليهما في المسجد والناس يرونى فصليتهما عندك

عبدالرحمن بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا ان سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے ہاں آپ نے وہ دو رکعت نہیں پڑھیں لیکن ام سلمہ نے مجھے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان کو ان کے ہاں پڑھا پس انہوں نے ام سلمہ کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے میرے ہاں دو رکعت پڑھیں میں نے وہ دو رکعتیں اس سے پہلے اور بعد پڑھتے نہیں پایا اس پر میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی خدمت میں سوال کیا یہ کیا رکعتیں ہیں جن کو آپ نے پڑھا ہے اس سے پہلے اور بعدمیں آپ کو پڑھتے نہ دیکھا تو آپ نے فرمایا یہ دو رکعت میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا میرے پاس صدقہ کی اونٹنیاں آئیں۔ (قلائص جمع قلوص۔ جواں سال اونٹنی)(ان کی تقسیم میں مشغول ہو کر ) میں پڑھنا بھول گیا یعنی پڑھنے سے رہ گئیں پھر ابھی مجھے یاد آئیں تو میں نے ان کو مسجد میں پڑھنا ناپسند کیا کہ لوگ مجھے دیکھیں اور وہ پڑھنا شروع کر دیں۔ پس میں نے تمہارے گھر میں ادا کیں ۔

السجدتين بعد العصر ← عبد الرحمن بن أبى سفيان أن معاوية أرسل الى عائشة يسألها ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ← الحجاج بن عمران بن الفضل البصري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1762

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1763

1671 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش قال ثنا أبو الوليد قال ثنا حماد بن سلمة عن الأزرق بن قيس عن ذكوان عن عائشة عن أم سلمة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى في بيتها ركعتين بعد العصر فقلت يا رسول الله ما هاتان الركعتان فقال كنت أصليهما بعد الظهر فجاءني مال فشغلنى فصليتهما الآن

ذکوان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے میرے گھر میں دو رکعت کیا ہیں؟ تو آپ نے فرمایا میں ان کو ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا پس میرے پاس مال آیا ( اس کی تقسیم سے) مجھے مشغول کر دیا جس کی وجہ سے میں ادا نہ سکا پس میں نے ان کو اب پڑھا لیا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَائِشَةَ ← ذَكْوَانَ، ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← عبد الله بن محمد بن خشيش

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1763

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1764

1672 - حدثنا على بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني بكر بن مضر عن عمرو بن الحارث عن بكير أن كريبا مولى بن عباس رضي الله عنه حدثه أن بن عباس وعبد الرحمن بن أزهر والمسور بن مخرمة أرسلوه الى عائشة رضي الله عنها فقالوا أقرئها السلام منا جميعا وسلها عن الركعتين بعد العصر وقل انا أخبرنا أنك تصلينهما وقد بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عنهما قال بن عباس رضي الله عنه وكنت أضرب الناس مع عمر عليهما قال كريب فدخلت عليها فبلغتها ما أرسلونى به فقالت سل أم سلمة رضي الله عنه فخرجت إليهم فأخبرتهم بقولها فردونى الى أم سلمة رضي الله عنه بمثل ما أرسلونى به الى عائشة فقالت أم سلمة رضي الله عنه سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عنهما ثم رأيته صلاهما أما حين صلاهما فإنه صلى العصر ثم دخل على وعندي نسوة من بنى حرام من الأنصار فصلاهما فأرسلت اليه الجارية فقلت قومي الى جنبه فقولى تقول لك أم سلمة رضي الله عنها يا رسول الله لم أسمعك تنهى عن هاتين الركعتين وأراك تصليهما فإن أشار بيده فاستأخرى عنه ففعلت الجارية فأشار بيده فاستأخرت عنه فلما انصرف قال يا بنت أبي أمية سألت عن الركعتين بعد العصر وأنه أتاني أناس من عبد القيس بالإسلام من قوم فشغلونى عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان ففي هذه الآثار أوفى بعضها أن عائشة رضي الله عنها لما سئلت عما حكى عنهما مما ذكرنا في الفصل الأول أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن يأتيها في بيتها بعد العصر الا صلى ركعتين أضافت ذلك الى أم سلمة رضي الله عنها فانتقت بذلك الآثار الأول كلها المروية عن عائشة رضي الله عنها فلما سئلت عن ذلك أم سلمة رضي الله عنها أخبرت انها قد كانت سمعت النبي صلى الله عليه و سلم ينهى عنهما ووافقها على ذلك بن عباس رضي الله عنه والمسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن الأزهر الا انهم ذكروا ذلك بلاغا ولم يذكروه سماعا ووافقهم على ذلك جماعة حكوه عن النبي صلى الله عليه و سلم فمما روى في ذلك ما

کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابن عباس ، عبدالرحمن بن ازہر ، مسعود بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا کہ ان کو ہمارا سلام عرض کرو اور ان سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے متعلق دریافت کرو اور ان سے کہو کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم یہ رکعتیں پڑھتی ہو اور ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے ابن عباس کہنے لگے میں تو لوگوں کواس پر عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر مارا کرتا تھا کریب کہتے ہیں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پہنچا اور میں نے وہ بات ان تک پہنچائی جس کی خاطر انہوں نے مجھے بھیجا تھا تو وہ کہنے لگیں تم ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے دریافت گرو چنانچہ میں نکل کر ان کی خدمت میں پہنچا اور ان کو اس بات کی اطلاع دی تو انہوں نے مجھے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرو چنانچہ میں نکل کر ان کی خدمت میں پہنچا اور ان کو اس بات کی اطلاع دی تو انہوں نے مجھے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف وہ پیغام دے کر بھیجا جو پیغام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجتے وقت دیا تھا (میں انکی خدمت میں پہنچا اور ان کا پیغام دیا ) تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں میں نے جناب رسول اللہصلی اللہ عیہ وسلم سے سنا کہ آپ ان دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے پھر میں نے دیکھا کہ آپ نےخود ان کو پڑھا ہے سنو ! جب ان کوپڑھا تو آپ نے عصر کی جماعت کرائی پھر ذراوپر بعد میرے گھر تشریف لائے اور میرے ہاں قبیلہ انصار بنی حرام کی عورتیں بیٹھی تھیں تو آپ نے یہ دو رکعت ادا فرمائی ہیں میں نے آپ کی طرف لونڈی کو بھیجا اور اسے کہا آپ کے پہلو میں جا کر رک جاؤ اور عرض کرو آپ کی خدمت میں ام سلمہ رضی اللہ عنہ گزارش کرتی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم میں تو سنتی تھی کہ آپ ان دو رکعتوں سے منع فرماتے ہیں اور اب میں آپ کو دیکھتی رہی ہوں کہ آپ ان کو خود ادا فرما رہے ہیں یہ کیوں ہے؟ پس اگر آپ دست اقدس سے اشارہ فرما دیں تو پیچھے ہٹ جانا پس لونڈی نے اسی طرح کیا آپ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا چنانچہ لونڈی پیچھے ہٹ گئی جب آپ نماز مکمل کر چکے تو فرمایا اے ابو امیہ کی بیٹی ( یعنی ام سلمہ) تم نے عصر کے بعد والی دو کے متعلق پوچھا ہے معاملہ یہ ہے کہ میرےپاس قبیلہ عبدالقیس کے لوگ اسلام لانے کے لیے آئے تھے ان کی وجہ سے میں ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے میں مشغول ہو کر ادا نہ کرسکا یہ وہی دونوں رکعات ہیں ۔

أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا ← الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ ← أقرئها السلام منا جميعا وسلها ← الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ، ← عبد الرحمن بن أزهر ← أن بن عباس ← بكير ان كريبا مولى بن عباس ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1764

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1765

1673 - حدثنا محمد بن عزيز الأيلي قال ثنا سلامة بن روح عن عقيل قال حدثني بن شهاب قال أخبرني حرام بن دراج أن علي بن أبي طالب رضي الله عنه سبح بعد العصر ركعتين بطريق مكة فدعاه عمر فتغيظ عليه وقال والله لقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ينهانا عنهما

حرام بن وراج نے بتلایا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عصر کے بعد راہ مکہ میں دو رکعت نماز ادا کی تو ان کوعمر رضی اللہ عنہ نے بلا کر ان پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہنے لگے اللہ کی قسم تم جانتے ہو کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ہمیں ان سے منع فرمایا کرتے تھے۔ ان آثار میں یا ان میں سے بعض میں مذکور ہے کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ان روایات کے متعلق پوچھا گیا جو ان سے بیان کی جاتی ہیں جو پہلی فصل ہم نقل کر آئے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اس کے گھر میں عصر کے بعد جب تشریف لاتے تو اس میں دورکعت نماز ادا فرماتے۔ انہوں نے اس بات کی نسبت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف کی اس سے وہ تمام منسوبہ آثار کی نفی ہو گئی جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی تھے ۔ اس لیے کہ جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس سلسلے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بتلایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے ان کی ممانعت سن رکھی تھی اور ان کی اس بات میں ابن عباس اور مسور بن مخرمہ ، عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہم نے موافقت کی ۔ البتہ انہوں نے بطور بلاغ یہ روایات کی ہیں بطور سماع نہیں اور ایک جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی موافقت کی جنہوں نے اس بات کو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے نقل کر دیا ۔

حرام بن دراج ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1765

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1766

1674 - حدثنا عبد العزيز بن معاوية بن عبد العزيز العتابي قال ثنا يحيى بن حماد قال ثنا أبو عوانة عن قتادة عن أبى العالية عن بن عباس رضي الله عنهما قال شهد عندي رجال مرضيون وأرضاهم عندي عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس وبعد العصر حتى تغرب الشمس

ابو قتادہ نے ابوالعالیہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے ہاں میرے پسندیدہ لوگ آئے اور ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہستی حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے اور وہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے فجر کے بعد نماز سے منع فرمایا جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے اور عصر کے بعد (نفل نماز) سے منع فرمایا جب تک کہ سورج غروب نہ ہو جائے ۔

شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← عبد العزيز بن معاوية بن عبد العزيز العتابي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1766

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1767

1675 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال حدثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن منصور عن قتادة عن أبى العالية عن بن عباس رضي الله عنهما قال ثنا غير واحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله

ابولعالیہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ بہت سے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ہمیں بیان کیا پھر اس کی مثل روایت بیان کی ۔

مِثْلَہُ ← غير واحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← قَتَادَةَ ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1767

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1768

1676 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا أبان عن قتادة فذكر بإسناده مثله

مسلم بن ابراہیم نے کہا کہ ہمیں ابان نے قتادہ سے روایت نقل کی پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے ۔

قتادة فذكر بإسناده مثله ← أَبَانُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1768

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 34 باب الركعتين بعد العصر ) · حديث 1769

1677 - حدثنا إسماعيل بن إسحاق الكوفى قال ثنا أبو نعيم ح

اسماعیل بن اسحاق کوفی نے ابراہیم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أَبُو نُعَيْمٍ، ← إسماعيل بن إسحاق الكوفي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1769

chevron_left Previous
1…828384…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter