Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1710

1621 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال ثنا حصين عن مصعب بن سعد عن أبيه أنه كان يوتر بواحدة

خالی ہے ۔

أبيه أنه كان يوتر بواحدة ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1710

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1711

1622 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة قال أمنا سعد بن أبى وقاص في صلاة العشاء الآخرة فلما انصرف تنحى في ناحية المسجد فصلى ركعة فاتبعته فأخذت بيده فقلت له يا أبا إسحاق ما هذه الركعة فقال وتر أنام عليه قال عمرو فذكرت ذلك لمصعب بن سعد فقال كان يوتر بركعة واحدة يعنى سعدا قيل له فد يجوز أن يكون سعد فعل في ذلك ما احتمله ما فعله عثمان فيما ذكرنا قبله فإن قال قائل ففي حديث عمرو بن مرة ما يدل على خلاف ذلك لأنه قال صلى بنا فلما انصرف تنحى فصلى ركعة قيل له قد يجوز أن يكون ذلك الانصراف هو الانصراف الى منزله وقد صلى قبل ذلك بعد انصرافه من صلاته وقد

ابن خزیمہ نے اپنی سند سے عبداللہ بن سلمہ سے بیان کیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز میں ہماری امامت کرائی ۔ پس جب اس سے فارغ ہوئے تو وہ مسجد کے ایک کونے میں الگ چلے گئے اور ایک رکعت ادا کی ۔ پس میں ان کے پیچھے چلدیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا اے ابو اسحاق یہ رکعت کیسی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : یہ وتر ہیں جن کو پڑھ کر میں سوتا ہوں ۔ عمرو کہنے لگے میں نے یہ مصعب بن سعد کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا سعد ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا ممکن ہے کہ وہ سعد رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا ہو جو احتمال ہم نے اوپر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا ہے اگر کوئی معترض یہ کہے کہ عمرو بن مرہ کی روایت اس کے برعکس ہے کیونکہ اس میں کہا گیا ہے ۔ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک طرف ہٹ کر انہوں نے ایک رکعت ادا کی ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ممکن ہے کہ اس لوٹنے سے گھر کی طر لوٹنا مراد ہو اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے نماز پڑھی ہو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1711

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1712

1623 - حدثنا أبو أمية قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال ثنا داود بن أبى هند عن عامر قال كان آل سعد وآل عبد الله بن عمر يسلمون في الركعتين من الوتر ويوترون بركعة ركعة فقد بين الشعبي في الحديث مذهب آل سعد في الوتر وهم المقتدون بسعد المتبعون لفعله وإن وترهم الذي كان ركعة ركعة إنما هو وتر بعد صلاة قد فصلوا بينه وبينها بتسليم فقد عاد ذلك الى قول الذين ذهبوا الى أن الوتر ثلاث وقد

ابو امیہ نے اپنے اسناد سے نقل کیا کہ آل سعد اور آل عبداللہ بن عمرو تر کی دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت اور ملا کر وتر بناتے تو اس روایت میں شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے واضح کر دیا کہ وتروں میں آل سعد رضی اللہ عنہ کا طریقہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے قول و فعل کی اتباع تھی ۔ ان کے وتر وہ ایک ایک رکعت تھی اور وہ رکعت ایسی ہوتی کہ اس سے پہلے ایک شفعہ پڑھ کر سلام پھیرتے پس اس معنی کو اختیار کرنے سے اس کا وہی مفہوم ہوا جو کہتے ہیں کہ وتر تین رکعت ہیں ۔

عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1712

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1713

1624 - حدثنا بكار قال ثنا أبو داود قال ثنا حماد عن حماد عن إبراهيم أن بن مسعود عاب ذلك على سعد ومحال عندنا أن يكون عبد الله عاب ذلك على سعد مع نبل سعد وعلمه إلا لمعنى قد ثبت عنده وهو أولى من فعله ولو كان بن مسعود إنما خالفه برأيه لما كان رأيه أولى من رأى سعد ولما عاب ذلك على سعد إذا كان ما أخذ ذلك منه هو الرأي ولكن الذي علمه بن مسعود رضي الله عنه مما خالف فعل سعد في ذلك هو غير الرأي وان احتج في ذلك بما

ابراہیم نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد پر اس سلسلہ میں تنقید کی ۔ اور ہمارے ہاں یہ بات ناممکن ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت سعدرضی اللہ عنہ پر باوجود ان کے عمل و فضل کے تنقید بلاوجہ کریں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بات ان کے ہاں ثابت شدہ تھی ۔ اور وہ بات حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے فعل سے اولیٰ تھی ۔ اگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے اجتہاد سے ان پر تنقید کرتے تو ان کی بات سعد رضی اللہ عنہ کے فعل سے اولیٰ نہ ہوتی ۔ جب انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ پر تنقید کی اس لیے کہ جس کو وہ اختیار کرنے والے تھےوہ اجتہاد تھا لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ جس بات کو سعد کے فعل کے خلاف جانتے تھے وہ صرف رائے نہ تھی بلکہ ثابت شدہ عمل تھا ۔ اگر کوئی اس روایت کو بطور دلیل پیش کرے ۔

حَمَّادٌ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بَكَّارٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1713

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1714

1625 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن كثير عن الأوزاعي عن يزيد بن أبى مريم عن أبى عبيد الله قال رأيت أبا الدرداء وفضالة بن عبيد ومعاذ بن جبل رضي الله عنه يدخلون المسجد والناس في صلاة الغداة فيتنحون الى بعض السوارى فيوتر كل واحد منهم بركعة ثم يدخلون مع الناس في الصلاة قيل له قد يجوز أن يكون ذلك كان منهم بعد ما كانوا صلوا في بيوتهم أشفاعا كثيرة فكان ذلك الذي صلوا في بيوتهم هو الشفع وما صلوا في المسجد هو الوتر فيعود ذلك أيضا الى الوتر ثلاث وقد

فہد نے اپنے اسناد سے ابو عبید اللہ سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت ابوالدرداء ، فضالہ بن عبید اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہو رہے ہیں اس وقت تمام لوگ صبح کی نماز میں مشغول تھے وہ بعض ستونوں کی طرف گئے اور ہر ایک نے ایک وتر ادا کیا ، پھرلوگوں کے ساتھ نماز صبح میں شامل ہو گئے ۔ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ عین ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے گھروں میں کئی شفعات پڑھے ہوں۔ تو وہ نماز جو انہوں نے گھروں میں ادا کی وہ شفع ہوا اور جو انہوں نے مسجد میں ادا کی وہ وتر ہو ۔ پس یہ بھی تین وتر کی طرف لوٹ جائے گی ۔

أَبِي عُبَيْدِ اللهِ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1714

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1715

1626 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبى الزناد عن أبيه قال أثبت عمر بن عبد العزيز والوتر بالمدينة بقول الفقهاء ثلاثا لا يسلم الا في آخرهن

ربیع نے اپنی اسناد کے ساتھ ابو الزناد سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے مدینہ منورہ میں فقہاء کے کہنے کے مطابق تین وتر جاری کر دیے جن کے آخر میں سلام پھیرتے ۔

أَبِيهِ ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1715

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1716

1627 - حدثنا أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي قال ثنا خالد بن نزار الأيلي قال ثنا عبد الرحمن بن أبى الزناد عن أبيه عن السبعة سعيد بن المسيب وعروة بن الزبير والقاسم بن محمد وأبى بكر بن عبد الرحمن وخارجة بن زيد وعبيد الله بن عبد الله وسليمان بن يسار في مشيخة سواهم أهل فقه وصلاح وفضل وربما اختلفوا في الشيء فأخذ بقول أكثرهم وأفضلهم رأيا فكان مما وعيت عنهم على هذه الصفة أن الوتر ثلاث لا يسلم الا في آخرهن فهذا من ذكرنا من فقهاء المدينة وعلمائهم قد أجمعوا أن الوتر ثلاث لا يسلم الا في آخرهن وتابعهم على ذلك عمر بن عبد العزيز ولم ينكر ذلك منكر سواهم وقد علم سعيد بن المسيب ما كان من وتر سعد فأفتى بغيره ورآه أولى منه وقد أفتى عروة بن الزبير بذلك أيضا وقد روى عنه الزهرى وابنه هشام في الوتر ما قد تقدمت روايتنا له في هذا الباب فهذا عندنا مما لا ينبغي خلافه لما قد شهد له من حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم فعل أصحابه وأقوال أكثرهم من بعده ثم اتفق عليه تابعوهم

ابو العوام محمد بن عبداللہ نے اپنے اسناد کے ساتھ ابوالزناد سے نقل کیا کہ مدینہ منورہ کے فقہاء سبعہ ابن المسیب ، عروہ ، قاسم ، ابو بکر بن عبدالرحمان ، خارجہ بن زید ، عبداللہ بن عبد اللہ ، سلیمان بن یسار یہ اپنے علاوہ مشائح اور فضیلت و صلاحیت والے فقہاء کے سامنے مسائل بیان کرتے ۔ بسا اوقات کسی مسئلہ میں اختلاف کرتے تو پھر ان میں اکثریت کے قول کو اور افضل ترین کے قول کو لیتے ۔ پس میں نے ان سے اس سلسلہ میں جو یاد کیا وہ یہی تھا کہ وتر تین ہیں اور ان کے آخر سلام پھیرا جائے گا ۔ پس یہ فقہاء و علماء مدینہ منورہ جن کا ہم نے تذکرہ کیا ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وتر تین ہیں ۔ آخر میں سلام پھیرتے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی متابعت کی اور کسی انکار کرنے والے نے اس کا انکار نہیں کیا ۔ ابن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے وتروں کا علم تھا اس کے باوجود انہوں نے اس کے خلاف فتویٰ دیا۔ اور ان کے عمل سے اس کو اولیٰ گردانا اور عروہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کا فتویٰ دیا۔ اور ان سے زہری اور ان کے بیٹے ہشام نے بھی روایت کی جو اسی بابت میں گزر چکی ۔ یہ ہمارے ہاں ایسا عمل ہے کہ اس کی خلاف ورزی مناسب نہیں اس لیے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی حدیث اس کی شاہد ہے اور پھر اس عمل کو آپ کے بعد آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اختیار کیا اور ان میں سے اکثریت کے اقوال بھی اس کی تائیدمیں ہیں پھرتا بعین کرام کا اس پر اتفاق ہو گیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ الْأَيْلِيُّ، ← أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1716

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب القراءة في ركعتي الفجر ) قال أبو جعفر قال قوم لا يقرأ في ركعتي الفجر وقال آخرون يقرأ فيهما بفاتحة الكتاب خاصة واحتج الفريقان في ذلك بما قد · حديث 1717

1628 - حدثني يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع عن بن عمر أن حفصة أم المؤمنين رضي الله عنها أخبرته أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا سكت المؤذن من الأذان لصلاة الصبح أو النداء بالصبح صلى ركعتين خفيفتين قبل أن تقام الصلاة

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بتایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم جب موذن صبح کی اذان دے کر فارغ ہو جاتا تو نماز کے قائم کرنے سے پہلے ہلکی پھلکی دو رکعت ادا فرماتے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ فجر کی رکعات میں قراءت بالکل نہیں ۔ دوسرے علماء کہتے ہیں اس کی دو نوں رکعات میں سورۃ فاتحہ صرف پڑھیں گے۔ دونوں گروہوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے ۔

بن عمر أن حفصة أم المؤمنين أخبرته ← نَافِعٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1717

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب القراءة في ركعتي الفجر ) قال أبو جعفر قال قوم لا يقرأ في ركعتي الفجر وقال آخرون يقرأ فيهما بفاتحة الكتاب خاصة واحتج الفريقان في ذلك بما قد · حديث 1718

1629 - حدثنا محمد بن إدريس المكى قال ثنا الحميدي قال ثنا عبد العزيز بن أبى حازم عن موسى بن عقبة عن نافع فذكر بإسناده نحوه فذهبوا الى أن السنة فيهما هي التخفيف وممن قال انه يقرأ فيهما بفاتحة الكتاب خاصة مالك بن أنس رضي الله عنهما

موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

انه يقرأ فيهما بفاتحة الكتاب خاصة مالك بن أنس ← نافع فذكر بإسناده نحوه فذهبوا الى أن السنة فيهما هي التخفيف وممن ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن إدريس المكي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1718

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب القراءة في ركعتي الفجر ) قال أبو جعفر قال قوم لا يقرأ في ركعتي الفجر وقال آخرون يقرأ فيهما بفاتحة الكتاب خاصة واحتج الفريقان في ذلك بما قد · حديث 1719

1630 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال قال مالك بذلك آخذ في خاصة نفسي أن أقرأ فيهما بأم القرآن

ابن وہب نے بیان کیا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا میں ذاتی طور پر اس روایت سے استدلال کرتا ہوں کہ دونوں رکعتوں میں فاتحہ الکتاب پڑھتا ہوں ۔

مالك بذلك آخذ في خاصة نفسي أن أقرأ فيهما بأم القرآن ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1719

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب القراءة في ركعتي الفجر ) قال أبو جعفر قال قوم لا يقرأ في ركعتي الفجر وقال آخرون يقرأ فيهما بفاتحة الكتاب خاصة واحتج الفريقان في ذلك بما قد · حديث 1720

1631 - حدثنا أبو أمية قال ثنا عبد الله بن حمران قال ثنا عبد الحميد بن جعفر عن يحيى بن سعيد عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى ركعتي الفجر ركعتين خفيفتين حتى أقول هل قرأ فيهما بأم الكتاب

عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم فجر کی دو رکعتیں بہت خفیف پڑھتے یہاں تک کہ میں تعجب سے کہتی کیا ان دونوں میں آپ نے فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1720

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب القراءة في ركعتي الفجر ) قال أبو جعفر قال قوم لا يقرأ في ركعتي الفجر وقال آخرون يقرأ فيهما بفاتحة الكتاب خاصة واحتج الفريقان في ذلك بما قد · حديث 1721

1632 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا على بن مسهر عن يحيي بن سعيد فذكر بإسناده نحوه

یوسف بن عدی کہتے ہیں ہمیں علی بن مسہر نے یحییٰ بن سعید سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

يحيي بن سعيد فذكر بإسناده نحوه ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1721

chevron_left Previous
1…787980…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter