Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1698

1610 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه ح

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس سلسلے میں روایات آئی ہیں ۔

بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1698

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1699

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا مالك عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد قال أمر عمر بن الخطاب أبى بن كعب وتميم الداري أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة قال فكان القارىء يقرأ بالمئين حتى يعتمد على العصا من طول القيام وما كنا ننصرف الا في وقوع الفجر فهذا يدل على أنهم كانوا يوترون بثلاث لأنه لا يجوز أن يكونوا كانوا يصلون شفعا واحدا ثم ينصرفون عليه حتى يصلوه بشفع آخر

یونس نے اپنے استاد کے ساتھ ساتب یزید نے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہ کو گیارہ رکعت قیام اللیل کا حکم فرمایا۔ قاری سو سو آیات والی سورتیں تلاوت کرتے ، لوگ لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑ ے ہوتے کیونکہ قیام طویل ہوتا اور فجر قریب ہم گھروں کو لوٹتے۔ یہ روایت دلالت کر رہی ہے کہ وہ تین وتر پڑھتے تھے کیونکہ یہ تو درست نہیں کہ وہ ایک شفعہ پڑھتے پھر لوٹ کراسے دوسرے شفعہ کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوں ۔

تميم الداري أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة ← أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مَالِكٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1699

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1700

1611 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا يحيى بن سليمان الجعفي قال أنا بن وهب قال أخبرني عمرو عن بن أبى هلال عن بن السباق عن المسور بن مخرمة قال دفنا أبا بكر ليلا فقال عمر انى لم أوتر فقام وصففنا وراءه فصلى بنا ثلاث ركعات لم يسلم الا في آخرهن

ابن ابی داؤد نے مسور بن مخرمہ سےنقل کیا کہ ہم نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رات کے وقت دفن کیا تو عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں وتر نہیں پڑھ سکا ، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے ہم نے ان کے پیچھے صف بنائی پس انہوں نے ہمیں تین رکعت پڑھائیں اور ان کے اختتام پر سلام پھیرا۔

دفنا أبا بكر ليلا ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← بن السباق ← بن أبي هلال ← عَمْرٍو، ← بن وَهْبٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1700

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1701

1612 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو خالدة قال سألت أبا العالية عن الوتر فقال علمنا أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم أو علمونا أن الوتر مثل صلاة المغرب غير أنا نقرأ في الثالثة فهذا وتر الليل وهذا وتر النهار

ابو بکرہ نے ابو خالد سے نقل کیا کہ میں نے ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ سے وتر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے اصحاب محمد صلی اللہ عیہ وسلم سے سیکھا اور تم ہم سے سکھ لو کہ وتر نماز مغرب کی طرح ہیں سوائے اس بات کے کہ مغرب کی تیسری میں ہم قرات نہیں کرتے پس یہ دن کے وتر ہیں اور وہ رات کے وتر ہیں (ان کی تیسری رکعت میں قرات کرتے ہیں)

الْوَتْرِ ← سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ← أبو خالدة ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1701

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1702

1613 - حدثنا أبو بشر الرقى قال ثنا شجاع عن سليمان بن مهران عن مالك بن الحارث عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله بن مسعود قال الوتر ثلاث كوتر النهار صلاة المغرب

یزید نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ وتر تین رکعات ہیں جیسا کہ دن کی طاق نماز مغرب ہے ۔

الوتر ثلاث كوتر النهار صلاة المغرب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← شجاع ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1702

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1703

1614 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن الأعمش عن مالك بن الحارث فذكر مثله إسناده

ابن مرزوق نے مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سےا سی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

مالك بن الحارث فذكر مثله إسناده ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1703

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1704

1615 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن حميد عن أنس رضي الله عنه قالوا الوتر ثلاث ركعات وكان يوتر بثلاث ركعات

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وتر تین رکعت ہیں ۔

الوتر ثلاث ركعات وكان يوتر بثلاث ركعات ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1704

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1705

1616 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا ثابت قال صلى بي أنس رضي الله عنه الوتر أنا عن يمينه وأم ولده خلفنا ثلاث ركعات لم يسلم الا في آخرهن ظننت أنه يريد أن يعلمنى

اور حضرت انس رضی اللہ عنہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے ثابت کہتے ہیں کہ ہمیں انس رضی اللہ عنہ وتر پڑھاتے ، میں ان کی دائیں جانب اور ان کی ام والدہ ہمارے پیچھے تھی ۔ انہوں نے تین رکعت انکے آخر میں سلام پھیرا۔

صلى بي أنس الوتر ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1705

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1706

1617 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو عاصم عن بن عجلان عن نافع والمقبرى سمعا معاذا القارىء يسلم في الركعتين من الوتر

میں نے گمان کیا کہ انہوں نے مجھے سکھانے کے لیے ایسا کیا ۔ نافع اور مقبری نے معاذ القاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ وتر کی دو رکعت پر سلام پھرتے تھے ۔

نافع والمقبرى سمعا معاذا القارىء يسلم في الركعتين من الوتر ← بن عَجْلَانَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1706

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1707

1618 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث عن عياش بن عباس القتباني عن عامر بن يحيي عن حنش الصنعاني قال كان معاذ يقرأ للناس في رمضان فكان يوتر بواحدة يفصل بينها وبين الثنتين بالسلام حتى يسمع من خلفه تسليمه فلما توفى قام للناس زيد بن ثابت فأوتر بثلاث لم يسلم حتى فرغ منهن فقال له الناس أرغبت عن سنة صاحبك فقال لا ولكن ان سلمت انفض الناس فهؤلاء جميعا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كانوا يوترون بثلاث فمنهم من كان يسلم في الاثنتين ومنهم من كان لا يسلم فلما ثبت عنهم أن الوتر ثلاث نظرنا في حكم التسليم بين الاثنتين منهن كيف هو فرأينا التسليم يقطع الصلاة ويخرج المسلم به منها حتى يكون في غير صلاة وقد رأينا ما اجمعوا عليه من الفرض لا ينبغي أن يفصل بعضه من بعض بسلام فكان النظر على ذلك أن يكون كذلك الوتر لا ينبغي أن يفصل بعضه من بعض بسلام فإن قال قائل فإنه قد روى عن غير واحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم انه كان يوتر بواحدة فذكر ما

حنش صنعانی کہتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ رمضان میں لوگوں کو قرآن سناتے وہ ایک وتر پڑھا کرتے وہ پہلی دور کعتوں اور اس میں سلام سے فاصلہ کرتے یہاں تک کہ ان کے پیچھے لوگ سن لیتے ۔ جب ان کی وفات ہو گئی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ انکی جگہ کھڑے ہو ئے وہ لوگوں کو وتر پڑھاتے اور ان کے مابین سلام سے فاصلہ نہ کرتے بلکہ فراغت پر سلام پھیرتے لوگوں نے کہا کیا تم نے اپنے ساتھی کے طریقہ کو ترک کر دیا ۔ انہوں نے کہا نہیں لیکن اگر میں سلام پھروں تو لوگ بکھر جائیں گے۔ یہ تمام اصحاب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ہیں جو تین وتر ادا کرتے تھے ۔ ان میں سے بعض دو پر سلام پھیرتے جبکہ دوسرے درمیان میں سلام پھیرتے پس جب ان سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ وتر تین ہیں تو اب ہم دو کے بعد سلام پھیرنے کے مسئلہ کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کی صورت کیا ہے ۔چنانچہ ہم نے دیکھا کہ سلام سے نماز منقطع ہو جاتی ہے اور سلام کرنے والا نماز سے نکل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز سے باہر ہو جاتا ہے ۔ اور ہم نے غور سے دیکھا کہ فرائض کے سلسلہ میں اس پر اتفاق ہے کہ ان کے مابین سلام سے فاصلہ نہ ہونا چاہیے پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وتر کا حکم یہی ہو ۔ اور ان میں بھی سلام سے فاصلہ مناسب نہ ہو ۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ بہت سے اصحاب رسول صلی اللہ عیہ وسلم سے مروی ہے کہ وہ ایک وتر پڑھتے تھے ۔

لاَ وَلَكِنْ ← سنة صاحبك ← له الناس أرغبت ← كان معاذ يقرأ للناس ← حنش الصنعاني ← عَامِرُ بْنُ یَحْیَی ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1707

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1708

1619 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا فليح بن سليمان الخزاعي قال ثنا محمد بن المنكدر عن عبد الرحمن التيمى قال قلت لا يغلبنى الليلة على القيام أحد فقمت أصلي فوجدت حس رجل من خلفى في ظاهرى فنظرت فإذا عثمان بن عفان فتنحيت له فتقدم فاستفتح القرآن حتى ختم ثم ركع وسجد فقلت أو هم الشيخ فلما صلى قلت يا أمير المؤمنين إنما صليت ركعة واحدة فقال أجل هي وتري قيل له قد يجوز أن يكون عثمان كان يفصل بين شفعه ووتره فيكون قد صلى شفعه قبل ذلك ثم أوتر في وقت ما رآه عبد الرحمن وفي إنكار عبد الرحمن فعل عثمان دليل على أن العادة التي قد كان جرى عليها قبل ذلك وعرفها على غير ما فعل عثمان وعبد الرحمن فله صحبة فقد دخل بذلك هذا المعنى في المعنى الأول وان احتج في ذلك محتج بما روى عن سعد فإنه قد

ابو بکر نے حضرت عبدالرحمان تیمی سے نقل کیا کہ میں نے اپنے طور پر فیصلہ کیا کہ آج رات کے قیام پر مجھ پر کوئی چیز غالب نہ آسکے گی پس میں نماز پڑھنے لگا میں نے اپنے پیچھے ایک آدمی کی آہٹ محسوس کی ، تو میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے ان کے لیے جگہ چھوڑ دی وہ آگے بڑھے اور قرآن مجید کو شروع کر کے مکمل کیا پھر رکوع کیا اور سجدہ کیا میں نے کہا شیخ کو وہم ہو گیا ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا اے امیر المومنین تم نے ایک رکعت ادا کی ہے ۔ آپرضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں وہ میرے وتر ہیں ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ممکن ہے حضرت عثمان اپنے وتر اور شفعہ کے درمیان فاصلہ کرتے ہوں ۔ پس انہوں نے اس سے پہلے فعہ پڑھا ہو گا پھر جب اس وقت میں جب عبد الرحمان نے ان کو دیکھا تو انہوں نے اس کو طاق بنا لیا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ عبدالرحمان کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل پر انکار سے یہ دلیل مل گئی کہ عام عادت تو اس سے پہلے ان کے ہاں معروف تھی وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فعل سے مختلف تھی اور حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں۔ اس سے یہ مفہوم بھی پہلے معنی میں شامل ہو گیا ۔ اگر کوئی معترض حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی روایت سے حجت و دلیل پکڑ لے روایت یہ ہے ۔

عبد الرحمن التيمى ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُزَاعِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1708

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1709

1620 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا بكر بن مضر عن جعفر بن ربيعة حدثهم عن يعقوب بن عبد الله بن الأشج عن سعيد بن المسيب قال شهد عندي من شيب من آل سعد بن أبى وقاص ان سعد بن أبى وقاص كان يوتر بواحدة

یونس نے اپنی سند سے ابن المسیب رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کیا کہ میر ے پاس آل سعد بن وقاص کے ایک بوڑھے نے گواہی دی کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایک وتر پڑھتے (ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ 296/2)

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1709

chevron_left Previous
1…777879…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter