شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1686
1598 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو داود قال ثنا سليمان بن حيان عن أبي غالب أن أبا أمامة كان يوتر بثلاث فثبت بذلك أن الوتر عند أبى أمامة هو ما ذكرنا ومحال أن يكون ذلك عنده كذلك وقد علم من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم خلافه ولكن ما علمه من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم معناه ما صرفنا اليه والله أعلم
ابن مرزوق نے نقل کیا کہ ابو امامہ تین وتر ادا کر تے تھے ( ابن ابی شیبہ فی الصلاہ 293/2) اس سے یہ بات ثابت ہو گئی وتر ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اتنے ہیں جو ہم نے ذکر کر دیے۔ اور یہ ناممکن ہے کہ یہ اسی طرح ہوں ۔ اس لیے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کا فعل تو اس کے خلاف معلوم ہوا۔ لیکن جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کا فعل معلوم کیا اس کا معنی وہی ہے جس کی طرف ہم نے پھیرا اور موڑا ہے ۔ واللہ اعلم ۔
سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بن مرزوق
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1686
