شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1638
1553 - حدثنا فهد قال ثنا على بن معبد قال ثنا إسماعيل بن أبى كثير عن محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى بالليل إحدى عشرة ركعة منها ركعتان وهو جالس ويصلى ركعتين قبل الصبح فذلك ثلاث عشرة ركعة فقد وافق هذا الحديث أيضا حديث أحمد بن داود وقولها يصلى ركعتين قبل الصبح يعنى قبل صلاة الصبح وهما الركعتان اللتان ذكرهما أحمد بن داود في حديثه أنه كان يصليهما بين الأذان والإقامة
ابو سلمہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے ان میں دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے اور دو رکعت نماز صبح سے پہلے یہ تیرہ رکعت ہوئیں ۔ یہ روایت بھی احمد بن داؤد والی روایت کے موافق ہو گئی اور روایت کے یہ الفاظ " یصلی رکعتین قبل الصبح" کا مطلب یہ ہے کہ نماز صبح سے پہلے دو رکعت ادا فرماتے ہیں دو رکعات ہیں جن کا تذکرہ احمد بن داؤد نے اپنی روایت میں کیا ، یہ وہی رکعات ہیں جن کو آپ اذان و اقامت کے درمیان ادا فرماتے تھے ۔
عَائِشَةَ أَنَّهَا ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1638
