Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1638

1553 - حدثنا فهد قال ثنا على بن معبد قال ثنا إسماعيل بن أبى كثير عن محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى بالليل إحدى عشرة ركعة منها ركعتان وهو جالس ويصلى ركعتين قبل الصبح فذلك ثلاث عشرة ركعة فقد وافق هذا الحديث أيضا حديث أحمد بن داود وقولها يصلى ركعتين قبل الصبح يعنى قبل صلاة الصبح وهما الركعتان اللتان ذكرهما أحمد بن داود في حديثه أنه كان يصليهما بين الأذان والإقامة

ابو سلمہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے ان میں دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے اور دو رکعت نماز صبح سے پہلے یہ تیرہ رکعت ہوئیں ۔ یہ روایت بھی احمد بن داؤد والی روایت کے موافق ہو گئی اور روایت کے یہ الفاظ " یصلی رکعتین قبل الصبح" کا مطلب یہ ہے کہ نماز صبح سے پہلے دو رکعت ادا فرماتے ہیں دو رکعات ہیں جن کا تذکرہ احمد بن داؤد نے اپنی روایت میں کیا ، یہ وہی رکعات ہیں جن کو آپ اذان و اقامت کے درمیان ادا فرماتے تھے ۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1638

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1639

1554 - حدثنا أحمد بن أبى عمران قال ثنا القواريرى ح

احمد بن ابی عمران نے کہا کہ ہمیں القواریری نے بیان کیا ۔ یہ روایت بھی ابو سلمہ والی روایت کے موافق ہے ۔

الْقَوَارِيرِيُّ ← أحمد بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1639

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1640

وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا حامد بن يحيى قالا ثنا سفيان قال ثنا بن أبى لبيد قال سمعت أبا سلمة يقول دخلت على عائشة رضي الله عنها فسألتها عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقالت كان صلاته في رمضان وغيره ثلاث عشرة ركعة منها ركعتا الفجر فقد وافق هذا الحديث أيضا ما رويناه قبله من أحاديث أبى سلمة

ابن ابی الولید کہتے ہیں میں نے ابو سلمہ کو کہتے سنا کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی روات کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو فرمانے لگیں آپکی نماز رمضان اور غیر رمضان میں تیرہ رکعت ہوتی تھی ان میں فجر کی دو رکعت بھی تھیں ۔

صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل ← دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْتُهَا ← أَبَا سَلَمَةَ ← بن أبي لبيد ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1640

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1641

1555 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن سعيد بن أبى سعيد المقبري عن أبى سلمة بن عبد الرحمن أنه أخبره أنه سأل عائشة كيف كان صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم في رمضان فقالت ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة يصلى أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلى أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلى ثلاثا قالت عائشة فقلت يا رسول الله أتنام قبل ان توتر قال يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي فيحتمل هذا الحديث أن يكون قولها ثم يصلى ثلاثا تريد يوتر باحداهن اثنتين من الثمان ثم يصلى الركعتين الباقيتين وهما الركعتان اللتان ذكرهما أبو سلمة فيما تقدم مما روينا عنه أنه كان يصليهما وهو جالس حتى يتفق هذا الحديث وما تقدمه من أحاديثه ويحتمل أن يكون الثلاث وترا كلها وهو أغلب المعنيين لأنها قد فصلت صلاته فقالت كان يصلى أربعا ثم أربعا ووصفت ذلك كله بالحسن والطول ثم قالت ثم يصلى ثلاثا ولم تصف ذلك بطول وجمعت الثلاث بالذكر فذلك عندنا على الوتر فيكون جميع ما كان يصليه إحدى عشرة ركعة مع الركعتين الخفيفتين اللتين في حديث سعد بن هشام أو مع الركعتين اللتين كان يصليهما وهو جالس بعد الوتر وهذا أشبه بروايات أبى سلمة لأن جميعها تخبر عن صلاته بعد ما بدن وحديث سعد بن هشام يخبر عن صلاته بعد ما بدن وعن صلاته قبل ذلك وقد روى عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها في ذلك ما

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے بتلایا کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ جناب رسول اللہ کی نماز رمضان میں کیسی ہوتی تھی تو فرمانے لگیں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نماز ادا نہیں فرماتے تھے آپ صلی اللہ عیہ وسلم چار رکعت پڑھتے انکی خوبی کے متعلق مت پوچھو اور انکی درازی مت پوچھ پھر چار پڑھتے ان کے حسن و طول کا مت سوال کرو۔ پھر تین رکعت (وتر) پڑھتے ۔ پس اس روایت میں احتمال ہے کہ روایت کے الفاظ " تم یصلی ثلاثا" اس سے مراد ان آٹھ رکعت میں سے دو کے ساتھ ایک ملا کر وتر تین پڑھتے اور پھر وہ رکعات پڑھتے جن کا تذکرہ ابو سلمہ کی روایت میں پہلے گزر ا کہ آپ ان کو بیٹھ کر ادا فرماتے تا کہ یہ روایت پہلی روایات کے موافق ہو جائے اور اس میں دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ تین وترہوں اور یہ مفہوم زیادہ شاندار ہے ۔ کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز کی تفصیل کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ چار رکعت اور انکی پھر عمدگی اور طوالت میں تعریف فرمائی پھر فرماتی ہیں کہ پھر آپ تین رکعت ادا فرماتے ان کے متعلق یہ بیان نہیں کیا کہ وہ لمبی ہوتی تھیں اور آپ نے تین رکعات کا اکٹھا ذکر کیا ہمارے ہاں اس سے وتر مراد ہیں ۔ اسی طرح آپ کی تمام نفلی نماز گیارہ رکعت ٹھہری اس کے ساتھ وہ دو خفیف رکعات ملائیں جن کا تذکرہ سعد بن ہشام کی روایت میں ہے جن کو آپ وتروں کے بعد بیٹھ کر ادا فرماتے تو اس طرح تیرہ رکعت بن گئیں ۔یہ معنی ابو سلمہ کی روایت سے زیادہ مطابقت کرنے والا ہے ، کیونکہ تمام روایات میں آپ کے جسم کے بھاری ہونے کے بعد کی نماز کی خبر دی ہے اور سعد بن ہشام کی روایت مین بدن کے بھاری ہونے سے پہلے اور بعد دونوں نمازوں کا ذکر کیا ہے عروہ کی روایت ملاحظہ ہو۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1641

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1642

1556 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى من الليل إحدى عشرة ركعة ويوتر منها بواحدة فإذا فرغ منها اضطجع على شقه الأيمن حتى يأتيه المؤذن فيصلى ركعتين خفيفتين فهذا يحتمل أن يكون على صلاته بعد ما بدن فيكون ذلك على إحدى عشرة منها تسع فيها الوتر وركعتان بعدهما وهو جالس على ما في حديث أبى سلمة وعلى ما في حديث سعد بن هشام وعبد الله بن شقيق غير أن غير مالك روى هذا الحديث فزاد فيه شيئا

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کی نماز گیارہ رکعت ادا فرماتے اور ایک کوشفعہ کے ساتھ ملا کر وتر بنا لیتے جب آ پ فارغ ہو جاتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ موذن آتا تو دو خفیف رکعتیں (فجر کی سنتیں ) ادا فرماتے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1642

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1643

1557 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس وعمرو بن الحارث وابن أبى ذئب عن بن شهاب أخبرهم عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى فيما بين أن يفرغ من صلاة العشاء الى الفجر إحدى عشرة ركعة يسلم بين كل ركعتين ويوتر بواحدة ويسجد سجدة قدر ما يقرأ أحدكم خمسين آية فإذا سكت المؤذن من صلاة الفجر وتبين له الفجر قام فركع ركعتين خفيفتين ثم اضطجع على شقه الأيمن حتى يأتيه المؤذن للاقامة فيخرج معه وبعضهم يزيد على بعض في قصة الحديث

عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نماز عشاء کی فراغت سے لے کر نماز فجر تک کے دوران گیارہ رکعت ادا فرماتے ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا کر وتر بنالیتے اور تمہارے پچاس آیات پڑھنے کی مقدار ایک سجدہ یعنی رکعت ادا کرتے جب موذن نماز فجر سے خاموش ہو جاتا اور فجر روشن ہو جات تو وہ ہلکی پھلکی رکعتیں ادا فرماتے پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ موذن آتا پس آپ نماز کے لیے نکلتے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← يونس وعمرو بن الحارث وابن أبى ذئب ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1643

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1644

1558 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر العقدى قال ثنا بن أبى ذئب عن الزهرى فذكر مثله بإسناده ففي هذا الحديث أن جميع ما كان يصليه بعد العشاء الآخرة الى الفجر إحدى عشرة ركعة فقد عاد ذلك الى حديث أبى سلمة وعلمنا به أن تلك الصلاة هى صلاته بعد ما بدن وأما قولها يسلم بين كل ركعتين فإن ذلك محتمل أن يكون كان يسلم بين كل ركعتين في الوتر وغيره فيثبت بذلك ما يذهب اليه أهل المدينة من التسليم بين الشفع والوتر ويحتمل أن يكون كان يسلم بين كل ركعتين من ذلك غير الوتر ليتفق ذلك وحديث سعد بن هشام ولا يتضادان مع أنه قد روى عن عروة في هذا خلاف ما رواه الزهرى عنه فمن ذلك ما

ابو عامر عقدی نے ابن ذہب سے انہوں نے زہری سے اور زہری نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے اس روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ عشاء کی نماز صبح صادق تک آپ کل گیارہ رکعت ادا فرماتے تھے پس اس روایت کا مفہوم روایت ابو سلمہ کی طرف لوٹ گیا کہ اس میں آپ کی اس وقت کی نماز کا تذکرہ ہے جب آپ کا جسم بھاری اور بوجھل ہو گیا تھا التبہ " یسلم بین کل رکعتین" اس میں دو احتمال ہیں اس روایت میں یہ ہے کہ عشاء کے بعد صبح تک آپ جو نماز ادا فرماتے اس کی تعداد گیارہ رکعت تھی ۔ یہ مفہوم ابو سلمہ کی روایت والا ہے اور ہم یہ بخوبی جان چکے ہیں کہ آپ کی یہ نماز جسم بھاری ہو جانے کے بعد تھی۔ رہا روایت کے یہ الفاظ " یسلم بین کل رکعتین" اس میں احتمال ہے آپ وتر اور غیر وتر کی ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے تھے ۔ اس سے اہل مدینہ والے وتر ثابت ہو جائیں گے کہ دو رکعت اور ایک کے بعد سلام پھیرا ۔دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر دو وکعتوں کے مابین سلام پھیرتے جو وتر کے علاوہ ہوتیں ، تاکہ یہ روایت سعد کی روایت کے موافق ہو جائے اور ان میں تضاد نہ رہے اور اس بات کے ساتھ ساتھ کہ عروہ نے اس کے خلاف بھی روایت نقل کی ہے جو اس سے زہری نے نقل کی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1644

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1645

1559 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى بالليل ثلاث عشرة ركعة ثم يصلى إذا سمع النداء ركعتين خفيفتين فهذا خلاف ما في حديث بن أبى ذئب وعمرو ويونس عن الزهرى عن عروة فذلك محتمل أن يكون الركعتان الزائدتان في هذا الحديث هما الركعتان الخفيفتان اللتان ذكرهما سعد بن هشام في حديثه وليس في ذلك دليل على وتره كيف كان فنظرنا في ذلك

عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات ادا فرماتے تھے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو دو ہلکی پھلکی رکعات (فجر کی سنتیں) ادا فرماتے ۔ اس میں احتمال ہے کہ اس سے آپ کی وہ نماز مراد ہو جو بدن کےبھاری ہونے سے پہلے تھی تو اس لحاظ سے ان دوخفیف رکعات سمیت جن سے نماز کا اختتام فرماتے یہ رکعات مراد ہوں گی اور دوسرا احتمال یہ آپ کی جسم کے بھاری ہونے کے بعد والی نماز ہو ۔ اس صورت میں گیارہ رکعت اس طرح ہوں گی کہ ان میں سے نو رکعات جن میں وتر بھی شامل ہیں اور دو خفیف رکعات جن کو آپ بیٹھ کر ادا فرماتے جن کا تذکرہ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ۔ جس کا تذکرہ سعد بن ہشام اور عبداللہ بن شقیق کی روایات میں بھی ہے ۔ البتہ مالک نے اپنی روایت میں بعض اضافے نقل کیے ۔ یہ اس روایت کے مخالف ہے جو ابن ابی ذئب اور عمر و یونس نے زہری سے نقل کی ہیں ۔پس اس لحاظ یہ روایت محتمل ہے کہ اس میں دو زائد رکعت مراد ہوں اور یہ وہی دو خفیف رکعات ہیں جن کا تذکرہ سعدہ بن ہشام نے اپنی روایت میں کیا ہے اس میں وتر کی کیفیت کا کچھ بھی تذکرہ نہیں کہ دلیل بن سکے ۔ پس غور سے یہ روایت دیکھیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1645

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1646

1560 - فإذا بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يوتر بخمس سجدات يعنى ركعات

ہشام نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم پانچ سجدات یعنی رکعات کے ساتھ وتر بنا لیا کرتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← فإذا بن مرزوق قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1646

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1647

1561 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني الليث عن هشام عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يوتر بخمس سجدات ولا يجلس بينهما حتى يجلس في الخامسة ثم يسلم

لیث سے ہشام عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم پانچ سجدات یعنی رکعات کے ساتھ وتر بناتے ان کے درمیان نہ بیٹھتے یہاں تک کہ پانچویں میں بیٹھتے پھر سلام پھیرتے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← هِشَامٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1647

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1648

1562 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا يونس بن بكير قال أنا محمد بن إسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوتر بخمس لا يجلس الا في آخرهن فقد خالف ما روى هشام ومحمد بن جعفر عن عروة ما روى الزهرى من قوله كان يصلى إحدى عشرة ركعة يوتر منها بواحدة ويسلم بين كل ركعتين فلما اضطرب ما روى عن عروة في هذا عن عائشة من صفة وتر رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن فيما روى عنها في ذلك حجة ورجعنا الى ما روى عنها غيره فنظرنا في ذلك

محمد بن جعفر بن زبیر عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم پانچ رکعات کو وتر بناتے اور ان کے درمیان میں نہ بیٹھتے بس آخڑ میں بیٹھتے ۔ زہری کی روایت ہشام اور حجر بن جعفر کی روایت کے مخالف ہے کہ آپ گیارہ رکعت ادا فرماتے اور ان میں سے ایک کے ساتھ وتر بنا لیتے اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے ۔ پس جب عروہ سے وار د روایات مضطرب ہو گئیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے وتروں کی کیفیت کیا تھی اور ان میں سے کسی روایت کو بطور اختیار نہیں کر سکتے تو ہم نے عروہ کے علاوہ روات کی روایات جو انہوں نے ام المومنین رضی اللہ عنہا سے کیا ہے رجوع کیا ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1648

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1649

1563 - فإذا على بن عبد الرحمن قد حدثنا قال ثنا عبد الغفار بن داود قال ثنا موسى بن أعين عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يوتر بتسع ركعات

ابراہیم نے اسود سے انہون نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نو رکعتوں سے وتر بناتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ← فإذا على بن عبد الرحمن قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1649

chevron_left Previous
1…727374…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter