شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1626
1542 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن منصور عن بكر بن عبد الله قال صلى بن عمر رضي الله عنهما ركعتين ثم قال يا غلام أرحل لنا ثم قام فأوتر بركعة ففي هذه الآثار أنه كان يوتر بثلاث ولكنه كان يفصل بين الواحدة والاثنتين فقد اتفق عنه في الوتر أنه ثلاث وقد جاء عنه من رأيه أيضا ما يدل على أن قول النبي صلى الله عليه و سلم الذي ذكرناه كما وصفنا أنه يحتمل من التأويل
بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز ادا کی پھر فرمایا اے لڑکے کجا وہ باندھو پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت سے اس کو وتر بنایا۔ یہ آثار واضح کر رہے ہیں کہ آپ تین رکعات وتر پڑھتے تھے مگر دو رکعت اور ایک رکعت کے درمیان فاصلہ کرتے تھے ۔ پس آپ وتروں کی رکعات کے تین ہونے پر متفق ہیں اور آپ کی وہ رائے جو روایت میں وارد ہے وہ ہمارے بیان کے مطابق تاویل کا احتمال رکھتی ہے ۔
صلى بن عمر ركعتين ثم ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1626
