Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1626

1542 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن منصور عن بكر بن عبد الله قال صلى بن عمر رضي الله عنهما ركعتين ثم قال يا غلام أرحل لنا ثم قام فأوتر بركعة ففي هذه الآثار أنه كان يوتر بثلاث ولكنه كان يفصل بين الواحدة والاثنتين فقد اتفق عنه في الوتر أنه ثلاث وقد جاء عنه من رأيه أيضا ما يدل على أن قول النبي صلى الله عليه و سلم الذي ذكرناه كما وصفنا أنه يحتمل من التأويل

بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز ادا کی پھر فرمایا اے لڑکے کجا وہ باندھو پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت سے اس کو وتر بنایا۔ یہ آثار واضح کر رہے ہیں کہ آپ تین رکعات وتر پڑھتے تھے مگر دو رکعت اور ایک رکعت کے درمیان فاصلہ کرتے تھے ۔ پس آپ وتروں کی رکعات کے تین ہونے پر متفق ہیں اور آپ کی وہ رائے جو روایت میں وارد ہے وہ ہمارے بیان کے مطابق تاویل کا احتمال رکھتی ہے ۔

صلى بن عمر ركعتين ثم ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1626

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1627

1543 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا بكر بن مضر عن جعفر بن ربيعة عن عقبة بن مسلم قال سألت عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن الوتر فقال أتعرف وتر النهار قلت نعم صلاة المغرب قال صدقت أو أحسنت ثم قال بينا نحن في المسجد قام رجل فسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الوتر أو عن صلاة الليل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الليل مثنى مثنى فإذا خشيت الصبح فأوتر بواحدة أفلا ترى أن بن عمر حين سأله عقبة عن الوتر فقال أتعرف وتر النهار أي هو كهو وفي ذلك ما ينبئك أن الوتر كان عند بن عمر ثلاثا كصلاة المغرب إذ جعل جوابه لسائله عن وتر الليل أتعرف وتر النهار صلاة المغرب ثم حدثه بعد ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم بما ذكرنا فثبت أن قوله فأوتر بواحدة أي مع شيء تقدمها توتر بتلك الواحدة مما صليت قبلها وكل ذلك وتر وقد بين ذلك أيضا بما

عقبہ بن مسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ وتر کس کیفیت سے؟ تو انہوں نے فرمایا کیا تم دن کے وتروں کو جانتے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں ! وہ نماز مغرب ہے تو انہوں نے فرمایا تم نے درست جواب دیا فرمایا بہت خوب جواب دیا پھر کہنے لگے ہم مسجد میں تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر یا رات کی نماز کا سوال کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو دو ہے جب تمہیں صبح کا خدشہ ہو تو ایک رکعت ساتھ ملا کر اس کو طاق بنا لو۔ کیا یہ بات تمہارے سامنے نہیں کہ جب حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وتروں سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کیا تم دن کے وتروں کو جانتے ہو۔ یعنی یہ بھی ان کے مشابہ ہیں ۔ اس میں اس بات کی اطلاع ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں وتر تین رکعت نماز مغرب کی طرح ہیں کیونکہ آپ نے رات کے وتروں سے متعلق سوال کرنے والے کو فرمایا کیا تم دن کے وتروں کو جانتے ہو اور وہ نماز مغرب ہے اس کے بعد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات بیان کی جس کو ہم ذکر کر آئے پس اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ آپ کا یہ فرمان ایک کے ساتھ وتر بنا لو ۔ یعنی جو کچھ پہلے پڑھا ہے اس کے ساتھ ایک رکعت ملا کر ان کو وتر بنا لو یہ مجموعہ طاق ہو گا۔ یہ بات آئندہ روایت میں واضح ہے ۔

عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1627

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1628

1544 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سعيد بن أبى مريم قال ثنا محمد بن جعفر قال أخبرني موسى بن عقبة عن أبى إسحاق عن عامر الشعبي قال سألت بن عباس وابن عمر رضي الله عنهما كيف كان صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقال ثلاث عشرة ركعة ثمان ويوتر بثلاث وركعتين بعد الفجر هكذا في النسخ

عامر شعبی کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات والی نماز کس طرح تھی تو انہوں نے جواب دیا تیرہ رکعت ہوتی تھی آٹھ اور تین وتر اور طلوع صبح صادق کے بعد دو رکعت ۔

ابن عمر كيف كان صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سألت بن عباس ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1628

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1629

1545 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال ثنا الأوزاعي قال حدثني المطلب بن عبد الله المخزومي أن رجلا سأل بن عمر رضي الله عنهما عن الوتر فأمره أن يفصل فقال الرجل انى لأخاف أن يقول الناس هي البتيراء فقال بن عمر رضي الله عنهما تريد سنة الله ورسوله صلى الله عليه و سلم هذه سنة الله ورسوله صلى الله عليه و سلم وقد روى عن عائشة رضي الله عنها في ذكرها وتر النبي صلى الله عليه و سلم ما يدل على حقيقة ما ذكرنا

مطلب بن عبداللہ المخزومی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وتر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا درمیان میں فاصلہ کر ے اس آدمی نے کہا تو لوگ وتر کو بتیرا (دم کٹی) کہنا شروع کر یں گے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نےکہا اگر تم وتر کا سنت طریقہ چاہتے ہو تو وہ یہی ہے اور سنت اللہ اور سنت رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم یہی ہے یعنی لوگ کچھ کہیں اس کو ترک نہیں کر سکتے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر کا تذکرہ فرمایا اس میں حقیقت کی طرف راہنمائی ملتی ہے ۔

الناس هي البتيراء ← الرجل انى لأخاف أن ← الْوِتْرِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَفْصِلَ، ← المطلب بن عبد الله المخزومي أن رجلا سأل بن عمر ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1629

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1630

1546 - حدثنا أبو بشر الرقى قال ثنا شجاع بن الوليد عن سعيد بن أبى عروبة عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن سعد بن هشام عن عائشة رضي الله عنها قالت كان نبي الله صلى الله عليه و سلم لا يسلم في ركعتي الوتر

سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہ پھیرتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1630

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1631

1547 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع عن سعيد فذكر بإسناده مثله فأخبرت أن الوتر ثلاثا لا يسلم بين شيء منهن ثم قد روى عن عائشة رضي الله عنها بعد هذا أحاديث في الوتر إذا كشفت رجعت الى معنى حديث سعد هذا فمن ذلك ما

محمد بن المنہال کہتے ہیں ہمیں یزید بن زریع نے انہوں نے سعید پھر سعید نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ پس حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ وتر تین رکعت ہیں اور ان کے مابین بالکل سلام نہ پھیرے پھر اس کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب ان کو کھولا جائے گا تو ان کا مفہوم حضرت سعد رضی اللہ عنہ والی روایت کی طرف لوٹ آتا ہے ان میں سے یہ روایت ہے ۔

أن الوتر ثلاثا لا يسلم بين شيء منهن ثم قد روى ← بإسناده مثله ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1631

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1632

1548 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا أبو حرة قال ثنا الحسن عن سعد بن هشام عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قام من الليل افتتح صلاته بركعتين خفيفتين ثم صلى ثمان ركعات ثم أوتر فأخبرت هاهنا أنه كان يصلى ركعتين ثم ثمانيا ثم يوتر فكان معنى ثم يوتر يحتمل ثم يوتر بثلاث منهن ركعتان من الثمان وركعة بعدها فيكون جميع ما صلى إحدى عشرة ركعة ويحتمل ثم يوتر بثلاث متتابعات فيكون جميع ما صلى ثلاث عشرة ركعة فنظرنا فيما يحتمل من ذلك هل جاء شيء يدل على شيء منه بعينه

سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنی نماز دو ہلکی رکعات پڑھ کر شروع فرماتے پھر آٹھ رکعات پڑھتے پھر وتر پڑھتے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہاں خبر دی کہ آپ رات کی نماز دو رکعت پڑھتے ، پھرآٹھ رکعت ادا فرماتے پھر وتر پڑھتے پس " تم بوتر" کا معنی احتمال رکھتا ہے کہ تین رکعت وتر پڑھتے آٹھ رکعت میں دو رکعت اور ان کے ساتھ ایک رکعت اور ملا اس طرح تمام مل کر گیارہ رکعت پڑھتے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ تین مسلسل رکعات وتر پڑھتے اس طرح آپ کی مجموعی رکعات کی تعداد گیارہ رکعت ہو جاتی ۔ پھر ہم نے ان احتمالات میں غور کیا کہ آیا جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے کیا اس سلسلہ میں کوئی بات روایت میں وارد ہوئی ہے جو اس بات پر دلالت کرنے والی ہو ۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1632

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1633

فإذا إبراهيم بن مرزوق ومحمد بن سليمان الباغندي قد حدثانا قالا حدثنا أبو الوليد ثنا حصين بن نافع العنبري عن الحسن عن سعد بن هشام قال دخلت على عائشة رضي الله عنها فقلت حدثينى عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت كان النبي صلى الله عليه و سلم يصلى بالليل ثمان ركعات ويوتر بالتاسعة فلما بدن صلى ست ركعات وأوتر بالسابعة وصلى ركعتين وهو جالس ففي هذا الحديث أنه كان يوتر بالتاسعة فذلك محتمل أن يكون يوتر بالتاسعة مع اثنتين من الثمان التي قبلها حتى يتفق هذا الحديث وحديث زرارة ولا يتضادان

سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گیا اور میں نے کہا مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق بتلائیے تو وہ کہنے لگیں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو آٹھ رکعت ادا فرماتے اور نوویں کو ساتھ ملا کر وتر بنا لیتے جب آپ کا بدن بھاری ہو گیا ۔(بڑھاپا آگیا) تو چھ رکعت ساتویں ملا کر وتر بنا لیتے اور پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے اس روایت میں یہ ہے کہ آپ نویں رکعت کے ساتھ وتر بنا لیتے پس اس میں احتمال ہے آٹھوں میں آخری دو رکعت کے ساتھ تیری ملا کر ان کو وتر بنا لیتے تاکہ یہ اور زرارہ والی روایت متفق ہو جائیں اور انکا تضاد نہ رہے ۔

صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم ← دخلت على عائشة فقلت حدثينى ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← الْحَسَنِ، ← حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← فإذا إبراهيم بن مرزوق ومحمد بن سليمان الباغندي قد حدثانا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1633

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1634

1549 - حدثنا بكار قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو حرة عن الحسن عن سعد بن هشام الأنصاري أنه سأل عائشة رضي الله عنها عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقالت كان يصلى العشاء ثم يتجوز بركعتين وقد أعد سواكه وطهوره فيبعثه الله لما شاء أن يبعثه فيتسوك ويتوضأ ثم يصلى ركعتين ثم يقوم فيصلى ثمان ركعات يسوى بينهن في القراءة ثم يوتر بالتاسعة فيبعثه الله لما شاء أن يبعثه فيتسوك ويتوضأ ثم يصلى ركعتين ثم يقوم فيصلى ثمان ركعات يسوى بينهن في القراءة ثم يوتر بالتاسعة فلما أسن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأخذه اللحم جعل تللك الثمانى ستا ثم يوتر بالسابعة ثم يصلى ركعتين وهو جالس يقرأ فيهما بقل يا أيها الكافرون وإذا زلزلت الأرض ففي هذا الحديث أنه كان يصلى قبل الثمانى التي يوتر بتاسعتهن أربعا فجميع ذلك ثلاث عشرة ركعة منها الوتر الذي فسره زرارة عن سعد عن عائشة رضي الله عنها وهو ثلاث ركعات لا يسلم الا في آخرهن فقد صحت رواية سعد عن عائشة وثابت على ما ذكرنا وقد روى عبد الله بن شقيق عن عائشة في ذلك ما

سعد بن ہشام انصاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی رات کی نماز کے سلسلہ میں دریافت کیا تو وہ فرمانے لگیں آپ عشء کی نماز ادا فرماتے پھر آپ مختصر دو رکعت ادا فرماتے آپ کی مسواک اور پانی والا لوٹا تیار ہوتا پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا آپ کو بیدار کر دیتا آپ مسواک کرتے پھر وضو کرتے پھر دو رکعت نماز ادا فرماتے پھر آپ کھڑے ہو کر آٹھ رکعت ادا فرماتے ان میں ایک جیسی قراء ت فرماتے پھر نوویں کو ساتھ ملا کر وتر بنا لیتے اس روایت میں ہے کہ آپ جن آٹھ رکعات کے ساتھ نوویں ملا کر وتر بناتے ان میں پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ،پھر یہ ملا کر تیرہ رکعت بن جاتیں جن میں وہ ور بھی شامل تھے جن کا زرارہ نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے اور زرارہ نے وہ حضرت عائشہ صدیقہ اور سعد رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے اور وہ تین رکعات ہیں جن کے درمیان میں سلام نہ پھیرتے تھے پس حضرت سعد کی روایت حضرت عائشہ صدیقہ اور ثابت رضی اللہ عنہم درست ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور عبداللہ بن شقیق نے بھی حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے ۔

سعد بن هشام الأنصاري: ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← بَكَّارٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1634

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1635

1550 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا هشيم بن بغير قال أنا خالد الحذاء قال أنا عبد الله بن شقيق قال سألت عائشة عن تطوع رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقالت كان إذا صلى بالناس العشاء يدخل فيصلى ركعتين قالت وكان يصلى من الليل تسع ركعات فيهن الوتر فإذا طلع الفجر صلى ركعتين في بيتي ثم يخرج فيصلى بالناس صلاة الفجر ففي هذا الحديث أنه كان يصلى إذا دخل بيته بعد العشاء ركعتين ومن الليل تسعا فيهن الوتر فذلك عندنا على تسع غير الركعتين اللتين كان يخفهما على ما قال سعد بن هشام عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يفتتح صلاته من الليل ركعتين خفيفتين وانما حملنا معنى حديث عبد الله بن شقيق على هذا المعنى ليتفق هو وحديث سعد بن هشام ولا يتضادان وقد روى أبو سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة رضي الله عنها في ذلك ما قد

عبداللہ بن شقیق نے بتلایا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی رات کی نماز میں متعلق سوال کیا تو وہ کہنے لگیں جب آپ لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا لیتے گھر میں داخل ہو کر دو رکعت نماز ادا فرماتے پھر رات کو نو رکعت نماز ادا فرماتے جن میں وتر تین عدد بھی ہوتے ( جیسا گزشتہ روایت میں گزرا) جب فجر طلوع ہوتی تو میرے گھر میں دو رکعت نماز ادا فرماتے پھر لوگوں کو فجرکی نماز پڑھانے کے لیے باہر تشریف لاتے ۔ اس روایت میں اس طرح فرمایا کہ جب آپ رات کو گھر تشریف لاتے تو دو رکعت ادا فرماتے اور رات کو نو رکعت اداور فرماتے جن میں وتر بھی ہوتے تھے ۔یہ نو رکعات ہمارے ہاں ان دو کے علاوہ ہیں جن کو ہلکا پھلکا ادا فرماتے ۔ جیسا سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اپنی رات کی نماز دو خفیف رکعات سے شروع فرماتے ہم عبداللہ بن شقیق کی روایت کا یہ معنی کیا ہے تاکہ یہ روایت اور سعد بن ہشام کی روایت میں تضاد نہ رہے۔

سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← هشيم بن بغير ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1635

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1636

1551 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا سهل بن بكار قال ثنا أبان بن يزيد قال ثنا يحيى بن أبى كثير قال ثنا أبو سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلى من الليل ثلاث عشرة ركعة يصلى ثمان ركعات ثم يوتر بركعة ثم يصلى ركعتين وهو جالس فإذا أراد أن يركع قام فركع وصلى بين أذان الفجر والإقامة ركعتين فيحتمل أن يكون الثمان ركعات التي أوتر بتاسعتهن في هذا الحديث هى الثمان ركعات التي ذكر سعد بن هشام عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى قبلهن أربع ركعات ليتفق هذا الحديث وحديث سعد ويكون هذا الحديث قد زاد على حديث سعد وحديث عبد الله بن شقيق تطوع رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد الوتر ويحتمل أيضا أن يكون هذه التسع هى التسع التي ذكرها سعد بن هشام في حديثه عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصليها لما بدن فيكون ذلك تسع ركعات مع الركعتين الخفيفتين اللتين كان يفتتح بهما صلاته ثم كان يصلى بعد الوتر ركعتين جالسا بدلا مما كان يصليه قبل أن يبدن قائما وهو ركعتان فقد عاد ذلك أيضا الى ثلاث عشرة ركعة

ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات ادا فرماتے آٹھ رکعت ادا فرماتے پھر ایک رکعت ملا کر ان کو وتر بنا لیتے یعنی آخری دو کے ساتھ تیسری ملا کر وتر بنا تے پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے پس جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے اور فجر کی اذان و اقامت کے درمیان دو رکعت (فجر کی سنتیں ) پڑھتے ۔ اس روایت میں احتمال ہے کہ وہ آٹھ رکعات جن کے ساتھ ایک ملا کر ان کو وتر بنایا یہ وہی آٹھ رکعات ہو جن کا تذکرہ سعد بن ہشام کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان سے پہلے چار رکعت ادا فرماتے تاکہ یہ روایت سعد والی روایت سے متفق ہو جائے اور اس حدیث سے سعد والی روایت اور عبد اللہ بن شقیق والی روایت پر اضافہ ہو کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم وتر کے بعد نفل پڑھتے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ نو وہی رکعت ہوں جن کا تذکرہ سعد نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں کیا ہے ۔ کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان کو ادا فرماتے رہے جب آپ کا ان کا بدن مبارک بھاری ہو گیا پس وہی نو رکعات دو خفیف رکعات سمیت رہیں جن سے آپ اپنی نماز کو شروع فرماتے ، پھر وتروں کے بعد دو رکعت بیٹھ کر ان کے بدلے میں ادا فرماتے جن کو آپ بدن بھاری ہونے سے پہلے ادا فرماتے تھے اور وہ دو رکعت ہوتیں اس طرح یہ بھی تیرہ رکعت کی طرف بات لوٹ گئی ۔

عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1636

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1637

1552 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا هارون بن إسماعيل الخزاز قال ثنا على بن المبارك قال ثنا يحيى بن أبى كثير عن أبى سلمة قال سألت عائشة رضي الله عنها عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالليل فقالت كان يصلى ثلاث عشرة ركعة يصلى ثمان ركعات ثم يصلى ركعتين وهو جالس فإذا أراد أن يركع قام فركع قائما ثم يسجد وكان يصلى ركعتين بين الأذان والإقامة من صلاة الصبح فهذا الحديث معناه معنى حديث أحمد بن داود عن سهل غير أنه ترك ذكر الوتر

ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی رات کی نماز کے سلسلہ میں سوال کیا تو کہنے لگیں آپ تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے اور آپ آٹھ رکعت پڑھتے پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے ان میں جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہوکر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے اور دو رکعت (سنت فجر ) نماز صبح کی اقامت و اذان کے درمیان پڑھتے۔ پس یہ روایت اس کا وہی معنی ہے جو احمد بن داؤد کی سہل والی روایت کا ہے ۔ التبہ اس میں وتر کا ذکر اس سے چھوڑ دیا ۔

سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1637

chevron_left Previous
1…717273…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter