Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1602

1520 - حدثنا الحسين بن نصر قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا زهير قال ثنا الحسن بن الحر فذكر مثله بإسناده

زہیر نے بیان کیا کہ ہمیں حسن بن حرنے بیان کیا پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح بیان کیا ۔

الحسن بن الحر فذكر مثله بإسناده ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1602

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1603

1521 - حدثنا إبراهيم بن أبى داود قال ثنا المقدمي قال ثنا أبو معشر البراء عن أبى جمرة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم ثم ذكر التشهد وقال لا صلاة الا بتشهد فرووا ما ذكرنا من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم رووا من قول عبد الله ما

علقمہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا پھر تشہد کا ذکر کیا اور کہا تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ انہوں نے جناب رسول اللہ ق کا ارشاد روایت کیا پھر عبداللہ کا قول روایات کیا ۔

التشهد ← النبي صلى الله عليه و سلم ثم ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1603

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1604

1522 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا أبو وكيع عن أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال التشهد انقضاء الصلاة والتسليم إذن بانقضاءها ثم قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا ما يدل على أن ترك السلام غير مفسد للصلاة وهو أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الظهر خمسا فلم يسلم فلما أخبر بصنيعه فثنى رجله فسجد سجدتين كما

ابو اسحاق نے ابو الاحوص سے انہوں نے عبداللہ سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا تشہد نماز کا اگر اختتام ہے تو تسلیم اختتام کا اعلان ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت کا معنی پہلی روایت سے مختلف ہے اور اس روایت کو دیگر الفاظ سے بھی روایت کیا گیا ہے ۔ پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایات وارد ہوتی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ سلام کا چھوڑ دینا نماز کو نہیں توڑتا اور وہ اس طرح کہ آپ نے نماز ظہر پانچ رکعت پڑھائی اور سلام نہ پھیرا جب آپ کے عمل کی آپ کو اطلاع د ی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کو موڑ ا اور دو سجدے ادا فرمائے ۔

التشهد انقضاء الصلاة والتسليم إذن بانقضاءها ثم قد روي ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← أَبُو وَكِيعٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1604

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1605

1523 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا وهيب بن خالد عن منصور بن المعتمر عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك ففي هذا الحديث أنه أدخل في الصلاة ركعة من غيرها قبل السلام ولم ير ذلك مفسدا للصلاة ولو رآه مفسدا لها إذا لأعادها فلما لم يعدها وقد خرج منها الى الخامسة لا بتسليم دل ذلك أن السلام ليس من صلبها ألا ترى أنه لو كان جاء بالخامسة وقد بقى عليه مما قبلها سجدة كان ذلك مفسدا للأربع لأنه خلطهن بما ليس منهن فلو كان السلام واجبا كوجوب سجود الصلاة لكان حكمه أيضا كذلك ولكنه بخلافه فهو سنة وقد روى أيضا في حديث أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا صلى أحدكم فلم يدر أثلاثا صلى أم أربعا فليبن على اليقين ويدع الشك فإن كانت صلاته نقصت فقد أتمها وكانت السجدتان ترغمان الشيطان وان كانت صلاته تامة كان ما زاد والسجدتان له نافلة فقد جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم الخامسة الزائدة والسجدتين اللتين للسهو تطوعا ولم يجعل ما تقدم من الصلاة بذلك [ ص 276 ] فاسدا وان كان المصلى قد خرج منها اليه فثبت بذلك أن الصلاة تتم بغير تسليم وأن التسليم من سننها لا من صلبها فكان تصحيح معاني الآثار في هذا الباب يوجب ما ذهب اليه الذين قالوا لا تتم الصلاة حتى يقعد مقدار التشهد لأن حديث علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قد احتمل ما ذكرنا واختلف في حديث عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم على ما وصفنا وأما حديث بن مسعود فهو الذي لم يختلف فيه وأما وجه ذلك من طريق النظر فإن الذين قالوا انه إذا رفع رأسه من آخر سجدة من صلاته فقد تمت صلاته قالوا رأينا هذا القعود قعود التشهد وفيه ذكر يتشهد به وتسليم يخرج به من الصلاة وقد رأينا قبله في الصلاة قعودا فيه ذكر يتشهد به فكل قد أجمع أن ذلك القعود الأول وما فيه من الذكر ليس هو من صلب الصلاة بل هو من سننها واختلف في القعود الأخير فالنظر على ما ذكرنا أن يكون كالقعود الأول ويكون ما فيه كما في القعود الأول فيكون سنة وكل ما يفعل فيه سنة كما كان القعود الأول سنة وكل ما يفعل فيه سنة وقد رأينا القيام الذي في كل الصلاة والركوع والسجود الذي فيها أيضا كله كذلك فالنظر على ما ذكرنا أن يكون القعود فيها أيضا كله كذلك فلما كان بعضه باتفاقهم سنة كان ما بقى منه كذلك أيضا في النظر واحتج عليهم الآخرون فقالوا قد رأينا القعود الأول من قام عنه ساهيا فاستتم قائما أمر بالمضى في قيامه ولم يؤمر بالرجوع الى القعود وقد رأينا من قام من القعود الآخر ساهيا حتى استتم قائما أمر بالرجوع الى قعوده قالوا فما يؤمر بالرجوع اليه بعد القيام عنه فهو الفرض ومالا يؤمر بالرجوع اليه بعد القيام عنه فليس ذلك بفرض ألا ترى أن من قام وعليه سجدة من صلاته حتى استتم قائما أمر بالرجوع الى ما قام عنه لأنه قام فترك فرضا فأمر بالعود اليه وكذلك القعود الأخير لما أمر الذي قام عنه بالرجوع اليه كان ذلك دليلا أنه فرض ولوكان غير فرض إذا لما أمر بالرجوع اليه كما لم يؤمر بالرجوع الى القعود الأول فكان من الحجة عليهم الآخرين انه إنما أمر سقط بالعود الى القعود لأنه ما لم يستتم قائما فلم يدخل في فرض فأمر بالعود مما ليس بسنة ولا فرض الى القعود الذي هو سنة وكان يؤمر بالعود مما ليس بسنة ولا فريضة الى ما هو سنة ويؤمر بالعود من السنة الى ما هو فريضة وكان الذي قام من القعود الأخير حتى استتم قائما داخلا لا في سنة ولا في فريضة وقد قام من قعود هو سنة فأمر بالعود اليه وترك التمادى فيما ليس بسنة ولا فريضة كما أمر الذي قام من القعود الأول الذي هو سنة فلم يستتم قائما فيدخل في الفريضة أن يرجع من ذلك الى القعود الذي هو سنة فلهذا أمر الذي قام من القعود الأخير حتى استتم قائما بالرجوع اليه لا لما ذهب اليه الآخرون قال أبو جعفر فهذا هو النظر عندنا في هذا الباب لا ما قال الآخرون ولكن أبا حنيفة وأبا يوسف ومحمدا رحمهم الله تعالى ذهبوا في ذلك الى قول الذين قالوا ان القعود الأخير مقدار التشهد من صلب الصلاة لأنه ثبت بالنص كما ذكرنا وقد قال بعض المتقدمين بما قالوا من ذلك كما

ابراہیم نے علقمہ سے انہوں نے عبداللہ سے بیان کیا اور عبداللہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کو بیان کیا ( جو اوپر ظہر کے واقعہ والی گزری ) اس روایت میں یہ ہے ک جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سلام سے پہلے ایک اور پانچوں رکعت پڑھ دی اور اس کو نماز کےلیے مفسد قرار نہ دیا گیا اگر آپ اسے نماز کے لیے مفسد قرار دیتے تو ضرور اس کا اعادہ کرتے جب آپ نے اعادہ نہ کیا اور پانچویں رکعت کی طرف بلا تسلیم نکل گئے تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ یہ نماز کے ارکان سے نہیں ہے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ آپ پانچویں رکعت کی طرف اس حالت میں منتقل ہوتے کہ آپ کے ذمہ کوئی ایسی چیز باقی ہوتی جس سے پہلے سجدہ ہے تو یہ چاروں رکعات کے لیے مفسد بن جاتی کیونکہ اس سے ان رکعات کا ان چیزوں سے ملانا لازم آتا جو ان میں سے نہیں ۔ پس اگر سلام واجب ہوتا جیسا کہ نماز میں سجدے لازم ہیں تو اس کا حکم بھی اسی طرح ہوتا مگر اس کے برعکس وہ سنت ہے اور یہ بات حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں آئی ہے کہ جناب رسول اللہ ق نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز ادا کرے اور اس کو یہ یاد نہ رہے کہ اس سے تین پڑھی ہیں یا چار تو یقین پر عمل کرے اور شک کو ترک کر دے پھر اگر اس کی نماز کم ہو تو اس کو (رکعت ملاکر) مکمل کرلے اور دو سجدے شیطان کی ناک رگڑنے کے لیے کرے اور اگر نماز مکمل ہو چکی تو جو زائد پڑھا ہے وہ اور دو سجدے اس کے لیے نفل بن جائیں گے ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچویں زائد رکعت اور سہو گے دو سجدوں کو نفل قرار دیا اور اس سے پہلے والی رکعات کو فاسد قرار نہیں دیا خواہ نمازی اس فرض سے اس نقل کی طرف منتقل ہو گیا ہے ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ نماز بعد سلام بھی مکمل ہو جاتی ہے اور سلام نماز کی سنن سے ہے فرائض سے نہیں ۔ پس اس باب کے آثار کے معنی کی درستی اس بات کو لازم کرتی ہے کہ جنہوں نے یہ کہا کہ مقدار تشہد بیٹھنے سے نماز مکمل ہو جاتی ہے اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت میں اس بات کا احتمال ہے جس کا ہم نے تذکرہ کیا اور حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت میں اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کر دیا ۔ البتہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں اختلاف نہیں ۔ غور و فکر کے لحاظ سے اس کی وضاحت سنیے۔جن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ جب نماز کے آخری سجدہ سے سر اٹھائے تو نماز مکمل ہو جاتی ہے ۔وہ بطور ثبوت کہتے ہیں کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ تشہد والا قعدہ ہے ۔ اس تشہد والا ذکر اور سلام جس کے ذریعے نماز سے باہر آتے ہیں اور ہم یہ پاتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی اسی نماز میں ایک قعدہ ہے جس میں تشہد کا ذکر تو موجود ہے ۔ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ قعدہ اور اس میں تشہد کاپڑھنا فرائض نماز سے نہیں بلکہ سنن اور واجبات سےہے ۔ آخری قعدہ سے متعلق اختلاف ہے ہم نے جو کچھ کہا اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ بھی پہلے قعدہ کی طرح ہو اور اس میں جو کچھ ہے اس کا حکم وہی ہو جو پہلے قعدہ کے افعال و اعمال کا ہے ۔ اس لحاظ سے وہ سنت یا واجب ہو گا۔ اور اس کے اعمال بھی سنت غیر فرض ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قیام رکوع اور سجدہ یہ تمام چیزیں ہر نماز کا لازمی حصہ ہیں ۔ پس جو ابت ہم نے ذکر کی اس کے لحاظ سے غور و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ قعدہ کا حکم بھی نماز میں اسی طرح ہو جب اس کا ایک حصہ بالا اتفاق سنت یا واجب ہے تو اس کے بقیہ کا بھی قیاس کے لحاظ سے وہی حکم ہے دوسروں نے انکے خلا ف یہ دلیل پیش کی کہ ہم دیکھتے ہیں کہ قعدہ اول سے جو شخص بھول کر کھڑا ہو جاتا ہے اگر وہ مکمل طور پر سیدھا کھڑا ہو جائے تو اس کے لیے قیام میں برقرار رہنے کا ہی حکم ہے ۔ اس کو قعد کی طرف لوٹنے کا حکم نہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جو شخص قعدہ اخیرہ میں بھول کر کھڑا ہو جائے اور مکمل سیدھا کھڑا ہو جائے تو اسے قعدے کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جاتا ہے تو جس قعدہ میں مکمل قیام کے بعد لوٹنے کا حکم ہو وہ فرض ہے تبھی تو اس کی طرف لوٹنے کا حکم دیا گیا اور قعدہ اول میں اس کی طرف لوٹنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ ان کے خلاف دلیل دوسروں کی طرف سے یہ دی جاتی ہے پہلے قعدہ میں کھڑے ہونے کے بعد قیام میں بر قرار رہنے کا حکم دیا گیا اور قعدے کی طرف لوٹنے کا نہیں کہا گیا کیونکہ و ہ ایسے قعدہ سے کھڑا ہوا ہے جو فرض نہیں ہے اور دوسری طرف وہ ایسے قیام میں داخل ہو چکا جو کہ فرض ہے اس وجہ سے اس کے چھوڑنے اور غیر فرض کی طرف لوٹنے کی اجازت نہیں دی گئی اور فرض میں برقرار رہنے کا حکم دیا گیا تاکہ اس کی تکمیل کر لیں اگر وہ پہلا قعدہ کھڑا ہواگر مکمل طور پر سیدھا نہ ہوا تو اسے قعدے کی طرف لوٹنے کا حکم دیں گے کیونکہ وہ مکمل کھڑا نہیں ہوا۔ جس سے وہ فرض میں داخل نہیں ہوا اسی لیے واپسی کا حکم ہو گیا جو نہ تو سنت ہے اور نہ فرض ہے اور یہ اس قعدے کی طرف واپس آیا جو کہ سنت سے ثابت ہے تو اس کو لوٹنے کا حکم اس کے لیے کہا گیا جو کہ سنت سے ثابت ہے اور سنت سے اس کی طرف لوٹا جاتا ہے جو کہ فرض ہوتا ہے اور اس کے بالمقابل و ہ شخص جو کہ آخری قعدہ میں سیدھا کھڑا ہو گیا تو وہ ایسی چیز میں داخل ہو نے والا ہے جو نہ سنت ہے نہ فرض اور وہ ایسے قعدہ سے اٹھا ہے جو کہ سنت ہے اور اس میں برقرار رہنے نہ دیا جائے گا جو کہ سنت و فرض میں سے کچھ بھی نہیں جیسا کہ اس شخص کو حکم دیا گیا جو کہ قعدہ اول سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ وہ سنت سے ثابت ہے اور مکمل سیدھا کھڑا نہیں ہوا تھا کہ وہ فرض میں داخل ہوتا اس لیے اسے قعدے کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جائے گاجو کہ سنت ہے ۔ بالکل اسی طرح قعدہ اخیرہ سے اٹھ جانے والے کو حکم دیا جائے گا خواہ وہ مکمل کھڑا ہو گیا کہ وہ سنت کی طرف واپس لوٹ آئے اس بناء پر نہیں جس کی طرف دوسرے لوگ گئے ہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارےہاں نظر وفکر کا تقاضا اس باب میں اسی طرح ہے اسی طرح نہیں جس کی طرف دوسرے لوگ گئے ہیں لیکن امام ابو حنیفہ، ابو یوسف ، اور محمد محمد رحمۃ اللہ علیہم نے اس مقام پر ان لوگوں کا قول اختیار کیا جو یہ کہتے ہیں کہ آخری قعدہ تشہد کی مقدار نماز کے فرائض میں سے ہے کیونکہ یہ نص کے ساتھ ثابت ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور بعض متقد مین میں بھی اسی قول کی طرف گئے ہیں جیسے کہ یہ روایات سے ثابت کرتی ہیں ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1605

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1606

1524 - حدثنا بكر بن إدريس قال ثنا آدم قال ثنا شعبة عن يونس عن الحسن في الرجل يحدث بعد ما رفع رأسه من آخر السجدة فقال لا يجزيه حتى يتشهد أو يقعد قدر التشهد

یونس نے حسن سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو اپنا سر اٹھانے کے بعد بات چیت کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے تو انہوں نے فرمایا اس کی نماز درست نہیں ہو گی جب تک تشہد نہ پڑھے یا اسی کی مقدار بیٹھ نہ جائے ۔

لا يجزيه حتى يتشهد أو يقعد قدر التشهد ← بعد ما رفع رأسه من آخر السجدة ← الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ ← يُونُسَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← بكر بن إدريس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1606

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 32 باب السلام في الصلاة هل هو من فروضها أو من سننها ) · حديث 1607

1525 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا سعيد بن سابق الرشيدى قال ثنا حيوة بن شريح عن بن جريج قال كان عطاء يقول إذا قضى الرجل التشهد الأخير فقال السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين فأحدث وان لم يكن سلم عن يمينه وعن يساره فذكر كلاما معناه فقد مضت صلاته أو قال فلا يعود إليها

ابن جریج سے روایت ہے کہ عطاء کہا کرتے تھے جب آدمی نے تشہد اخیر پورا کر لیا اور السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین " کہہ چکا پھر اس کا وضؤ ٹوٹ گیا اگرچہ اس نے دائیں بائیں سلام نہ پھیرا یا اس کے مشابہہ بات کہی تو اس کی نماز مکمل ہو گئی یا اس طرح فرمایا وہ نماز کا اعادہ نہ کرے

بن جُرَيْجٍ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← سَعِيدُ بْنُ سَابِقٍ الرَّشِيدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1607

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1608

1526 - حدثنا إبراهيم بن أبى داود قال ثنا على بن الجعد قال أنا شعبة ح

علی بن جعد نے شعبہ سے نقل کیا ۔

شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1608

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1609

وحدثنا بكار قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبى التياح قال سمعت أبا مجلز يحدث عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال الوتر ركعة من آخر الليل

شعبہ نے ابوالتیاح سے انہوں نے ابو مجلز سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ الو تر رکعتہ من آخر اللیل کہ وتر ایک رکعت ہے رات کے آخر میں۔

الْوِتْرُ رَکْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← بن عُمَرَ ← أَبَا مِجْلَزٍ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← وَحَدَّثَنَا بَكَّارٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1609

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1610

1527 - حدثنا سليمان بن شعيب الكيسانى قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن قتادة قال سمعت أبا مجلز فذكر مثله

شعبہ نے قتادہ سے انہوں نے ابو مجلز سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أبا مجلز فذكر مثله ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1610

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1611

1528 - حدثنا سليمان قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن قتادة عن أبي مجلز قال سألت بن عباس رضي الله عنهما عن الوتر فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ركعة من آخر الليل وسألت بن عمر فقال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعة من آخر الليل قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقلدوه وجعلوه أصلا وخالفهم في ذلك آخرون فافترقوا على فرقتين فقال بعضهم الوتر ثلاث ركعات لا يسلم الا في آخرهن وقال بعضهم الوتر ثلاث ركعات يسلم في الاثنتين منهن وفي آخرهن وكان قول رسول الله صلى الله عليه و سلم الوتر ركعة من آخر الليل قد يحتمل عندنا ما قال أهل المقالة الأولى ويحتمل أن يكون ركعة من شفع قد تقدمها وذلك كله وتر فتكون تلك الركعة توتر الشفع المتقدم لها وقد بين ذلك ما قد رواه بعضهم عن بن عمر رضي الله عنهما

قتادہ نے ابو مجلز سے نقل کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ وتر کتنے ہیں تو انہوں نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وتررات کے اخیر میں ایک رکعت ہے اور میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی سوال کیا تو انہوں نے فرمایا وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کچھ لوگوں نے اس بات کو اختیار کیا اور اس کو اصل قرار دیا ۔ جبکہ دوسروں نے اس سے اختلاف کیا ہے ۔ پھر ان کی دو جماعتیں ہو گئیں ۔ ایک فریق نے یہ کہا کہ وتر تین رکعت ہیں ، سلام ان کے آخر میں پھیرا جائے گااور دوسری جماعت کہتی ہے کہ وتر تین رکعت ہے مگر وہ دو رکعت کے بعد سلام پھیرنے اور پھر آخر میں سلام پھر لے۔ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی "الوتر رکعۃ۔۔۔۔۔۔۔(الحدیث) کہ وتر ایک رکعت ہے ۔اس میں اس بات کااحتمال یہ بھی ہے کہ وہ رکعت ان دو رکعتوں کے ساتھ ہو جو پہلے پڑھی گئیں اور یہ تمام وتر کہلائیں گی ۔ تو یہ رکعت ان دو پہلی رکعتوں کو وتر بنا دے گی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جن حضرات نے یہ بات بیان کی اس میں اسی بات کا تذکرہ ہے ۔

ركعة من آخر الليل وسألت بن عمر فقال ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْوِتْرِ فَقَالَ ← سألت بن عباس ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَیْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1611

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1612

1529 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عاصم عن بن عون عن نافع عن بن عمر أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم عن صلاة الليل فقال مثنى مثنى فإذا خشيت الصبح فصلى ركعة توتر لك صلاتك

نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی نے سوال کیا کہ رات کی نماز کس طرح اور کتنی ہے تو آپ نے فرمایا مثنیٰ مثنیٰ دو دو پڑھتے رہو۔ جب صبح کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھو جو تیری ان رکعتوں کو طاق بنا دے یعنی دو کے ساتھ تیسری ملا لو وتر بن جائیں گے۔

صَلَاةِ اللَّيْلِ ← بن عمر أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم ← نَافِعٍ ← بن عون ← أَبُو عَاصِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1612

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الوتر ) · حديث 1613

1530 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب ان مالكا حدثه عن نافع وعبد الله بن دينار عن بن عمر رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عبداللہ بن دینا نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1613

chevron_left Previous
1…697071…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter