Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1506

1435 - حدثنا نصر بن عمار البغدادي قال ثنا علي بن أشكاب قال حدثني أبو بدر شجاع بن الوليد قال ثنا أبو خيثمة قال ثنا الحسن بن الحر قال حدثني عيسى بن عبد الرحمن بن مالك عن محمد بن عمرو بن عطاء أحد بني مالك عن عياش أو عباس بن سهل الساعدي وكان في مجلس فيه أبوه وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وفي المجلس أبو هريرة رضي الله عنه وأبو أسيد وأبو حميد الساعدي من الأنصار أنهم تذاكروا الصلاة فقال أبو حميد أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا وكيف فقال اتبعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا فأرنا قال فقام يصلي وهم ينظرون فبدأ فكبر ورفع يديه نحو المنكبين ثم كبر للركوع ورفع يديه أيضا ثم أمكن يديه من ركبتيه غير مقنع رأسه ولا مصوبه ثم رفع رأسه فقال سمع الله لمن حمده اللهم ربنا ولك الحمد ثم رفع يديه ثم قال الله أكبر فسجد فانتصب على كفيه وركبتيه وصدور قدميه وهو ساجد ثم كبر فجلس فتورك إحدى رجليه ونصب قدمه الأخرى ثم كبر فسجد ثم كبر فقام فلم يتورك ثم عاد فركع الركعة الأخرى وكبر كذلك ثم جلس بعد الركعتين حتى إذا هو أراد أن ينهض للقيام قام بتكبير ثم ركع الركعتين ثم سلم عن يمينه السلام عليكم ورحمة الله وسلم عن شماله أيضا السلام عليكم ورحمة الله

محمد بن عمرو بن عطاء نے بنی مالک کے کسی آدمی سے اس نے عیاش یا عباس بن سہل ساعدی سے بیان کیا کہ میں ایک مجلس میں تھا جس میں میرے والد بھی موجود تھے میر والد خود صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اس مجلس میں ابو ہریرہ ، ابو اسید ، ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہم انصار میں سے تھے انہوں نے باہمی نماز کا مذاکرہ کیا ت ابو حمید نے کہا میں تم میں سب سے بڑھ کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جاننے والا ہوں انہوں نے کہا یہ کیسے ؟ تو وہ کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی ہے انہوں نے کہا ہمیں دکھلاؤ چنانچہ ابو حمید کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور وہ تمام دیکھ رہے تھے انہوں نے نماز کی ابتداء میں کندھوں کے برابر ہاتھوں کو بلند کیا پھر رکوع کی تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا پھر اپنے ہاتھوں سے گھٹنوں کو مضبوطی سے تھام لیا سر کو نہ تو کمر سے بلند کرنے والے اور نہ نیچے جھکانے والے تھے (بلکہ برابر رکھنے والے تھے ) پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ اللہھم کہا پھر رفع یدین کیا پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلے گئے اور سجدہ میں اپنی ہتھلیوں کے سہارے دونوں گھٹنوں اور پاؤں کو کھڑا رکھا پھر تکبیر کہی اور جلسہ کیا اور ایک پاؤں کو کھڑارکھا جبکہ دوسرے سے تو رک کیا پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا اور تکبیر کہہ کر قیام کیے لیے اٹھ گئے اور تو رک نہ کیا ۔ پھر دوسری رکعت کی قراءت پوری کر کے رکوع کیا اور اسی طرح تکبیر کہی پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہہ کر کھڑے ہو گئے پھر دو رکعت مکمل کر کے دائیں جانب سلام پھیرنتے ہوئے السلام علیکم و رحمۃ اللہ اور بائیں طرف السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہا ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1506

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1507

1436 - حدثنا نصر بن عمار قال ثنا علي قال ثنا أبو بدر قال ثنا أبو خيثمة قال ثنا الحسن بن الحر قال حدثني عيسى هذا الحديث هكذا أو نحوه وحديث عيسى أن مما حدثه أيضا في الجلوس في التشهد أن يضع يده اليسرى على فخذه اليسرى ويضع يده اليمنى على فخذه اليمنى ثم يشير في الدعاء بأصبع واحدة

حسن بن حر کہتے ہیں عیسیٰ نے ا س روایت کو اسی طرح بیان کیا یا اس جیسا بیان کیا اور عیسیٰ کی حدیث ان مین سے ہے جن کو اس نے بیان کیا اس حدیث میں تشہد بیٹھنے کا اس طر ح تذکرہ ہے کہ اپنا بایا ں ہاتھ اپنی ائیں ران پررکھا جائے اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھا جائے پھر دعا میں ایک انگلی سے اشارہ کرے۔

عيسى هذا الحديث هكذا أو نحوه وحديث عيسى أن مما ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو بَدْرٍ؛ ← عَلِيٍّ، ← نصر بن عمار

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1507

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1508

1437 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا فليح بن سليمان عن عباس بن سهل قال اجتمع أبو حميد وأبو أسيد وسهل بن سعد فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكروا القعود على ما ذكره عبد الحميد في حديثه في المرة الأولى ولم يذكر غير ذلك

عباس بن سہل کہتے ہیں کہ ابو حمید ، ابو اسید ، سہل بن سعید اکٹھے تھے انہوں نے باہمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا اور انہوں نے اپنی روایت مین عبدلحمید کے بیان کے مطابق قعدہ اولیٰ کا تذکرہ کیا ہے اور کسی چیز کا تذکرہ اس میں موجود نہیں ۔

عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1508

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1509

1438 - حدثني أبو الحسن الأصبهاني قال ثنا هشام بن عمار قال ثنا إسماعيل بن عياش قال ثنا عتبة بن حكيم عن عيسى بن عبد الرحمن العدوي عن العباس بن سهل عن أبي حميد الساعدي أنه كان يقول لأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا من أين قال رقبت ذلك منه حتى حفظت صلاته قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قام إلى الصلاة كبر ورفع يديه حذاء وجهه فإذا كبر للركوع فعل مثل ذلك وإذا رفع رأسه من الركوع قال سمع الله لمن حمده فعل مثل ذلك فقال ربنا ولك الحمد وإذا سجد فرج بين فخذيه غير حامل بطنه على شيء من فخذيه ولا مفترش ذراعيه فإذا قعد للتشهد اضجع رجله اليسرى ونصب اليمنى على صدرها ويتشهد فهذا أصل حديث أبي حميد هذا ليس فيه ذكر القعود إلا على مثل ما في حديث وائل والذي رواه محمد بن عمرو فغير معروف ولا متصل عندنا عن أبي حميد لأن في حديثه أنه حضر أبا حميد وأبا قتادة ووفاة أبي قتادة قبل ذلك بدهر طويل لأنه قتل مع علي رضي الله عنهما وصلى عليه علي رضي الله عنه فأين سن محمد بن عمرو بن عطاء من هذا فلما كان المتصل عن أبي حميد موافقا لما روى وائل ثبت القول بذلك ولم يجز خلافه مع ما شده من طريق النظر وذلك أنا رأينا القعود الأول في الصلاة وفيما بين السجدتين في كل ركعة هو أن يفترش اليسرى فيقعد عليها ثم اختلفوا في القعود الأخير فلم يخل من أحد وجهين أن يكون سنة أو فريضة فإن كان سنة فحكمه حكم القعود الأول وإن كان فريضة فحكمه حكم القعود فيما بين السجدتين فثبت بذلك ما روى وائل بن حجر وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد قال بذلك أيضا إبراهيم النخعي رحمه الله كما

عیسیٰ بن عبدالرحمن عدوی نے عباس بن سہل سے انہوں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہنے لگے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں انہوں نے کہا یہ کیسے ؟ تووہ کہنے لگے کہ میں نے خوب جانچ کر دیکھا یہاں تک کہ میں نے آپ کی نماز کو خوب محفوظ کر لیا ابو حمید کہنے لگے جب جناب رسول اللہ نماز کے لیے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو چہرے کے برابر اٹھاتے پھر جب رکوع کی تکبیر کہتے تو دوبارہ اسی طرح کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور ربنا ولک الحمد کہتے جب سجدہ کرتے تو اپنی رانوں کو پیٹ سے الگ رکھتے اس کا بوجھ کسی ران پرنہ ڈالتے اور اپنے دونوں بازؤں کو زمین پر نہ بچھاتے جب تشہد کے لیے بیٹھتے تو بائیں پاؤں کا تذکرہ اسی انداز سے ہے جیسا حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے اور وہ جس کا ابوحمید سے محمد بن عمر و نے بیان کیا وہ تو معروف ہے اور نہ متصل ہے کیونکہ اس روایت میں یہ ہے کہ وہ خود ابو حمید اور ابو قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا حالانکہ ابو قتادہ کی وفات تو اس سے عرصہ پہلے ہو چکی تھی کیونکہ وہ حضرت علی کے ساتھ لڑائی میں شریک ہو کر شہید ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکی نماز جنازہ ادا کی ، محمد بن عمرو کی عمر ہی اس وقت کیا تھی کہ وہ انکی مجلس میں حاضر ہوتا۔دوسری بات یہ ہے کہ ابو حمید کی متصل روایت وائل کی روایت کے موافق ہے پس اسی کو اختیار کرنا ضروری ہے اس کی مخالفت درست نہیں جبکہ نظرو فکر کے لحاظ سے بھی اسی کی پختگی ثابت ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ ہم دیکھتے ہیں نماز میں پہلا قاعدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا بھی پایا جاتا ہے اور وہ اسی طرح ہے کہ بائیں پاؤں کو بٹھا کر اس پر بیٹھتے ہیں صرف آخری قعدہ میں اختلاف ہے ۔تو وہ دنوں حالتوں سے خالی نہیں یا وہ سنت ہے یا فرض ، اگر وہ سنت ہے تو اس کاحکم پہلے قعدہ کی طرح ہے اور اگر وہ فرض ہے تو اس کا حکم دونوں سجدوں کے درمان والے قعدہ کی طرح ہے ۔ پس اس سے وائل ابن حجر والی روایت میں جو مذکور وہ ثابت ہو گیا اور وہی امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے اور ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے ۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ← عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَدَوِيِّ ← عتبة بن حكيم ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أبو الحسن الأصبهاني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1509

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1510

1439 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن المغيرة عن إبراهيم أنه كان يستحب إذا جلس الرجل في الصلاة أن يفرش قدمه اليسرى على الأرض ثم يجلس عليها

مغیرہ نے ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ وہ اس کو مستحب و مستحسن قرار دیتے تھے کہ آدمی جب نماز میں بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھے (گویا تو رک نہ کرے )۔

الْمُغِيرَةِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1510

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 30 باب التشهد في الصلاة كيف هو ) · حديث 1511

1440 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث ومالك بن أنس أن بن شهاب حدثهما عن عروة بن الزبير عن عبد الرحمن بن عبد القارئ أنه سمع عمر بن الخطاب رضي الله عنه يعلم الناس التشهد على المنبر وهو يقول قولوا التحيات لله الزاكيات لله الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله

عبدالرحمن بن عبدالقاری روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ منبر پر لوگوں کو تشہد کی تعلیم دے رہے اور کہہ رہے تھے تم اس طرح کہو! التحیات للہ الزکیات للہ الصلوات للہ السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ السلام علینا و علیٰ عباد اللہ الصالیحین اشہد ان لاللہ اللہ واشھدان محمد ا عبدہ ورسولہ تمام بدنی مالی اور زبانی عبادتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم پر اللہ تعالی کا سلام اور اس کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ہم پر بھی سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوال کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

عمر بن الخطاب يعلم الناس التشهد على المنبر وهو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِی أَنَّہُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عمرو بن الحارث ومالك بن أنس أن بن شهاب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1511

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 30 باب التشهد في الصلاة كيف هو ) · حديث 1512

1441 - وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال أخبرنا بن جريج قال انا بن شهاب عن حديث عروة عن عبد الرحمن بن عبد القارئ فذكر مثله

عروہ نے عبد الرحمن بن عبدالقاری سے انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عبد الرحمن بن عبد القارئ فذكر مثله ← حديث عروة ← بن شِهَابٍ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1512

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 30 باب التشهد في الصلاة كيف هو ) · حديث 1513

1442 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا بن جريج قال قلت لنافع كيف كان بن عمر رضي الله عنهما يتشهد قال كان يقول بسم الله التحيات لله والصلوات لله والزاكيات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين ثم يتشهد فيقول شهدت أن لا إله إلا الله شهدت أن محمدا رسول الله

ابن جر یح کہتے ہیں میں نے نافع سے کہا ابن عمر رضی اللہ عنہ تشہد کیسے پڑھتے تھے تو اس نے کہا وہ اس طرح پڑھتے تھے ۔ (تشہد) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سواکوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔

كان ← قلت لنافع كيف كان بن عمر يتشهد ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1513

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 30 باب التشهد في الصلاة كيف هو ) · حديث 1514

1443 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا عبد الله بن صالح ح

نصر بن مرزوق نے عبداللہ بن صالح سے انہوں نے اپنی سند سے نقل کیا ۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1514

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 30 باب التشهد في الصلاة كيف هو ) · حديث 1515

وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قالا حدثنا الليث بن سعد قال حدثني عقيل بن خالد عن بن شهاب قال أخبرني سالم بن عبد الله عن أبيه قال إذا تشهد أحدكم فليقل ثم ذكر مثل تشهد عمر رضي الله عنه

سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھتے تو اس طرح کہے پھر تشہد عمری کی طرح نقل کیا ۔

مثل تشهد عمر ← إذا تشهد أحدكم فليقل ثم ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بن شِهَابٍ ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← وحدثنا روح بن الفرج

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1515

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 30 باب التشهد في الصلاة كيف هو ) · حديث 1516

1444 - وحدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا حدثنا عبد الله بن صالح قال حدثني بن الهاد عن يحيى بن سعيد عن القاسم قال كانت عائشة رضي الله عنها تعلمنا التشهد وتشير بيدها ثم ذكر مثله فذهب قوم إلى هذه الأحاديث وقالوا هكذا التشهد في الصلاة لأن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قد علم ذلك الناس على منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم بحضرة المهاجرين والأنصار فلم ينكر ذلك عليه منهم منكر وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لو وجب ما ذكرتموه عند أصحاب رسول صلى الله عليه و سلم إذا لما خالف أحد منهم عمر رضي الله عنه في ذلك فقد خالفوه فيه وعملوا بخلافه وروى أكثرهم ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فممن خالفه في ذلك عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فروى عنه في ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم ما

یحییٰ بن سعید نے قاسم سے انہوں نے نقل کیا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہمیں تشہد سکھاتیں اور اپنے ہاتھ سے اس کا اشارہ بتلاتی تھیں پھر اس طرح کا تشہد نقل کیا ۔ بعض علماء کا رجحان ان روایات کی طرف گیا اور انہوں نے کہا کہ تشہد اسی طرح ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ممبر پر انصار و مہاجرین کی موجودگی میں سکھایا اور کسی نے بھی انکار نہیں کیا مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے نزدیک اگر یہ لازم ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو پھر کوئی صحابی بھی انکی مخالفت نہ کرتا حالانکہ کئی حضرات نے ان کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اس کے خلاف عمل کیا اور انکی اکثریت نے وہ تشہد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی نقل کی ، ان مخالفت کرے والوں میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ہیں ، انہوں نے بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تشہد نقل کیا ۔

مثله فذهب قوم إلى هذه الأحاديث ← كانت عائشة تعلمنا التشهد وتشير بيدها ثم ← الْقَاسِمِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بْنِ الْهَادِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1516

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 30 باب التشهد في الصلاة كيف هو ) · حديث 1517

1445 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود ووهب وأبو عامر قالوا ثنا هشام الدستوائي عن حماد بن أبي سليمان عن أبي وائل عن بن مسعود رضي الله عنه قال كنا إذا صلينا خلف النبي صلى الله عليه و سلم قلنا السلام على الله السلام على جبرائيل السلام على ميكائيل فالتفت إلينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا تقولوا السلام على الله فإن الله هو السلام ولكن قولوا التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله وما

ابو وائل نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے السلام علی اللہ السلام علی جبرائیل السلام علی میکائیل (جب آپ نے یہ سنا ) تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس طرح نہ کہو السلام علی اللہ ، اللہ تعالیٰ کی ذات السلام ہے بلکہ تم اس طرح کہا ،(پوری تشہد) ، تمام قولی فعلی و مالی عبادات اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں تم پر سلام ہو اے نبی ! اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت ہم پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

بن مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أبو داود ووهب وأبو عامر ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1517

chevron_left Previous
1…616263…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter