شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1506
1435 - حدثنا نصر بن عمار البغدادي قال ثنا علي بن أشكاب قال حدثني أبو بدر شجاع بن الوليد قال ثنا أبو خيثمة قال ثنا الحسن بن الحر قال حدثني عيسى بن عبد الرحمن بن مالك عن محمد بن عمرو بن عطاء أحد بني مالك عن عياش أو عباس بن سهل الساعدي وكان في مجلس فيه أبوه وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وفي المجلس أبو هريرة رضي الله عنه وأبو أسيد وأبو حميد الساعدي من الأنصار أنهم تذاكروا الصلاة فقال أبو حميد أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا وكيف فقال اتبعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا فأرنا قال فقام يصلي وهم ينظرون فبدأ فكبر ورفع يديه نحو المنكبين ثم كبر للركوع ورفع يديه أيضا ثم أمكن يديه من ركبتيه غير مقنع رأسه ولا مصوبه ثم رفع رأسه فقال سمع الله لمن حمده اللهم ربنا ولك الحمد ثم رفع يديه ثم قال الله أكبر فسجد فانتصب على كفيه وركبتيه وصدور قدميه وهو ساجد ثم كبر فجلس فتورك إحدى رجليه ونصب قدمه الأخرى ثم كبر فسجد ثم كبر فقام فلم يتورك ثم عاد فركع الركعة الأخرى وكبر كذلك ثم جلس بعد الركعتين حتى إذا هو أراد أن ينهض للقيام قام بتكبير ثم ركع الركعتين ثم سلم عن يمينه السلام عليكم ورحمة الله وسلم عن شماله أيضا السلام عليكم ورحمة الله
محمد بن عمرو بن عطاء نے بنی مالک کے کسی آدمی سے اس نے عیاش یا عباس بن سہل ساعدی سے بیان کیا کہ میں ایک مجلس میں تھا جس میں میرے والد بھی موجود تھے میر والد خود صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اس مجلس میں ابو ہریرہ ، ابو اسید ، ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہم انصار میں سے تھے انہوں نے باہمی نماز کا مذاکرہ کیا ت ابو حمید نے کہا میں تم میں سب سے بڑھ کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جاننے والا ہوں انہوں نے کہا یہ کیسے ؟ تو وہ کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی ہے انہوں نے کہا ہمیں دکھلاؤ چنانچہ ابو حمید کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور وہ تمام دیکھ رہے تھے انہوں نے نماز کی ابتداء میں کندھوں کے برابر ہاتھوں کو بلند کیا پھر رکوع کی تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا پھر اپنے ہاتھوں سے گھٹنوں کو مضبوطی سے تھام لیا سر کو نہ تو کمر سے بلند کرنے والے اور نہ نیچے جھکانے والے تھے (بلکہ برابر رکھنے والے تھے ) پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ اللہھم کہا پھر رفع یدین کیا پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلے گئے اور سجدہ میں اپنی ہتھلیوں کے سہارے دونوں گھٹنوں اور پاؤں کو کھڑا رکھا پھر تکبیر کہی اور جلسہ کیا اور ایک پاؤں کو کھڑارکھا جبکہ دوسرے سے تو رک کیا پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا اور تکبیر کہہ کر قیام کیے لیے اٹھ گئے اور تو رک نہ کیا ۔ پھر دوسری رکعت کی قراءت پوری کر کے رکوع کیا اور اسی طرح تکبیر کہی پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہہ کر کھڑے ہو گئے پھر دو رکعت مکمل کر کے دائیں جانب سلام پھیرنتے ہوئے السلام علیکم و رحمۃ اللہ اور بائیں طرف السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہا ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1506
