Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 28 باب وضع اليدين في السجود أين ينبغي أن يكون ) · حديث 1494

1423 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان الثوري عن عاصم بن كليب الجرمي عن أبيه عن وائل بن حجر قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سجد كانت يداه حيال أذنيه وبما

عاصم بن کلیب جرہمی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو آپ کے دونوں ہاتھوں آپ کے کانوں کے برابر ہوتے ۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1494

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 28 باب وضع اليدين في السجود أين ينبغي أن يكون ) · حديث 1495

1424 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا الحماني قال ثنا خالد قال ثنا عاصم فذكر بإسناده مثله وبما

خالد نے بیان کیا کہ ہمیں عاصم نے بیان کیا اور انہوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے ۔

عاصم فذكر بإسناده مثله وبما ← خَالِدٌ، ← الحماني ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1495

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 28 باب وضع اليدين في السجود أين ينبغي أن يكون ) · حديث 1496

1425 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث قال ثنا محمد بن جحادة قال حدثني عبد الجبار بن وائل بن حجر قال كنت غلاما لا أعقل صلاة أبي فحدثني وائل بن علقمة عن أبي وائل بن حجر قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان إذا سجد وضع وجهه بين كفيه وبما

عبدالجبار بن وائل بن حجر کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اپنے والد کی نماز کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا تھا مجھے وائل بن علقمہ نے اپنے والد وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی جب آپ سجدہ کرتے اپنا چہرہ اپنی ہتھلیوں کے درمیان رکھتے ۔

أبي وائل بن حجر ← وائل بن علقمة ← كنت غلاما لا أعقل صلاة أبي ← عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1496

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 28 باب وضع اليدين في السجود أين ينبغي أن يكون ) · حديث 1497

1426 - حدثنا أحمد بن داود بن موسى قال ثنا سهل بن عثمان قال ثنا حفص بن غياث عن الحجاج عن أبي إسحاق عن البراء قال سألته أين كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يضع جبهته إذا صلى قال بين كفيه فكان كل من ذهب في الرفع في افتتاح الصلاة إلى المنكبين يجعل وضع اليدين في السجود حيال المنكبين أيضا وكل من ذهب في الرفع في افتتاح الصلاة إلى الأذنين يجعل وضع اليدين في السجود حيال الأذنين أيضا وقد ثبت فيما تقدم من هذا الكتاب تصحيح قول من ذهب في الرفع في افتتاح الصلاة إلى حيال الأذنين فثبت بذلك أيضا قول من ذهب في وضع اليدين في السجود حيال الأذنين أيضا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله

ابو اسحاق نے براء رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے خود ان سے سوال کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے وقت سجدہ میں پیشانی کہاں رکھتے تو انہوں نے جواب دیا اپنی دونوں ہتھلیوں کے مابین پس جو لوگ نماز کے شروع میں ہاتھوں کو کانوں تک اُٹھانے کے قائل ہیں انہی کا قول یہ ہے کہ سجدے میں بھی ہاتھ کندھوں کے برابر رکھے جائیں گے۔ اور جو ابتداء نماز میں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانے کا حکم دیتے ہیں وہ سجدے میں بھی ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھنے کو اختیار کرنے والے ہیں ۔ اور کتاب الصلوۃ میں کانوں کو ہاتھوں تک اٹھانے والا موقف ثابت کیا جا چکا ہے ۔ اس سے سجدہ میں ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھے کا موقف خود ثابت ہو گیا ۔ یہی امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْحَجَّاجِ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← أحمد بن داود بن موسى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1497

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1498

1427 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد أن القاسم بن محمد أراهم الجلوس فنصب رجله اليمنى وثنى رجله اليسرى وجلس على وركه اليسرى ولم يجلس على قدميه ثم قال أراني هذا عبد الله بن عبد الله بن عمرو حدثني أن أباه عبد الله بن عمر رضي الله عنهما كان يفعل ذلك

یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ قاسم بن محمد نے ہمیں تشہد میں بیٹھا دکھایا پس انہوں نے دایاں پاؤں کھڑا کیا اور بایاں موڑ کر دوہرا کیا اور اپنی بائیں سرین کوزمین پر ٹیک کر بیٹھ گئے اور دونوں قدموں کے زور پر نہ بیٹھے پھر کہنے لگے یہ کیفیت مجھے عبداللہ بن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کر کے دکھائی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی طرح کرتے تھے ۔

أراني هذا عبد الله بن عبد الله بن عمرو ← رجله اليسرى وجلس على وركه اليسرى ولم يجلس على قدميه ثم ← يحيى بن سعيد أن القاسم بن محمد أراهم الجلوس فنصب رجله اليمنى ← بن وهب أن مالكا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1498

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1499

1428 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الرحمن بن القاسم عن عبد الله بن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أنه أخبره أنه كان يرى عبد الله بن عمر رضي الله عنه يتربع في الصلاة إذا جلس قال ففعلته يومئذ وأنا حديث السن فنهاني عبد الله بن عمر وقال إنما سنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمنى وتثني اليسرى فقلت له فإنك تفعل ذلك فقال إن رجلي لا تحملاني قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن القعود في الصلاة كلها أن ينصب الرجل رجله اليمنى ويثني رجله اليسرى ويقعد بالأرض واحتجوا في ذلك بما وصفه يحيى بن سعيد في حديثه من القعود ويقول عبد الله بن عمر رضي الله عنه عنهما في حديث عبد الرحمن بن القاسم أن ذلك سنة الصلاة قالوا والسنة لا تكون إلا عن رسول صلى الله عليه و سلم وخالفهم في ذلك آخرون وقالوا أما القعود في آخر الصلاة فكما ذكرتم وأما القعود في التشهد الأول منها فعلى الرجل اليسرى وكان من الحجة لهم في ذلك فيما أحتج به عليهم الفريق الأول أن قول عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن سنة الصلاة فذكر ما في الحديث لا يدل ذلك أنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قد يجوز أن يكون رأى ذلك أو أخذه ممن بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين بعدي وقال سعيد بن المسيب لما سأله ربيعة عن أروش أصابع المرأة أنها السنة يا بن أخي ولم يكن مخرج ذلك إلا عن زيد بن ثابت فسمى سعيد قول زيد بن ثابت سنة فكذلك يحتمل أن يكون عبد الله بن عمر رضي الله عنهما سمى مثل ذلك أيضا سنة وإن لم يكن عنده في ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم شيء وفي ذلك حجة أخرى أن عبد الله بن عبد الله أرى القاسم الجلوس في الصلاة على ما في حديثه وذكر عبد الرحمن بن القاسم عن عبد الله بن عبد الله عن أبيه لما قال له فإنك تفعل ذلك فقال إن رجلاي لا تحملاني فكان معنى ذلك أنهما لو حملتاني قعدت على إحداهما وأقمت الأخرى لأن ذكره لهما لا يدل على أن إحداهما تستعمل دون الأخرى ولكن تستعملان جميعا فيقعد على إحداهما وينصب الأخرى فهذا خلاف ما في حديث يحيى بن سعيد وقد روى أبو حميد الساعدي عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما قد

عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد عبداللہ کو دیکھا کہ وہ نماز میں جب تشہد کے لیے بیٹھتے ہیں تو چوکڑی مار کر بیٹھتے ہیں میں نو عمر تھا میں نے ان کو دیکھ کر ایسا ہی کیا تو ( نماز سے فارغ ہو کر ) مجھے منع فرمایا اور کہنے لگے نماز میں تشہد میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ تم اپنے بائیں پاؤں کو کھڑا کر کے اور بائیں پاؤں دوہرا کر دو میں نےکہا آپ ایسا کیوں نہیں کرتے تو فرمانے لگے میرے پاؤں جسم کے بوجھ کو اٹھا نہیں سکتے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا خیال یہ ہے کہ تمام نماز میں بیٹھےنےکا طریقہ یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑآ کر کے اور بائیں پاؤں کو دوہرا کر کے زمین پر بچھا کر بیٹھے اور ان کی دلیل اس سلسلہ میں یحییٰ بن سعید کا نماز کے متعلق بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عبداللہ بن قاسم والی روایت میں یہ قول " ان ذلک سنۃ الصلاۃ" ہے وہ کہتے ہیں کہ سنت تو صرف عمل رسول اللہ ہوتی ہے۔ مگر دوسرے علماء نے کہا نماز میں بیٹھنے کا آخر میں طریقہ تو وہی ہے جو تم نے بیان کیا ۔ مگر اول قعدہ میں بائیں پاؤں پر بیٹھنا چاہیے انہوں نے بھی اپنا مستدل اسی روایت کو قرار دیا جو پہلے فریق کی دلیل ہے ۔ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے " ان ذلک سنۃ الصلاۃ" ہے پس سنت کا لفظ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس سے مراد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔ ممکن ہے کہ انہوں نے بعد والوں کو اس طرح کرتے دیکھا یا ان سے معلوم کیا ہو ۔ پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین " (الحدیث) ۔ تو خلفاء کی سنت کو بھی سنت کہا گیا ہے ۔ اسی طرح اب مسب رحمۃ اللہ علیہ سے ربیعہ نے عورت کی انگلیوں کی دیت دریافت کی تو انہوں نے فرمایا اے بھتجے یہ سنت ہے حالانکہ وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول تھا ۔ تو سعید نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول سنت فرمایا ۔ پس اسی طرح اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس قسم کی بات کو سنت فرمایا ۔ اگرچہ ان کے ہاں اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کچھ بھی مروی نہ ہو۔اس سلسلے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے قاسم کو نماز کے اندر بیٹھنے کے متعلق بتلایا جیسا کہ ان کی روایت میں ہے عبداللہ نے اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ آپ تو لتی پالتی مار کر بیٹھتے ہیں تو انہوں نے فرمایا میرے پاؤں میرا بوجھ برادشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر وہ بوجھ برادشت کرتے تو میں ایک پاؤں پر بیٹھتا کیونکہ ان کا دونوں پاؤں کے متعلق کر نہ کرنا اس بات پر دلات نہیں کرتا تا کہ ان مین سے ایک استعمال کیا جائے ۔ اور دوسرا استعمال کیا جائے بلکہ دونوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک پر بیٹھے اور دوسرے کو کھڑا کر لے ۔ یہ یحییٰ بن سعید والی روایت کے خلاف ہے اور حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح ذکر کیا ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1499

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1500

1429 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا عبد الحميد بن جعفر قال ثنا محمد بن عمرو بن عطاء قال سمعت أبا حميد الساعدي في عشرة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أحدهم أبو قتادة قال قال أبو حميد أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا لم فوالله ما كنت أكثرنا له تبعة ولا أقدمنا له صحبة فقال بلى قالوا فاعرض فذكر أنه كان في الجلسة الأولى يثني رجله اليسرى فيقعد عليها حتى إذا كانت السجدة التي يكون في آخرها التسليم أخر رجله اليسرى وقعد متوركا على شقه الأيسر قال فقالوا جميعا صدقت وما قد

محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں مین نے حجرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے اس وقت یہ بات سنی جبکہ وہ دس اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تشریف فرما تھے ان اصحاب عشرہ میں ابو قتاردہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ابو حمیدان کو مخاطب ہو کر فرمانے لگے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں انہوں نے کہا کیوں کہ اللہ کی قسم تم آپ کی اتباع میں ہم سے آگے بڑھنے والے نہیں اور صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ہم سے مقدم نہیں انہوں نے کہا کیوں نہیں وہ ابو حمید سے کہنے لگے بہر طور جو کچھ ہے تم تو حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کرو( محبوب کے اعمال میں محبوب کی خوشبورچی بسی ہے ) ابو حمید کہنے لگے جلسہ اولیٰ )قعدہ اولی میں آپ اپنے بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے جب آپ قعدہ اخیرہ کرتے تو بائیں پاؤں کو مؤخر کرتے اور زمین سرین کے سہارے سے بائیں طرف بیٹھ جاتے تو اس پر تمام نے کہا تم نے سچ کہا۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1500

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1501

1430 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب قال ثنا عمي عبد الله بن وهب قال حدثني الليث بن سعد عن يزيد بن يزيد بن محمد القرشي ويزيد بن أبي حبيب عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن محمد بن عمرو بن عطاء ح قال وأخبرني بن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب وعبد الكريم بن الحارث عن محمد بن عمرو بن عطاء عن أبي حميد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه غير أنه لم يقل فقالوا جميعا صدقت

محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے اور دوسری سند عبدالکریم بن حارث نے محمد بن عمرو بن عطاء سے اور انہوں نے ابو حمید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے صرف " فقالو جمیعا صدقت" کے الفاظ نقل نہیں کیے۔

جميعا صدقت ← رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه غير أنه لم يقل ← أَبِي حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← يزيد بن أبي حبيب، وعبد الكريم بن الحارث، ← بن لهيعة ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← يزيد بن يزيد بن محمد القرشي ويزيد بن أبي حبيب ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1501

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1502

1431 - حدثني أبو الحسين الأصبهاني هو محمد بن عبد الله بن مخلد قال ثنا عثمان بن أبي شيبة قال ثنا خالد بن مخلد قال ثنا عبد السلام بن حفص عن محمد بن عمرو بن حلحلة الدؤلي فذكر بإسناده مثله فهذا يوافق ما ذهب إليه أهل هذه المقالة وقد خالف في ذلك أيضا آخرون فقالوا القعود في الصلاة كلها سواء على مثل القعود الأول في قول أهل المقالة الثانية ينصب رجله اليمنى ويفترش رجله اليسرى فيقعد عليها واحتجوا في ذلك بما

عبدالسلام بن حفص نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ یہ اس کے موافق ہے جو پہلے قول والوں نے اختیار کیا اور لوگوں نے انکی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نماز میں پہلے قعدہ اسی طرح ہے جیسا دوسرے قول والوں نے کہا ہے کہ اپنے دائیں کو کھڑا کر لے اور بائیں کو بچھائے اور اس پر بیٹھ جائے ۔ انکی دلیل یہ روایت ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1502

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1503

1432 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن وروح بن الفرج قالا حدثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن عاصم بن كليب الجرمي عن أبيه عن وائل بن حجر الحضرمي قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت لأحفظن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فلما قعد للتشهد فرش رجله اليسرى ثم قعد عليها ووضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى ووضع مرفقه الأيمن على فخذه اليمنى ثم عقد أصابعه وجعل حلقه الإبهام والوسطى ثم جعل يدعو بالأخرى

عاصم بن کلیب جرمی نے اپنے والد سے انہوں نے وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی اور میں نے عزم کیا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو خوب یاد کروں گا کہتے ہیں کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کے لیے قعدہ کیا تو بائیں پاؤں کو بچھا یا پھر اس پر بیٹھ گئے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھا اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا اپنی انگلیوں کو ہتھیلی سے لا کر عقد کیا اور انگوٹھے اور دمیانی انگلی کا حلقہ بنایا اور سبابہ سے دعا کا اشارہ کرنے لگے۔

وائل بن حجر الحضرمي ← أَبِيهِ ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← صالح بن عبد الرحمن وروح بن الفرج

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1503

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1504

1433 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا الحماني قال ثنا خالد عن عاصم فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فهذا يوافق ما ذهبوا إليه من ذلك وفي قول وائل ثم عقد أصابعه يدعو دليل على أنه كان في آخر الصلاة فقد تضاد هذا الحديث وحديث أبي حميد فنظرنا في صحة مجيئهما واستقامة أسانيدهما

خالد نے عاصم سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے ۔

بإسناده مثله ← عَاصِمٍ، ← خَالِدٌ، ← الحماني ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1504

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1505

1434 - فإذا فهد ويحيى بن عثمان قد حدثانا قالا ثنا عبد الله بن صالح قال ثنا يحيى وسعيد بن أبي مريم قالا حدثنا عطاف بن خالد قال حدثنا محمد بن عمرو بن عطاء قال حدثني رجل أنه وجد عشرة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم جلوسا فذكر نحو حديث أبي عاصم سواء قال أبو جعفر فقد فسد بما ذكرنا حديث أبي حميد لأنه صار عن محمد بن عمرو عن رجل وأهل الإسناد لا يحتجون بمثل هذا فإن ذكروا في ذلك ضعف العطاف بن خالد قيل لهم وأنتم أيضا تضعفون عبد الحميد أكثر من تضعيفكم للعطاف مع أنكم لا تطرحون حديث العطاف كله إنما تزعمون أن حديثه في القديم صحيح كله وأن حديثه بآخره قد دخله شيء هكذا قال يحيى بن معين في كتابه فأبو صالح سماعه من العطاف قديم جدا فقد دخل ذلك فيما صححه يحيى من حديثه مع أن محمد بن عمرو بن عطاء لا يحتمل مثل هذا وليس أحد يجعل هذا الحديث سماعا لمحمد بن عمرو من أبي حميد إلا عبد الحميد وهو عندكم أضعف ولكن الذي روى حديث أبي حميد ووصله لم يفصل حكم الجلوس

عطاف بن حالد کہتے ہیں کہ ہمیں محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا اور کہا مجھے ایک آدمی نے بیان کیا کہ اس نے دس اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھے ہوئے پایا پھر انہوں نے باکل ابو عاصم جیسی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ہم نے جو روایات ذکر کی ہیں اس سے ابو حمید والی روایت فاسد ہو گئی ۔ کیونکہ محمد بن عمرو کے بعد ایک مجہول آدمی ہے۔ اور محدثین ایسی روایات کو قابل حجت قرار نہیں دیتے اگر بالفرض وہ عطاف بن خالد کے متعلق کہیں کہ وہ ضعیف ہے تو ہم کہیں گے کہ تم عبدالحمید کو عطاف سے بڑھ کر ضعیف قرار دیتے ہو مگر اسکی تمام روایات کو نہیں چھوڑتے بلکہ تمہارا خیال یہ ہے کہ اس کی تمام قدی م روایات تو درست ہیں اس کی آخری دور والی روایات میں کچھ کمزوری آچکی ہے ۔ یہ بات یحیٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں کہی ہے ۔ اور ابو صالح نے عطاف سے ابتدائی زمانہ میں حدیث سماعت کی ہے ۔ یہ ان روایات میں داخل ہو گئی جن کو یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح قرار دیا حالانکہ محمد بن عمرو کی عمر اس بات کا احتمال بھی نہیں رکھتی اور کسی نے اس روایت میں محمد بن عمرو کا ابو حمید سے سماع عبدالحمید کے سوا ثابت نہیں کیا اور وہ تمہارے ہاں ضعیف ترین روات سے ہیں ۔ مگر جس نے ابو حمید کی حدیث متصل روایت کی ہے اس نے بیتھنے کا حکم اس قدر تفصیل سے بیان بیان نہیں کیا جس قدر عبدالحمید نے بیان کیا ہے ۔

رَجُلٌ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← يحيى وسعيد بن أبي مريم ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فإذا فهد ويحيى بن عثمان قد حدثانا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1505

chevron_left Previous
1…606162…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter