Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 4 باب التأذين للفجر أي وقت هو بعد طلوع الفجر أو قبل ذلك ) · حديث 834

وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أن بلالا أذن قبل طلوع الفجر فأمره النبي صلى الله عليه و سلم أن يرجع فنادى ألا إن العبد قد نام فرجع فنادى ألا إن العبد قد نام فهذا بن عمر رضي الله عنهما يروي عن النبي صلى الله عليه و سلم ما ذكرنا وهو ممن قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال إن بلالا ينادي بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي بن بن مكتوم فثبت بذلك أن ما كان من ندائه قبل طلوع الفجر مما كان مباحا له هو لغير الصلاة وأن ما أنكره عليه إذ فعله قبل الفجر كان للصلوة وقد روي عن بن عمر رضي الله عنهما أيضا عن حفصة رضي الله عنها

نافع ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ طلوع فجر سے پہلے اذان دے دی تو ان کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ وہ دوبارہ لوٹ کر یہ اعلان کر دیں ۔ الا ان العبد قد نام بندے کو نیند میں معلوم نہیں رہا چنانچہ انہوں نے لوٹ کر یہ اعلان کیا " الا ان العبد قد نام " یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نقل کررہے ہیں حالانکہ وہ ان حضرات میں سے ہیں جن کی روایت یہ ہےکہ بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے ہیں پس تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں پس اس سے ثابت ہو گیا کہ طلوع صبح صادق سے پہلے جس اذان کو مباح قرار دیا گیا تھا وہ نماز کے علاوہ دیگر عمل کے لیے تھی اور جس اذان کے طلوع فجر سے پہلے ہو جانے پر آپ نے اعتراض کیا وہ نماز کے لیے تھی اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 834

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 4 باب التأذين للفجر أي وقت هو بعد طلوع الفجر أو قبل ذلك ) · حديث 835

789 - ما حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الكريم الجزري عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن حفصة رضي الله عنها بنت عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أذن المؤذن بالفجر قام فصلى ركعتي الفجر ثم خرج إلى المسجد وحرم الطعام وكان لا يؤذن حتى يصبح فهذا بن عمر رضي الله عنهما يخبر عن حفصة رضي الله عنها أنهم كانوا لا يؤذنون للصلوة إلا بعد طلوع الفجر وأمر النبي صلى الله عليه و سلم أيضا بلالا أن يرجع فينادي ألا إن العبد قد نام يدل على أن عادتهم أنهم كانوا لا يعرفون أذانا قبل الفجر ولو كانوا يعرفون ذلك أذانا لما احتاجوا إلى هذا النداء وأراد به عندنا والله أعلم بذلك النداء إنما هو ليعلمهم أنهم في ليل بعد حتى يصلى من آثر منهم أن يصلي ولا يمسك عما يمسك عنه الصائم وقد يحتمل أن يكون بلال كان يؤذن في وقت كان يرى أن الفجر قد طلع فيه ولا يتحقق ذلك لضعف بصره والدليل على ذلك ما

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب موذن فجر کی اذان دے دیتا تو آپ فجر کی دو رکعت پڑھتے پھر مسجد کی طرف نکلتے اور کھانا حڑام ہو جاتا (سحری کے لیے) اور صبح صادق جب تک طلوع نہ ہوتی آپ اذان نہ دیتے ۔ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جو حفضہ رضی اللہ عنہا کے متعلق خبر دے رہے ہیں کہ موذن نماز فجر کے لیے اذان طلوع فجر کے بعد دیا کرتے تھے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان لوٹا نے کاحکم فرمایا اور اس اعلان کا حکم فرمایا " ال ان العبد قد نام " کہ بندہ کو نیند آگئی تھی ۔ یہ بات اس عادت کو ثابت کرتی ہےکہ فجر سے پہلے اذان ان کے ہاں معروف نہ تھی ۔اگر لوگ اس کو جانتے ہوتے تو دوبارہ اعلان کی چنداں حاجت نہ تھی ۔ ہمارے ہاں اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ ان کو مطلع کریں کہ اب تک رات کا وقت باقی ہے تاکہ جو شخص رات کو نماز ادا کرنے کا ارداہ رکھتا ہو وہ ادا کرے اور ان چیزوں کے استعمال سے پہلے اپنے ہاتھ کو نہ روکے جن سے روازہ دار بچتا ہے اور اس میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ گمان کر کے اذان دیتے ہوں کہ فجر طلوع ہو چکی مگر نگاہ کی کمزوری کی وجہ سےا سی طلوع فجر کو اچھی طرح معلوم نہ کر سکتے تھے ۔ دلیل یہ روایات ہیں ۔

حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 835

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 4 باب التأذين للفجر أي وقت هو بعد طلوع الفجر أو قبل ذلك ) · حديث 836

790 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن إشكاب ح

ابن ابی داؤد نے احمد بن اشکاب سے اور انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

أَحْمَدُ بْنُ إِشْکَابٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 836

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 4 باب التأذين للفجر أي وقت هو بعد طلوع الفجر أو قبل ذلك ) · حديث 837

وحدثنا فهد قال ثنا شهاب بن عباد العبدي قال ثنا محمد بن بشر عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغرنكم أذان بلال فأن في بصره شيئا فدل ذلك على أن بلالا كان يريد الفجر فيخطيه لضعف بصره فأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا يعملوا على أذانه إذ كان من عاداته الخطأ لضعف بصره وقد

قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو اذان بلال سے دھوکا نہ لگ جائے ان کی بصارت میں کچھ کمزوری ہے ۔ اس سے یہ دلالت مہیا ہو گئی کہ بلال رضی اللہ عنہ طلوع صبح صادق کا اراد فرماتے نظر کی کمزوری سے خطاء ان کی عادت بن چکی ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ← وحدثنا فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 837

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 4 باب التأذين للفجر أي وقت هو بعد طلوع الفجر أو قبل ذلك ) · حديث 838

791 - حدثنا الربيع بن سليمان الجيزي قال ثنا أبو الأسود قال ثنا بن لهيعة عن سالم عن سليمان عن بن عثمان أنه حدثه عن عدي بن حاتم عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لبلال إنك تؤذن إذا كان الفجر ساطعا وليس ذلك الصبح إنما الصبح هكذا معترضا فأخبره في هذا الأثر أنه كان يؤذن بطلوع ما يرى أنه الفجر وليس هو في الحقيقة بفجر وقد روينا عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن بلالا ينادي بليل فكلوا واشربوا حتى ينادى بن أم مكتوم قالت ولم يكن بينهما إلا مقدار ما يصعد هذا وينزل هذا فلما كان بين أذانهما من القرب ما ذكرنا ثبت أنهما كانا يقصدان وقتا واحدا وهو طلوع الفجر فيخطيه بلال لما يبصره ويصيبه بن أم مكتوم لأنه لم يكن يفعله حتى يقول له الجماعة أصبحت أصبحت ثم قد روى عن عائشة رضي الله عنها من بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ما

عثمان نے عدی رضی اللہ عنہ بن حاتم سے بیان کیا اور اس نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہا کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو فرمایا تم اس وقت اذان دیتے ہو فجر (کاذب) چمک رہی ہوتی ہے اور یہ صبح (صادق) نہیں بے شک صبح تو اس طرح چوڑائی میں ہوتی ہے ۔ اس ارشاد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو یہ بتلایا کہ تم اس چیز کے ظاہر ہونے پر اسے فجر سمجھ کر اذان دے دیتے ہو ۔ مگر وہ حقیقت میں فجر نہیں ہے اور ہم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا قول نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رات ابھی باقی ہوتی ہے کہ اذان دے دیتے ہیں ، پس تم سحری کھاؤ ،پیئو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں ۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان دونوں کی اذان میں اتنا وفقہ ہوتا کہ وہ اذان کے لیے چڑھتے اور وہ اذان دے کر اترتے ۔جب ان دونوں ازانوں میں اتنا کم فاصلہ تھا تو اس سے ثابت ہو گیا کہ وہ دونوں حضرات طلوع صبح صادق کا ارادہ رکھتے تھے ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ بصارت میں کمزوری کی وجہ سے خطاء کر جاتے اور حضڑت ابن ام مکتوم صبح طلوع فجر پر اذان دیتےکیونکہ وہ اذان اسی وقت دیتے جب تک لوگ ان کو " اصبحت اصبحت " کہ صبح ہو گئی ، صبح ہو گئی نہ پکارتے ۔پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ مروی ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← بن عثمان أنه ← سُلَیْمَانَ ← سَالِمٍ ← بن لهيعة ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← الربيع بن سليمان الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 838

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 4 باب التأذين للفجر أي وقت هو بعد طلوع الفجر أو قبل ذلك ) · حديث 839

792 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة عن أبي إسحاق عن الأسود قال قلت يا أم المؤمنين متى توترين قالت إذا أذن المؤذن قال الأسود وإنما كانوا يؤذنون بعد الصبح وهذا تأذينهم في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم لأن الأسود إنما كان سماعه عن عائشة رضي الله عنها بالمدينة وهي قد سمعت من النبي صلى الله عليه و سلم ما روينا عنها ذلك فلم ينكر عليهم تركهم التأذين قبل الفجر ولا أنكر ذلك غيرها من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فدل ذلك أن مراد بلال بأذانه ذلك الفجر وأن قول رسول الله صلى الله عليه و سلم فكلوا واشربوا حتى ينادي بن أم مكتوم إنما هو لإصابة طلوع الفجر فلما رويت هذه الآثار على ما ذكرنا وكان في حديث حفصة رضي الله عنها أنهم كانوا لا يؤذنون حتى يطلع الفجر فإن كان ذلك كذلك فقد بطل المعنى الذي ذهب اليه أبو يوسف وإن كان المعنى على غير ذلك وكانوا يؤذنون قبل الفجر على القصد منهم لذلك فإن حديث بن مسعود عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد بين أن ذلك التأذين كان لغير الصلاة وفي تأذين بن أم مكتوم بعد طلوع الفجر دليل أن ذلك موضع أذان لتلك الصلاة ولو لم يكن ذلك موضع أذان لها لما أبيح الأذان فيها فلما أبيح ذلك ثبت أن ذلك الوقت وقت للأذان واحتمل تقديمهم أذان بلال قبل ذلك ما ذكرنا ثم اعتبرنا ذلك أيضا من طريق النظر لنستخرج من القولين قولا صحيحا فرأينا سائر الصلوات غير الفجر لا يؤذن لها إلا بعد دخول أوقاتها واختلفوا في الفجر فقال قوم التأذين لها قبل دخول وقتها وقال آخرون بل هو بعد دخول وقتها فالنظر على ما وصفنا أن يكون الأذان لها كالأذان لغيرها من الصلوات فلما كان ذلك بعد دخول أوقاتها كان أيضا في الفجر كذلك فهذا هو النظر وهو قول أبي حنيفة رضي الله عنه ومحمد وسفيان الثوري

اسود کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ام المومنین آپ و ترکب ادا کرتی ہیں ؟ فرمایا جب موذن اذان دے چکتا ہے ۔ اسود کہتے ہیں کہ وہ صبح صادق کے بعد اذان دیتے اور یہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اذان سے متعلق ہے کیونکہ اس کا سماع حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مدینہ منورہ میں ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے وہ روایت خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھی تھی جو ہم کر آئے ۔ اس لیے فجر سے پہلے والی اذان کے چھوڑنے پر انہوں نے اعتراض نہ کیا اور ان کے علاوہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انکار نہ کیا ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا مقصود بھی اذان سے اذان فجر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ( فکلوا واشربوا) یہ طلوع فجر کے صحیح طور پر ظاہر ہونے کی بناء پر تھا ۔ جب روایات اس انداز سے وارد ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس وقت تک اذان نہ دیتے تھے جب تک صبح صادق طلوع نہ ہو جاتی اگر یہ بات اسی طرح ہے تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے جس معنی کو اختیار کیا وہ باطل ٹھہرا ۔بالفرض اگر وہ معنی مراد لیا جائے کہ قہ جان بوجھ کر فجر سے پہلے اذان دیتے تھے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والی روایت سے یہ بات کھول دی کہ وہ اذان فجر کے لیے اذان نہ تھی اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی وہ اذان جوطلاع فجر کے بعد ہوا کرتی تھی وہ اس پر شاہد ہے کہ یہ اس نماز کے وقت کی اذان ہے اگر وہ اس کی اذان کا وقت نہ ہوتا تو اس وقت اذان درست نہ ہوتی جب وہ مباح قرار دی گئی تو اس سے یہ بات خود ثابت ہو گئی کہ یہ وقت اذان فجر کا وقت تھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کو مقدم کرنے میں وہی احتمال ہے جو ہم ذکر کر آئے ۔ اب اس کو نظری انداز سے دیکھا تو ہم نے یہ بات پائی کہ دوسری نمازوں کے لیے اذان ان کے وقت داخل ہونے کے بعد دی جاتی ہے ۔ فجر میں صرف اختلاف ہے ایک جماعت نے کہا کہ اس کی اذان وقت سے پہلے دی جا سکتی ہے اور دوسری جماعت کا موقف یہ ہے کہ اذان بھی وقت کے داخل ہونے کے بعد دی جا ئے تو اس بیان کا تقاضا یہ ہے کہ فجر کے لیے بھی یہی حکم ہونا چاہیے نظر و قیاس اسی کو چاہتے ہیں ۔یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 839

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 4 باب التأذين للفجر أي وقت هو بعد طلوع الفجر أو قبل ذلك ) · حديث 840

793 - حدثني بن أبي عمران قال ثنا علي بن الجعد قال سمعت سفيان بن سعيد وقال له رجل إني أؤذن قبل طلوع الفجر لأكون أول من يقرع باب السماء بالنداء فقال سفيان لا حتى ينفجر الفجر وقد روى عن علقمة من هذا شيء

علی بن جعد کہتے ہیں کہ میں نے سفیان بن سعید سے سنا کہ ان کو ایک آدمی نے کہا میں طلوع فجر سے پہلے اذان دیتا ہوں تاکہ میری اذان سب سے پہلے اذان کے ذریعہ آسمان کا دروازہ کھٹکھٹا نے والی ہوتو انہوں نے فرمایا مت اذان دو جب تک کہ فجر طلوع نہ وہ ۔

سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 840

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 4 باب التأذين للفجر أي وقت هو بعد طلوع الفجر أو قبل ذلك ) · حديث 841

794 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال أنا شريك عن علي بن علي عن إبراهيم قال شيعنا علقمة الى مكة فخرج بليل فسمع مؤذنا يؤذن بليل فقال أما هذا فقد خالف سنة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لو كان نائما كان خيرا له فإذا طلع الفجر أذن فأخبر علقمة أن التأذين قبل طلوع الفجر خلاف لسنة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم

ابراہیم کہتے ہیں کہ ہم علقمہ کے ساتھ مکہ کی طرف گئے وہ رات کو نکلے تو انہوں نے ایک موذن کو رات کے وقت اذان دیتے سنا آپ نے فرمایا لو سنو! اس شخص نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی خلاف ورزی کی ہے اگر اس کی بجائے سو رہتا تو بہتر تھا جب فجر طلوع ہو جاتی تب اذان دتیا ۔ حضرت علقمہ نے یہ بات بتلادی کہ طلوع فجر سے پہلے اذان یہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے خلاف ہے ۔

مؤذنا يؤذن بليل ← شيعنا علقمة الى مكة فخرج بليل ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 841

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 5 باب الرجلين يؤذن أحدهما ويقيم الآخر ) · حديث 842

795 - حدثنا يونس قال أنا عبد الله بن وهب قال أخبرني عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن زياد بن نعيم أنه سمع زياد بن الحارث الصدائي قال أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما كان أول الصبح أمرني فأذنت ثم قام إلي الصلاة فجاء بلال ليقيم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن أخا صداء أذن ومن أذن فهو يقيم

زیاد بن نعیم نے زیادہ بن حارث صدائی کو فرماتے سنا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا جب صبح کی ابتداء ہوئی تو مجھے حکم دیا پس میں نے اذان دی پھر نماز کے لیے کھڑے ہو ئے تو بلال اقامت کہنے لگے تو آپ نے فرمایاتمہارے بھائی زیادہ صدائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہتا ہے ۔

زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ ← زياد بن نعيم أنه ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 842

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 5 باب الرجلين يؤذن أحدهما ويقيم الآخر ) · حديث 843

796 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن سفيان قال أخبرني عبد الرحمن بن زياد عن زياد بن نعيم عن عبد الله بن الحارث الصدائي عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقالوا لا ينبغي أن يقيم للصلوة غير الذي أذن لهم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس أن يقيم الصلاة غير الذي أذن لها واحتجوا في ذلك بما

عبداللہ بن الحارث الصدائی نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ اور ایک جماعت علماء نے اس روایت کو اپنایا اور انہوں نے کہا کہ یہ مناسب نہیں کہ جس نے اذان کہی ہو اس کے علاوہ اقامت کہے ۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں حرج نہیں کہ موذن کے علاوہ دوسرا اقامت کہے اور اسکی دلیل یہ آثار ہیں ۔

أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث ← عبد الله بن الحارث الصدائي ← زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 843

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 5 باب الرجلين يؤذن أحدهما ويقيم الآخر ) · حديث 844

797 - حدثنا أبو أمية قال ثنا المعلي بن منصور قال أخبرني عبد السلام بن حرب عن أبي العميس عن عبد الله بن محمد بن عبد الله بن زيد عن أبيه عن جده أنه حين أرى الأذان أمر النبي صلى الله عليه و سلم بلالا فأذن ثم أمر عبد الله فأقام

حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ جب ان کو خواب میں اذانکھائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کو حکم دیا انہوں نے اقامت کہی ۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن محمد بن عبد الله بن زيد ← أَبِي الْعُمَيْسِ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 844

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 5 باب الرجلين يؤذن أحدهما ويقيم الآخر ) · حديث 845

798 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال ثنا عبد السلام بن حرب عن أبي العميس عن عبد الله بن محمد بن عبد الله بن زيد عن أبيه عن جده قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته كيف رأيت الأذان فقال ألقهن على بلال فإنه أندى صوتا منك فلما أذن بلال ندم عبد الله فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقيم فلما تضاد هذان الحديثان أردنا أن نلتمس حكم هذا الباب من طريق النظر لنستخرج به من القولين قولا صحيحا فنظرنا في ذلك فوجدنا الأصل المتفق عليه أنه لا ينبغي أن يؤذن رجلان أذانا واحدا يؤذن كل واحد منهما بعضه فاحتمل أن يكون الأذان والإقامة كذلك لا يفعلهما إلا رجل واحد واحتمل أن يكونا كالشيئين المتفرقين فلا بأس بأن يتولى كل واحد منهما رجل على حدة فنظرنا في ذلك فرأينا الصلاة لها أسباب تتقدمها من الدعاء إليها بالأذان ومن الإقامة لها هذا في سائر الصلوات ورأينا الجمعة يتقدمها خطبة لا بد منها فكانت الصلاة مضمنة بالخطبة وكان من صلى الجمعة بغير خطبة فصلاته باطلة حق تكون الخطبة قد تقدمت الصلاة ورأينا الإمام لا يجب أن يكون هو غير الخطيب لأن كل واحد منهما مضمن بصاحبه فلما كان لا بد منهما لم ينبغ أن يكون القائم بهما إلا رجلا واحدا ورأينا الإقامة جعلت من أسباب الصلاة أيضا وأجمعوا أنه لا بأس أن يتولاها غير الإمام فكما كان يتولاها غير الإمام وهي من الصلاة أقرب منها من الأذان كان لا بأس أن يتولاها غير الذي يتولى الأذان فهذا هو النظر وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خڈمت میں کی خدمت میں آیا اور آپ کو خبر دی کہ کس طرح میں نے اذان کا خواب دیکھا آپ نے فرمایا یہ کلمات بلال کو تلقین کرو وہ تم سے زیادہ بلند آواز والے ہیں جب بلال نے اذان دی تو عبداللہ شرمندہ ہوئے پس آپ نے ان کو اقامت کا حکم دیا ۔ جب یہ دونوں روایات باہمی متضاد ہوئیں تو ہم نے چاہا کہ اس باب کا حکم نظرو فکر سے تلاش کریں تاکہ دونوں اقوال میں سے درست ترین قول کو نکال سکیں ۔ پس غور سےمعلوم کیا کہ اس باب کا حکم نظر و فکر سے تلاش کریں تاکہ دونوں اقوال میں درست ترین قول کو نکال سکیں ۔ پس غور سے معلوم کیا کہ اس اصل پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ مناسب نہیں کہ دو آدمی ایک اذان دیں کہ ان میں سے ہر ایک کا کچھ کچھ حصہ کہے ۔ پس یہ احتمال پیدا ہوگیا کہ اذان اور اقامت کا بھی یہی حال ہو کہ ان میں سے ہر ایک کا ایک الگ شخص دمہ دار ہو ۔ چنانچہ غور سے معلوم ہوا کہ نماز کے متعدد اسباب ہیں جو اس سے پہلے نماز کی طرف اذان کے ذریعہ دعوت دی جاتی ہے اور اقامت سے بھی نماز کی طرف بلایا جاتا ہے ۔ اور یہ تمام نمازوں میں ہے ۔ہم نے یہ بھی غور کیا کہ جمعہ سے پہلے خطبہ لازمی ہے اور نماز جمعہ خطبہ سے متصل ہے ۔ جو شخص خطبہ کے بغیر جمعہ ادا کرے اس کا جمعہ باطل ہے ۔ ای لیے خطبہ کو نماز سے پہلے رکھا گیا اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ امام خود خطیب ہی ہونا چاہیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہے ۔ جب دونوں کا پایا جانا ضروری ہوا تو مناسب نہیں کہ ان دونوں کو انجام دینے والا ایک ہی شخص ہو ۔ ہم غور کرتے ہیں کہ اقامت بھی اسباب نماز ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کا زمہ دار امام کے علاوہ اور شخص ہو ۔ پس جس طرح امام کے علاوہ شخص اس کا ذمہ دار بن سکتا ہے حالانکہ یہ بھی نماز سے متعلق ہے اور اذان کی نسبت اس سے قریب تر ہے تو اسمیں کچھ حرج نہیں کہ اس کا ذمہ دار موذن کے علاوہ شخص ہو ۔ نظر و فکر کا تقاضا یہی ہے ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته كيف رأيت الأذان ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عبد الله بن محمد بن عبد الله بن زيد ← أَبِي الْعُمَيْسِ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 845

chevron_left Previous
1…567…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter