شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1458
1388 - وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن عبيد بن حسين قال سمعت بن معقل يقول صليت خلف علي رضي الله عنه الصبح فقنت قال أبو جعفر فقد يجوز أن يكون علي رضي الله عنه كان يرى القنوت في صلاة الفجر في سائر الدهر وقد يجوز أن يكون فعل ذلك في وقت خاص للمعنى الذي كان فعله عمر رضي الله عنه من أجله فنظرنا في ذلك
عبید بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے ابن معقل کو کہتے سنا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز ادا کی پس انہوں نے اس میں قنوت پڑھی قابل توجہ بات یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ آیا ہمیشہ نماز فجر میں قنوت پڑھتے یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح دشمن سے مقابلہ کے وقت پڑھا کرتے تھے چنانچہ مندرجہ ذیل آثار سے اسکی نشاندہی ہوتی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ممکن ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیشہ نماز فجر میں قنوت کوجائز قرار دیتے ہوں اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ آپ نے ایک خاص وقت میں کیا اور اس کی وجہ وہی ہو جس کی بناء پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پڑھا کرتے تے ۔ چنانچہ اس سلسلے میں غور کرنے پر یہ روایات سامنے آئیں ۔
صليت خلف علي الصبح فقنت ← بن معقل ← عبيد بن حسين ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1458
