Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1434

1365 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زائدة عن الأشعث عن أبيه قال سئل بن عمر رضي الله عنه عنهما عن القنوت فقال وما القنوت فقال إذا فرغ الإمام من القراءة في الركعة الآخرة قام يدعو قال ما رأيت أحدا يفعله وإني لأظنكم معاشر أهل العراق تفعلونه وكما

اشعت نے اپنے والد سے نقل کیا کہ ابن عمر سے قنوت کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا قنوت کیا ہے ؟ اس نے کہا جب امام دوسری رکعت کی قراءت سے فراغت پا لے تو کھڑے ہو کر دعا کرے ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے تو نہیں دیکھا کہ کوئی اسے کرتا ہو اور میرے خیال میں تو اہل عراق اس کو کرتے ہیں ۔

إذا فرغ الإمام من القراءة في الركعة الآخرة قام يدعو ← وما القنوت ← الْقُنُوتِ، ← سئل بن عمر عنهما ← أَبِيهِ ← الْأَشْعَثِ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1434

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1435

1366 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زائدة عن منصور عن تميم بن سلمة قال سئل بن عمر رضي الله عنهما عن القنوت فذكر مثله إلا أنه قال ما رأيت ولا علمت فوجه ما روى عن بن عمر رضي الله عنه في هذا الباب أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رفع رأسه من الركعة الآخرة قنت حتى أنزل الله تعالى ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون فترك لذلك القنوت الذي كان يقنته وسأله أبو مجلز فقال آلكبر يمنعك من القنوت فقال ما أحفظه من أحد من أصحابي يعني من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أي إنهم لم يفعلوه بعد ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم إياه وسأله أبو الشعثاء عن القنوت وسأله بن عمر رضي الله عنه عن ذلك القنوت ما هو فأخبره أن الامام إذا فرغ من القراءة في الركعة الآخرة من صلاة الصبح قام يدعو فقال ما رأيت أحدا يفعله لأن ما كان هو علمه من قنوت النبي صلى الله عليه و سلم إنما كان الدعاء بعد الركوع وأما قبل الركوع فلم يره منه ولا من غيره فأنكر ذلك من أجله فقد ثبت بما روينا عنه نسخ قنوت رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد الركوع ونفى القنوت قبل الركوع أصلا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن يفعله ولا خلفاؤه من بعده وكان أحد من روى عنه القنوت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم عبد الرحمن بن أبي بكر فأخبر في حديثه الذي رويناه عنه بأن ما كان يقنت به رسول الله صلى الله عليه و سلم دعاء على من كان يدعو عليه وأن الله عز و جل نسخ ذلك بقوله ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم الآية ففي ذلك أيضا وجوب ترك القنوت في الفجر [ ص 247 ] وكان أحد من روى عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك أيضا خفاف بن إيماء فذكر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه لما رفع رأسه من الركوع قال أسلم سالمها الله وغفار غفر الله لها وعصية عصت الله ورسوله اللهم العن بني لحيان ومن ذكر معهم ففي هذا الحديث لعن من لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي حديثي بن عمر رضي الله عنهما وعبد الرحمن بن أبي بكر وقد أخبراهما في حديثهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ترك ذلك حين أنزلت عليه الآية التي ذكرنا ففي حديثهما النسخ كما في حديث خفاف بن إيماء فهما أولى من حديث بن إيماء وفي ذلك وجوب ترك القنوت أيضا وكان أحد من روى عنه ذلك أيضا البراء فروى عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقنت في الفجر والمغرب ولم يخبر بقنوته ذلك ما هو فقد يجوز أن يكون ذلك القنوت الذي رواه بن عمر رضي الله عنهما وعبد الرحمن بن أبي بكر ومن روى ذلك معهما ثم نسخ ذلك بهذه الآية أيضا وقد قرن في هذا الحديث بين المغرب والفجر فذكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقنت فيهما ففي إجماع مخالفنا لنا على أن ما كان يفعله في المغرب من ذلك منسوخ ليس لأحد بعده أن يفعله دليل على أن ما كان يفعله في الفجر أيضا كذلك وكان أحد من روى عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا القنوت في الفجر أنس بن مالك رضي الله عنه فروى عمرو بن عبيد عن الحسن عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يزل يقنت بعد الركوع في صلاة الغداة حتى فارقه فأثبت في هذا الحديث القنوت في صلاة الغداة وأن ذلك لم ينسخ وقد روى عنه من وجوه خلاف ذلك فروى أيوب عن محمد بن سيرين قال سئل أنس أقنت رسول الله صلى الله عليه و سلم في صلاة الصبح فقال نعم فقيل له قبل الركوع أو بعده فقال بعد الركوع يسيرا وروى إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عنه أنه قال قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثين صباحا علي رعل وذكوان وروى قتادة عنه نحوا من ذلك وروى عنه حميد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما قنت عشرين يوما فهؤلاء كلهم قد أخبروا عنه خلاف ما روي عمرو عن الحسن وقد روى عاصم عنه إنكار القنوت بعد الركوع أصلا وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما فعل ذلك شهرا ولكن القنوت قبل الركوع فضاد ذلك أيضا ما روى عمرو بن عبيد وخالفه فلم يجز لأحد أن يحتج في حديث أنس رضي الله عنه بأحد الوجهين مما روى عن أنس رضي الله عنه لأن لخصمه أن يحتج عليه بما روى عن أنس مما يخالف ذلك وأما قوله ولكن القنوت قبل الركوع فلم يذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم فقد يجوز أن يكون ذلك أخذه عمن بعده أو رأيا رآه فقد رأى غيره من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك فلا يكون قوله أولى من قول من خالفه إلا بحجة تبين لنا فإن قال قائل فقد روى أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس قال كنت جالسا عند أنس بن مالك رضي الله عنه فقيل له إنما قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم شهرا فقال ما زال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقنت في صلاة الغداة حتى فارق الدنيا قيل له قد يجوز أن يكون ذلك القنوت هو القنوت الذي رواه عمرو عن الحسن عن أنس رضي الله عنه فإن كان ذلك كذلك فقد ضاده ما قد ذكرنا ويجوز أن يكون ذلك القنوت هو القنوت قبل الركوع الذي ذكره أنس رضي الله عنه في حديث عاصم فلم يثبت لنا عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم في القنوت قبل الركوع شيء وقد ثبت عنه النسخ للقنوت بعد الركوع وكان أبو هريرة رضي الله عنه أحد من روى عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا القنوت في الفجر فذلك القنوت هو دعاء لقوم ودعاء على آخرين وفي حديثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ترك ذلك حين أنزل الله عز و جل ليس لك من الأمر شيء الآية فإن قال قائل فكيف يجوز أن يكون هذا هكذا وقد كان أبو هريرة رضي الله عنه بعد النبي صلى الله عليه و سلم يقنت في الصبح فذكر ما قد حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف ح

نعیم بن سلمہ کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے قنوت کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے اسی طرح کی بات فرمائی جو پہلی روایت میں گزری صرف فرق یہ تھا " مارایت ولا علمت" نہ میں نے یہ دیکھا اور نہ میں اسے جانتا ہوں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کی وضاحت اس سلسلہ میں اس طرح ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ جب آپ دوسری رکعت کے رکوع سے اٹھتے تو قنوت پڑھتے، یہاں تک کہ (لیس لک من الامر القرآن) آیت نازل ہوئی ۔ اس وقت آپ نے اس قنوت کو ترک کر دیا ۔ چنانچہ ابو مجلز نے ان سے دریافت کیا آپ بڑھاپے کی وجہ سے قنوت نہیں پڑھتے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھے تو تو اپنے کسی دوست کے متعلق بھی یہ بات یاد نہیں کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑنے کے بعد اس کو اختیار کیا ہو ابو اشعثاء نے جب ان سے قنوت کے متعلق دریافت کیا اور خود ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کے سوال پر فرمایا وہ قنوت کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب بتلایا کہ امام جب دوسری رکعت کی قراءت سے فارغ ہو جائے تو وہ دعا مانگے ۔ وہ فرمانے لگے میں نے تو کسی کو یہ عمل کرتے نہیں دیکھا اس لیے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قنوت تو رکوع کے بعد دعا کی صورت میں تھی ۔مگر رکوع سے پہلے انہوں نے نہ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور نہ کسی اور کو اس وجہ سے انہوں نے تعجب کرتے ہوئے انکار فرمایا ۔ ہم نے ان کی جو روایت ذکر کی ہے اس سے رکوع کے بعد والی قنوت کا نسخ ثابت ہو گیا ۔ اور رکوع ماقبل قنوت کی انہوں نے خود نفی کر دی اور یہ واضح کر دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے بعد خلفاء کا یہ طرز عمل نہ تھا ۔ قنوت کے منجملہ روات میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔ انہوں نے اپنی اس روایت میں جو ہم نے ذکر کی یہ واضح کر دیا کہ آپکی قنوت تو کفار کے خلاف بددعا تھی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے (لیس لک من الامر القرآن) کے ذریعے اس کو منسوخ کر دیا ۔ اس روایت سے بھی نماز فجر میں قنوت کے ترک کا وجوب ثابت ہوا ۔ قنوت کے روات میں حضرت خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ کانا بھی آتا ہے ان کی روایت میں یہ ہے کہ آپ نے جب رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا کہ اللہ قبیلہ اسلم والوں کو سلامت رکھے اور غفار کی بخشش فرمائے اور عصبہ قبیلہ کے لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، اے اللہ بنو لحیان اور ان کے ساتھ جو مذکور ہوئے ان پر لعنت کر ۔ اس روایت کے مطابق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض افراد و قبائل پر لعنت کی اور ابن عمر اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی روایات میں بتلایا کہ آیت لیس لک اترنے پر اس لعنت کرنے کو ترک کر دیا تھا پس ان دونوں روایات میں خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح نسخ ہے ۔ یہ دونوں روایات اس روایت سے اعلیٰ ہیں ۔ اگر حضرت خفاف رضی اللہ عنہ کی روایت قنوت کے چھوڑنے کو لازم کر رہی ہے اور قنوت کو روایت کرنے والوں میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بھی ہیں انکی روایت کا حاصل یہ ہے کہ آپ نماز فجر و مغرب میں قنوت پڑھتے تھے مگر اس قنوت کی حقیقت روایت میں مذکور نہیں تو ممکن ہے کہ یہ وہی قنوت ہو جس کو ابن عمر اور عبدالرحمن ابن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی روایات میں ذکر کیا، اور ان سے یہ منقول ہوئی پھر منسوخ ہو گئی اور اس کا نسخ بھی اس آیت سے ہوا اور اس میں فجر و مغرب کا اکٹھا ذکر کیا کہ ان میں قنقت پڑھی جاتی تھی ۔ مغرب کے بارے میں تو ہمارے مخالفین کو بھی اتفاق ہے کہ وہ منسوخ ہو چکی ۔ تو ہم کہتے ہیں فجر کے متعلق بھی یہی حکم ہےکسی نسخ کے بعد پڑھنا جائز نہیں۔ قنوت کے روات میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بھی نام آتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز رکوع کے بعد وفات تک قنوت پڑھتے رہے اس روایت میں یہ فجر میں قنو ت کا عدم نسخ ہو رہا ہے اور اس روایت کے روات کو اسکو مختلف انداز سے بیان کیا، چنانچہ ہم عرض کرتے ہیں (1) ابن سیرین کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں قنوت پڑھی تو انہوں نے کہا جی ہاں ۔ پھر میں نے پوچھا کیا رکوع سے پہلے یا بعد تو انہوں نے فرمایا ذرا بعد میں ۔ (2)اسحاق کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک صبح کی نماز میں رعل و ذکوان کے لیے قنوت پڑھی ۔ (3) قتادہ کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ (4) حمید کی روایت میں ہے کہ بیس دن قنوت پڑھنے کا تذکرہ ہے ۔یہ تمام حضرات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس روایت کے خلاف ذکر کر رہے ہیں جو حسن نے ان سے نقل کی ہے عاصم تو رکوع کے بعد قنوت کا بالکل انکار کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ نے صرف ایک ماہ قنوت پڑھی اور وہ بھی رکعت سے پہلے تھی ۔ چنانچہ یہ روایت بھی عمرو کی روایت کے برعکس ہے ۔ پس حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے کسی کو استدلال کا حق نہیں کیونکہ دوسرا فریق انہی کی دوسری سند والی روایت کو پیش کر دے گا۔باقی روایت کا یہ جملہ " لکن القنوت قبل الرکوع " انہوں نے اسے مرفوع نقل نہیں کیا عین ممکن ہے کہ یہ ان کی رائے ہو یا بعد والوں سے لیا ہو۔ اس لیے کہ دیگر صحابہ کرام کی رائے اس کے خلاف ہے پس ان کا قول ان کے بالمقابل دوسرے لوگوں سے واضح دلیل کے بغیر اولیت اختیار نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کر لے حضرت ربیع بن انس کہتے ہیں میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا ان سے پوچھا کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت پڑھی ہے تو انس کہنےلگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک قنوت پڑھی ہے ۔ ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ یہ حسن کی روایت والی قنوت ہے اگر بات اسی طرح ہو ۔ تو یہ مذکورہ بالا روایت سے متضاد ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ رکوع سے پہلے والی قنوت ہو جو عاصم کی روایت میں ہے ۔ حالانکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی رکوع سے پہلے قنوت میں ایک روایت بھی ان سے ثابت نہیں بلکہ رکوع کے بعد قنوت کا نسخ ان سے ثابت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی قنوت کے روایت سے ہیں اور قنوت فجر کے راوی ہیں جو کہ یک قوم کے خلاف بدعا تھی اور اسی روایت میں موجود ہے ہے کہ آیت ( لیس لک من الامر القرآن) کے نزول کے بعد آپ نے اسے ترک کر دیا اگر کوئی یہ اعتراض کر لے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ اس طرح ہو جبکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے ۔ جیسا کہ یونس کی یہ روایت ہے ۔

مثله إلا ← الْقُنُوتِ، ← سئل بن عمر ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1435

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1436

وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قالا ثنا بكر بن مضر عن جعفر بن ربيعة عن الأعرج قال كان أبو هريرة رضي الله عنه يقنت في صلاة الصبح قال أبو جعفر فدل ذلك على أن المنسوخ عند أبي هريرة رضي الله عنه إنما كان هو الدعاء على من دعا عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فأما القنوت الذي كان مع ذلك فلا قيل له إن يونس بن يزيد قد روى عن الزهري في حديث القنوت الذي رويناه في أول هذا الباب ما قد حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب فذكر ذلك الحديث بطوله ثم قال فيه ثم قد بلغنا أنه ترك ذلك حين أنزل عليه ليس لك من الأمر شيء الآية فصار ذكر نزول هذه الآية الذي كان به النسخ من كلام الزهري لا مما رواه عن سعيد وأبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه فقد يحتمل أن يكون نزول هذه الآية لم يكن أبو هريرة رضي الله عنه علمه فكان يعمل على ما علم من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم وقنوته إلى أن مات لأن الحجة لم تثبت عنده بخلاف ذلك وعلم عبد الله بن عمر رضي الله عنه عنهما وعبد الرحمن بن أبي بكر أن نزول هذه الآية كان نسخا لما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يفعله فانتهينا إلى ذلك وتركا به المنسوخ المتقدم وحجة أخرى أن في حديث بن إيماء أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال حين رفع رأسه من الركعة غفار غفر الله لها حتى ذكر ما ذكر في حديثه ثم قال الله أكبر وخر ساجدا فثبت بذلك أن جميع ما كان يقوله هو ما ترك بنزول تلك الآية وما كان يدعو به مع ذلك من دعائه للأسرى الذين كانوا بمكة ثم ترك ذلك عندما قدموا وقد روى أبو هريرة رضي الله عنه أيضا في حديث يحيى بن كثير الذي قد رويناه فيما تقدم منا في هذا الباب عنه عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه فذكر القنوت وفيه قال أبو هريرة رضي الله عنه وأصبح ذات يوم ولم يدع لهم فذكرت ذلك فقال أو ما تراهم قد قدموا علي ففي ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول ذلك القنوت في العشاء الآخرة كما كان يقوله في الصبح وقد أجمعوا أن ذلك منسوخ من صلاة العشاء الآخرة بكماله لا إلى قنوت غيره فالفجر أيضا في النسخ كذلك فلما كشفنا وجوه هذه الآثار المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في القنوت فلم نجدها تدل على وجوبه الآن في صلاة الفجر لم نأمر به فيها وأمرنا بتركه مع أن بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أنكره أصلا كما

جعفر بن ربیعہ نے ارج سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نماز صبح میں قنوت کرتے تھے ۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کے ہاں بدعا تو منسوخ ہوئی مگر اصل قنت اسی طرح باقی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت سے یہ دلالت مل گئی کہ منسوخ بددعا ہوئی ،قنوت منسوخ نہیں ہوئی تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یونس نے زہری سے اس باب کے شروع میں جو طویل روایت نقل کی اس میں یہ ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ آیت (لیس لک من الامر) کے نزول کے بعد اس کو چھوڑ دیا تھا ۔ تو اس کے مطابق آیت نسخ والا کلام زہری کا ہے ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام نہ بنا ۔ اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نزول آیت کا علم نہ ہوا ہو اور وہ آپکی وفات تک آپ کے گزشتہ فعل اور قنوت پر عمل کرتے رہے ہوں، کیونکہ ان کے ہاں اس کے خلاف دلیل نہیں ملی ۔ جب کہ ابن عمراور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم تھا کہ یہ آیت (لیس لک) جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی ناسخ ہے ۔ اسی وجہ سے وہ اس پر عمل پیرا رہے اور اس کے ذریعہ جس عمل کو منسوخ کیا گیا تھا اسے چھوڑ دیا ۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت خفاف رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ غفار قبیلہ کی مغفرت کرے۔ روایت کے آخرتک ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلے گئے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول آیت کے بعد ان کلمات کو نہیں چھوڑا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں مقید و پابند لوگوں کے لیے دعا کا سلسلہ جاری رہا ۔ جب وہ رہا ہو کر آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا کو ترک کر دیا ۔ باقی اس سے قبل یحییٰ بن کثیر کی منقولہ روایت جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے آئی ہے اس میں بھی قنوت کا تذکرہ موجود ہے ۔ اس میں یہ ہے کہ ایک صبح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کے لیے دعا مانگی ۔ میں نے عرض کیا تو آپ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ میرے پاس آچکے ہیں ۔اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے اسی طرح عشاء کی نماز میں بھی پڑھتے تھے ۔اور اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ عشاء کی نماز میں یہ قنوت مکمل طور پر منسوخ ہے ۔ کسی اور قنوت کو بھی اس کی جگہ اختیار نہیں کیا ۔ پس فجر کی قنوت بھی اسی حکم میں ہے جب ہم نے قنوت کے سلسلہ ان روایت کی حقیقت کو کھول دیا تو اب ہم فجر میں قنوت کے واجب ہونےکی کوئی دلیل نہیں پاتے ،اسی وجہ سے ہم اس نماز میں اس کے پڑھنے کا حکم نہیں دیتے بلکہ چھوڑنے کا کہتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات اپنے مقام پر ہے کہ بعض صحابہ کرام اس کا بالکل انکار کرتے ہیں ۔

أبو جعفر فدل ذلك على ← كان أبو هريرة يقنت في صلاة الصبح ← الْأَعْرَجِ ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1436

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1437

1369 - حدثنا علي بن معبد وحسين بن نصر وعلي بن شيبة عن يزيد بن هارون قال أنا أبو مالك الأشجعي سعد بن طارق قال قلت لأبي يا أبت إنك قد صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم وخلف أبي بكر وخلف عمر وخلف عثمان وخلف علي رضي الله عنهم ههنا بالكوفة قريبا من خمس سنين أفكانوا يقنتون في الفجر فقال أي بني محدث قال أبو جعفر فلسنا نقول إنه محدث على أنه لم يكن قد كان ولكنه قد كان بعده ما رويناه فيما قد رويناه في هذا الباب قبله فلما لم يثبت لنا القنوت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم رجعنا إلى ما روى عن أصحابه في ذلك

ابومالک سعد بن طارق کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے عرض کی ابا جی ! آپ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر، عمرو عثمان ،علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز ادا کی ہوگی یہاں کوفہ میں آپ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نما ز پڑھتے پانچ سال گزرے کیا وہ فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے تو وہ فرمانے لگے اے بیٹے ۔ یہ نو ایجاد چیز (یعنی منسوخ کو دوبارہ کیا جا رہا ہے ) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں اس معنی میں اس کو محدث نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی طرح ہے اور ہم نے روایات کا نسخ خوب اچھے طریقے سے واضح کر دیا ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کو اس معنی نو ایجاد نہیں کہتے کہ اس کی اصل نہیں ، بلکہ اس کی اصل تھی جیسا کہ روایات سابقہ میں مذکور ہوا ۔ ان میں قنوت کا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوخ ہونے کے بعد پڑھنا ثابت نہ ہوا ۔

أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة ← حسين بن نصر ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1437

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1438

1370 - فإذا صالح بن عبد الرحمن الأنصاري قد حدثنا قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا بن أبي ليلى عن عطاء عن عبيد بن عمير قال صليت خلف عمر رضي الله عنه صلاة الغداة فقنت فيها بعد الركوع وقال في قنوته اللهم إنا نستعينك ونستغفرك ونثني عليك الخير كله ونشكرك ولا نكفرك ونخلع ونترك من يفجرك اللهم إياك نعبد ولك نصلي ونسجد وإليك نسعى ونحفد نرجو رحمتك ونخشى عذابك إن عذابك بالكفار ملحق

عبیداللہ بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی تو آپ نے رکوع کے بعد اس طرح کہا (اللھم انا نستعینک ونستغرک تا ملحق اے اللہ! ہم آپ سے مدد مانگتے ہیں اور آپ سے بخشش کے طالب ہیں اور آپکی تمام اچھی تعریف کرتے ہیں اے اللہ ! ہم آپ ہی کی عبادت کرتے اور آپ کے لیے نماز پڑھتے ہیں آپ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے اور آپ کی طرف دوڑتے اور جھٹپتے ہیں اور آپکی رحمت کے امیدوار اور آپ کے عذاب سے ڈرے ہیں بلاشبہ آپ کا عذاب کفارہ کو پہنچنے والا ہے ۔

فِي قُنُوتِهِ اللَّهُمَّ ← صليت خلف عمر صلاة الغداة فقنت فيها بعد الركوع ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← بن أَبِي لَيْلَى ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← فإذا صالح بن عبد الرحمن الأنصاري قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1438

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1439

1371 - وإذا صالح قد حدثنا قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم قال أنا حصين عن ذر بن عبد الله الهمداني عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزي الخزاعي عن أبيه أنه صلى خلف عمر رضي الله عنه ففعل مثل ذلك إلا أنه قال نثني عليك ولا نكفرك ونخشى عذابك الجد

سعید بن عبدالرحمن بن ابزی الجزاعی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی انہوں نے اپنی روایت سابقہ روایت کی طرح نقل کی صرف یہ الفاظ مختلف تھے ۔ " نشی علیک ولا نکفرک و نخشیٰ عذابک الجد"

نثني عليك ولا نكفرك ونخشى عذابك الجد ← أبيه أنه صلى خلف عمر ففعل مثل ذلك إلا أنه ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى الْخُزَاعِيِّ ← ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← وإذا صالح قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1439

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1440

1372 - وإذا بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن عبدة بن أبي لبابة عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه أن عمر رضي الله عنه قنت في صلاة الغداة قبل الركوع بالسورتين

سعید بن عبدالرحمن بن ابزی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں رکوع سے پہلے دو سورتوں کے ساتھ قنوت پڑھی ( اس سے مراد دعا اللھم انا نستعینک ہے ) یہ منسوخ شدہ دو سورتیں ہیں کذاقال المفسرون)

أبيه أن عمر قنت في صلاة الغداة قبل الركوع بالسورتين ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← وإذا بن مرزوق قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1440

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1441

1373 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنه عن عمر رضي الله عنه أنه كان يقنت في صلاة الصبح بسورتين اللهم إنا نستعينك واللهم إياك نعبد

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نماز صبح میں دو سورتوں یعنی اللھم انا نستعینک اور اللھم ایاک نعبد سے قنوت کرتے تھے ۔

نستعينك واللهم إياك نعبد ← عمر أنه كان يقنت في صلاة الصبح بسورتين اللهم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1441

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1442

1374 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا همام عن قتادة عن أبي رافع قال صليت خلف عمر بن الخطاب رضي الله عنه صلاة الصبح فقرأ بالأحزاب فسمعت قنوته وأنا في آخر الصفوف

ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز ادا کی آپ نے فجر کی نماز میں سورۃ احزاب پڑھی میں نے آپ کی قنوت کو سنا جبکہ میں آخری صفوں میں تھا(یہاں تو قنوت سے قراء ت مراد ہے )

في آخر الصفوف ← قنوته ← صليت خلف عمر بن الخطاب صلاة الصبح فقرأ بالأحزاب ← أَبِي رَافِعٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1442

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1443

1375 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان ح

ابو بکر ہ نے مومل سے انہوں نے سفیان سے نقل کیا ۔

سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1443

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1444

وحدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا إسرائيل كلاهما عن مخارق عن طارق بن شهاب قال صليت خلف عمر رضي الله عنه صلاة الصبح فلما فرغ من القراءة في الركعة الثانية كبر ثم قنت ثم كبر فركع

طارق بن شہاب کہتے ہیں میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز ادا کی جب وہ دوسری رکعت کی قراءت سے فارغ ہوتے تو تکبیر کہی پھر قنوت پڑھی پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا ۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← مُخَارِقٍ ← إسْرَائِيلَ كِلاَهُمَا ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1444

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1445

1376 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن مخارق فذكر بإسناده مثله

وہب نے شعبہ سے انہوں نے مخارق سے پھر مخارق نے پھر مخارق سے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

مخارق فذكر بإسناده مثله ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1445

chevron_left Previous
1…555657…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter