شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 26 باب القنوت في صلاة الفجر وغيرها ) · حديث 1434
1365 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زائدة عن الأشعث عن أبيه قال سئل بن عمر رضي الله عنه عنهما عن القنوت فقال وما القنوت فقال إذا فرغ الإمام من القراءة في الركعة الآخرة قام يدعو قال ما رأيت أحدا يفعله وإني لأظنكم معاشر أهل العراق تفعلونه وكما
اشعت نے اپنے والد سے نقل کیا کہ ابن عمر سے قنوت کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا قنوت کیا ہے ؟ اس نے کہا جب امام دوسری رکعت کی قراءت سے فراغت پا لے تو کھڑے ہو کر دعا کرے ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے تو نہیں دیکھا کہ کوئی اسے کرتا ہو اور میرے خیال میں تو اہل عراق اس کو کرتے ہیں ۔
إذا فرغ الإمام من القراءة في الركعة الآخرة قام يدعو ← وما القنوت ← الْقُنُوتِ، ← سئل بن عمر عنهما ← أَبِيهِ ← الْأَشْعَثِ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1434
