Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1266

1199 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن وهب بن كيسان عن جابر مثله ولم يذكر النبي صلى الله عليه و سلم

وہب بن کیسان نے حضرت جابربن عبداللہ سے اسی جیسی روایت نقل کی ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا یعنی روایت کو مرفوع قرار نہیں دیا ۔

جابر مثله ولم يذكر النبي صلى الله عليه و سلم ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1266

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1267

1200 - حدثنا فهد قال ثنا إسماعيل بن موسى بن ابنة السدي قال ثنا مالك فذكر مثله بإسناده قال فقلت لمالك ارفعه فقال خذوا برجله

اسمعیل بن موسیٰ نے امام مالک سے انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے کہ اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نےامام مالک کو کہاتم اس کو مرفوع بیان کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے فرمایا اس روایت کو اس کے پاؤں سے پکڑ لو یعنی اس کی سند میں کمزور راوی ہیں ۔

فقلت لمالك ارفعه فقال خذوا برجله ← مالك فذكر مثله بإسناده ← إسماعيل بن موسى بن ابنة السدي ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1267

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1268

1201 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن أيوب عن قلابة عن أنس رضي الله عنه قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أقبل بوجهه فقال أتقرؤن والإمام يقرأ فسكتوا فسألهم ثلاثا فقالوا إنا لنفعل قال فلا تفعلوا قال أبو جعفر فقد بينا بما ذكرنا عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ما روى عبادة فلما اختلفت هذه الآثار المروية في ذلك التمسنا حكمه من طريق النظر فرأيناهم جميعا لا يختلفون في الرجل يأتي الامام وهو راكع أنه يكبر ويركع معه ويعتد تلك الركعة وإن لم يقرأ فيها شيئا فلما أجزاه ذلك في حال خوفه فوت الركعة احتمل أن يكون إنما أجزأه ذلك لمكان الضرورة واحتمل أن يكون إنما أجزأه ذلك لأن القراءة خلف الامام ليست عليه فرضا فاعتبرنا ذلك فرأيناهم لا يختلفون أن من جاء إلى الامام وهو راكع فركع قبل أن يدخل في الصلاة بتكبير كان منه إن ذلك لا يجزئه وإن كان إنما تركه لحال الضرورة وخوف فوات الركعة فكان لا بد له من قومه في حال الضرورة وخوف فوات الركعة فكان لا بد له من قومه في حال الضرورة وغير حال الضرورة فهذه صفات الفرائض التي لا بد منها في الصلاة ولا تجزيء الصلاة إلا بإصابتها فلما كانت القراءة مخالفة لذلك وساقطة في حال الضرورة كانت من غير جنس ذلك فكانت في النظر أنها ساقطة في غير حالة الضرورة فهذا هو النظر في هذا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى فإن قال قائل فقد روى عن نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنهم كانوا يقرؤون خلف الإمام ويأمرون بذلك فذكر ما

ابوقلابہ نے حضرت انس سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر اپنے چہرہ مبارک کو ہماری طرف کیا اور فرمایا کیا تم اس وقت پڑھتے ہو جبکہ امام پڑھتا ہو پسں سب خاموش رہے اس پر آپ نے ان سے تین بار سوال کیا توانہوں نے جواب دیا ہم امام کے پیچھے پڑھتے ہیں آپ نے فرمایا ایسا مت کرو۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے سامنے یہ بات واضح ہوگئی کہ تمام روایات حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے خلاف ہیں جب روایات میں اختلاف ہو ا تو ہم نے نظر و فکر کی طرف رجو ع کیا چنانچہ ہم نے یہ بات پائی کہ اس بات میں کسی کا اختلاف نہیں کہ جو شخص امام کی ایسے وقت میں اقتداء کرے جبکہ رکوع کی حالت میں ہو تو وہ تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے تو اس کی یہ رکعت شمار ہو گئی اگرچہ اس نے اس میں کچھ بھی نہیں پڑھا جب رکعت کے فوت ہوجانے کے خطرے سے یہ چیز جائز ہے تو اس میں یہ احتمال پیدا ہو گیا کہ یہ چیز ضرورت کے وقت بھی جائز ہے اور دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ امام کے پیچھے قراءت فرض نہیں ، پس اسی اعتبار کر کے ہم نے یہ رائے قائم کی کہ سب حضرات کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص امام کو رکوع میں پائے اور وہ تکبیر افتتاح کے بغیر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہو جائے تو اس کی یہ نماز جائز نہ ہو گی اگرچہ اس نے یہ عمل ضرورت کی وجہ سے اور رکعت کے فوت ہوجانے کے ڈر سے کیا ہے اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ ضرورت کی حالت اور رکعت کے فوت ہو جانے کے خطرے کے باوجود قومہ کرتا اس کے لیے قومہ حالت ضرورت اور بلا حالت ضرورت ہر دو صورت میں ضروری ہے اور یہی حکم ان سب فرائض کا ہے کہ جن کے علاوہ نماز میں کوئی چارہ نہیں اور ان کے پائے جانے کے بغیر نماز درست نہیں ہو سکتی جب قراءت کا مسئلہ اس سے مختلف ہے اس لیے کہ یہ ضرورت کی حالت میں ساقط ہوجاتی ہے تو اس کی جنس الگ ہو گئی تو نظر و فکر کا یہ تقاضا ہے کہ ضرورت کی حالت کے علاوہ میں بھی یہ ساقط ہو جائے ، یہی نظر ہے اور یہی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ابو یوسف و محمد کا قول ہے اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم امام کے پیچھے پڑھتے اور اس کا حکم بھی دیتے تھے ۔

أَنَسٍ، ← قلابة ← أَيُّوبَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1268

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1269

1202 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا أبو إسحاق الشيباني عن جواب بن عبيد الله التيمي قال ثنا يزيد بن شريك أبو إبراهيم التيمي أنه قال سألت عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن القراءة خلف الإمام فقال لي اقرأ فقلت وإن كنت خلفك قال وإن كنت خلفي قلت وإن قرأت قال وإن قرأت

ابو ابراہیم التیمی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا امام کے پیچھے قراءت کی جائے گی تو انہوں نے فرمایا پڑھ لیا کرو میں نے پوچھا خواہ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھوں ؟ تو انہوں نے فرمایا خواہ تم میرے پیچھے پڑھو میں نےکہا اگرچہ آپ قراءت کریں انہوں نے فرمایا اگرچہ میں قراءت کروں ۔

وَإِنْ ← وَإِنْ كُنْتَ خَلْفِي قَلْت وَإِنْ ← القراءة خلف الإمام فقال لي اقرأ فقلت وإن كنت خلفك ← سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← يزيد بن شريك أبو إبراهيم التيمي أنه ← جَوَّاب بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1269

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1270

1203 - حدثنا صالح قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم قال أنا أبو بشر عن مجاهد قال سمعت عبد الله بن عمرو يقرأ خلف الإمام في صلاة الظهر من سورة مريم

مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سنا کہ وہ امام کے پیچھے ظہر میں سورہ مریم پڑھتے ہیں ۔

مُجَاهِدٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صَالِحٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1270

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1271

1204 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن حصين قال سمعت مجاهدا يقول صليت مع عبد الله بن عمرو الظهر والعصر فكان يقرأ خلف الإمام قيل له قد روى هذا عمن ذكرتم وقد روى عن غيرهم بخلاف ذلك

مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ ظہر و عصر پڑھی وہ امام کےپیچھے قراءت کرتے تھے ۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ قول اس سے مروی ہے جن کا تم نے تذکرہ کیا ان کے علاوہ دیگر اصحاب سے اس کے خلاف روایات ہیں ۔ ملاحظہ ہوں ۔

مُجَاهِدًا، ← حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1271

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1272

1205 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال سمعت محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ومر على دار بن الأصبهاني قال حدثني صاحب هذه الدار وكان قد قرأ على أبي عبد الرحمن عن المختار بن عبد الله بن أبي ليلى قال قال علي رضي الله عنه من قرأ خلف الإمام فليس على الفطرة

مختار بن عبداللہ بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس نے امام کے پیچھے قراءت کی وہ فطرت کے خلاف کرنے والا ہے ۔

علي من قرأ خلف الإمام فليس على الفطرة ← الْمُخْتَارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← صاحب هذه الدار وكان قد قرأ على أبي عبد الرحمن ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ومر على دار بن الأصبهاني ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1272

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1273

1206 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب قال ثنا وهيب بن خالد عن منصور بن المعتمر عن أبي وائل عن بن مسعود قال أنصت للقراءة فإن في الصلاة شغلا وسيكفيك ذلك الإمام

ابو وائل نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ قراءت کے سننے کے لیے بالکل خاموشی اختیار کرو بلاشبہ نماز میں ایک مشغولیت ہے اور اس قراءت کے لیے تمہاری طرف امام کافی ہے ۔

أنصت للقراءة فإن في الصلاة شغلا وسيكفيك ذلك الإمام ← بن مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← الخصيب ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1273

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1274

1207 - حدثنا مبشر بن الحسن قال ثنا أبو عاصم وأبو جابر أنا أشك عن شعبة عن منصور عن أبي وائل عن عبد الله مثله

ابو وائل نے عبداللہ بن مسعود سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَشُكُّ ← أبو عاصم وأبو جابر ← مبشر بن الحسن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1274

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1275

1208 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن منصور عن أبي وائل عن بن مسعود نحوه

منصور نے ابو وائل سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن مسعود نحوه ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1275

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1276

1209 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا خديج بن معاوية عن أبي إسحاق عن علقمة عن بن مسعود قال ليت الذي يقرأ خلف الإمام مليء فوه ترابا

علقمہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کاش کہ وہ شخص جو امام کے پیچھے پڑھتا ہے اس کا منہ مٹی سے بھرر دیا جائے ۔

ليت الذي يقرأ خلف الإمام مليء فوه ترابا ← بن مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1276

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 19 باب القراءة خلف الإمام ) · حديث 1277

1210 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن الزبير عن إبراهيم عن علقمة نحوه

سفیان نے زبیر سے انہوں نے ابراہیم عن علقمہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عَلْقَمَةَ نَحْوَهُ. ← إِبْرَاهِيمَ، ← الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1277

chevron_left Previous
1…414243…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter