شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 16 باب قراءة بسم الله الرحمن الرحيم في الصلاة ) · حديث 1158
1094 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا عبد الواحد بن زياد قال ثنا عمارة بن القعقاع قال ثنا أبو زرعة بن عمرو بن جرير قال ثنا أبو هريرة رضي الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نهض في الثانية استفتح بالحمد لله رب العالمين ولم يسكت قال أبو جعفر ففي هذا دليل أن بسم الله الرحمن الرحيم ليست من فاتحة الكتاب ولو كانت من فاتحة الكتاب لقرأ بها في الثانية كما قرأ فاتحة الكتاب والذين استحبوا الجهر بها في الركعة الأولى لأنها عندهم من فاتحة الكتاب استحبوا ذلك أيضا في الثانية فلما انتفى بحديث أبي هريرة هذا أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم قرأ بها في الثانية انتفى به أيضا أن يكون قرأ بها في الأولى فعارض هذا الحديث حديث نعيم بن المجمر وكان هذا أولى منه لاستقامة طريقه وفضل صحة مجيئه على مجيء حديث نعيم وقالوا وأما حديث أم سلمة رضي الله عنها الذي رواه بن أبي مليكة فقد اختلف الذين رووه في لفظه فرواه بعضهم على ما ذكرناه ورواه آخرون على غير ذلك كما
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے میں بیان کیا کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو رکعت کی قراء ت کو الحمد للہ سے شروع فرماتے اور سکوت نہ فرماتے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے یہ واضح دلیل مل گئی کہ بسم الله فاتحہ کا حصہ نہیں۔ اگر فاتحہ کا حصہ ہوتی تو دوسری رکعت میں پڑھی جاتی ۔ جیسا کہ آپ نے فاتحہ کو پڑھا ہے وہ لوگ جنہوں نے پہلی رکعت میں اس کے جہر کے ساتھ پڑھنے کو مستحب قرار دیا تو ان کے ہاں اس کی وجہ فاتحہ الکتاب کا حصہ ہوتا ہے اور دوسری رکعت میں بھی انہوں نے مستحب قرار دیا۔ جب روایت بالا سے اس کے دوسری رکعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفی ہو گئی تو س سے پہلی رکعت کے اندر پڑھنے کی بھی نفی ہوئی۔ تو یہ روایت نعیم بن حجر کی روایت کے معارض بنی اور یہ روایت اس سے سند کی پختگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔ رہی وہ روایت جس کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ابن ابی ملکیہ سے ذکر کیا تو خوداس روایت کے الفاظ میں شدید اختلاف تھا۔ بعض نے اسی طرح روایت کی جس طرح ہم نے اور بعض نےدوسرے انداز سے روایت کی۔
أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← حسين بن نصر
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1158
