Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1122

1059 - حدثنا بذلك صالح بن عبد الرحمن بن عمرو بن الحارث الأنصاري قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا خالد عن أبي قلابة قال إنما سميت العصر لتعصر فأخبر أبو قلابة أن اسمها هذا إنما لأن سبيلها أن تعصر وهذا الذي استحببناه من تأخير العصر من غير أن يكون ذلك إلى وقت قد تغيرت فيه الشمس أو دخلتها صفرة وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى وبه نأخذ فإن احتج محتج في التكبير بها أيضا بما

خالد نے ابو قلابہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ عصر کا نما عصر رکھنے کی وجہ اس کا متاخر کرنا ہے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← بذلك صالح بن عبد الرحمن بن عمرو بن الحارث الأنصاري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1122

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1123

1060 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال ثنا الأوزاعي قال حدثني أبو النجاشي قال حدثني رافع بن خديج قال كنا نصلى العصر مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ننحر الجزور فنقسمه عشر قسم ثم نطبخ فنأكل لحما نضيجا قبل أن تغيب الشمس قيل له قد يجوز أن يكونوا يفعلون ذلك بسرعة عمل وقد أخرت العصر فليس في هذا الحديث عندنا حجة على من يرى تأخير العصر وقد ذكرنا في باب مواقيت الصلاة في حديث بريدة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما سئل عن مواقيت الصلاة صلى العصر في اليوم الأول والشمس بيضاء مرتفعة نقية ثم صلاها في اليوم الثاني والشمس مرتفعة أخرها فوق الذي قد كان أخرها في اليوم الأول فكان قد أخرها في اليومين جميعا ولم يعجلها في أول وقتها كما فعل في غيرها فثبت بذلك أن وقت العصر الذي ينبغي أن يصلى فيه هو ما ذهب إليه الآخرون آخر كتاب الأذان والمواقيت

ابوالنجاشی نے بیان کیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کرتے پھر اونٹ ذبح کر کے اس کو دس حصوں میں تقسیم کرتے پھر پکا کر اس کا گوشت غروب آفتاب سےپہلے کھا لیتے تھے اس کو یہ کہا جائے گا کہ عین ممکن ہے وہ اس کام کوجلدی انجام دے لیتے ہوں اور عصر کو مؤخر پڑھتے ہوں ہمارے نزدیک اس روایت میں کوئی ایسی دلالت نہیں جو تاخیر عصر کےخلاف ہو۔ ہم باب المواقیت میں حضرت بریدہ کی روایت نقل کر آئے کہ انہوں نے پہلے دن عصر کی نماز اس حال میں پڑھی کہ سورج سفید بلند، صاف ستھرا تھا اور دوسرے دن عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھی جب سورج بلند تھا یعنی اس کو پہلے دن سے زیادہ مؤخر کر کے پڑھا جبکہ آپ نے دونوں دنوں میں ہی مؤخر کر کے پڑھی اور اول وقت میں جلدی کر کے نہیں پڑھی جیسا کہ دوسری نمازوں میں آپ نے کیا ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ نماز عصر کے ادا کرنے کا وقت وہی ہے جس کی طرف تاخیر عصر والے لوگ گئے ہیں نہ وہ جس کی طرف تعجیل والے گئے ۔ مکمل وضاحت مواقیت میں دیکھیں ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← أَبُو النَّجَاشِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1123

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1124

1061 - حدثنا الربيع بن سليمان الجيزي قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا بن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان مولى الزرقيين قالا دخل علينا أبو هريرة رضي الله عنه فقال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قام إلى الصلاة رفع يديه مدا فذهب قوم إلى أن الرجل يرفع يديه إذا افتتح الصلاة مدا ولم يوقتوا في ذلك شيئا واحتجوا بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل ينبغي له أن يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه واحتجوا في ذلك بما

سعید بن سمعان جو کہ زر قیین کے مولیٰ تھے بیان کرتے ہیں ہمارے ہاں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے جب جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کھینچ کر اوپر کو اٹھاتے بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب آدمی نماز کو شروع کرے تو اپنے ہاتھوں کو کھینچ کر اوپر کو اٹھائے مگر اس کے لیے انہوں نے کسی وقت کا متعین نہیں کیا اور اسی روایت بالا کواپنی دلیل میں پیش کیا جبکہ علماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھائے اور انہوں نے اپنی دلیل میں یہ روایت پیش کی ہیں ۔

دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ مَوْلَى الزُّرَقِيِّينَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الربيع بن سليمان الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1124

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1125

1062 - حدثنا الربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني عبد الرحمن بن أبي الزناد عن موسي بن عقبة عن عبد الله بن الفضل عن عبد الرحمن الأعرج عن عبيد الله بن أبي رافع عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا قام إلي الصلاة المكتوبة كبر ورفع يديه حذو منكبيه وبما قد

عبیدہ اللہ بن ابی رافع نے حضرت علی ابن رافع نے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ جب آپ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرماتے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1125

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1126

1063 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه قال رأيت النبي صلى الله عليه و سلم إذا افتتح الصلاة يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه وبما قد

سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع فرماتے تو ہاتھوں کو اتنا بلند فرماتے کہ کندھوں کے برابر ہو جاتے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1126

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1127

1064 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب ح

مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے اپنی سند سے روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔

بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1127

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1128

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر عن مالك عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله وبما قد

مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله وبما قد ← مَالِكٍ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← وحدثنا بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1128

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1129

1065 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن زيد بن أبي أنيسة عن جابر قال رأيت سالم بن عبد الله حين افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه فسألته عن ذلك فقال رأيت بن عمر رضي الله عنه يفعل ذلك وقال بن عمر رضي الله عنه عنهما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يفعل ذلك وبما قد

زید بن ابی انیسہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے سالم بن عبداللہ کو نماز شروع کرتے دیکھا کہ انہوں نے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا ہے میں نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو وہ کہنے لگے میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ایسا کرتے دیکھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ علماء کا کہنا ہے کہ شروع نماز کی تکبیر میں ہاتھوں کا اٹھانا کندھوں تک ہے ۔ اس سے تجاوز نہ کیا جائے ۔ انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا اور ہمارے نزدیک حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور بات اس کےخلاف نہیں کیونکہ اس میں صرف اتنی بات ہے کہ جب آپ نماز کے لیے اٹھتے تو آپ ہاتھوں کو دراز کر کے اٹھاتے ۔ روایت میں دراز کرنے کی کوئی انتہا مذکور نہیں ۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کندھوں کےبرابر اٹھاتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ نماز سے پہلے یہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ہوا اور نماز کی تکبیر کے بعد میں کہہ کر کندھوں کے برابر اٹھاتے ہوں تو بس حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مراد ہوا اور حضرت علی اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں نماز کی ابتداء کے لیے ہاتھ اٹھانا مراد ہوتا کہ ان روایتوں میں تضاد نہ رہے ۔ علماء کی ایک اور جماعت نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا کہ نماز کو شروع کرتے ہوئے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھایا جائے تاکہ ان روایتوں میں تضاد نہ رہے ۔ علماء کی ایک اور جماعت نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا کہ نماز کو شروع کرتے ہوئے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھایا جائے گا اور انہوں نے اس سلسلہ میں ان روایات سے استدلال کیا ۔

رأيت بن عمر يفعل ذلك ← ذَلِكَ ← رأيت سالم بن عبد الله حين افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه فسألته ← جَابِرٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1129

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1130

1066 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا عبد الحميد بن جعفر قال ثنا محمد بن عمرو بن عطاء قال سمعت أبا حميد الساعدي في عشرة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أحدهم أبو قتادة قال قال أبو حميد أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا لم فوالله ما كنت أكثرنا له تبعة ولا أقدمنا له صحبة فقال بلى قالوا فأعرض فقال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا افتتح الصلاة رفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه قال فقالوا جميعا صدقت هكذا كان يصلي قال أبو جعفر فذهب إلى هذا فقالوا الرفع في التكبير في افتتاح الصلاة يبلغ به المنكبين ولا يجاوزان واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وكان ما في حديث أبي هريرة رضي الله عنه عندنا غير مخالف لهذا لأنه إنما ذكر فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا قام إلى الصلاة رفع يديه مدا فليس في ذلك ذكر المنتهى بذلك المد إليه أي موضع هو قد يجوز أن يكون يبلغ به حذاء المنكبين وقد يحتمل أيضا أن يكون ذلك الرفع قبل الصلاة للدعاء ثم يكبر للصلاة بعد ذلك ويرفع يديه حذاء منكبيه فيكون حديث أبي هريرة رضي الله عنه على الرفع عند القيام للصلاة للدعاء وحديث علي رضي الله عنه وابن عمر رضي الله عنه عنهما على الرفع بعد ذلك عند افتتاح الصلاة حتى لا تتضاد هذه الآثار وخالف في ذلك آخرون فقالوا يرفع الأيدي في افتتاح الصلاة حتى يحاذي بها الأذنان واحتجوا في ذلك بما قد

محمد بن عمر و بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ کو دس اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ان میں ابو قتادہ بھی تھے ابو حمید کہنے لگے میں تم میں سے سب سے زیادہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جاننے والا ہوں انہوں نے کہا کیوں؟ جبکہ تم ہم سے زیادہ آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے نہیں اور نہ صحبت میں ہم سے مقدم ہوتو ابو حمید کہنے لگے تمہاری بات درست ہے انہوں نے کہا آپ فرمائیں تو ابو حمید کہنے لگے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھوں کوکندھوں کے برابر بلند کرتے اس پر سب نے کہا تم نے درست کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت جو پہلے مذکور ہوئی اس میں ہاتھوں کو مطلقا بلند کرنے کا تذکرہ ہے اس بلندی کی انتہا مذکور نہیں کہ ان روایات کے خلاف ہو کیونکہ ہاتھوں کو کندھوں کے برابر کھینچ کر بلند کرنا مراد ہو یا پھر نماز سے پہلے دعا کے لیے ہاتھ بلند کرنا مراد ہو پھر نماز کی تکبیر کہہ کر کندھوں کے برابر ہاتھ بلند کرتے ہوں۔ روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں نماز سے قبل دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مراد ہے اور روایت علی و ابن عمر رضی اللہ عنہ میں افتتاح صلاۃ کے وقت رفع کا تذکرہ ہے اس سے روایات کا تضاد ختم ہو جاتا ہے ۔ اب رہا یہ سوال کہ نماز کی ابتداء میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا درست ہے یا نہیں ۔ ہاتھ اٹھا کر درست ہے یا نہیں ۔ یہ طبرانی اوسط کی روایت ہے اور اس کے علاوہ بھی اقامت و تکبیر کے درمیان دعا کی جتنی روایات ہیں وہ سب ضعیف ہیں اقامت و تکبیر کے درمیان فاصلہ نہیں یا ابتداء ایسا تھا پھر اذان و تکبیر کی مشروعیت کے بعد منسوخ ہو چکا اجلہ صحابہ کا عمل اس کی تصدیق کرتا ہے ۔ تکبیر افتتاح کے لیے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھایا جائے گا جیسا کہ مندرجہ روایات و آثار سے یہ ثابت ہوتا ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1130

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1131

1067 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا سفيان قال ثنا يزيد بن أبي زياد عن بن أبي ليلى عن البراء بن عازب قال كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا كبر لافتتاح الصلاة رفع يديه حتى يكون إبهاماه قريبا من شحمتي أذنيه وبما قد

ابن ابی لیلیٰ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب افتتاح نماز کے لیے تکبیر کہتے تو ہاتھوں کو اتنا بلند فرماتے کہ آپ کے انگوٹھے کانوں کی لوکے برابر ہوجاتے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← بن أَبِي لَيْلَى ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1131

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1132

1068 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال رأيت النبي صلى الله عليه و سلم حين يكبر للصلاة يرفع يديه حيال أذنيه وبما قد

عاصم بن کلیب نے کلیب سے اور انہوں نے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر افتتاح کہتے تو اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھاتے ۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1132

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1133

1069 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن عاصم بن كليب فذكر بإسناده مثله وبما قد

ابو الاحوص کہتے ہیں کہ عاصم بن کلیب نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عاصم بن كليب فذكر بإسناده مثله وبما قد ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1133

chevron_left Previous
1…293031…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter