شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1110
قد حدثنا قال ثنا معلى وأحمد بن إسحاق الحضرمي قالا ثنا وهيب عن أبي واقد قال ثنا أبو أروى قال كنت أصلي العصر مع النبي صلى الله عليه و سلم ثم أمشي إلى ذي الحليفة فآتيهم قبل أن تغيب الشمس ففي هذا الحديث أنه كان يأتيها ماشيا وأما قوله قبل أن تغرب الشمس فقد يجوز أن يكون ذلك وقد اصفرت الشمس ولم يبق منها إلا أقل القليل وقد روي عن أبي مسعود نحو من ذلك
وہیب نے ابو واقد سے اور اس نے ابو اروی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں عصر کی نماز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد نبوی میں پڑھتا پھر میں پیدل ذوالحلیفہ آتا اور میں غروب آفتاب سے پہلے پہنچ جاتا ۔ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے پیدل چل کر آتے تو اس میں یہ کہنا درست ہے کہ اس وقت ممکن ہے تھوڑا سا وقت باقی ہو اور سورج زرد ہو چکا ہو۔ چنانچہ یہ روایت ہماری موید ہے ۔
أَبُو أَرْوَى ← أَبِي وَاقِدٍ ← وُهَيْبٌ، ← معلى وأحمد بن إسحاق الحضرمي ← قَدْ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1110
