Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1098

1036 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال أنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن سويد بن غفلة قال سمع الحجاج أذانه بالظهر وهو في الجبانة فأرسل إليه فقال ما هذه الصلاة قال صليت مع أبي بكر ومع عمر ومع عثمان رضي الله عنهم جين زالت الشمس قال فصرفه وقال لا تؤذن ولا تؤم قيل له ليس في هذا الحديث أن الوقت الذي رآهم فيه سويد كان في الصيف وقد يجوز أن يكون كان في الشتاء ويكون حكم الصيف عندهم بخلاف ذلك والدليل على ذلك

ابو حصین نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حجاج نے میری ظہر کی اذان سنی جبکہ وہ مقام جبانہ ( یہ مدینہ سے شام کی جانب ذہاب کے قریب مقام ہے یا بلند زرخیز زمین کو کہتے ہیں ) میں تھا اس نے پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور پوچھا یہ کون سی نماز ہے ؟ تو میں نےجواب دیا میں نے ابو بکر و عمر ، عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس وقت نماز ظہر ادا کی جبکہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا ( اس پرحجاج نے میری بات کو قبول نہ کیا بلکہ مسترد کردیا)اور اذان و نماز سےمعزول کر دیا اورکہا آئندہ نہ اذان دینا اور نہ جماعت کرانا اسے کہا جائے گا کہ اس روایت میں تو ایسی کوئی دلیل نہیں کہ حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے ان کو جس وقت میں دیکھا وہ موسم گرماہی تھا ۔ عین ممکن ہے کہ وہ موسم سرما ہواور گرمیوں کا حکم ان کے ہاں اس کےخلاف ہو۔ اس کاثبوت بن سنان کی راویت میں موجود ہے ۔

فصرفه ← صليت مع أبي بكر ومع عمر ومع عثمان جين زالت الشمس ← ما هذه الصلاة ← الحجاج أذانه بالظهر وهو في الجبانة فأرسل إليه ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1098

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1099

1037 - أن يزيد بن سنان قد حدثنا قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع عن أبيه عن بن عمر أن عمر قال لأبي محذورة بمكة إنك بأرض حارة شديدة الحر فأبرد ثم أبرد بالأذان للصلاة أفلا ترى أن عمر رضي الله عنه قد أمر أبا محذورة في هذا الحديث بالإبراد لشدة الحر وأولى الأشياء بنا أن نحمل ما رواه عنه سويد علي غير خلاف ذلك فيكون ذلك كان منه في وقت لا حر فيه فإن قال قائل إن حكم الظهر أن يعجل في سائر الزمان ولا يؤخر كما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث خباب وعائشة رضي الله عنها وجابر وأبي برزة وإنما كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما كان من أمره إياهم بالإبراد رخصة منه لهم لشدة الحر لأن مسجدهم لم يكن له ظلال وذكر في ذلك ما روى عن ميمون بن مهران

حضرت نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےمکہ میں ابو محذور رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تم گرم سخت حرارت والی سر زمین میں رہتے ہو پس ٹھنڈا کرو ٹھنڈا کرو پھر نماز ظہر کی اذان دو۔ کیا تم توجہ نہیں کرتے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو سخت حرارت کی وجہ سے ٹھنڈے وقت میں نماز کا حکم دیا۔ پس بہترین طریق تو یہ ہے کہ حضرت سویدرضی اللہ عنہ والی روایت کو اس کے ظاہر کے علاوہ محمول کیا جائے گا اور اس سے وہی وقت مراد ہو گا کہ جس میں شدت حرارت نہ ہو۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، خباب اور جابر و ابو برزہ رضی اللہ عنہم کی روایات میں تو ظہر کو تمام موسموں میں جلدی پڑھنے کا حکم وراد ہوا ہے اور آپ کا اسے ٹھنڈے وقت وقت میں پڑھنے کا حکم رخصت و سہولت کے لیے ہے اس کا سبب گرمی کی شدت بھی کیونکہ وہاں سایہ نایاب تھا ۔ چنانچہ اس کے متعلق یہ اثر ملاحظہ ہو۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1099

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1100

1038 - حدثنا فهد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا أبو المليح عن ميمون بن مهران قال لا بأس بالصلاة نصف النهار وإنما كانوا يكرهون الصلاة نصف النهار لأنهم كانوا يصلون بمكة وكانت شديدة الحر ولم يكن لهم ظلال فقال أبردوا بها قيل له هذا كلام يستحيل لأن هذا لو كان كما ذكرت لما أخرها رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في السفر حيث لا كن ولا ظل على ما في حديث أبي ذر ويصليها حينئذ لأنه في أول وقتها من غير كن ولا ظل فتركه الصلاة حينئذ دليل على أن ما كان منه من الأمر بالإبراد ليس لأن يكونوا في شدة الحر في الكن ثم يخرجون فيصلون الظهر في حال ذهاب الحر لأنه لو كان ذلك كذلك لصلاها حيث لا كن في أول وقتها ولكن ما كان منه في هذا القول عندنا والله أعلم إيجاب منه أن ذلك هو سنتها كان الكن موجودا أو معدوما وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابو المنیح نے بیان کیا کہ میمون بن مہران نے بتلایا کہ نصف النہار کے قریب نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں دراصل وہ نصف النہار کے وقت نماز کو اس لیے ناپسند کرتے تھے کیونکہ وہ مکہ میں نماز پڑھتے اور وہ شدید گرم جگہ ہے اور اس وقت مناسب سائے بھی نہ ہوتے تھے اسی لیے فرمایا تم ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ ناممکن ہے اگر اسی طرح ہو جس طرح آپ نے ذکر کیا تو آپ سفر میں اس کو مؤخر نہ فرماتے ۔جبکہ وہاں نہ سایہ ہے اور نہ کوئی جھونپڑا۔ جیسا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں وارد ہے آپ نے اسے پہلے ہی وقت میں پڑھا کیونکہ وہاں سایہ وغیرہ کا معاملہ نہ تھا ۔ تو آپ کا اس وقت میں اس کو چھوڑدینا اس کو ثابت کرتا ہے کہ آپ نے ٹھنڈا کرکے جو پڑھنے کا حکم دیا وہ اس بناء پر نہیں تھا کہ سخت گرمی کے وقت میں سوہ سائے میں رہیں اور پھر نکل کر گرمی کے چلے جانے پر ظہر کی نماز ادا کریں ۔ اگر یہ بات اسی طرح ہوتی تو جہاں سایہ نہیں تھا وہاں آپ پہلے ہی وقت میں ادا فرماتے لیکن ہمارے نزدیک آپ کا یہ ارشاد (واللہ اعلم) وجوب کے لیے تھا اور یہی آپ کا طریقہ تھا ۔ خواہ سایہ ہو یا نہ ہو اور یہی قول امام ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا ہے ۔ میمون بن مہران کی بات سے معلوم ہوتا ہے ظہر میں تعجیل ہی ہر زمانے میں افضل ہے جیسا کہ شروع باب میں حدیث عائشہ ، جناب جابر ، ابو برزہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے یہ ابراد کا حکم آپکی طرف رخصت تھی کیونکہ گرمی سخت تھی ابراد حکم نہ تھا کہ اس کو افضل قرار دیا جائے ۔

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبُو الْمَلِيحِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1100

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1101

1039 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد قال ثنا أبي عن أبي إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة الأنصاري ثم الظفري عن أنس بن مالك قال سمعته يقول ما كان أحد أشد تعجيلا لصلاة العصر من رسول الله صلى الله عليه و سلم إن كان أبعد رجلين من الأنصار دارا من مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبو لبابة بن عبد المنذر أخو بني عمرو بن عوف وأبو عبس بن خير أحد بني حادثة دار أبي لبابة بقباء ودار أبي عبس في بني حارثة ثم إن كان ليصليان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم العصر ثم يأتيان قومهما وما صلوها لتبكير رسول الله صلى الله عليه و سلم بها

عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری ظفری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر عصر کی نماز میں کوئی عجلت کرنے والا نہ تھا انصار میں سب سے زیادہ مسجد نبوی سے دور رہنے والے دو انصاری تھے ۔ا یک ابو لبابہ کا مکان قباء میں اور ابو عبس کا بنو حارثہ میں تھا یہ دونوں حضرات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عصر ادا کرتے پھر اپنے قبیلہ میں واپس لوٹتے تو ابھی وہ لوگ نماز عصر سے فارغ نہ ہوئے تھے کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز جلد ادا فرما لیتے تھے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1101

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1102

1040 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن يوسف قال أنا مالك عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال كنا نصلي العصر ثم يخرج الإنسان إلى بني عمرو بن عوف فيجدهم يصلون العصر

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم عصر کی نماز ادا کرتے پھر کوئی قباء کی طرف جاتا تو وہاں کےلوگوں کو نماز عصر میں مصروف پاتا تھا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1102

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1103

1041 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا نعيم قال ثنا بن المبارك قال أنا مالك بن أنس قال حدثني الزهري وإسحاق بن عبد الله عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي العصر ثم يذهب الذاهب إلى قباء قال أحدهما وهم يصلون وقال الآخر والشمس مرتفعة

اسحاق بن عبداللہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اور فرماتے پھر جانے والا قباء جاتا جبکہ ابھی سورج بلند ہوتا یا جب کہ ابھی وہ نماز میں مصروف ہوتے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزهري وإسحاق بن عبد الله ← مالک بن أنس ← بن الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1103

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1104

1042 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن يوسف قال أنا مالك عن الزهري عن أنس ح

زہری نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1104

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1105

وحدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن أنس قال كنا نصلي العصر ثم يذهب الذاهب إلى قباء فيأتيهم والشمس مرتفعة

ابن شہاب نے حضرات انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم عصر کی نماز ادا کرتے پھر جانے والا قباء کی طرف جاتا اور وہاں اس حال میں پہنچ جاتا کہ سورج ابھی تک بلند ہوتا ۔

كنا نصلي العصر ثم يذهب الذاهب إلى قباء فيأتيهم والشمس مرتفعة ← أَنَسٍ، ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← وحدثنا يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1105

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1106

1043 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا نعيم قال ثنا بن المبارك قال أنا معمر عن الزهري عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي العصر فيذهب الذاهب إلى العوالي والشمس مرتفعة قال الزهري والعوالي على الميلين والثلثة وأحسبه قال والأربعة

زہری نے حضرت ان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرتے پھر جانے والا عوالی میں پہنچ جاتا اس حال میں کہ سورج ابھی اونچا ہوتا تھا زہری کہتے ہیں عوالی مدینہ سے دویا تین یا چار میل یہ فاصلے کا فرق علاقے کی ابتداء اور انتہاء کے اعتبار سے ہے عوالی کا آخری کنارہ چارمیل ہے راوی نے تین یا چار بولا۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1106

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1107

1044 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا شعيب بن الليث عن أبيه عن بن شهاب عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي العصر والشمس مرتفعة حية فيذهب الذاهب إلى العوالي فيأتي العوالي والشمس مرتفعة

ابن شہاب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت ادا فرماتے جبکہ ابھی سورج بلند خوب تازہ روشنی والا ہوتا اور جانے والا عوالی جاتا اور وہاں پہنچ کر بھی ابھی سورج بلند ہوتا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بن شِهَابٍ ← أَبِيهِ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1107

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1108

1045 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أنا زائدة عن منصور عن ربعي قال ثنا أبو الأبيض قال ثنا أنس بن مالك رضي الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي بنا العصر والشمس بيضاء ثم أرجع إلى قومي وهم جلوس في ناحية المدينة فأقول لهم قوموا فصلوا فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد صلى فقد اختلف عن أنس بن مالك رضي الله عنه في هذا الحديث فكان ما روى عاصم بن عمر بن قتادة وإسحاق بن عبد الله وأبو الأبيض عن أنس بن مالك رضي الله عنه يدل على التعجيل بها لأن في حديثهم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصليها ثم يذهب الذاهب إلى المكان الذي ذكروا فيجدهم لم يصلوا العصر ونحن نعلم أن أولئك لم يكونوا يصلونها إلا قبل اصفرار الشمس فهذا دليل التعجيل وأما ما روى الزهري عن أنس رضي الله عنه فإنه قال كنا نصليها مع النبي صلى الله عليه و سلم ثم نأتي العوالي والشمس مرتفعة فقد يجوز أن تكون مرتفعة قد اصفرت فقد اضطرب حديث أنس هذا لأن معنى ما روى الزهري منه بخلاف ما روى إسحاق بن عبد الله وعاصم بن عمر وأبو الأبيض عن أنس رضي الله عنه وقد روى في ذلك أيضا عن غير أنس فمن ذلك

ابو الا بیض نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عصر کی نماز پڑھاتے جبکہ سورج کی دھوپ ابھی سفید ہوتی پھر میں اپنے قبیلے میں جاتا اور وہ مدینہ کی ایک جانب میں آباد تھے میں ان کو کہتا کہ اٹھ کر نما ز ادا کرلو جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما چکے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے واردد وایات مختلف ہیں چنانچہ عاصم بن عمر والی روایت جلدی پڑھنے کو بتلاتی ہے کیونکہ اس روایت میں یہ ہے(( ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلیھا)) کہ نماز پڑھنے والا نماز پڑھ کر اس جگہ پہنچ جاتا ہے جس کا انہوں نے روایت میں تذکرہ کیا اور ان کو اس حال میں پاتا کہ ابھی انہوں نے عصر کو نماز ادا نہیں کی اور یہ بات تو ہم بخوبی جانتے ہیں کہ وہ سب نماز کو سورج کے زرد ہونے سے پہلے پہلے پڑھ لیتے تھے تو جلدی ادا کرنے کی دلیل بن گئی ۔ رہی وہ روایت جس کو زہری نے ان سے روایت کیا ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عصر ادا کرتے پھر عوالی مدینہ میں پہنچتے جبکہ سورج ابھی بلند ہی ہوتا تو اس کےمتعلق یہ کہنا بھی درست ہے کہ سورج زرد ہو کر غروب کے مقام سے بلند ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت مضطرب ہے کیونکہ زہری نے اسحق ،عاصم اور ابو الا بیض کے خلاف روایت نقل کی ہے اور یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ سے بھی آئی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو الْأَبْيَضِ ← رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1108

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 12 باب صلاة العصر هل تعجل أو تؤخر ) · حديث 1109

ما حدثنا بن أبي داود وفهد قالا حدثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا وهيب بن خالد قال ثنا أبو واقد ليثي قال ثنا أبو أروى قال كنت أصلي مع النبي صلى الله عليه و سلم العصر بالمدينة ثم آتى الشجرة ذا الحليفة قبل أن تغرب الشمس وهي على رأس فرسخين ففي هذا الحديث أنه كان يسير بعد العصر فرسخين قبل أن تغيب الشمس فقد يجوز أن يكون ذلك سيرا على الأقدام وقد يجوز أن يكون سيرا على الإبل والدواب فنظرنا في ذلك فإذا محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ

ابو واقد لیثی کہتےہیں کہ ہمیں ابو اروی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز مدینہ منورہ میں پڑھتا پھر میں ذوالحلیفہ کے درختوں والے مقام میں غروب آفتاب سے پہلے آجاتا یہ مقام مدینہ منورہ سے دو فرسخ پر واقع ہے ۔(فرسخ تین میل ہوتا ہے ) اس روایت میں یہ آیا ہے کہ ہم عصر کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے دو فرسخ فاصلہ طے کرلیتے ۔ اس سے یہ کہنا ممکن ہے کہ یہ پیدل ہو یا اونٹ یا گھوڑے پر ہوا س کے لیے مندرجہ ذیل روایت کو دیکھنا ہوگا۔

أَبُو أَرْوَى ← أبو واقد ليثي ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بن أبي داود وفهد ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1109

chevron_left Previous
1…272829…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter