شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1098
1036 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال أنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن سويد بن غفلة قال سمع الحجاج أذانه بالظهر وهو في الجبانة فأرسل إليه فقال ما هذه الصلاة قال صليت مع أبي بكر ومع عمر ومع عثمان رضي الله عنهم جين زالت الشمس قال فصرفه وقال لا تؤذن ولا تؤم قيل له ليس في هذا الحديث أن الوقت الذي رآهم فيه سويد كان في الصيف وقد يجوز أن يكون كان في الشتاء ويكون حكم الصيف عندهم بخلاف ذلك والدليل على ذلك
ابو حصین نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حجاج نے میری ظہر کی اذان سنی جبکہ وہ مقام جبانہ ( یہ مدینہ سے شام کی جانب ذہاب کے قریب مقام ہے یا بلند زرخیز زمین کو کہتے ہیں ) میں تھا اس نے پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور پوچھا یہ کون سی نماز ہے ؟ تو میں نےجواب دیا میں نے ابو بکر و عمر ، عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس وقت نماز ظہر ادا کی جبکہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا ( اس پرحجاج نے میری بات کو قبول نہ کیا بلکہ مسترد کردیا)اور اذان و نماز سےمعزول کر دیا اورکہا آئندہ نہ اذان دینا اور نہ جماعت کرانا اسے کہا جائے گا کہ اس روایت میں تو ایسی کوئی دلیل نہیں کہ حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے ان کو جس وقت میں دیکھا وہ موسم گرماہی تھا ۔ عین ممکن ہے کہ وہ موسم سرما ہواور گرمیوں کا حکم ان کے ہاں اس کےخلاف ہو۔ اس کاثبوت بن سنان کی راویت میں موجود ہے ۔
فصرفه ← صليت مع أبي بكر ومع عمر ومع عثمان جين زالت الشمس ← ما هذه الصلاة ← الحجاج أذانه بالظهر وهو في الجبانة فأرسل إليه ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1098
