شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1062
1004 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا فضيل بن سليمان عن خثيم بن عراك عن أبيه عن أبي هريرة مثله غير أنه قال فاستخلف على المدينة سباع بن عرفطة الغفاري فصليت خلفه فهذا سباع بن عرفطة قد كان في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم باستخلاف رسول الله صلى الله عليه و سلم إياه يصلي بالناس صلاة الصبح هكذا يطيل فيها القراءة حتى يصيب فيها التغليس والإسفار جميعا وقد روى أيضا عن أبي الدرداء من هذا شيء
عراک بن مالک نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر سباع بن عرفطہ غفاری کو حاکم مقر ر کر رکھا تھا میں نے ان کے پیچھے نما زپڑھی یہ سباع ابن عرفطہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کی حیثیت سے مدینہ منورہ میں لوگوں کونماز پڑھاتے اور اس میں قراءت طویل کرتے تاکہ غلس اور اسفار دونوں کو پالیں اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے بھی اسی سلسلے میں روایت آئی ہے ۔
أبي هريرة مثله غير ← أَبِيهِ ← خُثَيْمِ بْنِ عِرَاکٍ ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1062
