Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1062

1004 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا فضيل بن سليمان عن خثيم بن عراك عن أبيه عن أبي هريرة مثله غير أنه قال فاستخلف على المدينة سباع بن عرفطة الغفاري فصليت خلفه فهذا سباع بن عرفطة قد كان في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم باستخلاف رسول الله صلى الله عليه و سلم إياه يصلي بالناس صلاة الصبح هكذا يطيل فيها القراءة حتى يصيب فيها التغليس والإسفار جميعا وقد روى أيضا عن أبي الدرداء من هذا شيء

عراک بن مالک نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر سباع بن عرفطہ غفاری کو حاکم مقر ر کر رکھا تھا میں نے ان کے پیچھے نما زپڑھی یہ سباع ابن عرفطہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کی حیثیت سے مدینہ منورہ میں لوگوں کونماز پڑھاتے اور اس میں قراءت طویل کرتے تاکہ غلس اور اسفار دونوں کو پالیں اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے بھی اسی سلسلے میں روایت آئی ہے ۔

أبي هريرة مثله غير ← أَبِيهِ ← خُثَيْمِ بْنِ عِرَاکٍ ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1062

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1063

1005 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا محمد بن المثنى قال ثنا عبد الرحمن بن مهدي قال ثنا معاوية بن صالح عن أبي الزاهرية عن جبير بن نفير قال صلى بنا معاوية الصبح بغلس فقال أبو الدرداء أسفروا بهذه الصلاة فإنه أفقه لكم إنما تريدون أن تخلوا بحوائجكم فهذا عندنا والله تعالى أعلم من أبي الدرداء علي إنكاره عليهم ترك المد بالقراءة إلى وقت الإسفار لا على إنكاره عليهم وقت الدخول فيها فلما كان ما روينا عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم هو الإسفار الذي يكون الانصراف من الصلاة فيه مع ما روينا عنه من إطالة القراءة في تلك الصلاة ثبت أن الإسفار بصلاة الصبح لا ينبغي لأحد تركه وأن التغليس لا يفعل إلا ومعه الإسفار فيكون هذا في أول الصلاة وهذا في آخرها فإن قال قائل فما معنى ما روى عن عائشة رضي الله عنها أن النساء كن يصلين الصبح مع النبي صلى الله عليه و سلم ثم ينصرفن وما يعرفن من الغلس قيل له يحتمل أن يكون هذا قبل أن يؤمر بإطالة القراءة فيها فإنه قد

جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز غلس میں پڑھائی تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نےکہا اس نماز کو اسفار میں پڑھو یہ زیادہ یاد آخرت دلانے والی ہے تم چاہتے ہو کہ جلدی سے حوائج دنیا میں مصروفیات اختیار کریں ۔ہمارے نزدیک حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے ان پر یہ اعتراض اسی وجہ سے کیا کہ انہوں نے روشنی تک قراء ت کو لمبا نہیں کیا اندھیرے میں شروع کرنے پر اعتراض نہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایات ہم نے ذکر کر دیں کہ وہ سپیدے میں نماز سے فارغ ہوتے اور یہ بھی روایت کر دیا کہ وہ اس میں لمبی قراءت کرتے تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ نماز صبح کو سپیدے میں چھوڑنا یہ کسی کے مناسب نہیں اندھیرے میں پڑھنا اس وقت ہے جب اس کے ساتھ اسفار ہو گویا اندھیرا نماز کی ابتداء میں اور اسفاراس کے اختتام میں تھا اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا کیا مطلب ہے کہ وہ عورتوں کے لوٹنے کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں " وما یعرفن من الغلس" کہ وہ اندھیرے کی وجہ سے پہنچانی نہیں جاتی تھیں تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ عین ممکن ہے کہ یہ طویل قراءت کے حکم سے پہلے کا حکم ہو جیسا کہ اس روایت میں ہے ۔ علامہ طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا یہ نکیر فرمانا ہمارے نزدیک اسی وجہ سے تھا کہ انہوں نے قراءت کو طویل نہ کیا تھا آپ کا مقصد یہ تھا کہ قراءت کو طویل کرو تاکہ اسفار میں داخل ہو جاؤ یہ مطلب نہ تھا کہ تم غلس میں کیونکر نماز ادا کرتے ہو واللہ اعلم ۔

جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1063

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1064

1006 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا مرجا بن رجاء قال ثنا داود عن الشعبي عن مسروق عن عائشة رضي الله عنها قالت أول ما فرضت الصلاة ركعتين ركعتين فلما قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة وصل إلى كل صلاة مثلها غير المغرب فإنه وتر وصلاة الصبح لطول قراءتها وكان إذا سافر عاد إلي صلاته الأولى فأخبرت عائشة رضي الله عنها في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي قبل أن يتم الصلاة علي مثال ما يصلي إذا سافر وحكم المسافر تخفيف الصلاة ثم أحكم بعد ذلك فزيد في بعض الصلوات وأمر بإطالة بعضها فيجوز والله أعلم أن يكون ما كان يفعل من تغليسه بها وانصراف النساء منها ولا يعرفن من الغلس كان ذلك في الوقت الذي كان يصليها فيه علي مثل ما يصلى فيه الآن في السفر ثم أمر بإطالة القراءة فيها وأن يكون مفعوله في الحضر بخلاف ما يفعل في السفر من إطالة هذه وتخفيف هذه وقال أسفروا بالفجر أي أطيلوا القراءة فيها ليس ذلك علي أن يدخلوا فيها في آخر وقت الإسفار ولكن يخرجوا منها في وقت الإسفار فثبت بذلك نسخ ما روت عائشة رضي الله عنها بما ذكرنا مع ما قد دل على ذلك أيضا من فعل أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من بعده في إصابتهم الإسفار في وقت انصرافهم منها واتفاقهم على ذلك حتى لقد

مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ہر نماز کے ساتھ اس کی مثل ملادی گئی دو کی چار ہوگئیں البتہ مغرب کا طارق عدد باقی رہا اور نماز صبح بھی طویل قراءت کی وجہ سے اسی طرح باقی رہی جب آپ سفر فرماتے تو پہلی نماز کی طرف لوٹ آتے یعنی دو رکعت پڑھتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت میں یہ اطلاع دی کہ نماز کےمکمل کرنے سے پہلے آپ اس طرح نماز ادا فرماتے جیسے کہ کوئی حالت سفر میں ہو اور مسافر کا حکم نماز میں تخفیف ہی کا ہے پھر بعض نمازوں میں اضافے کا حکم ہوا اور بعض میں طویل قراءت کا پس اس سے یہ کہنا درست ہو گیا ( واللہ اعلم) کہ آپ جو کچھ غلس میں کرتے تھے جبکہ عورتیں نماز سے واپسی پر اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں یہ اس وقت کی بات ہے جیسے اب سفر میں نماز پڑھی جاتی ہے پھر لمبی قراءت کا حکم ہوا اور حضر کا عمل طویل قراءت کے ذریعے سفر سے مختلف ہو گیا ۔ اور ارشاد فرمایا" اسفروابالفجر" یعنی فجر میں طویل قراءت کرو یہ مطلب نہیں ہے کہ آخری وقت میں نماز میں داخل ہو بلکہ روشنی کےوقت نکلنے کا حکم ہے پس اس سےحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کا منسوخ ہونا ثابت ہو تا ہے ۔جو ہم نے پہلے ذکر کی اور اس کے ساتھ ساتھ اصحاب رسول کے فعل سے نماز سے لوٹنے کے وقت بالا تفاق اسفار کو پالینا ظاہر ہوتا ہے یہاں تک کہ ابراہیم نخعی نے یہ کہا ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ، ← مَرْجَا بْنُ رَجَاءٍ ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1064

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 10 باب الوقت الذي يصلى فيه الفجر أي وقت هو ) · حديث 1065

1007 - قال إبراهيم النخعي ما قد حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا القعنبي قال ثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن إبراهيم قال ما اجتمع أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم على شيء ما اجتمعوا علي التنوير فأخبر أنهم كانوا قد اجتمعوا على ذلك فلا يجوز عندنا والله أعلم إجتماعهم على خلاف ما قد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم فعله إلا بعد نسخ ذلك وثبوت خلافه فالذي ينبغي الدخول في الفجر في وقت التغليس والخروج منها في وقت الإسفار على موافقة ما روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى

عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے نقل کیا کہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جس قدر اتفاق رائے نہ ملی ۔ ہمارے نزدیک (واللہ اعلم ) یہ جائز نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی ایسی بات کی مخالفت پر اتفاق کر لیں کہ جس عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو مگر اس صورت میں کہ ان کو اس کےخلاف عمل سے اس کے منسوخ ہونےکا عمل نہ پہنچا ہو پس نماز فجر میں منہ اندھیرے داخل ہونا اور سپیدے میں اس سے نکلنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کے موافق ہے یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ ← إبراهيم النخعي ما قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1065

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1066

1008 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا بن أبي ذئب قال ثنا شعبة عن الزبرقان عن عروة عن أسامة بن زيد قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي الظهر بالهجير

عروہ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز گرمی میں پڑھتے تھے۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي الظهر بالهجير ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُرْوَةَ ← الزِّبْرِقَانِ ← شُعْبَةُ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1066

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1067

1009 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة قال حدثني سعيد بن إبراهيم قال سمعت محمد بن عمرو بن حسن يقول سألنا جابر بن عبد الله فقال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي الظهر بالهاجرة أو حين تزول الشمس

محمد بن عمروبن حسن کہتے ہیں کہ ہم نےجابر بن عبداللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز گرمی میں یا جب سورج ڈھل جاتا پڑھتے تھے ۔

سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ ← سعيد بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1067

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1068

1010 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا عبدة بن سليمان قال ثنا محمد بن عمرو بن علقمة الليثي عن سعيد بن الحويرث عن جابر بن عبد الله قال كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه و سلم الظهر فأخذ قبضة من الحصباء أو من التراب فأجعلها في كفي ثم أحولها في الكف الأخرى حتى تبرد ثم أضعها في موضع جبيني من شدة الحر

سعید بن الحویرث نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر ادا کرتے میں کنکریوں کو مٹھی میں یا مٹی کی مٹھی بھر کر ہتھیلی میں رکھتا پھر اس کو دوسری ہتھیلی میں تبدیل کرتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائیں پھر ان کو میں اپنی پیشانی والی جگہ میں رکھتا ( تاکہ اس پر پیشانی ٹکا سکوں)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيِّ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1068

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1069

1011 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن سعيد بن وهب عن خباب قال شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حر الرمضاء بالهجير فما أشكانا

سعید بن وہب نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم نےجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دھوپ سے تپی رھوپ سے تپی ہوئی ریت کی شکایت کی آپ نے شکوہ کا ازالہ نہ فرمایا ۔

خَبَّابٍ ← سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1069

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1070

1012 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا شجاع بن الوليد عن زياد بن خيثمة عن أبي إسحاق عن سعيد بن وهب عن خباب مثله قال أبو إسحاق كان يعجل الظهر فيشتد عليهم الحر

سعید بن وہب نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أبو إسحاق كان يعجل الظهر فيشتد عليهم الحر ← خباب مثله ← سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1070

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1071

1013 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش قال ثنا أبو إسحاق عن حارثة بن مضرب أو من هو مثله من أصحابه قال خباب شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حر الرمضاء فلم يشكنا

ابو اسحاق سے حارثہ بن مضرب یا اسی طرح کے لوگوں نے خباب رضی اللہ عنہ سےیہ روایت نقل کی ہے کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دھوپ سے ریت کے سخت گرم ہونے کی شکایت کی مگر آپ نے شکایت کہ پروانہ فرمائی ۔

حارثة بن مضرب أو من هو مثله من أصحابه ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1071

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1072

1014 - حدثنا أبو أمية قال ثنا قبيصة قال ثنا يونس بن أبي إسحاق عن أبي إسحاق ح

یونس بن ابو اسحاق نے ابو اسحاق سے اپنی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے ۔

أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← قَبِيصَةُ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1072

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 11 باب الوقت الذي يستحب أن يصلي صلاة الظهر فيه ) · حديث 1073

وحدثنا أبو أمية قال ثنا أبو نعيم ومحمد بن سعيد قال أنا شريك عن أبي إسحاق ح وحدثنا أبو أمية قال ثنا بن الأصبهاني قال ثنا وكيع عن الأعمش عن أبي إسحاق عن حارثة عن خباب مثله

اعمش نے ابو اسحاق اور انہوں نے حارثہ سے اور انہوں نے خباب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

خباب مثله ← حَارِثَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← بن الأصبهاني ← وحدثنا أبو أمية ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← أبو نعيم ومحمد بن سعيد ← وحدثنا أبو أمية

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1073

chevron_left Previous
1…242526…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter