شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 1014
ما حدثني القاسم بن جعفر قال سمعت بحر بن الحكم الكيساني يقول سمعت أبا عبد الرحمن عبد الله بن محمد بن عائشة يقول إن آدم عليه السلام لما تيب عليه عند الفجر صلى ركعتين فصارت الصبح وفدى إسحاق عند الظهر فصلى إبراهيم عليه السلام أربعا فصارت الظهر وبعث عزير فقيل له كم لبثت فقال يوما فرأى الشمس فقال أو بعض يوم فصلى أربع ركعات فصارت العصر وقد قيل غفر لعزير عليه السلام وغفر لداؤد عليه السلام عند المغرب فقام فصلى أربع ركعات فجهد فجلس في الثالثة فصارت المغرب ثلاثا وأول من صلى العشاء الآخرة نبينا محمد صلى الله عليه و سلم فلذلك قالوا الصلاة الوسطى هي صلاة العصر فهذه عندنا معنى صحيح لأن أول الصلوات إن كانت الصبح وآخرها العشاء الآخرة فالوسطى فيما بين الأولى والآخرة هي العصر فلذلك قلنا إن الصلاة الوسطى صلاة العصر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى
ابو عبدالرحمن نے کہا آدم علیہ السلام کی توبہ جب فجر کے وقت قبول ہوئی تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی پس صبح کی نماز ہو گئی اسحاق کا فدیہ ظہر کے وقت ادا کیا گیا تو ابراہیم علیہ السلام نے چار رکعت پڑھیں پس طہر بن گئی جب عزیز علیہ السلام کوکہا گیا : کم لبثت؟ تو انہوں نے یوما کہاپھر سورج کودیکھ کر کہا یا دن کا بعض حصہ پس انہوں نے چار رکعت پڑھیں اس سے عصر بن گئی یہ بھی کہا گیا ہے کہ عزیز علیہ السلام کی بخشش کر دی گئی ( تو انہوں نے چار رکعت نماز پڑھی) داؤد علیہ السلام کی بخشش غروب کے قریب ہوئی تو انہوں نے چار رکعت کی نیت باندھی تھک گئے تو تیسری میں بیٹھ گئے پس مغرب تین رکعت بن گئی سب سے پہلے عشاء کی نماز پڑھنے والے ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی وجہ سے کہا گیا کہ صلاۃ وسطیٰ و صلاۃ عصر ہے کتاب روضتہ العلماء لا بو علی بخاری میں اس کے متعلق بہت مختلف حکایت لکھی ہے اسی وجہ سے انہوں نے کہا کہ صلوۃ وسطیٰ وہی نماز عصر ہے یہ مفہوم ہمارے ہاں درست ہے ۔ اگر اتبداء دن کے لحاظ سے پہلی نماز صحیح ہے اور نماز میں آخری عشاء ہے اور سب سے پہلی اور آخری کے درمیان والی وسطی ہے اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ صلاۃ وسطیٰ وہی نماز عصر ہے اور یہ امام ابو حنیفہ ، ابویوسف ،محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔
أبا عبد الرحمن عبد الله بن محمد بن عائشة ← بحر بن الحكم الكيساني ← القاسم بن جعفر ← مَا
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1014
