Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 786

752 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة وحماد بن زيد عن خالد فذكر بإسناده مثله

حماد بن سلمہ و حماد بن زید نے خالد سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

خالد فذكر بإسناده مثله ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 786

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 787

753 - حدثنا محمد بن عيسى بن فليح بن سليمان قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن خالد فذكر بإسناده مثله

ہشیم نے خالد سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

خالد فذكر بإسناده مثله ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن عيسى بن فليح بن سليمان

Hadith 787

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 788

754 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إبراهيم بن عبد الله الهروي قال ثنا محمد بن دينار الطاخي قال ثنا خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أنس بن مالك قال كانوا قد أرادوا أن يضربوا بالناقوس وأن يرفعوا نارا لإعلام الصلاة حتى رأى ذلك الرجل تلك الرؤيا فأمر بلال أن يشفع الأذان ويوتر الإقامة

ابو قلابہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ مسلمانوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ ناقوس بجائیں اور بلند جبہ پر نماز کے لیے اعلان کیا جا سکے یہاں تک کہ ایک آدمی ( عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہم) نے وہ خواب دیکھا تو بلال کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات جفت اور اقامت کے طاق کہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← محمد بن دينار الطاخي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← بن أبي داود

Hadith 788

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 789

755 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو الجزري عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس رضي الله عنه قال أمر بلال أن يشفع الأذان ويوتر الإقامة قال أبو جعفر فذهب إلى هذا فقالوا هكذا الإقامة تفرد مرة مرة وخالفهم آخرون في حرف واحد من ذلك فقالوا إلا قوله قد قامت الصلاة فإنه ينبغي له أن يثني ذلك مرتين واحتجوا في ذلك بما

ابو قلابہ نے نقل کیا کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کو جفت اور اقامت کو طارق کہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ عیہ فرماتے ہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ اقامت ایک ایک مرتبہ کہی جائے گی ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ بقیہ اقامت تو تمہاری طرح ہے مگر قد قامت الصلوۃ کو دو مرتبہ کہا جائے گا ان کی مستدل یہ روایات ہیں ۔

هكذا الإقامة تفرد مرة مرة وخالفهم آخرون في حرف واحد من ذلك ← أبو جعفر فذهب إلى هذا ← أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةِ. ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْجَزَرِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 789

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 790

756 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد عن سماك بن عطية عن أبي قلابة عن أنس رضي الله عنه قال أمر بلال أن يشفع الأذان ويوتر الإقامة إلا الإقامة

قلابہ نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کو جفت اور اقامت کو طاق کہیں سوائے اقامت کے لفظ کے ۔

أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ إِلَّا الْإِقَامَةَ ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Hadith 790

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 791

757 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن سنان العوفي قال ثنا حماد بن سلمة عن خالد عن أبي قلابة عن أنس رضي الله عنه

ابو قلابہ نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← محمد بن سنان العوفي ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 791

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 792

وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن إسماعيل قال ثنا إسماعيل قال ثنا خالد عن أبي قلابة عن أنس رضي الله عنه قال أمر بلال أن يشفع الأذان ويوتر الإقامة قال إسماعيل فحدثت به أيوب فقلت له وأن يوتر الإقامة فقال إلا الإقامة

ابو قلابہ نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کو جفت اور اقامت کو طاق کہیں اسماعیل کہتے ہیں میں نے اپنے استاذ ایوب کو کہا ان یوتر الاقامۃ تو انہوں نے کہا ۔ الاقامۃ ہاں اقامت کے لفظ کو جفت کہا جائے ۔

إسماعيل فحدثت به أيوب فقلت له وأن يوتر الإقامة فقال إلا الإقامة ← أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةِ. ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← إِسْمَاعِيلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← وحدثنا محمد بن خزيمة

Hadith 792

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 793

758 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا شعبة عن أبي جعفر الفراء عن مسلم مؤذن كان لأهل الكوفة عن بن عمر رضي الله عنهما قال كان الأذان على عهد النبي صلى الله عليه و سلم مرتين مرتين والإقامة مرة مرة غير أنه إذ قال قد قامت الصلاة قالها مرتين فعرفنا أنها الإقامة فيتوضأ أحدنا ثم يخرج واحتجوا في ذلك أيضا من النظر فقالوا قد رأينا الأذان ما كان منه مكررا لم يثن في المرة الثانية إلا وجعل على النصف مما هو عليه في الابتداء وكانت الإقامة لا يبتدأ بها إنما تكون بعد الأذان فكان النظر على ذلك أن يكون ما فيها مما هو في الأذان غير مثنى وما فيها مما ليس في الأذان فكل الإقامة في الأذان غير قد قامت الصلاة فيفرد الإقامة كلها ولا يثني غير قد قامت الصلاة فإنها تكرر لأنها ليست في الأذان وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الإقامة كلها مثنى مثنى مثل الأذان سواء غير أنه يقال في آخرها قد قامت الصلاة وقالوا ما ذكرتم عن بلال قد روى عنه خلاف ذلك مما سنذكره إن شاء الله تعالى

ابو جعفر الفراء نے مسلم سے نقل کیا یہ اہل کوفہ کے موذن تھے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ اذان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو دو مرتبہ اور اقامت ایک ایک مرتبہ تھی البتہ جب قد قامت الصلاۃ کہتے تو اسے دو مرتبہ کہا جاتا پس اس سے ہم پہچان لیتے کہ یہ اقامت ہے پس وضو کر کے ہم نکلتے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں نظرو فکر کو مستدل بنایا اور کہا کہ ہم نے غور سے دیکھا کہ اذان میں جو کلمات تکرار سے کہے ہیں وہ دوسری مرتبہ دو گنا نہیں آتے بلکہ ابتداء سے نصف آتے ہیں اور اقامت سے ابتداء نہیں ہوتی بلکہ وہ اذان کے بعد ہوتی ہے ۔ پس منظر کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے وہ الفاظ جو اذان میں آتے ہیں طاق ہوں اور جو اذان میں نہیں وہ جفت ہوں۔ پس قد قامت الصلوۃ کے علاوہ تمام کلمات اذان سے نصف ہوں گے اور قد قامت الصلوۃ کو دو مرتبہ لایا جائے گا ۔ کیونکہ وہ اذان میں نہیں اور بقیہ کلمات اذان میں ہیں وہ نصف تعداد میں لائے جائیں گے ، دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا اذان کی طرح اقامت میں قد قامت الصلوۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ باقی جو روایت بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کرتے ہیں ہم انہی کی روایت اس کے برعکس دکھا سکتے ہیں ۔ ملاحظہ کریں ۔

بن عُمَرَ ← مسلم مؤذن كان لأهل الكوفة ← أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ، ← شُعْبَةُ، ← بن مرزوق

Hadith 793

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 794

759 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عبد الله بن داود عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن عبد الله بن زيد رأى رجلا نزل من السماء عليه ثوبان أخضران أو بردان أخضران فقام على جذم حائط فأذن الله أكبر الله أكبر على ما ذكرنا في الباب الأول ثم قعد ثم قام فأقام مثل ذلك فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال نعم ما رأيت علمها بلالا

عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ نے ایک آدمی دیکھا جو آسمان سے اترا اس نے سبز کپڑے زیب تن کر رکھے تھے یا دو سبز چادریں اوڑھ رکھی تھیں وہ دیوار کے ایک حصہ پر کھڑا ہو اور اس نے اذان دی اللہ اکبر اللہ اکبر جیسا باب اول میں ہم نے ذکر کیا پھر وہ بیٹھ گیا پھر کھڑا ہوا اور اسی طرح اقامت کہی پھر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کو اطلاع دی تو آپ نے فرمایا تم نے بہت خوب دیکھا یہ کلمات بلال کو سکھاؤ۔

عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 794

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 795

760 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيي بن يحيي النيسابوري قال ثنا وكيع عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال أخبرني أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم أن عبد الله بن زيد الأنصاري رأى في المنام الأذان فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال علمه بلالا فأذن مثنى مثنى وأقام مثنى مثنى وقعد قعدة

عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ عبداللہ بن زید انصاری نے خواب میں اذان دیکھی پھر وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا تم اسے بلال کو سکھاؤ پس انہوں نے دو دو مرتبہ کلمات سے اذان دی اور دو دو مرتبہ کلمات سے اقامت کہی اور بیٹھ گئے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ← علي بن شيبة

Hadith 795

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 796

761 - حدثنا فهد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن زيد بن أبي أنيسة عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال حدثنا أصحابنا فذكر نحوه قال عبد الله لولا أني أتهم نفسي لظننت أني رأيت ذلك وأنا يقظان غير نائم ثم قال وقال عمر بن الخطاب أنا والله لقد طاف بي الذي طاف بعبد الله فلما رأيته قد سبقني سكت ففي هذا الأثر أن بلالا أذن بتعليم عبد الله بن زيد بأمر النبي صلى الله عليه و سلم إياه بذلك فأقام مثنى مثنى فهذا يخالف الحديث الأول ثم قد روى عن بلال أنه كان بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم يؤذن مثنى مثنى ويقيم مثنى مثنى فدل ذلك أيضا على انتفاء ما روى أنس

عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں ہمیں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا ہے کہ پھر اسی طرح روایت نقل کی عبداللہ کہتے ہیں اگر اپنے نفس کو متہم کرنے کاخطرہ نہ ہوتا تو میں کہتا میں نےیہ بات بیداری کی حالت میں دیکھی ہے جبکہ میں نیند میں نہ تھا پھر کہنے لگے اور عمر بن الخطاب کہنے لگے اللہ کی قسم خواب میں وہی آنے والا جو عبداللہ کو آیا مجھے بھی آیا جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھ سے آگے بڑھ گئے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ اس اثر سے یہ بات واضح ہوتی ہے ۔ کہ اذان بلالی تلقین عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے تھی پس ان کی اقامت دو دو بار ہے ۔ یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے ۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اذان بھی دو دو کلمات اور اقامت بھی دو دو کلمات سے کہتے تھے ۔ یہ اس چیز کی نفی پر دلالت کرتی ہے جس کوحضرت انس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ۔

أَصْحَابُنَا، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Hadith 796

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 2 باب الإقامة كيف هي ) · حديث 797

762 - حدثنا أحمد بن داود بن موسى قال ثنا يعقوب بن حميد بن كاسب قال ثنا عبد الرزاق عن معمر عن حماد عن إبراهيم عن الأسود عن بلال أنه كان يثني الأذان ويثني الإقامة

اسود نے نقل کیا کہ بلال اذان کے کلمات دو دو مرتبہ ورا قامت بھی دو دو مرتبہ کہتے تھے ۔

بلال أنه كان يثني الأذان ويثني الإقامة ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← أحمد بن داود بن موسى

Hadith 797

chevron_left Previous
1234…124
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter