Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 966

912 - حدثنا بن معبد قال ثنا المقرئ عن حيوة وابن لهيعة قالا أنا أبو صخر أنه سمع يزيد بن عبد الله بن قسيط يقول سمعت خارجة بن زيد بن ثابت يقول سمعت أبي يقول ذلك

یزید بن عبدا للہ بن قسیط کہتے ہیں کہ میں نے خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے اپنے والد کو اسی طرح فرماتے سنا ۔

ذَلِكَ ← أَبِي ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← أَبُو صَخْرٍ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ ← الْمُقْرِئُ ← بن معبد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 966

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 967

913 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا موسى بن ربيعة عن الوليد بن أبي الوليد المديني عن عبد الرحمن بن أفلح أن نفرا من أصحابه أرسلوه إلى عبد الله بن عمر يسأله عن الصلاة الوسطى فقال اقرأ عليهم السلام وأخبرهم أنا كنا نتحدث أنها التي في إثر الضحى قال فردوني إليه الثانية فقلت يقرؤون عليك السلام ويقولون بين لنا أي صلاة هي فقال اقرأ عليهم السلام وأخبرهم أنا كنا نتحدث انها الصلاة التي وجه فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم الكعبة قال وقد عرفناها هي الظهر قال أبو جعفر فذهب قوم إلى ما ذكرنا فقالوا هي الظهر واحتجوا في ذلك بما احتج به زيد بن ثابت على ما ذكرناه عنه في حديث ربيع المؤذن وبما رويناه في ذلك عن بن عمر وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا أما حديث زيد بن ثابت فليس فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم إلا قوله لينتهين أقوام أو لأحرقن عليهم بيوتهم وأن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي الظهر بالهجير ولا يجتمع معه إلا الصف والصفان فأنزل الله تعالى هذه الآية فاستدل هو بذلك على انها الظهر فهذا قول من زيد بن ثابت ولم يروه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وليس في هذه الآية عندنا دليل على ذلك لأنه قد يجوز أن تكون هذه الآية أنزلت للمحافظة على الصلوات كلها الوسطى وغيرها فكانت الظهر فيما أريد وليست هي الوسطى فوجب بهذه الآية المحافظة على الصلوات كلها ومن المحافظة عليها حضورها حيث تصلى فقال لهم النبي صلى الله عليه و سلم في الصلاة التي يفرطون في حضورها لينتهين أقوام أو لأحرقن عليهم بيوتهم يريد لينتهين أقوام عن تضييع هذه الصلاة التي قد أمرهم الله عز و جل بالمحافظة عليها أو لأحرقن عليهم بيوتهم وليس في شيء من ذلك دليل على الصلاة الوسطى أي صلاة هي منهن وقد قال قوم إن قول رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا لم يكن لصلاة الظهر وإنما كان لصلاة الجمعة

عبد الرحمن بن افلح سے روایت ہے کہ میرے ساتھیوں کی ایک جماعت نے مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف صلاۃ وسطیٰ کے متعلق سوال کرنے بھیجا تو انہوں نے فرمایا ان سب کو سلام کہہ دو اور بتلاؤ کہ ہم یہی بات کیا کرتے تھے کہ یہ وہی نماز ہے جو چاشت کے بعد ہے یعنی ظہر ۔ عبدالرحمن کہتے ہیں انہوں نے مجھے دوبارہ بھیجا تو میں نے کہا وہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور عرض کرتے ہیں ہمیں واضح الفاظ میں بتلائیں کہ وہ کون سی نماز ہے ۔ تو عبداللہ فرمانے لگے تم ان کو سلام کہنا کہ ہم باتیں کیا کرتے تھے یہ یہ وہی نماز ہے جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف رخ فرمایا ہم نےپہنچان لیا کہ وہ ظہر ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء ان آثار کی طرف گئے اور انہوں نے ظہر کو درمیانی نما زقرار دیا اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سے اسی طرح استدلال کیا جیسا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کیااور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت کو مستدل بنایا۔ دیگر علماء نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو صرف جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سخت گرمی کے وقت میں پڑھتے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جماعت میں ایک یا دو صفیں جمع ہوتیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت صلوۃ الوسطی والی اتاری ۔ چنانچہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس سے استدلال کیا کہ اس وطنی سے ظہر مراد ہے اور یہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کی رائے ہے ۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں ہے اور اس آیت میں ہمارے ہاں کوئی دلیل نہیں جو ثابت کرتی ہو کیونکہ یہ جائز ہے کہ آیت میں تمام نمازوں کی وسطی سمیت حفاظت کا حکم دیا گیا اور محافظت میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی ادائیگی کے وقت میں حاضر ہو ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کے سلسلہ میں کہ جس کی حاضری میں وہ کوتاہی کرتے تھے ارشاد فرمایا( لینتھین اقوام اولا حرقن علیھم بیوتھم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اسکی نماز کی محافظت میں کوتاہی سے باز آجائیں ورنہ میں ان کو اس کوتاہی کی وجہ سے گھروں سمیت جلا ڈالوں گا۔ اب اس ارشاد میں تو اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ درمیانی کونسی نماز ہے ؟ ایک جماعت کا کہنا یہ ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نماز ظہر کے لیے نہین ہے بلکہ یہ نماز جمعہ کے لیےہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَفْلَحَ، ← الوليد بن أبي الوليد المديني ← موسى بن ربيعة ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 967

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 968

914 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن عبد الله بن يونس قال ثنا زهير بن معاوية عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لقوم يتخلفون عن الجمعة لقد هممت أن آمر رجلا يصلي بالناس ثم أحرق على قوم يتخلفون عن الجمعة في بيوتهم فهذا بن مسعود يخبر أن قول النبي صلى الله عليه و سلم ذلك إنما كان للمتخلفين عن الجمعة في بيوتهم ولم يستدل هو بذلك على أن الجمعة هي الصلاة الوسطى بل قال بضد ذلك وأنها العصر وسنأتي بذلك في موضعه إن شاء الله تعالى وقد وافق بن مسعود رضي الله عنه على ما قال من ذلك غيره من التابعين

ابوالاحوص نے عبداللہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا جو جمعہ سے غفلت کرتے تھے میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں کسی آدمی کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر جمعہ سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے گھروں کو جلا دالوں۔ یہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جو یہ بتلا رہے ہیں کہ آپ کا یہ ارشاد گرامی جمعہ میں تاخیر کرنے والوں سے متعلق ہے اور انہوں نے جمعہ کے نماز وسطی ہونے پر اس پر استدلال نہیں کیا بلکہ اس کے بالمقابل انہوں نے عصر کو صلوۃ وسطی قرار دیا ۔ عنقریب یہ اپنے مقام پر اس کو ذکر کریں گے ان شاء اللہ اور بابعین کی ایک بڑی جماعت نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی موافقت میں یہ بات کہی ہے ۔

لقوم يتخلفون ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 968

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 969

915 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال زعم حميد وغيره عن الحسن قال كانت الصلاة التي أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يحرق على أهلها صلاة الجمعة وقد روى عن أبي هريرة رضي الله عنه خلاف ذلك أيضا

تابعین کے اقوال میں بھی اس کی تائید موجود ہے حماد بن سلمہ کہتے ہیں حمید وغیرہ کا خیال ہے کہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس نماز کے متعلق گھروں کو جلانے کی بات فرمائی وہ نماز جمعہ ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس دھمکی کا تعلق نماز فجر و عشاء سے ہے روایت ملاحظہ ہو۔

كانت الصلاة التي أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنِ، ← زعم حميد وغيره ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 969

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 970

916 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر رجلا بحطب فيحطب ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلى رجال فأحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم أحدهم أنه يجد عظما سمينا أو مرماتين حسنتين لشهد العشاء

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ میں ایک آدمی کو لکڑیوں لانے کا حکم دوں وہ لکڑیاں لائے پھر میں نماز کا حکم دوں پس اذان کہی جائے پھر میں اپنی جگہ ایک شخص کو امامت کے لیے کہوں پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کو گھروں سمیت جلا دوں اس اللہ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر کسی کو معلوم ہو کہ اس کو موٹی ہڈی ( گوشت ) مل جائے گی یا بکرے کے دو اچھے پائے جائیں گے تو وہ ضرور عشاء میں حاضر ہوتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← بن وهب أن مالكا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 970

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 971

917 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني بن أبي الزناد ومالك عن أبي الزناد فذكر مثله بإسناده

ابن ابی الزنا اور مالک نے ابو الزناد سے روایت کی ہے اور انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے۔

أبي الزناد فذكر مثله بإسناده ← بن أبي الزناد ومالك ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 971

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 972

918 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش قال حدثني أبو صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ليس صلاة أثقل على المنافقين من صلاة الفجر وصلاة العشاء ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا لقد هممت أن آمر المؤذن فيقيم ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم آخذ شعلا من نار فأحرق على من لم يخرج إلى الصلاة بيته

ابو صالح نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافقین پر سب سے بھاری فجر اور عشاء کی نماز ہے اگر لوگ ان کا ثواب جان لیتے تو ان کے لیے گھٹنوں کے بل آنا پڑتا وہ آتے میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں موذن کو اذان کے لیے کہوں اور اذان دے پھر میں ایک آدمی کو لوگوں کی امامت کے لیے کہوں پھر میں آگ کا شعلہ لے کر ان لوگوں کے گھر جلاد یتا جو نماز کے لیے گھر سے نہیں نکلتے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو صَالِحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 972

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 973

919 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال أنا عاصم بن بهدلة عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أخر عشاء الآخرة حتى كان ثلث الليل أو قربه ثم جاء وفي الناس رقد وهم عرون فغضب غضبا شديدا ثم قال لو أن رجلا ندب الناس إلى عرق أو مرماتين لأجابوا له وهم يتخلفون عن هذه الصلاة لقد هممت أن آمر رجلا فيصلي بالناس ثم أتخلف على أهل هذه الدورة الذين يتخلفون عن هذه الصلاة فأضرمها عليهم بالنيران

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ رات کا ثلث حصہ گزر گیا یا گزرنے کے قریب ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بعض لوگ سو رہے تھے اور وہ کپڑوں سے ننگے تھے آپ سخت ناراض ہوئے پھر فرمایا اگر لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو پائے کی طرف بلایا جاتا تو وہ ضرور جاتے مگر اس نماز سے وہ پیچھے رہنے والے ہیں میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں کسی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کے گھروں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتے ہیں اور ان کو آگ سے جلا دوں ۔

لَوْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 973

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 974

920 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا أبو بكر عن عاصم فذكر مثله بإسناده فهذا أبو هريرة رضي الله عنه يخبر أن الصلاة التي قال فيها النبي صلى الله عليه و سلم هذا القول هي العشاء ولم يدله ذلك على أنها هي الصلاة الوسطى بل وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك مما سنذكره في موضعه إن شاء الله تعالى وقد وافق أبا هريرة رضي الله عنه من التابعين على ما قال من ذلك سعيد بن المسيب

ابو بکر نے عاصم سے اور اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔ اور سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس بات میں موافقت کی ہے ۔ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جو یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ وہ نماز جس کے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے وہ نماز عشاء ہے اور انہوں نے اس طرح قطعا راہنمائی نہیں فرمائی کہ وہ درمیانی نماز کامصداق ہے بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف روایت وارد ہے جس کو ہم اپنے مقام پر انشاء اللہ ذکر کریں گے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس سلسلہ میں تابعین نے موافقت کی ہے جیسا کہ ابن میسب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 974

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 975

921 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد قال أنا عطاء الخراساني عن سعيد بن المسيب قال كانت الصلاة التي أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يحرق علي من تخلف عنها صلاة العشاء الآخرة وقد روى عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه خلاف ذلك كله وأن ذلك القول لم يكن من النبي صلى الله عليه و سلم لحال الصلاة وإنما كان لحال أخرى

عطاء خراسانی سے سعید بن المسیب نے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر جلانے کی دھمکی جس نماز کے متعلق دی وہ نماز عشاء ہے اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس سب کے خلاف روایت آئی ہے کہ آپ کا یہ قول نماز کے لیے نہ تھا بلکہ اور حاجت کےلیے تھا ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 975

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 976

922 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا عبد الله بن لهيعة قال ثنا أبو الزبير قال سألت جابرا أقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لولا شيء لأمرت رجلا أن يصلي بالناس ثم حرقت بيوتا على ما فيها قال جابر إنما قال ذلك من أجل رجل بلغه عنه شيء فقال لئن لم ينته لأحرقن بيته على ما فيه فهذا جابر يخبر أن ذلك القول من النبي صلى الله عليه و سلم إنما كان للتخلف عما لا ينبغي التخلف عنه فليس في هذا ولا في شيء مما تقدمه الدليل على الصلاة الوسطى ماهي فلما انتفى بما ذكرنا أن يكون فيما روينا عن زيد بن ثابت في شيء من ذلك دليل رجعنا إلى ما روى عن بن عمر فإذا ليس فيه حكاية عن النبي صلى الله عليه و سلم وإنما هو من قوله لأنه قال هي الصلاة التي وجه فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الكعبة وقد روى عنه من غير هذا الوجه خلاف ذلك

ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سےپوچھا کہ کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر یہ چیز نہ ہوتی تو میں ایک آدمی کو کہتا کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائے پھر گھروں کو سب چیزوں سمیت جلا ڈالتا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمائی جس کے متعلق کوئی بات پہنچی تو فرمایا اگر وہ باز نہ آیا تو میں اس کا گھر ہر چیز سمیت جلا دوں گا۔ یہ جابر رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں یہ کسی ایسی چیز سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے تھا جس سے تخلف درست نہیں اور دھمکی اس سے متعلق ہے ۔ یہ جابر رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس شخص سے متعلق تھا جو ایسی چیزوں سے جان بوجھ کر پیچھے رہنے والے تھے جس سے پیچھے رہنا درست نہیں ۔ ان روایات اور ان سے پہلے مذکورہ روایات میں کوئی بھی نماز وسطیٰ کی حقیقت میں نشاندہی نہیں کرتی جب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول میں کوئی دلیل نہ ملی تو ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرف رجوع کیا ۔ اس میں عمر رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے تو مذکور ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی چیز بیان نہیں کی گئی ۔ خود ان کا قول یہ ہے کہ یہ وہ نماز ہے کہ جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکعبہ کی طرف رخ فرمایا اور دوسری سند سے ان سے اختلاف کی اور صورت منقول ہے ۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← عبد الله بن لهيعة ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 976

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 9 باب الصلاة الوسطى أي الصلوات ) · حديث 977

923 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث ح

عبداللہ بن صالح نے لیث سے اپنی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے ۔

اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 977

chevron_left Previous
1…161718…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter