شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2238
وحدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شعبة عن أبى بشر فذكر مثله بإسناده غير انه قال وأمرهم إذا أصبحوا أن يخرجوا الى مصلاهم فمعنى ذلك أيضا معنى ما روى يحيى وسعيد عن هشيم وهذا هو أصل الحديث ولما لم يكن في الحديث ما يدل على حكم ما اختلفوا فيه من الصلاة في الغد فنظرنا في ذلك فرأينا الصلوات على ضربين فمنها ما الدهر كله لها وقت غير الأوقات التي لا يصلى فيها الفريضة فكان ما فات منها في وقته فالدهر كله لها وقت يقضى فيه غير ما نهى عن قضائها فيه من الأوقات ومنها ما جعل له وقت خاص ولم يجعل لأحد أن يصليه في غير ذلك الوقت من ذلك الجمعة حكمها أن يصلى يوم الجمعة من حين تزول الشمس الى أن يدخل وقت العصر فإذا خرج ذلك الوقت فاتت ولم يجز أن يصلى بعد ذلك في يومها ذلك ولا فيما بعده فكان ما لا يقضى في بقية يومه بعد فوات وقته لا يقضى بعد ذلك وما يقضى بعد فوات وقته في بقية يومه ذلك قضى من الغد وبعد ذلك وكل هذا مجمع عليه وكانت صلاة العيد جعل لها وقت خاص في يوم العيد آخره زوال الشمس وكل قد أجمع على أنها إذا لم تصل يومئذ حتى زالت الشمس أنها لا تصلى في بقية يومها فلما ثبت أن صلاة العيد لا تقضى بعد خروج وقتها في يومها ذلك ثبت انها لا تقضى بعد ذلك في غد ولا غيره لأنا رأينا ما للذي فاته أن يقضيه من غد يومه جائز له أن يقضيه من بقية اليوم الذي وقته فيه وما ليس للذي فاته أن يقضيه من بقية يومه ذلك فليس له أن يقضيه من غده فصلاة العيد كذلك لما ثبت أنها لا تقضى إذا فاتت في بقية يومها ثبت أنها لا تقضى في غده فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبى حنيفة رحمه الله تعالى فيما رواه عن بعض الناس ولم نجده في رواية أبى يوسف عنه هكذا كان في رواية أحمد رحمهما الله تعالى
شعبہ نے ابو بشر سے پھر اس نے اپنی سند سے روایت کی البتہ یہ فرق ہے یہ الفاظ زائد ہیں وامر ہم اذا اصبحوا ان یخر جواالی مصلا ہم یہ اصل روایت ہے یہ اس روایت کی اصل ہے اب جبکہ روایت میں کوئی ایسی بات نہیں جو اگلے دن میں عید کی نماز ادا کرنے پر دلالت کرے تو اب ہم نے اس میں غور فکر کیا تو نماز کو دو قسموں میں تقسم پایا ان میں بعض تو وہ ہیں کہ جس کے لیے ہر زمانہ وقت ہے ۔ البتہ ان اوقات میں انکو ادا نہ کریں گےجن میں فرائض کی ممانعت ہے پس ان میں سے جو اپنے وقت سے رہ جائے تو تمام زمانہ اس کے لیے وقت ہے ۔ اس میں اسے ادا کیا جائے گا صرف ان اوقات میں نہ پڑھیں گے جن میں قضا ء کی ممانعت ہے اور بعض وہ نمازیں ہیں کہ جن کا خاص وقت مقرر ہے ان میں سے کسی کو جائز نہیں ہےکہ ان کو دوسرے وقت میں ادا کرے ان میں سے ایک جمعہ ہے ۔ اس کاحکم یہ ہےکہ اسے جمعہ کے دن ادا کیا جائے جبکہ سورج ڈھل جائے اور اس کا وقت عصر کے وقت تک رہتا ہے ۔ پس جب ظہر کا وقت ختم ہو جائے تو جمعہ فوت ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد اس کو اس دن یا اگلے دن یا بعد میں قضا نہیں کر سکتا اور وہ نمازیں جن کو فوت ہونے کے بعد اسی دن کے بقیہ وقت اور اگلے دن اور اس کے بعد جب چاہے قضاء کر سکتا ہے یہ سب کے ہاں مسلم ہے نماز عید کو دیکھیں اس کا ایک مقررہ وقت ہے اور وہ عید والا دن زوال سے پہلے تک کا وقت ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر نماز عید اس دن زوال تک ادا نہ کی تو بقیہ دن کے حصہ میں بھی ادا نہ کی جائے گی ۔ پس اس سے اس قدر بات ثابت ہو گئی کہ نماز عید وقت نکل جانے کے بعد اس دن بھی قضاء نہیں کی جاسکتی ۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہ اگلے روز اور نہ کسی دوسرے دن قضاء ہو سکتی ہے ۔ کیونکہ یہ بات تو وہ نماز جو فوت ہو نے کے بعد اگلے قضاء کی جا سکے وہ قضاء کے بعد اس دن کے بقیہ میں بھی ادا ہو سکتی ہے ۔ جس میں اس کی ادائیگی کا وقت تھا اور جو اس طرح نہیں پس اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اگلے روز قضاء کر ے تو نماز بھی یہی حکم رکھتی ہے ۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ عید دن کے بقیہ حصہ میں قضاء نہیں کی جا سکتی تو اگلے دن قضائج نہ کیا جاتا خود ثابت ہو گیا ۔ اس باب میں نظر کا تقاضا یہی ہے ۔ بعض علماء کی روایت کے مطابق امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔ا مام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی روایات میں تو ہمیں نہیں مل سکا ۔ یہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اسی طرح تھا ۔ اس روایت کی وہی تاویل ہے جو اوپر یحییٰ والی روایت کی ذکر کر دی اب جب کہ اس کے لیے صریح روایت موجود نہیں بلکہ مختلف فیہ ہے تو ہم قیاس و نظر کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2238
