شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2226
2103 - حدثنا محمد قال ثنا حجاج قال ثنا أبو عوانة عن عثمان بن عبد الله بن موهب عن جعفر بن أبى ثور عن جابر بن سمرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله
جعفر بن ابی ژور نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ اونٹوں کے باڑہ میں نماز مکروہ ہے اور انہوں نے ان آثار کو دلیل بنایا ہے یہاں تک کہ بعض نے تو اس مواقع پر نماز درست ہے اور انکی دلیل یہ ہے کہ جن روایات میں اونٹ کا باڑوں میں نماز سے منع کیا گیا ہے ان کا معنی مخدوش ہے اور ممانعت کی وجہ میں بھی اشکال ہے پس ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ اونٹوں والے عموما اونٹ کے قریب ہی پیشاب پاخانہ کر لیا کرتے ہیں اور اسکی وجہ سے اس کو پلید کر دیتے ہیں ۔ اس بناء پر آپ نے اونٹوں کے باڑے میں نماز سے منع فرمایا نہ کہ کسی اور وجہ سے اور یہ تو ایسی علت ہے جو ہر مقام پر نماز کے لیے مانع ہے اور بکریوں والے عادت یہ ہے کہ وہ بکریوں کے باڑے کو گندگی سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں بول و بزار سے باز رہتے ہیں پس ان کے باڑے میں نماز کو درست قرار دیا گیا ہے ۔ شریک بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی طرح کہا اور وہ اس روایت کی یہی تاویل کرتے اور یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ نماز کی ممانعت کا یہ ہرگز نہیں ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ اونٹ اچھل کود کرتے ہیں اور اس میں ہر سامنے آنے والے کو قتل و ہلاک کر ڈالتے ہیں کیا تم یہ روایت میں نہیں پاتے کہ ان کے متعلق کہا گیا ہے ۔ وہ جناب سے پیدا کیے گئے ور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ان اونٹوں کے لیے وحشی پن ہے جیسا جنگل کے جانوروں میں وحشی پن ہوتا ہے اور یہ خطرہ بکریوں سے نہیں ہے اس وجہ سے اونٹوں کے باڑے میں نماز سے ان اونٹوں کی حرکت کی وجہ سے روکا گیا اس بناء پر نہیں کہ ان کے پاس نجاست ہوتی ہے اور بکریوں کے پاس نہیں ہوتی بکریوں کے باڑے میں نماز کو اس وجہ سے درست قرار دیا کیونکہ ان سے وحشی پن کا خطرہ نہیں ، جو اونٹوں سے ہے ۔
النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدٍ
Hadith 2226
