Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2226

2103 - حدثنا محمد قال ثنا حجاج قال ثنا أبو عوانة عن عثمان بن عبد الله بن موهب عن جعفر بن أبى ثور عن جابر بن سمرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

جعفر بن ابی ژور نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ اونٹوں کے باڑہ میں نماز مکروہ ہے اور انہوں نے ان آثار کو دلیل بنایا ہے یہاں تک کہ بعض نے تو اس مواقع پر نماز درست ہے اور انکی دلیل یہ ہے کہ جن روایات میں اونٹ کا باڑوں میں نماز سے منع کیا گیا ہے ان کا معنی مخدوش ہے اور ممانعت کی وجہ میں بھی اشکال ہے پس ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ اونٹوں والے عموما اونٹ کے قریب ہی پیشاب پاخانہ کر لیا کرتے ہیں اور اسکی وجہ سے اس کو پلید کر دیتے ہیں ۔ اس بناء پر آپ نے اونٹوں کے باڑے میں نماز سے منع فرمایا نہ کہ کسی اور وجہ سے اور یہ تو ایسی علت ہے جو ہر مقام پر نماز کے لیے مانع ہے اور بکریوں والے عادت یہ ہے کہ وہ بکریوں کے باڑے کو گندگی سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں بول و بزار سے باز رہتے ہیں پس ان کے باڑے میں نماز کو درست قرار دیا گیا ہے ۔ شریک بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی طرح کہا اور وہ اس روایت کی یہی تاویل کرتے اور یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ نماز کی ممانعت کا یہ ہرگز نہیں ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ اونٹ اچھل کود کرتے ہیں اور اس میں ہر سامنے آنے والے کو قتل و ہلاک کر ڈالتے ہیں کیا تم یہ روایت میں نہیں پاتے کہ ان کے متعلق کہا گیا ہے ۔ وہ جناب سے پیدا کیے گئے ور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ان اونٹوں کے لیے وحشی پن ہے جیسا جنگل کے جانوروں میں وحشی پن ہوتا ہے اور یہ خطرہ بکریوں سے نہیں ہے اس وجہ سے اونٹوں کے باڑے میں نماز سے ان اونٹوں کی حرکت کی وجہ سے روکا گیا اس بناء پر نہیں کہ ان کے پاس نجاست ہوتی ہے اور بکریوں کے پاس نہیں ہوتی بکریوں کے باڑے میں نماز کو اس وجہ سے درست قرار دیا کیونکہ ان سے وحشی پن کا خطرہ نہیں ، جو اونٹوں سے ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدٍ

Hadith 2226

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2227

2104 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن مبارك عن الحسن عن عبد الله بن مغفل قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في أعطان الإبل قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الصلاة في أعطان الإبل مكروهة واحتجوا بهذه الآثار حتى غلظ بعضهم في حكم ذلك فأفسد الصلاة وخالفهم في ذلك آخرون فأجازوا الصلاة في ذلك الموطن وكان من الحجة لهم أن هذه الآثار التي نهت عن الصلاة في أعطان الإبل قد تكلم الناس في معناها وفي السبب الذي كان من أجله النهى فقال قوم أصحاب الإبل من عادتهم التغوط بقرب إبلهم والبول فينجسون بذلك أعطان الإبل فنهى عن الصلاة في أعطان الإبل لذلك لا لعلة الإبل وانما هو لعلة النجاسة التي تمنع من الصلاة في أي موضع ما كانت وأصحاب الغنم من عادتهم تنظيف مواضع غنمهم وترك البول فيه والتغوط فأبيحت الصلاة في مرابضها لذلك هكذا روى عن شريك بن عبد الله أنه كان يفسر هذا الحديث على هذا المعنى وقال يحيى بن آدم ليس من قبل هذه العلة عندي جاء النهى ولكن من قبل أن الإبل يخاف وثوبها فيعطب من يلاقيها حينئذ ألا تراه قال فإنها جن من جن خلقت وفي حديث رافع بن خديج عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال إن لهذه الإبل أوابد كأوابد الوحش وهذا فغير مخوف من الغنم فأمر باجتناب الصلاة في معاطن الإبل خوف ذلك من فعلها لا لأن لها نجاسة ليست للغنم مثلها وأبيحت الصلاة في مرابض الغنم لأنه لا يخاف منها ما يخاف من الإبل

حسن نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو مگر اونٹوں کے باڑے میں نماز مت پڑھو ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Hadith 2227

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2228

2105 - حدثني خلاد بن محمد عن بن شجاع الثلجى عن يحيى بن آدم بالتفسيرين جميعا

ابن شجاع ثلحی عن یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں تفسیریں ذکر کی ہیں۔

يحيى بن آدم بالتفسيرين جميعا ← بن شجاع الثلجى ← خلاد بن محمد،

Hadith 2228

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2229

2106 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني معاوية بن صالح أن عياضا قال إنما نهى عن الصلاة في أعطان الإبل لأن الرجل يستتر بها ليقضى حاجته فهذا التفسير موافق لتفسير شريك

معاویہ بن صالح بیان کرتے ہیں کہ عیاض نے کہا اونٹوں کے باڑے میں نماز سے اس لیے منع کیا کیونکہ اونٹوں کے باڑے کو ستر بنا کر آدمی قضا ء حاجت کر تا ہے یہ تفسیر تو شریک کے ساتھ شریک ہے ۔

إنما نهي ← معاوية بن صالح أن عياضا ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Hadith 2229

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2230

2107 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد وأبو بكر بن أبى شيبة قالا ثنا أبو خالد الأحمر عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى الى بعيره

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کو سامنے بیٹھا کر اس کی طرف نماز پڑھتے تھے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← محمد بن سعيد وأبو بكر بن أبى شيبة ← فهد

Hadith 2230

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2231

2108 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا يحيى بن أبى بكير العبدي قال أنا إسرائيل عن زياد المصفر عن الحسن عن المقدام الرهاوي قال جلس عبادة بن الصامت وأبو الدرداء والحارث بن معاوية فقال أبو الدرداء أيكم يحفظ حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم حين صلى بنا الى بعير من المغنم فقال عبادة أنا فقال فحدث قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم الى بعير من المغنم ثم مد يده فأخذ قرادة من البعير فقال ما يحل لي من غنائمكم مثل هذه إلا الخمس وهو مردود فيكم ففي هذين الحديثين إباحة للصلاة الى البعير فثبت بذلك أن الصلاة الى البعير جائزة وأنه لم ينه عن الصلاة في اعطان الإبل لأنه لا يجوز الصلاة بحذائها واحتمل أن تكون الكراهة لعلة ما يكون من الإبل في معاطنها من أرواثها وأبوالها فنظرنا في ذلك فرأينا مرابض الغنم كل قد أجمع على جواز الصلاة فيها وبذلك جاءت الروايات التي رويناها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان حكم ما يكون من الإبل في أعطانها من أبوالها وغير ذلك حكم ما يكون من الغنم في مرابضها من أبوالها وغير ذلك لا فرق بين شيء من ذلك في نجاسة ولا طهارة لأن من جعل أبوال الغنم طاهرة جعل أبوال الإبل كذلك ومن جعل أبوال الإبل نجسة جعل أبوال الغنم كذلك فلما كانت الصلاة قد أبيحت في مرابض الغنم في الحديث الذي نهى فيه عن الصلاة في أعطان الإبل ثبت أن النهى عن ذلك ليس لعلة النجاسة ما يكون منها إذ كان ما يكون من الغنم حكمه مثل ذلك ولكن العلة التي لها كان النهى هو ما قال شريك أو ما قال يحيى بن آدم فان كان لما قال شريك فان الصلاة مكروهة حيث يكون الغائط والبول كان عطنا أو غيره وان كان لما قال يحيى بن آدم فان الصلاة مكروهة حيث يخاف على النفوس كان عطنا أو غيره فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما حكم ذلك من طريق النظر فانا رأيناهم لا يختلفون في مرابض الغنم وأن الصلاة فيها جائزة وانما اختلفوا في أعطان الإبل فقد رأينا حكم لحمان الإبل كحكم لحمان الغنم في طهارتها ورأينا حكم أبوالها كحكم أبوالها في طهارتها أو نجاستها فكان يجىء في النظر أيضا أن يكون حكم الصلاة في موضع الإبل كهو في موضع الغنم قياسا ونظرا على ما ذكرنا وهذا قول أبى حينفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد

حسن نے مقدام رھاوی سے نقل کیا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اور حارث بن معاویہ رضی اللہ عنہ اکٹھے بیٹھے تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم میں سے کسے وہ حدیث یاد ہے جس میں آپ نے مال غنیمت کے ایک اونٹ کا رخ کر کے نماز پڑھائی عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے یاد ہے پس انہوں نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف رخ کرکے (سترہ بنا کر ) نماز پڑھائی پھر آپ نے ہاتھ بڑھا کر اس کی ایک چیچڑی پکڑی اور فرمایا میرے لیے تمہارے اس مال غنیمت میں سے اس چیچڑی کے برابر بھی چیز سوائے خمس کے حلال نہیں ہے بقیہ چار حصے وہ تمہیں لوٹا دیئے جائیں گے یہ دونوں روایات اونٹ کی طرح رخ کر کے نماز کو جائز قرار دے رہی ہیں پس اس سے ثابت ہو گیا کہ اونٹ کی طرف نماز کچھ گناہ نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نماز کی ممانعت نہیں فرمائی کہ ان کی محاذات میں نماز نہیں ہوتی ۔ رہا یہ احتمال کہ نماز کی ممانعت ان کی باڑوں میں کوئی شے ہونے کی بناء پر ہو جیسے پیشاب و مینگنی وغیرہ ۔ پس ہم نے غور کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کو بالا تفاق جائز قرار دیا جاتا ہے اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات وارد ہوئی ہیں اور اونٹوں کے پیشاب وغیرہ کی وجہ سے جو ان کے باڑے کا حکم ہے وہ بکریوں کے باڑے سے چنداں مختلف نہیں ہے ان میں نجاست وطہارت کے متعلق بالکل فرق نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ جن علماء نے بکریوں کے پیشاب کو پاک کہا تو وہ اونٹوں کے پیشاب کا بھی یہی حکم بتلاتے ہیں ۔ اسی طرح جنہوں نے اونٹوں کے پیشاب کو نجس کہا انہوں نے بکریوں کے پیشاب کا بھی یہی حکم لگایا پھر جب بکریوں کے باڑے میں نماز کو اسی روایت میں مباح قرار دیا گیا جس میں اونٹوں کےبارے میں نماز کو روکا گیا ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس کی ممانعت ان میں نجاست کی بناء پر نہیں اس لیے نجاست و طہارت میں دونوں کا حکم یکساں ہے بلکہ ان کے باڑے میں ممانعت کی وجہ وہ ہے جو شریک نے اپنے روایت میں ذکر کی یا یحییٰ بن آدم نے اپنے قول میں بیان کی۔ پس اگر اس علت کو لیں تو پھر جہاں بول و بزار ہو گا اس کے قریب تو نماز مکروہ ہو گی خواہ وہ کوئی ساباڑہ ہو اور اگر یحییٰ بن آدم والی علت کو اختیار کریں تو نماز وہاں مکروہ ہو گی جہاں جان کو خطرہ ہو گا۔ خواہ وہ کوئی باڑہ ہو ۔ روایات کی تصحیح کو سامنے رکھتے ہوئے اس باب کا یہ حکم ہے ۔ اب طریق نظر و فکر سے دیکھتے ہیں کہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ بکریوں کے باڑے میں نماز جائز ہے ۔ اختلاف صرف اونٹوں کے باڑے میں ہے ہم نے دیکھا کہ ہر دو گوشت کا حکم طہارت میں برابر ہے اور پیشاب کا حکم طہارت و نجاست میں کچھ مختلف نہیں تو قیاس یہ چاہتا ہے کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز کا حکم بھی بکریوں کے باڑے میں نماز کی طرح ہونا چاہیے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا ۔ یہی امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔ لیث بن سعد کا تائیدی اثر ملاحظہ فرمائی ۔

الْمِقْدَامِ الرَّهَاوِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْمُصَفرِ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Hadith 2231

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 54 باب الصلاة في أعطان الإبل ) · حديث 2232

2109 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بن أبى مريم قال ثنا الليث بن سعد قال هذه نسخة رسالة عبد الله بن نافع الى الليث بن سعد يذكر فيها أما ما ذكرت من معاطن الإبل فقد بلغنا أن ذلك يكره وقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى على راحلته وقد كان بن عمر ومن أدركنا من خيار أهل أرضنا يعرض أحدهم ناقته بينه وبين القبلة فيصلى إليها وهى تبعر وتبول

ابن ابی مریم کہتے ہیں کہ ہمیں لیث بن سعد نے بتلایا کہ عبداللہ بن نافع رحمۃ اللہ علیہ کے خط کا ایک نسخہ یہ ہے جو انہوں نے میرے نام لکھا ہے اس میں لکھا ہے کہ تم نے اونٹوں کے باڑے کا تذکرہ کیا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ مکروہ ہے لیث بن سعد کہتے ہیں حالانکہ یہ بات مطلقا نہیں کہی جا سکتی جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر نماز ادا فرماتے اسی طرح ابن عمر اور جن کو صحابہ و تابعین میں سے ہم نے پایا ہے وہ اونٹی کو سترہ بناتے اور اس دوران اونٹنی مینگیاں اور پیشاب بھی کرتیں تھیں مگر کسی نے کراہت صلاۃ عند قربہا کا فتویٰ نہ دیا اس سے معلوم ہوا کہ کراہت کا قول درست نہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ اگر لوگوں سے عید کے دن شروع دن میں عید رہ گئی تو وہ اسے اگلے روز عیدکے وقت ادا کریں یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ دوسروں نے اس کی مخالف میں کہا کہ جب عید کے روز عید فوت ہو جائے اور زوال کا وقت ہو جائے تو عیدنہ اس دن زوال کے بعد پڑھی جائے گی اور نہ اگلے روز۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ہشام سے دیگر روات نے " انہ صلی بھم من الفد" کے لفظ نقل نہیں کیے اور یحیٰی بن حسان اور سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہم یہ بھی ہشام کے شاگرد ہیں مگر ان کی روایات میں بھی یہ الفاظ موجود نہیں یہ وہ شاگرد ہیں جنہوں نے ہشام کی تدلیس کو واضح کیا ہے ۔

اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 2232

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2233

2110 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال ثنا هشيم بن بشير عن أبى بشر جعفر بن إياس عن أبى عمير بن أنس بن مالك قال أخبرني عمومتى من الأنصار أن الهلال خفي على الناس في آخر ليلة من شهر رمضان في زمن النبي صلى الله عليه و سلم فأصبحوا صياما فشهدوا عند النبي صلى الله عليه و سلم بعد زوال الشمس أنهم رأوا الهلال الليلة الماضية فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس بالفطر فأفطروا تلك الساعة وخرج بهم من الغد فصلى بهم صلاة العيد قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا إذا فات الناس صلاة العيد في صدر يوم العيد صلوها من غد ذلك اليوم في الوقت الذي يصلونها وممن ذهب الى ذلك أبو يوسف وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إذا فاتت الصلاة يوم العيد حتى زالت الشمس من يومه لم يصل بعد ذلك في ذلك اليوم ولا فيما بعده وممن قال ذلك أبو حنيفة رحمه الله تعالى وكان من الحجة لهم في ذلك أن الحفاظ ممن روى هذا الحديث عن هشيم لا يذكرون فيه أنه صلى بهم من الغد فممن روى ذلك عن هشيم ولم يذكر فيه هذا يحيى بن حسان وسعيد بن منصور وهو أضبط الناس لألفاظ هشيم وهو الذي ميز للناس ما كان هشيم يدلس به من غيره

ابو عمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ مجھے انصاری پھوپھی سے خبر دی کہ رمضان کی آخری رات چاند لوگوں پر مخفی ہوگیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بات ہے صبح سب کے روزے تھے زوال آفتاب کے بعد آپ کے پاس گواہی دی گئی کہ گزشتہ رات کو چاند دیکھا گیا ہے پس جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کا حکم دیا لوگوں نے اسی وقت افطار کر دیا اگلے روزآپ ان کو لے کر نکلے اور انکونماز عید پڑھائی بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ اگر لوگوں سے عید کا دن شروع دن میں عید رہ گئی تو وہ اسے اگلے روز عید کے وقت میں ادا کریں ۔ یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے دوسروں نے اس کی مخالفت میں کہا کہ جب عید کے روز عید فوت ہو جائے اور زوال کا وقت ہو جائے تو عید نہ اس دن زوال کے بعد پڑھی جائے اور نہ اگلے روز ۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ہشام سے دیگر روات نے " انہ صلی بھم من العد" کے لفظ نقل نہیں کیے اور یحییٰ بن حسان اور سعید بن منصور رضی اللہ عنہ یہ بھی ہشام کے شاگرد ہیں مگر ان کی روایت میں بھی یہ الفاظ موجود نہیں یہ وہ شاگرد ہیں جنہوں نے ہشام کی تدلیس کو واضح کیا ہے ۔امام طحاوی کہتے ہیں جیسا اس روایت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جب لوگوں سے پہلے دن عید رہ جائے تو پھر وہ اگلے دن پڑھیں اور یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی رائے ہے ۔

عمُومَتِي مِنَ الأَنْصَارِ ← أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Hadith 2233

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2234

2111 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا أبو بشر عن أبى عمير بن أنس قال أخبرني عمومتى من الأنصار من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا أغمى علينا هلال شوال فأصبحنا صياما فجاء ركب من آخر النهار فشهدوا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم أنهم رأوا الهلال بالأمس فأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يفطروا من يومهم ثم ليخرجوا لعيدهم من الغد الى مصلاهم

ہشیم نے ابو عمیر بن انس سے اور انہوں نے اپنی کسی پھوپھی سے نقل کیا کہ شوال کا چاند نظر نہ آیا ہم نے روزے رکھ لیے دن کے آخری حصہ میں ایک قافلہ آیا اور اس نے اطلاع دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا تھا پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ آج افطار کر دیں پھر کل اپنی عید کے لیے عیدگاہ کی طرف نکلیں ۔

عمومتى من الأنصار من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 2234

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2235

2112 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا هشيم عن أبى بشر فذكر بإسناده مثله فهذا هو أصل هذا الحديث لا كما رواه عبد الله بن صالح وأمره إياهم بالخروج من الغد لعيدهم قد يجوز أن يكون أراد بذلك أن يجتمعوا فيه ليدعوا أو ليرى كثرتهم فيتناهى ذلك الى عدوهم فتعظم أمورهم عنده لا لأن يصلوا كما يصلى للعيد وقد رأينا المصلي في يوم العيد قد كان أمر بحضور من لا يصلى

ہشیم نے ابی بشر سے بھی اس طرح اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے اس کی روایت کی اصل یہ ہے اس طرح نہیں کہ عبداللہ بن صالح نے نقل کیا ہے کہ آپ نے اگلے دن عید کے لیے نکلنے کا حکم دیا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ان کو دعا کے لیے جمع کرنا مقصود ہو ۔ یاتاکہ کفارہ کے سامنے مسلمانوں کی کثرت کو ظاہر کیاجائے اور دشمن کے دل میں رعب بیٹھے اس بناء پر جمع کا حکم نہیں دیا کہ وہ نماز پڑھی جائے جیسے عید کی پڑھی جاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں نماز عید کی دعا میں ایسے لوگوں نفساء ، حیض وغیرہ کو بھی آنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ذیل کی روایت دیکھیں۔ یہ اس روایت کی اصل ہے جوہم نے نقل کر دی اس طرح نہیں جیسا عبداللہ بن صالح سے فریق اول نے نقل کیا ہے آپ نے ان کو اگلے دن عید کے لیے نکلنے کا حکم فرمایا ۔

أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 2235

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2236

2113 - حدثنا صالح قال ثنا سعيد قال أنا هشيم قال أنا منصرو عن بن سيرين عن أم عطية وهشام عن حفصة عن أم عطية رضي الله عنها قالت كان رسول الله يخرج الحيض فيعتزلن ويشهدن الخير ودعوة المسلمين وقال هشيم فقالت امرأة يا رسول الله فان لم يكن لاحدانا جلباب قال فلتعرها أختها جلبابها فلما كان الحيض يخرجن لا للصلاة ولكن لأن يصيبهن دعوة المسلمين احتمل أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أمر الناس بالخروج من غد العيد لأن يجتمعوا فيدعون فيصيبهم دعوتهم لا للصلاة وقد روى هذا الحديث شعبة عن أبى بشر كما رواه سعيد ويحيى لا كما رواه عبد الله بن صالح

حفصہ نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیض والی عوتوں اورنوجوان پردہ دار خواتین کو عید کے لیے نکلنے کاحکم دیتے حائضات تو نماز سے الگ رہتیں مگر دعا ء مسلمین اور دیگر بھلائیوں ( وعظ و نصیحت) میں شریک رہتیں ۔ ہشیم نے کہا کہ ایک عورت کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہمارے پاس اوڑھنی ہو تب بھی نکلنا ضروری ہے فرمایا وہ سہیلی سے عاریۃ مانگ لے۔ مگر نکلے ضروری جب کہ حائضہ عورتوں کو دعا کے لیے نکلنے کا حکم فرمایا نہ کہ نماز کے لیے لیکن مسلمانو ں کی دعا ؤں میں صرف شمولیت کے لیے ۔ اسی طرح احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےلوگوں کو عید کے اگلے روز دعا کے لیے جمع ہونے کا حکم فرمایا ہو ۔ تاکہ تمام دعا میں شریک ہو سکیں امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو ابو بشیر سے سعید و یحییٰ کی طرح روایت کیا ہے اس طرح نہیں جیسے عبداللہ بن صالح رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے ۔

امْرَأَةٌ ← هُشَيْمٌ ← كان رسول الله يخرج الحيض فيعتزلن ويشهدن الخير ودعوة المسلمين ← أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← أُمِّ عَطِيَّةَ، وَهِشَامٍ، ← بن سِيرِينَ ← منصرو ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صَالِحٍ،

Hadith 2236

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2237

2114 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبى بشر قال سمعت أبا عمير بن أنس رضي الله عنه ح

شعبہ نے ابو بشر سے انہوں نے ابو عمیر بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔

أبا عمير بن أنس ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Hadith 2237

chevron_left Previous
1…121122123124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter