Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 906

857 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا المسعودي عن سلمة بن كهيل عن عبد الرحمن بن يزيد عن بن مسعود أنه قال حين غربت الشمس والذي لا إله إلا هو إن هذه الساعة لميقات هذه الصلاة ثم قرأ عبد الله تصديق ذلك من كتاب الله أقم الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل قال ودلوكها حين تغيب وغسق الليل حين يظلم فالصلاة بينهما

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ غروب آفتاب کے وقت فرمایا مجھے اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوی معبود نہیں بلا شبہ یہی گھڑی اس نماز کا وقت ہے پھر عبداللہ نے تصدیق کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی(اتم الصلاۃ لدلوک الشمس الی عسق اللیل) اور فرمایا دلوک وہ وقت ہے جب سورج غائب ہو جاتا ہے اور رات چھا جاتی ہے جبکہ اندھیرا چھا جاتا ہے پس نماز ان دونوں کے درمیان ہے ۔

بن مسعود أنه ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 906

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 907

858 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا خطاب بن عثمان قال ثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن عبد الرحمن بن لبيبة قال قال لي أبي هريرة رضي الله عنه متى غسق الليل قال إذا غربت الشمس قال فاحدر المغرب في أثرها ثم أحدرها في أثرها

عبدالرحمن بن لبیہ کہتے ہیں مجھے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کب رات چھا جاتی ہے پھر خؤد فرمایا جب سورج غروب ہو تو اس کے یچھلے تو بھی جلد نماز ادا کر لو پھر اس کے پیچھے جلدی کر(سادی میں اتر)

فاحدر المغرب في أثرها ثم أحدرها في أثرها ← إذا غربت الشمس ← لي أبي هريرة متى غسق الليل ← عبد الرحمن بن لبيبة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 907

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 908

859 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا أسد قال ثنا بن أبي ذئب عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن قال رأيت عمر وعثمان يصليان المغرب في رمضان إذا أبصر إلى الليل الأسود ثم يفطران بعد فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يختلفوا في أن أول وقت المغرب حين تغرب الشمس وهذا هو النظر أيضا لأنا قد رأينا دخول النهار وقت لصلاة الصبح فكذلك دخول الليل وقت لصلاة المغرب وهو قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف ومحمد رحمهما الله وعامة الفقهاء واختلف الناس في خروج وقت المغرب فقال قوم إذا غابت الشفق وهو الحمرة خرج وقتها وممن قال ذلك أبو يوسف ومحمد رحمه الله وقال آخرون إذا غاب الشفق وهو البياض الذي بعد الحمرة خرج وقتها وممن قال ذلك أبو حنيفة رحمه الله وكان النظر في ذلك عندنا أنهم قد أجمعوا أن الحمرة التي قبل البياض من وقتها وإنما اختلافهم في البياض الذي بعده فقال بعضهم حكمه حكم الحمرة وقال بعضهم حكمه حكم الحمرة فنظرنا في ذلك فرأينا الفجر يكون قبلة حمرة ثم يتلوها بياض الفجر فكانت الحمرة والبياض في ذلك وقتا لصلاة واحدة وهو الفجر فإذا خرجا خرج وقتها فالنظر على ذلك أن يكون البياض والحمرة في المغرب أيضا وقتا لصلاة واحدة وحكمها حكم واحد إذا خرجا خرج وقتا الصلاة اللذان هما وقت لها وأما العشاء الآخرة فإن تلك الآثار كلها فيها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاها في أول يوم بعدما غاب الشفق إلا جابر بن عبد الله فإنه ذكر أنه صلاها قبل أن يغيب الشفق فيحتمل ذلك عندنا والله أعلم أن يكون جابر عني الشفق الذي هو البياض وعنى الأخرون الشفق الذي هو الحمرة فيكون قد صلاها بعد غيبوبة الحمرة وقبل غيبوبة البياض حتى تصح هذه الآثار ولا تتضاد وفي ثبوت ما ذكرنا ما يدل على ما قال بعضهم إن بعد غيبوبة الحمرة وقت المغرب إلى أن يغيب البياض وأما آخر وقت العشاء الآخرة فإن بن عباس رضي الله عنهما وأبا سعيد الخدري وأبا موسى ذكروا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخرها إلى ثلث الليل ثم صلاها وقال جابر بن عبد الله صلاها في وقت قال بعضهم هو ثلث الليل وقال بعضهم هو نصف الليل فاحتمل أن يكون صلاها قبل مضي الثلث فيكون مضى الثلث هو آخر وقتها واحتمل أن يكون صلاها بعد الثلث فيكون قد بقيت بقية من وقتها بعد خروج الثلث فلما احتمل ذلك نظرنا فيما روي في ذلك

حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں میں نے عمر ، عثمان رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ رمضان میں مغرب کی نماز پڑھتے جونہی سیاہ رات کو دیکھتے پھر بعد میں افطار کرتے یعنی کھانا کھاتے ۔ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں کہ جن کا اس با ت پر اتفاق ہے کہ مغرب کا اول وقت غروب آفتاب ہے اور غور وفکر کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ دیکھتے ہیں کہ دن کا داخل ہونا نماز فجر کا وقت ہے بالکل اسی طرح رات کی آمد یہ نماز مغرب کا وقت ہے ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہم و عام فقہاء کا یہی مسلک ہے ۔ مغرب کا وقت ختم ہونے میں علماء کرام کا اختلاف ہے۔ چنانچہ امام ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کہتے ہیں جب سرخ شفق غائب ہو جائے تو مغرب کا وقت نکل جاتا ہے اور امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہم کہتے ہیں سفید شفق کے غروب ہونے پر مغرب کا وقت ختم ہوتا ہے ۔ نظرو فکر کا تقاضا اس طرح ہے کہ یہ تو اتفاقی امر ہے کہ وہ سرخی جو سپید ے سے پہلے آتی ہے وہ وقت مغرب ہے البتہ اس سپیدے میں اختلاف ہے جو بعد میں آتا ہے بعض نے کہا کہ اس کا حکم سرخی جیسا ہے۔ پس ہم نے اس پر غور کیا تو ہم کو اس کی نطیر مل گئی کہ فجر سے قبل بھی سرخی پھر اس کے بعد سپیدا صبح ہوتا ہے اور یہ دونوں ہی نماز فجر کے اوقات ہیں جب یہ دونوں نکل جاتے ہیں تو فجر کا وقت جاتا رہتا ہے پس اس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ سپیدی اور سرخی مغرب میں بھی مغرب کا وقت نماز ہے اور ان دونوں کا فجر کی طرح ایک حکم ہے ۔جب یہ دونوں وقت نکل جائیں گ تو وقت مغرب جاتا رہے گا اور یہ دونوں وقت مغرب کے ہیں ۔ باقی نماز عشاء تو ان تمام آثار میں معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہلے روز غروب شفق کے بعد ادا فرمایا مگر جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں انہوں نے بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفق کے غروب ہونے سے پہلے ادا فرمایا ۔ اس میں ہمارے ہاں یہ احتمال ہے ( واللہ اعلم) کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے شفق ابیض مراد لیا ہو اور دوسروں نے شفق احمر مراد لیا ہو۔ پس آپ کا نماز ادا کرنا سرخی کے ازالہ اور سپیدے کی موجودگی میں تھا تاکہ آثار درست ہو سکیں اور ان کا تضاد باقی نہ رہے اور ثبوت میں پیش کردہ روایات میں یہ ثبوت ہے کہ سرخی کا ازالہ اس وقت تک مغرب ہی کا وقت ہے یہاں تک کہ سفید ادور ہو ۔ باقی عشاء کا آخری وقت حجرت ابن عباس ، ابو سعید اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رات کے تیسرے حصہ تک مؤخر فرمایا پھر اسے پڑھا اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس کو اس کے وقت ہونے پر ادا کر لیا ۔ بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ وہ وقت رات کا تیسرا حصہ ہے اور دوسروں نے نصف رات قرار دیا ۔ پس اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کا تیسرا حصہ گزرنے پر اس کو ادا کیا ہو ۔ پس اس صورت میں ثلث لیل کا گزرنا اس کا آخری وقت ہو گا اور دسرا احتمال یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ثلث شب تک مؤخر فرمایا پھر اسے ادا کیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کو وقت کے اندر ادا کیا ۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ وقت ثلث شب گزرنے پر اس کو وقت کا کچھ حصہ بچ گیا ۔ جب یہ احتمال پیدا ہو گیا تو ہم نے اس میں غور کیا تو یہ روایات ربیع المؤذن کی سند سے مل گئیں ۔ ملاحظہ ہوں ۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أسد ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 908

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 909

فإذا ربيع المؤذن قد حدثنا قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا محمد بن الفضيل عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن للصلاة أولا وآخرا وإن أول وقت العشاء حين يغيب الأفق وإن آخر وقتها حين ينتصف الليل وإن أول وقت الفجر حين يطلع الفجر وإن آخر وقتها حين تطلع الشمس

اعمش نے ابو صالح رحمۃ اللہ علیہ سے اور اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کی ابتداء اور انتہا ہے عشاء کا اول وقت وہ ہے جب افق غائب ہو جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب رات اڈھی ہو جائے اور فجر کا اول وقت جب پھوٹ جائے اور اس کا آخری وقت جب سورج طلوع ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← فإذا ربيع المؤذن قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 909

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 910

861 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم قال وقت العشاء إلى نصف الليل

قتادہ نے ابو ایوب سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا عشاء کا وقت نصف لیل تک ہے۔

وَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ. ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 910

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 911

862 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا شعبة عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد الله بن عمرو قال شعبة حدثنيه ثلاث مرات فرفعه مرة ولم يرفعه مرتين فذكر مثله فثبت بهذه الآثار أن ما بعد ثلث الليل أيضا هو وقت من وقت العشاء الآخرة وقد روى في ذلك أيضا ما يدل على ذلك

شعبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے ابو ایوب سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ پس ان آثار و روایات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ثلث شب کے بعد والا وقت بھی عشاء کا وقت ہے اور اس پر یہ روایات دلالت کر رہی ہیں ۔ شعبہ کہتے ہیں مجھے قتادہ نے تین مرتبہ یہ روایت نقل کی ایک مرتبہ رفع کے ساتھ اور دو مرتبہ بغیر رفع کے نقل کی ۔

ثلاث مرات فرفعه مرة ولم يرفعه مرتين ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 911

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 912

863 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا الحسن بن عمر بن شقيق قال ثنا جرير عن منصور عن الحكم عن نافع عن بن عمر قال مكثنا ذات ليلة ننتظر رسول الله صلى الله عليه و سلم للعشاء الآخرة فخرج إلينا حين ذهب ثلث الليل أو بعده ولا ندري أشيء شغله في أهله أو غير ذلك فقال حين خرج إنكم لتنتظرون صلاة ما ينتظرها أهل الدين غيركم ولولا أن يثقل على أمتي لصليت بهم هذه الساعة ثم أمر المؤذن فأقام الصلاة وصلى

حکم نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک رات ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار نماز عشاء کے سلسلے میں کرتے رہے آپ اس وقت نکلے جب رات کا تیسرا حصہ گزر گیا یا اس کے بعد کا وقت آ گیا ہمیں معلوم نہیں کہ گھر میں آپ کو کیا مشغولیت وغیرہ تھی جب آپ باہر تشریف لائے تو فرمایا بلا شبہ تم تو ایک نما ز کا انتظارکر رہے ہو اور تمہارے علاوہ اور کسی دین والے نماز کا انتظار نہیں کر رہے اگر امت پر گرانی کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ( ہر روز) اسی وقت نماز پڑھاتا پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا پھر اس نے اقامت کہی اور آپ نے جماعت کرائی ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْحَكَمِ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 912

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 913

864 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا الحسين بن علي عن زائدة بن سليمان عن أبي سفيان عن جابر قال جهز رسول الله صلى الله عليه و سلم جيشا حتى إذا انتصف الليل أو بلغ ذاك خرج إلينا فقال صلى الناس ورقدوا وأنتم تنتظرون هذه الصلاة أما إنكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتموها

زائد بن سلیمان نے ابو سفیان سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار فرمایا یہاں تک کہ آدھی رات کا وقت تیاری میں گزرایااس کے قریب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر تشریف لائے اور فرمایا لوگوں نماز پڑھ کر سو رہے اور تم ابھی اس نماز کے انتظار میں ہو خبردار ! تم نماز میں شمار ہوتے ہو جب تک نماز کا انتظار کرتے ہو۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← زَائِدَةَ بن سُلَيْمَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 913

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 914

865 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب بن أبي حمزة عن الزهري عن عروة أن عائشة قالت أعتم رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة بالعتمة حتى ناداه عمر رضي الله عنه فقال نام الناس والصبيان خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ما ينتظرها أحد من أهل الأرض غيركم ولا يصلي يومئذ إلا بالمدينة قالت وكانوا يصلون العتمة فيما بين أن يغيب غسق الليل الى ثلث الليل

زہری نے عروہ سے اور انہوں نے حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کر دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز دی کہ لوگ اور بچے سو گئے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا اس نماز کا انتظار اہل زمین میں سے کوئی بھی تمہارے سوا نہیں کر رہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان دنوں صرف مدینہ منورہ میں ہی نماز ہوتی تھی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز اندھیر ا چھا جانے کے بعد ثلث لیل تک پڑھتے تھے ۔ (اس دن خلاف عادت تاخیر ہوئی )

عُرْوَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 914

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 915

866 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الله بن بكر قال أنا حميد الطويل عن أنس رضي الله عنه قال أخر رسول الله صلى الله عليه و سلم العتمة إلى قريب من شطر الليل فلما صلى اقبل علينا بوجهه فقال ان الناس قد صلوا وناموا ورقدوا ولم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها

حمید الطویل نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو رات کا ایک حصہ گزر جانے تک مؤخر کیا جب آپ نماز پڑھا چکے تو ہماری طرف توجہ کر کے فرمایا بلا شبہ لوگ نماز پڑھ چکے اور سو گئے اور نیند میں مستغرق ہو گئے اور تم اس وقت تک نماز میں ہو جب تک کہ نماز کے انتظار میں رہو۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 915

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 916

867 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال أنا حماد قال أنا ثابت أنهم سألوا أنس بن مالك رضي الله عنه كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم خاتم قال نعم ثم قال أخر العشاء ذات ليلة حتى كاد يذهب شطر الليل أو إلى شطر الليل ثم ذكر مثله ففي هذه الآثار أنه صلى الله صلى الله عليه و سلم صلى العشاء بعد مضي ثلث الليل فثبت بذلك أن مضى ثلث الليل لا يخرج به وقتها ولكن معنى ذلك عندنا والله أعلم أن أفضل وقت العشاء الآخرة الذي يصلي فيه هو من حين يغيب الشفق الى ثلث الليل وهو الوقت الذي كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصليها فيه على ما ذكرنا في حديث عائشة رضي الله عنها ثم ما بعد ذلك إلى أن يمضي نصف الليل في الفضل دون ذلك حتى لا تتضاد هذه الآثار ثم أردنا أن ننظر هل بعد خروج نصف الليل من وقتها شيء فنظرنا في ذلك

حماد نے بتلایا کہ ثابت نے ہمیں خبر دی کہ ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی تھی انہوں نے کہا ہاں پھر کہنے لگے آپ نے ایک دن عشاء کو موخر فرمایا قریب تھا کہ رات کا ایک حصہ گزر جائے یا کہا رات کا ایک حصہ گزرنے تک مؤخر کیا پھر اسی طرح روایت نقل کی ۔ ان آثار سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ثلث شب گزرنے پر پڑھی،اس سے یہ بات کھل کر پختہ ہو گئی کہ ثلث شب کا گزرنا نماز عشاء کے وقت کو خارج نہیں کرتا مگر اس کا مطلب ہمارے ہاں (واللہ اعلم) یہ ہے کہ عشاء کا سب سے افضل وقت غروب شفق کے بعد ثلث شب تک ہے اور یہی وہ وقت ہے کہ جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر نماز پڑھا کرتے تھے جیسا کہ حدیث عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہم بیان کر آئے ۔ اس کے بعد دوسرا نمبر وقت عشاء کا آدھی رات تک کا ہے۔ یہ تو فضیلت والے وقت میں دوسرے درجہ میں ہے تاکہ مندرجہ آثار میں تضاد نہ ہو ۔اب ہم نصف شب کے بعد والے وقت سے متعلق روایات پر نگاہ ڈالنا چاہتے ہیں ۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 916

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 917

868 - فإذا يونس قد حدثنا قال أنا بن وهب قال انا يحيى بن أيوب وعبد الله بن عمر وأنس بن عياض عن حميد الطويل قال سمعت أنس بن مالك رضي الله عنه يقول أخر رسول الله صلى الله عليه و سلم الصلاة ذات ليلة إلى شطر الليل ثم انصرف فأقبل علينا بوجهه بعدما صلى بنا فقال قد صلى الناس ورقدوا ولم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها

حمید الطویل کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء کو رات کا کافی حصہ گزرنے تک مؤخر کیا پھر آپ نے مڑ کرہماری طرف توجہ فرمائی جبکہ آپ نماز پڑھا چکے اور فرمایا لوگ نماز پڑھ چکے اور سو گئے اور تم جب تک انتظار میں رہے نماز میں رہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← فإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 917

chevron_left Previous
1…111213…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter