شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 894
845 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش عن عمارة عن أبي عطية قال دخلت أنا ومسروق على عائشة رضي الله عنها فقال مسروق يا أم المؤمنين رجلان من أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم كلاهما لا يألوا عن الخير أما أحدهما فيعجل المغرب ويعجل الإفطار والآخر يؤخر المغرب حتى تبدو النجوم ويؤخر الإفطار يعني أبا موسى قالت أيهما يعجل الصلاة والإفطار قال عبد الله قالت عائشة رضي الله عنها كذلك كان يفعل رسول الله صلى الله عليه و سلم
عمارہ نے ابو عطیہ سے نقل کیا کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مسروق نے سوال کیا اے ام المومنین ! اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دو آدمی ہیں جو خیر کو بالکل نہیں چھوڑتے ان میں سے ایک مغرب کو جلد پڑھتا ہے اور جلد افطارکو بھی مؤخر کرتا ہے یعنی ابو موسیٰ انہوں نے پوچھا ان میں سے کون نماز کو اور افطار کو جلد ادا کرتا ہے میں نے کہا عبداللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے ۔
أَبِي عَطِيَّةَ ← عُمَارَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 894
