Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 47 باب جمع السور في ركعة ) · حديث 2010

1898 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الحماني قال ثنا إسحاق بن سعيد عن أبيه عن عبد الله بن الزبير أنه قرأ القرآن في ركعة

اسحاق بن سعید نے سعید سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہ ابن زبیر نے ایک رکعت میں قرآن مجید پڑھا

عبد الله بن الزبير أنه قرأ القرآن في ركعة ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الحماني ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2010

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 47 باب جمع السور في ركعة ) · حديث 2011

1899 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن حماد عن سعيد بن جبير أنه قرأ القرآن في ركعة في البيت

حماد نے سعید بن جبیر سے نقل کیا کہ انہوں نے بیت اللہ میں ایک رکعت میں مجید پڑھا ۔

سعيد بن جبير أنه قرأ القرآن في ركعة في البيت ← حَمَّادٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2011

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 47 باب جمع السور في ركعة ) · حديث 2012

1900 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف قال ثنا أبو الأحوص عن المغيرة عن إبراهيم قال أمنا في صلاة المغرب فوصل بسورة الفيل لإيلاف قريش في ركعة وهذا الذي ذكرنا مع تواتر الرواية فيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وكثرة من ذهب اليه من أصحابه ومن تابعيهم هو النظر لأنا قد رأينا فاتحة الكتاب تقرأ هى وسورة غيرها في ركعة ولا يكون بذلك بأس ولا يجب بفاتحة الكتاب لأنها سورة ركعة فالنظر على ذلك أن يكون كذلك ما سواها من السور لا يجب أيضا لكل سورة منه ركعة وهذا مذهب أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

مغیرہ نے ابراہیم کے متعلق نقل کیا کہ انہوں نے مغرب کی نماز میں ہماری امامت کرائی تو ایک رکعت میں سورۃ الفیل اور ایلاف پڑھی ۔ یہ متواتر روایات جو ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل اور کثیر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے نقل کیا اور انہوں نے اس پر عمل کیا اور تابعین نے اپنایا یہ قیا س و نظر کاتقاضا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فاتحہ الکتاب اور اس کے علاوہ کوئی سورت ایک رکعت میں پڑھی جاتی ہے اور اس میں کسی کے ہاں بھی حرج نہیں اور وہ فاتحہ الکتاب کی وجہ سے لازم نہیں ہوئی کیونکہ یہ تو ہر رکعت کی سورت ہے پس اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ دیگر صرتوں کا یہی حکم ہو ہر سورت کے لیے ایک رکعت کا ہونا واجب نہ ہو (بلکہ ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھ جا سکتیں ) یہی امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا مسلک ہے ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْمُغِيرَةِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2012

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2013

1901 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان بن مسلم قال ثنا وهب قال ثنا داود وهو بن أبى هند عن الوليد بن عبد الرحمن عن جبير بن نفير الحضرمي عن أبى ذر قال صمت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم رمضان ولم يكن بنا حتى بقي سبع من الشهر فلما كانت الليلة السابعة خرج فصلى بنا حتى مضى ثلث الليل ثم لم يصل بنا السادسة حتى خرج ليلة الخامسة فصلى بنا حتى مضى شطر الليل فقلنا يا رسول الله لو نفلتنا فقال إن القوم إذا صلوا مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام تلك الليلة ثم لم يصل بنا الرابعة حتى إذا كانت ليلة الثالثة خرج وخرج بأهله فصلى بنا حتى خشينا أن يفوتنا الفلاح قلت وما الفلاح قال السحور قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن القيام مع الإمام في شهر رمضان أفضل منه في المنازل واحتجوا في ذلك بقول رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قنوت بقية ليلته وخالفهم في في ذلك آخرون فقالوا بل صلاته في بيته أفضل من صلاته مع الإمام وكان من الحجة لهم في ذلك أن ما احتجوا به من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قنوت بقية ليلته كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكنه قد روى عنه أيضا أنه قال خير صلاة المرء في بيته الا المكتوبة في حديث زيد بن ثابت وذلك لما قام بهم ليلة في رمضان فأرادوا أن يقوم بهم بعد ذلك فقال لهم هذا القول فأعلمهم به أن صلاتهم في منازلهم وحدانا أفضل من صلاتهم معه في مسجده فصلاتهم تلك في منازلهم أحرى أن يكون أفضل من الصلاة مع غيره في غير مسجده فتصحيح هذين الأثرين يوجب أن حديث أبى ذر هو على أن يكتب له بالقيام مع الإمام قنوت بقية ليلته وحديث زيد بن ثابت يوجب أن ما فعل في بيته هو أفضل من ذلك حتى لا يتضاد هذان الأثران

جبیر بن نفیر حضرمی نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھا اور ہمیں قیام لیل کرایا یہاں تک کہ جب تیسویں رات آئی تو آپ نے نکل کر ہمیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ رات کا ثلث گزر گیا پھر ہمیں اگلے روز (چوبیسویں کو نماز نہ پڑھائی یہاں تک کہ پچیس کی رات نکل کر نماز پڑھائی یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا ہم نے عرض کیا یار سول اللہ کاش آپ ہمیں نفل نماز پڑھاتے آپ نے فرمایا جب لوگ امام کے ساتھ نماز پڑھ کر لوٹے ہیں تو ان کے لیے اس رات کا قیام لکھ دیا جاتاہے پھر چھبیس کی رات آپ نے ہمیں نماز نہ پڑھائی جب ستائیسویں کی رات آئی آپ خود گھر والوں سمیت نکلے آپ نے ہمیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خطرہ ہو گیا کہ سحری فوت ہو جائے گی ۔ ابور ذر رضی اللہ عنہ نے فلاح کا معنی سحری بتلایا ہے ۔ بعض علماء اس طرح گئے ہیں کہ رمضان کی رات مسجد میں قیام نسبت گھروں میں قیام کے افضل ہے ۔ ان کا استدلال جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہے کہ جو شخص مسجد میں قیام کر کے لوٹا تو اسے بقیہ رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے ۔ مگر دوسری جماعت نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ گھر میں قیام رمضان مسجد میں چڑھنے سے افضل ہے ۔ فریق اول کی یہ دلیل کو جو شخص امام کے ساتھ قیام کر کے لوٹا توا س کو بقیہ رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے ۔ اس کے قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کلام نہیں مگر آپ کا یہ ارشاد بھی تو ہے " خیر صلاۃ المرء فی بیتہ الا المکتبوبۃ " نفل نماز گھر میں افضل ہے البتہ فرض نماز ۔ یہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ نے ان کے ساتھ رمضان المبارک کی رات میں کیا اور ان کی چاہت یہ تھی کہ آپ اور بھی نماز پڑھائیں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی آپ نے تو ان کو بتلایا کہ ان کا گھر نماز پڑھنا ان کے مسجد میں نماز سے افضل ہے ۔ تو یہ نماز اس لائق ہے کہ اسے گھر میں ادا کیا جائے ۔ ان دونوں کو تضاد سے محفوظ کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ روایت ابوذر رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قیام سے بقیہ رات کے قیام کا ثواب ملنا ثابت ہوا اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت س گھر میں پڑھنے کی فضیلت ثابت ہوئی ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← داود وهو بن أبى هند ← وَھْبٍ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2013

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2014

1902 - حدثنا بن مرزوق وعلي بن عبد الرحمن قالا ثنا عفان قال ثنا وهيب قال ثنا موسى بن عقبة قال سمعت أبا النضر يحدث عن بشر بن سعيد عن زيد بن ثابت أن النبي صلى الله عليه و سلم احتجر حجرة في المسجد من حصير فصلى فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم ليالي حتى اجتمع اليه ناس ثم فقدوا صوته فظنوا أنه قد نام فجعل بعضهم يتنحنح ليخرج إليهم فقال ما زال بكم الذي رأيت من صنيعكم منذ الليلة حتى خشيت أن يكتب عليكم قيام الليل ولو كتب عليكم ما قمتم به فصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء في بيته الا المكتوبة

بشر بن سعید نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے مسجد میں چٹائی کا حجرہ بنایا اس میں جناب رسول اللہ نے کئی راتیں نمازادا کی یہاں تک کہ لوگ جمع ہوئے تو آنہوں نے آپ کی آواز کو گم پایا انہوں نےخیا ل کیا کہ آپ سو گئے ہیں بعض لوگ کھنگارنے لگے تاکہ آپ آواز سن کر نکل آئیں آپ نے فرمایا مجھے تمہاری طرف سے جو طرز عمل تھا وہ سامنےرہا یہاں تک کہ مجھے قیام لیل کے فرض ہونے کا خطرہ ہوا اگر وہ تم پر فرض ہو جاتا تو تم نہ کرتے ۔ اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز ادا کرو بے شک فرض نماز کے علاوہ آدمی کی افضل نماز وہ ہے جو گھر میں ادا کی جائے ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبَا النَّضْرِ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق وعلي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2014

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2015

1903 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الوحاظي قال ثنا سليمان بن بلال قال حدثني بردان إبراهيم بن أبى فلان وهو بن أبى النضر عن أبيه عن بشر بن سعيد عن زيد بن ثابت أن النبي صلى الله عليه و سلم قال صلاة المرء في بيته أفضل من صلاته في مسجدي هذا الا المكتوبة

بشیر بن سعید نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کی نماز اپنے گھر میں میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِيهِ ← بردان إبراهيم بن أبى فلان وهو بن أبى النضر ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الوحاظي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2015

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2016

1904 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أسد وأبو الأسود قالا أنا بن لهيعة عن أبى النضر عن بشر بن سعيد عن زيد بن ثابت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن أفضل صلاة المرء صلاته في بيته الا المكتوبة وقد روى عن غير زيد بن ثابت في ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم أيضا ما قد ذكرناه في باب التطوع في المساجد فثبت بتصحيح معاني هذه الآثار ما ذكرناه وقد روى في ذلك عمن بعد النبي صلى الله عليه و سلم ما يوافق ما صححناها عليه فمن ذلك ما

بشیر بن سعید نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی کی فرض نماز کے علاوہ افضل ترین نماز گھر میں ہے ۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی یہ روایت ثابت ہے جس کو ہم (باب التطوع فی المساجد ) میں ذکر کر آئے ہیں ۔ ان آثار کے معانی کی تصحیح کا تقاضا یہ ہے کہ جو ہم نے ذکر کیا ہے صحابہ کرام سے یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ثابت ہے ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← بن لهيعة ← أسد وأبو الأسود ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2016

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2017

1905 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أنه كان لا يصلى خلف الإمام في رمضان

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ابن عمر رمضان میں امام کے پیچھے رمضان میں قیام نہ کرتے ۔

بن عمر أنه كان لا يصلى خلف الإمام في رمضان ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2017

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2018

1906 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن منصور عن مجاهد قال قال رجل لابن عمر رضي الله عنهما أصلى خلف الإمام في رمضان فقال أتقرأ القرآن قال نعم قال صل في بيتك

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں رمضان امام کے پیچھے پڑھوں ؟ تو انہوں نے پوچھا کیا تو قرآن پڑھ سکتا ؟ یعنی قرآن یاد ہے اس نے کہا جی ہاں فرمایا پھر اپنے گھر میں پڑھو ۔

صل في بيتك ← نَعَمْ ← رجل لابن عمر أصلى خلف الإمام في رمضان فقال أتقرأ القرآن ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2018

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2019

1907 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن أبى حمزة ومغيرة عن إبراهيم قال لو لم يكن معي الا سورتين لرددتهما أحب إلى من أن أقوم خلف الإمام في رمضان

ابو حمزہ اور مغیرہ دونوں نے ابراہیم کے متعلق نقل کیا کہ وہ کہتے تھے اگر مجھے دو ہی سوتریں یاد ہوتیں تو میں ان کو دھراتا رہتا اور یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں امام کے پیچھے رمضان میں قیام کروں ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← أبى حمزة ومغيرة ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2019

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2020

1908 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال كان المتهجدون يصلون في ناحية المسجد والإمام يصلى بالناس في رمضان

مغیرہ نے ابراہیم کے متعلق نقل کیا کہ تہجد گزار مسجد کی ایک جانب نماز پڑھتے اور امام رمضان میں لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہوتا تھا ۔

كان المتهجدون يصلون في ناحية المسجد والإمام يصلى بالناس في رمضان ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2020

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 48 باب القيام في شهر رمضان هل هو في المنازل أفضل أم مع الإمام ) · حديث 2021

1909 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا شعبة عن المغيرة عن إبراهيم قال كانوا يصلون في رمضان فيؤمهم الرجل وبعض القوم يصلى في المسجد وحده قال شعبة سألت إسحاق بن سويد عن هذا فقال كان الإمام هاهنا يؤمنا وكان لنا صف يقال له صف القراء فنصلى وحدانا والإمام يصلى بالناس

مغیرہ نے ابراہیم سے نقل کیا کہ لوگ رمضان میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور ان کی امامت خاص آدمی کرا رہا رہوتا ادھر بعض لوگ مسجد میں اکیلے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اسحاق بن سوید سے اس کے متعلق دریافت کیاتو کہنے لگے امام ہمیں یہاں امامت کراتا اور ہماری ایک صف ہوتی جس کو قراء کی صف کہا جاتا پس ہم اکیلے نماز پڑھتے جبکہ امام لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہوتا تھا ۔

ھَذَا ← شعبة سألت إسحاق بن سويد ← كانوا يصلون في رمضان فيؤمهم الرجل وبعض القوم يصلى في المسجد وحده ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْمُغِيرَةِ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2021

chevron_left Previous
1…103104105…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter