Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1974

1866 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن أبى جمرة قال سألت بن عباس رضي الله عنهما عن الوتر فقال إذا أوترت أول الليل فلا توتر آخره وإذا أوترت آخره فلا توتر أوله

ابو جمرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتروں کے متعلق سوال کیا تو فرمانے لگے جب تم شروع رات میں وتر پڑھ لو تو رات کے آخر میں وتر مت پڑھو اور اگر تم نے رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھنے ہیں تو شروع رات میں وتر مت پڑھو ۔

الْوَتْرِ ← سألت بن عباس ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1974

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1975

قال وسألت عائذ بن عمرو فقال مثله

ابو جمرہ کہتے ہیں میں نے عائذ بن عمرو سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح جواب دیا ۔

مِثْلَہُ ← وسألت عائذ بن عمرو

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1975

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1976

1867 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدى قال ثنا شعبة عن قتادة ومالك بن دينار أنهما سمعا خلاسا قال سمعت عمار بن ياسر وسأله رجل عن الوتر فقال أما انا فأوتر ثم أنام فإن قمت صليت ركعتين ركعتين وهذا عندنا معنى حديث همام عن قتادة الذي ذكرناه في الفصل الأول لأن في ذلك فإذا قمت شفعت فأحتمل ذلك أن يكون يشفع بركعة كما كان بن عمر رضي الله عنهما يفعل ويحتمل أن يكون يصلى شفعا شفعا ففي حديث شعبة ما قد بين أن معنى قول شفعت أي صليت شفعا شفعا ولم أنقض الوتر

خلدس کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر سے سنا اور ایک آدمی نے ان سے وتر کے متعلق سوال کیا تھا تو کہنے لگے میں وتر پڑ ھ کر سو جاتا ہوں اگر میں بیدار ہو جاؤں تو دو رکعت کر کے نماز پڑھتا رہتا ہوں ہمارے نزدیک حضرت ہمام کی روایت کا مفہوم یہی ہے ۔ جس کو انہوں نے حضر ت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روات کیا ہے ۔ جس کو ہم فصل اول میں ذکر کر آئے ہیں کیونکہ اس میں یہ مذکور ہے کہ " جب میں جاگتا ہوں تو دو رکعت پڑھتا ہوں" اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ایک رکعت ملا کر شفعہ بنا لیتے جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کرتے تھے اور یہ بھی احتمال ہے کہ دو دو رکعت کر کے پڑھتا ہوں ۔ پس شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اس بات کا بیان ہے کہ ان کے قول " شفعت" کا معنی یہ ہے کہ میں شفع شفع پڑھتا ہوں اور وتر کو نہیں توڑتا ۔

إِمَّا ← الْوَتْرِ ← عمار بن ياسر وسأله رجل ← قتادة ومالك بن دينار أنهما سمعا خلاسا ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1976

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1977

1868 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن أبى بشر عن سعيد بن جبير قال ذكر عند عائشة رضي الله عنها نقض الوتر فقالت لا وتران في ليلة

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں وتروں کے بطلان کا تذکرہ ہوا تو فرمایا ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں ۔

عند عائشة نقض الوتر فقالت لا وتران في ليلة ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1977

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1978

1869 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا عبد الله بن حمران قال ثنا عبد الحميد بن جعفر عن عمران بن أبى أنس عن عمر بن الحكم أن أبا هريرة رضي الله عنه قال لو جئت بثلاث أبعرة فأنختها ثم جئت ببعيرين فأنختهما أليس كأن يكون ذلك وترا قال وكان يضربه مثلا لنقض الوتر وهذا عندنا كلام صحيح ومعناه أن ما صليت بعد الوتر من أشفاع فهو مع الوتر الذي أوترته وترا

عمربن حکم کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر میں تین اونٹ لا کر بیٹھا ؤں پھر دو اور اونٹ لا کر بیٹھا دوں کیا یہ طاق نہ رہیں گے وہ یہ مثال ان لوگوں کے لیے بیان کرتے جو نقض وتر کے قائل ہیں کہ تین وتروں کا وتر ہونا اسی طرح نفل سے باطل نہیں ہوتا جس طرح کہ تین اونٹوں کا طاق ہونا دو اور اونٹ ملانے سے باطل نہیں ہوتا ۔ ہمارے ہاں یہ کلام درست ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں جتنی جفت رکعات میں وتروں کے ساتھ پڑھوں وہ وتروں کے ساتھ ملا کر بھی طاق رہی ہیں ۔ (یعنی وتر باطل نہیں ہوتے)

عمر بن الحكم أن أبا هريرة ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1978

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 45 باب التطوع بعد الوتر ) · حديث 1979

1870 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يزيد بن أسلم عن أبى مرة مولى عقيل بن أبي طالب رضي الله عنهما أنه سأل أبا هريرة رضي الله عنه كيف كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوتر فقال ان شئت أخبرتك كيف أصنع أنا قلت أخبرني قال إذا صليت العشاء صليت بعدها خمس ركعات ثم أنام فإن قمت من الليل صليت مثنى مثنى وان أصبحت أصبحت على وتر فهذا بن عباس رضي الله عنهما وعائذ بن عمرو وعمار وأبو هريرة رضي الله عنهما وعائشة رضي الله عنها لا يرون التطوع بعد الوتر ينقض الوتر فهذا أولى عندنا مما روى عمن خالفهم إذ كان ذلك موافقا لما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من فعله وقوله والذي روى عن الآخرين أيضا فليس له أصل في النظر لأنهم كانوا إذا أرادوا أن يتطوعوا صلوا ركعة فيشفعون بها وترا متقدما قد قطعوا فيما بينه وبين ما شفعوا به بكلام وعمل ونوم وهذا لا أصل له أيضا في الإجماع فيعطف عليه هذا الاختلاف فلما كان ذلك كذلك وخالفه من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذكرنا وروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا خلافه انتفى ذلك ولم يجز العمل به وهذا القول الذي بينا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

زید بن اسلم نے ابو مرہ سے جو عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ہیں بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کسطرح وتر پڑھتے تھے ؟تو انہوں نے فرمایا اگر تم پسندکرو تو میں اپنا عمل بتلاتا ہوں میں نےکہا فرمائیں کہنے لگے جب میں عشاء کی نماز پڑ ھ لیتا ہوں تو اس کے بعد پانچ رکعت پڑھتا ہوں ( تین وتر دو نفل ) پھر میں سوجاتا ہوں اگر رات کو جاگ گیا تو میں دو دو کرکے نماز پڑھتا رہتا ہوں اور اگر رات کو جاگ گیا تو میں دو دو کر کے نماز پڑھتا رہتا ہوں اور اگر صبح کو بیدار ہو ں تو وتروں کی حالت میں صبح کرتا ہوں یعنی میری آخری نماز وہ رات والے وتر ہوتے ہیں یہ حضرت ابن عباس ، عائد بن عمرو ، عمار ، ابو ہریرہ ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم ہیں جو وتروں کے بعد نوافل پڑھنے سے وتروں کو باطل قرار نہیں دیتے ۔ ہمارے ہان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ارشادات ان کی پیش کردہ آثار سے بہت بہتر ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے قول و فعل کے موافق ہے باقی دیگر حضرات سے جو کچھ مروی ہے قیاس سے اس کی کوئی دلیل نہیں ہے اس لیے کہ جب وہ نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو ایک رکعت پڑھتے اس سے وہ گزشتہ ۔۔۔۔۔کو شفعہ بناتے حالانکہ اس شفعہ اور وتر کے درمیان کلام نیند اور کلام سے انقطاع کر چکے اور اس کی بھی اجماع سے کوئی دلیل نہیں کہ جس کی طرف اس اختلاف کا رخ موڑا جاسکے ۔ جب یہ بات بالکل اسی طرح ہے اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کا عمل و قول مذکورہ روایات میں ان کے خلاف ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے بھی اس کے خلاف مروی ہے ۔ تو ان کی اس بات کی پوری نفی ہو گئی ۔ اس پر عمل جائز نہیں ۔ یہ جو کچھ ہم نے واضح کیا امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1979

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 46 باب القراءة في صلاة الليل كيف هى ) · حديث 1980

1871 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا بن أبى الزناد عن عمرو بن أبى عمرو عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه و سلم يصلى من الليل فيسمع قراءته من وراء الحجر وهو في البيت

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم رات کو جب نماز ادا فرماتے تو آپ کی آواز حجرات کے باہر سنائی دیتی حالانکہ آپ اپنے گھر میں ہوتے تھے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← بن أبي الزناد ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1980

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 46 باب القراءة في صلاة الليل كيف هى ) · حديث 1981

1872 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا قيس بن الربيع عن هلال بن خباب عن يحيى بن جعدة عن جدته أم هانئ قالت كنت أسمع صوت رسول الله صلى الله عليه و سلم في جوف الليل وأنا نائمة على عريشى وهو يصلى يرجع بالقرآن

یحییٰ بن جعدہ نے اپنی نانی ام ہانی رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ میں رات کے دوران جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی آواز سنتی تھی جبکہ میں اپنے چھپر کے نیچے سو رہی ہوتی تھی اور آپ آواز کے زیر و بم نماز میں قرآن پڑھ رہے ہوتے تھے ۔

جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1981

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 46 باب القراءة في صلاة الليل كيف هى ) · حديث 1982

1873 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا مسعر عن أبى العلاء عن يحيى بن جعدة قال قالت أم هانئ إني كنت أسمع صوت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا على عريشى قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن القراءة في صلاة الليل هكذا هى وكرهوا المخافتة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إن شاء خافت وإن شاء جهر رضي الله عنهم واحتجوا فىذلك بما

یحییٰ بن جعدہ نے اپنی نانی ام ہانی رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی آواز سنا کرتی تھی اس حال میں کہ اپنے چھپر میں سو رہی ہوتی تھی ۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ رات کی نماز میں قراءت بلند آواز سے ہے ان کے ہاں آہستہ آواز سے قراءت رات کو مکروہ ہے ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر چاہے آہستہ آواز سے اور اگر چاہے تو بلند آواز سے قراءت کرے ہر دو طرح درست ہے ان کی مستدل مندرجہ روایات ہیں ۔

يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1982

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 46 باب القراءة في صلاة الليل كيف هى ) · حديث 1983

1874 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا يوسف بن على قال ثنا بن المبارك عن عمران بن زائدة بن نشيط عن أبيه عن أبى خالد الوالبي عن أبى هريرة رضي الله عنه قال كانت قراءة رسول الله صلى الله عليه و سلم يعنى بالليل يرفع طورا ويخفض طورا

ابو خالد والیی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے رات کو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی قراءت کبھی آپ آواز بلند فرماتے اور کبھی آپ ہلکی آواز سے پڑھتے تھے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، ← أَبِيهِ ← عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ← بن الْمُبَارَكِ، ← يوسف بن على ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1983

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 46 باب القراءة في صلاة الليل كيف هى ) · حديث 1984

1875 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا حفص بن غياث عن عمران فذكر بإسناده ومثله

حفص بن غیاث نے عمران سے پھر اس سے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عمران فذكر بإسناده ومثله ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1984

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 46 باب القراءة في صلاة الليل كيف هى ) · حديث 1985

1876 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم عن عمران بن زائدة عن أبيه عن خالد عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ولم يذكر أبا هريرة رضي الله عنه فهذا أبو هريرة رضي الله عنه يخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يرفع صوته في قراءته بالليل طورا ويخفضه طورا فدل ذلك على أن للمصلي في الليل أن يرفع إن أحب ويخفض إن أحب وقد يجوز أن يكون ما ذكرت أم هانئ وابن عباس رضي الله عنهما من رفع رسول الله صلى الله عليه و سلم صوته بالقراءة في صلاته بالليل هو رفع قد كان يفعل بعقبة الخفض فحديث بن عباس وأم هانئ رضي الله عنهم لا ينفى الخفض وحديث أبى هريرة رضي الله عنه يبين أن للمصلى أن يخفض إن أحب ويرفع إن أحب فهو أولى من هذه الأحاديث وبه يقول أبو حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عمران بن زائدہ نے اپنے والد سے انہوں نے خالد رضی اللہ عنہ سے اور خالد نے نبی کریم صلی اللہ عیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کیا ۔ یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے متعلق خبر دے رہے ہیں کہ آپ کو کبھی بلند اور کبھی آہستہ آواز سے پڑھتے تھے تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ نمازی کو رات کے وقت اختیار ہے کہ اگر وہ پسند کرے تو بلند آواز سے قراءت کر ے اور اگر چاہے تو آہستہ آواز سے قراءت کرے اور عین ممکن ہے کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رات کے وقت آپ کی قراءت میں آواز کو بلند کرنے سے متعلق ذکر کیا ہے ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس بات کی بیان کررہی ہے کہ نمازی کو آہستہ اور بلند آواز میں اختیار ہے ۔ تو ان آثار کی نسبت روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اولی ہے ۔ امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1985

chevron_left Previous
1…100101102…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter